کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت – یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ بھارت میں کاشتکاروں، ایم ایس ایم ایز، اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کے لیے زبردست مواقع واشگاف کرے گا: تجارت و صنعت کے وزیر، جناب پیوش گوئل


بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کا کہنا ہے کہ بھارت-ای یو آزادانہ تجارتی معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی لچک و استحکام کو مضبوط کرے گا؛ انہوں نے پورٹ آف اینٹورپ-بروجز کو بھارت اور یورپ کے درمیان ایک اہم کڑی کے طور پر اجاگر کیا

بھارت اور بیلجیئم جواہرات اور زیورات، سیمی کنڈکٹرز، سبز ہائیڈروجن، دفاع اور جدید مینوفیکچرنگ، اور زراعت و خوراک ڈبہ بندی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کر سکتے ہیں: جناب گوئل

بھارت-یوروپی یونین آزادانہ تجارتی معاہدہ 2 بلین لوگوں کی مارکیٹ کو یکجا کرتا ہے، جو عالمی جی ڈی پی کے ایک چوتھائی اور عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے: جناب گوئل

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت اور یورپی یونین  کے درمیان تجارت دوگنا ہو کر تقریباً 140 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے؛ پورٹ آف اینٹورپ-بروجز یورپ میں بھارتی برآمدات کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر کام کر سکتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 SEP 2026 7:03PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج کہا کہ بھارت-یورپی یونین (ای یو) آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) بھارت اور یورپ کے کاشتکاروں، ماہی گیروں، ایم ایس ایم ایز، چھوٹی صنعتوں، اختراع کاروں ، اسٹارٹ اپس، خواتین کاروباریوں، مینوفیکچررز اور سروس فراہم کرنے والوں کے لیے وسیع مواقع کھولتا ہے۔ ممبئی میں بھارت-ای یو ایف ٹی اے پر منعقدہ 'بھارت-بیلجیئم اعلیٰ سطحی مذاکرات' سے خطاب کرتے ہوئے، بیلجیئم کے وزیر اعظم مسٹر بارٹ ڈی ویور اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں جناب  گوئل نے کہا کہ اس معاہدے پر دونوں اطراف کے حساس شعبوں کا تحفظ کرتے ہوئے انتہائی مہارت کے ساتھ گفت و شنید کی گئی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت-یوروپی یونین آزادانہ تجارتی معاہدہ، جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مذاکرات مکمل ہونے سے پہلے 25 سال سے تیاری کے مراحل میں تھا، 2 ارب لوگوں کو یکجا کرتا ہے، جو عالمی جی ڈی پی کے ایک چوتھائی، عالمی تجارت کے ایک تہائی اور 24 ٹریلین امریکی ڈالر کی مارکیٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے تمام 27 ممالک اس معاہدے پر متفق ہیں، وہ اس کی حمایت کرتے ہیں اور کاغذی کارروائیوں کو مکمل کر کے اس معاہدے کو جلد از جلد نافذ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ان کی سمجھ کے مطابق، یورپی تناظر میں اس طرح کی متفقہ حمایت شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی طرح، بھارت میں بھی ہر طبقے نے پورے دل سے بھارت-ای یو ایف ٹی اے کی حمایت کی ہے۔

بیلجیئم کے وزیر اعظم مسٹر بارٹ ڈی ویور نے کہا کہ بھارت-ای یو آزادانہ تجارتی معاہدہ تجارت کو مضبوط کرے گا اور کمپنیوں، نوجوان ٹیلنٹ اور سرمایہ کاری کے لیے نئے دروازے کھولے گا، جبکہ دونوں معیشتوں کو بیرونی خلل کے خلاف زیادہ لچکدار اور مضبوط بنائے گا۔ پورٹ آف اینٹورپ-بروجز کو بھارت اور یورپ کے درمیان ایک اہم لاجسٹک کڑی کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایف ٹی اے ہیرے، فوڈ پروسیسنگ، فارماسیوٹیکل، بحری خدمات، گرین ہائیڈروجن اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا، اور انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارت اور یورپ کی 95 فیصد سے زائد اشیاء کی برآمدات پر ٹیرف ختم یا کم کر دیے جائیں گے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت اور بیلجیئم کے پاس معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا ایک شاندار موقع ہے کیونکہ ان کی معیشتیں پانچ بڑے شعبوں میں ایک دوسرے کی معاون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور بیلجیئم جواہرات اور زیورات کے شعبے میں مشترکہ تیاری اور ڈیزائننگ کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں، جس میں لیب میں تیار کردہ ہیرے تعاون کے ایک نئے شعبے کے طور پر شامل ہیں۔ انہوں نے اینٹورپ، ممبئی اور سورت کے اہم ڈائمنڈ سینٹرز کے گرد قائم باہمی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی اور سرٹیفیکیشن میں زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا۔

جناب گوئل نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں 'ڈیزائن سے لے کر فیبریکیشن' کا ایک بہترین ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے بیلجیئم کی مائیکرو الیکٹرانکس کی عالمی معیار کی تحقیق کو بھارت کے وسیع پیمانے، مہارت اور ٹیلنٹ کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا 'گرین ہائیڈروجن مشن'، اینٹورپ-بروجز کے بنکرنگ اور گرین شپنگ کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے پورے یورپ کو توانائی فراہم کر سکتا ہے، اور انہوں نے اس شعبے میں مزید گہرے تعاون پر زور دیا۔

جون کاکریل کے ساتھ مفاہمتی عرضداشتوں کے تبادلے کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ دفاع اور جدید صنعتی پیداوار کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن میں ڈرون شکن نظام، الیکٹرانک وارفیئر، پریسیژن میونیشنز اور بھارت کے ڈیزائن کردہ برہموس اور پیناکا میزائلوں کے لیے مغربی برآمداتی راہداری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور بیلجیئم کے درمیان صنعتی ہم آہنگی پہلے کبھی اتنی گہری نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جون کاکریل بھارت کی بوفورس توپوں کے لیے گولہ بارود بناتا ہے۔ نئے حالات کے تحت یورپ میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور خود بھارت کے اپنے حفاظتی ماحول کے پیش نظر، انہوں نے کہا کہ مل کر کام کرنے کے زبردست امکانات موجود ہیں۔

جناب گوئل نے زراعت اور خوراک ڈبہ بندی کے شعبوں میں موجود مواقع پر بھی روشنی ڈالی، جن میں آلو کی پروسیسنگ اور کولڈ چینز سے لے کر فوڈ پروسیسنگ کے دیگر شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار زرعی ویلیو چینز بیلجیئم اور بھارت کے ذریعے پوری دنیا کی خدمت کر سکتی ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ بیلجیئم، بھارت-ای یو آزادانہ تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'پورٹ آف اینٹورپ-بروجز' یورپ کی دوسری سب سے بڑی بحری بندرگاہ ہے اور انہوں نے اسے ایک ایسے دروازے سے تشبیہ دی جس کے ذریعے ایف ٹی اے کا وعدہ جسمانی طور پر یورپ پہنچے گا یا وہاں سے بھارت بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اینٹورپ کے عالمی معیار کے اندرونی مال بردار بحری جہازوں، ریل اور سڑک کے نیٹ ورکس کو بروجز کے سی بریجز، گہرے پانی کی گنجائش، رول آن/رول آف اور آٹوموٹو کی طاقت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے یکجا کر کے، یہ بندرگاہ بھارتی برآمد کنندگان کو یورپ کے صنعتی اور صارفی مراکز تک پہنچنے کا ایک بے مثال راستہ فراہم کرتی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی تجارت گزشتہ ایک دہائی کے دوران پہلے ہی دوگنا ہو کر تقریباً 140 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسیوں، ٹوٹی ہوئی سپلائی چینز، خوراک اور ایندھن کی ترسیل میں درپیش مسائل، دو جنگوں، عدم استحکام، غیر یقینی صورتحال اور بڑے چیلنجوں کے پیش نظر بھارت اور بیلجیئم کے پاس یہ انتخاب موجود ہے کہ یا تو وہ اس جاری انتشار کے بہاؤ میں بہہ جائیں یا پھر باہمی اعتماد اور پائیداری کے محفوظ مراکز قائم کریں۔

بیلجیئم کے نوبل انعام یافتہ الیا پریگوگین کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب گوئل نے "انتشار سے نظم و ضبط کے ابھرنے" کے تصور کا ذکر کیا اور کہا کہ بیلجیئم کے وزیر اعظم اور بھارت کے وزیر اعظم کی قیادت میں، "ہم نے تعمیر کرنے کا انتخاب کیا ہے، ہم نے جڑنے کا انتخاب کیا ہے، اور ہم نے مل کر کام کرنے کا انتخاب کیا ہے۔"

جانب گوئل نے بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی اور تکنیکی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بھارتی معیشت کی کہانی تو ابھی صرف شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آج نامینل بنیادوں پر 4 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت ہے اور پرچیزنگ پاور پاریٹی کی بنیاد پر 20 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ پہلے ہی دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1.4 ارب بھارتیوں کا طے شدہ ہدف اور اجتماعی عزم یہ ہے کہ اس 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کو 2047 تک 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنایا جائے، جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل ہونے کا جشن منائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے اور بھارت میں جاری اجتماعی کوششوں میں سماجی ترقی و بہبود، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار، اور عالمی کمپنیوں کے لیے ایک ایسی منزل بنانا شامل ہے جہاں وہ بھارت آ کر کام کر سکیں، ڈیزائننگ، مشترکہ ڈیزائننگ، مشترکہ تیاری اور مشترکہ پیداوار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کے شراکت دار مشترکہ طور پر نہ صرف یورپ اور بھارت کے لیے، بلکہ پوری دنیا کو اپنی مارکیٹ بنا کر کام کر سکتے ہیں۔

جناب گوئل نے سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے بھارت کے بڑے پیمانے پر جاری پروگرام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 'سیمیکون انڈیا' کا پہلا ایڈیشن دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی طرف سے مکمل طور پر سبسکرائب ہو چکا تھا، جبکہ اس کا دوسرا ایڈیشن، سیمیکون انڈیا 2.0، حال ہی میں 14 ارب امریکی ڈالر کے بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر، یہ مشن بھارت میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کو مہمیز کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس مشن کامیابی سے چل رہا ہے اور اسٹارٹ اپس کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ ملک اپنے 'اہم معدنیات مشن'  میں بھی سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شانتی ایکٹ کے ذریعے بھارت کا جوہری توانائی (نیوکلیئر انرجی) کا پروگرام 60 سال بعد اب نجی شعبے کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس کے تحت فوسل فیول کی جگہ بیس لوڈ کیپیسیٹی کے طور پر اگلے 20 سالوں میں 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کا خلائی ٹیکنالوجی کا شعبہ، جو اس وقت 8.5 ارب امریکی ڈالر کا ہے، آئندہ آٹھ برسوں میں بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے، جس کی بڑی وجہ نجی شعبے کی نئی کوششیں، اسٹارٹ اپس، اختراع کار اور انوکھے حل تیار کرنے والے ڈیزائنرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا صرف تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں کسی نجی کمپنی نے خلا میں راکٹ لانچ کیا ہے اور دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں ایک نجی کوشش اپنی پہلی ہی کوشش میں کامیاب رہی ہے۔

انہوں نے اختراع کے لیے بھارت کے حال ہی میں شروع کیے گئے 12 ارب امریکی ڈالر کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ، اگرچہ یورپی تناظر سے 12 ارب ڈالر معمولی معلوم ہو سکتے ہیں، لیکن بھارت کی قوتِ خرید کی برابری کی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا یہ تعاون، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور بھارت کے تعلیمی اداروں کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر، یورپ میں حاصل کیے جانے والے نتائج کے مقابلے میں مجموعی طور پر 150 ارب ڈالر کی اختراع کے برابر نتائج فراہم کر سکتا ہے، جو کہ لاگت کے ایک بہت چھوٹے حصے میں ہوگا اور دنیا کے بہترین معیار کے ہم پلہ ہوگا۔

جناب گوئل نے بیلجیئم اور یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بیلجیئم کی ٹیکنالوجی، اختراع اور سرمایہ، بھارت کے وسیع پیمانے، ٹیلنٹ، نوجوانوں کی توانائی، نوجوان آبادی اور فیصلہ کن قیادت کے ماحول میں اپنا ایک بہترین ٹھکانہ پا سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ مہاراشٹر کاروبار کے لیے ایک انتہائی پرکشش اور سازگار جگہ ہے، انہوں نے اسے بھارت کا مالیاتی و تجارتی دارالحکومت، اس کا صنعتی دارالحکومت اور ملک کی سب سے تیز رفتار سے بڑھتی ہوئی معیشت قرار دیا۔

جناب گوئل نے وزیر اعظم ڈی ویور اور بیلجیئم کی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ کھلے ذہن اور کھلے دل کے ساتھ بھارت کے ساتھ جڑیں، جسے جدید صنعت کے لیے درکار تمام ضروری سہولیات کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مواقع کی بنیاد لوگ ہیں، جن میں بھارتی کمیونٹی، طلبہ اور محققین شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد کی باہمی تسلیم شدگی، مہارتوں کی مشترکہ ترقی اور دوہری ڈگری کے تعلیمی پروگراموں کو مضبوط بنانے پر زور دیا، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں بیلجیئم کو باصلاحیت افراد اور نوجوانوں کی کمی کا سامنا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اور بیلجیئم کے درمیان 1947 سے لے کر اب تک ایک انتہائی پُرخلوص اور پائیدار رشتہ قائم ہے، جب بھارت نے آزادی حاصل کی تھی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ آزاد بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے یورپی ممالک میں بیلجیئم بھی شامل تھا اور انہوں نے کہا کہ بھارت اس خیر سگالی کے لیے بیلجیئم کے عوام کا ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔

مرکزی وزیر نے وزیر اعظم ڈی ویور کی قیادت، تعاون اور بیلجیئم-بھارت اور ای یو-بھارت تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی انتھک کوششوں کا شکریہ ادا کیا، جس نے 25 سال کے اس طویل سفر کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ پروگرام کے دوران جس کا ذکر کیا گیا، بیلجیئم کے اپنے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے جو اصل توانائی محسوس کی وہ وہاں کے کاروباری اداروں میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیلجیئم اور بھارت مل کر، بیلجیئم کی ٹیکنالوجی، اختراع اور سرمائے کو بھارت کے وسیع پیمانے، ٹیلنٹ، نوجوانوں کی توانائی، نوجوان آبادی اور فیصلہ کن قیادت کے ساتھ یکجا کر کے ایک "نہایت ہی ناقابلِ شکست مسابقت"  پیدا کر سکتے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر، جناب گوئل نے ہیرے کی تشکیل سے ایک تشبیہ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک قدرتی ہیرا زمین کے اندر گہرائی میں، شدید دباؤ کے تحت بنتا ہے، جبکہ لیب میں تیار کردہ ہیرے کاربن کے ذخائر پر مشتمل انتھک اور مسلسل عمل کے ذریعے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ اور اتھل پتھل کا شکار اس دنیا میں، بھارت اور بیلجیئم مل کر ہیرے کی طرح ہی ایک پائیدار، خوبصورت اور قیمتی رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔

جناب گوئل نے کہا، ’’آئیے بھارت اور بیلجیئم مل کر کوئی ایسی چیز تخلیق کریں جو ہیرے کی طرح ہی پائیدار، خوبصورت اور قیمتی ہو۔ ایک ایسا ہیرا جو صرف بیلجیئم اور بھارت کے لیے نہ ہو، ایک ایسا ہیرا جو صرف یورپ کے لیے نہ ہو، بلکہ ایک ایسا ہیرا جو پوری دنیا کے لیے ہو۔‘‘

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:3040


(ریلیز آئی ڈی: 2306837) وزیٹر کاؤنٹر : 7