کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے آٹو پرزہ جات کی صنعت سے عالمی سطح پر توسیع کی اپیل کی
بڑی معیشتوں میں ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے، آٹو سیکٹر نے مضبوط دوہرے ہندسے کی ترقی ریکارڈ کی ہے:جناب گوئل
ہندوستان میں امریکی سفیر عزت مآب سرجیو گور نے کہا کہ امریکہ-ہند آٹوموٹیو شراکت داری ’’تاریخی عروج‘‘ پر ہے،ہندوستانی آٹو پرزہ بنانے والوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کی دعوت
برطانیہ کے ہائی کمیشن کے تجارتی کمشنر ہرجندر کنگ نے آٹو پرزہ جات کے لیے سی ای ٹی اے کے تحت محصولات سے پاک رسائی کو اجاگر کیا، ہندوستان-برطانیہ آٹوموٹیو شراکت داری مزید مضبوط
پیوش گوئل نے آٹو شعبے کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتی اقدامات کو اجاگر کیا، صنعت کو نئے صنعتی پارکوں سے منسلک ہونے کی دعوت
ہند-امریکہ اہم معدنیات کی شراکت داری سے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین قائم ہوگی اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے 500 ارب امریکی ڈالر کے عالمی ہدف کو تقویت ملے گی:پیوش گوئل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 SEP 2026 6:36PM by PIB Delhi
نئی دہلی میں آٹو موٹیو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے سی ایم اے) کے 66ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے آج آٹو پرزہ جات کی صنعت پر زور دیا کہ وہ مقامی کاروباروں کو عالمی کاروبار میں تبدیل کرے، ترقی یافتہ ممالک میں اپنی پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دے، سپلائی چین کو مزید مضبوط اور لچکدار بنائے اور ویلیو چین میں اعلیٰ مقام حاصل کرے، کیونکہ ہندوستان عالمی منڈیوں کے ساتھ اپنے انضمام کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ صنعت کی بین الاقوامی تجارت تقریباً 50 ارب امریکی ڈالر کی ہے، جو درآمدات اور برآمدات کے درمیان تقریباً مساوی طور پر تقسیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کاروبار عالمی سطح پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو وہ ترقی کرتا ہے اور کسی ملک کی معاشی ترقی میں درآمدات بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب درآمدات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق کو وسیع کرنے کا عزم کیا گیا تھا، لیکن اس سمت میں ابھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اے سی ایم اے اور اس کے اراکین سے آنے والے برسوں میں کہیں زیادہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ صنعت نے گزشتہ برسوں کے دوران مختلف اشتراکات سے فائدہ اٹھایا ہے اورہندوستان میں عالمی سطح پر مسابقتی قیمتوں پر معیاری مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ اب وہ دنیا بھر میں اپنی پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دے اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی اپنی موجودگی قائم کرے۔
پیوش گوئل نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران طے پانے والے نو تجارتی معاہدوں کے ذریعے بھارت کی بڑھتی ہوئی منڈی تک رسائی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں38 ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں جن کی مجموعی مجموعی قومی پیداوار 60 کھرب امریکی ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے قبل طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدوں میں شامل ممالک کی مجموعی قومی پیداوار آج کی قدر کے لحاظ سے 10 کھرب امریکی ڈالر تھی۔ جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں گزشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران طے پانے والے نو معاہدوں کے نتیجے میں 60 کھرب امریکی ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار رکھنے والی معیشتوں کے ساتھ دو طرفہ منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں خوشحال ممالک شامل ہیں۔جہاں مجموعی قومی پیداوار اور فی کس مجموعی قومی پیداوار دونوں بلند ہیں۔ ان ممالک میں ہندوستانی صنعت کے لیے مسابقت نسبتاً کم اور باہمی تکمیلیت کے امکانات زیادہ ہیں۔ پیوش گوئل نے آزاد تجارتی معاہدوں کے لیے ہندوستان کے مذاکرات میں اے سی ایم اے کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نے مسلسل ہندوستانی آٹو پرزہ جات کے شعبے کے لیے صفر محصولات پر رسائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بھارتی منڈی کو بھی باہمی بنیادوں پر کھولنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت دنیا کی بہترین صنعتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالمی مسابقت کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
اجلاس کے موضوع ’’لچک سے آگے، غیر یقینی صورتحال سے نمٹتے ہوئے سپلائی چین کے نئے راستے اور مزید گہرے روابط پیدا کرنا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال، چیلنجز اور نمایاں تبدیلیوں سے دوچار دنیا میں یہ موضوع خاص طور پر موزوں ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری ہنگامہ خیزی کے باوجود ہندوستان اپنی ترقی کی راہ پر مسلسل گامزن ہے اور دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت برقرار ہے۔ انہوں نے کہا’’مخالفت کرنے والے چاہے جو کچھ کہیں لیکن 7.8 فیصد شرح نمو ایک حقیقت ہے۔‘‘
مختلف شعبوں میں ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ اے سی ایم اے کی ترقی کی رفتار دو ہندسوں میں بہت تیز ہے۔ جبکہ آٹو شعبہ بھی دو ہندسوں کی بلند شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 50 لاکھ مسافر گاڑیوں کی فروخت متوقع ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ گاڑیاں واقعی خریدی جا رہی ہیں اور محض ذخیرہ نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے برقی گاڑیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض برقی گاڑیوں کے لیے اب چھ ماہ تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فولاد کا شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ہندوستان کی جانب سے برآمدات کے مقابلے میں فولاد کی درآمد زیادہ ہونے کی وجہ ملکی طلب کا بہت زیادہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو پرزہ جات کی صنعت اس طلب کو پورا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
پیوش گوئل نے صنعتی صلاحیت اور سپلائی چین کی مضبوطی و لچک بڑھانے کے لیے حکومت کے مختلف پروگراموں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹو پرزہ جات کی صنعت کو بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت اور خصوصی نوعیت کے فولاد کی تیاری کے لیے دی جانے والی مدد تاکہ اس شعبے کی ضروریات کے مطابق فولاد ملک میں ہی تیار کیا جا سکے، براہِ راست صنعت سے متعلق ہیں۔
انہوں نے آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے تکنیکی ٹیکسٹائل سے متعلق پیداوار سے منسلک مراعاتی اسکیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے اس کی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی۔ کیونکہ اس صنعت کو تکنیکی ٹیکسٹائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کا مقصد آٹو پرزہ جات کی سپلائی چین کو مزید مضبوط اور لچکدار اور آسان قابل رسائی بنانا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس شعبے کی ترقی کے لئے حکومت نئے صنعتی پارک قائم کر رہی ہے اور 20 اسمارٹ سٹیز اور صنعتی شہر پہلے ہی زیرِ تعمیر ہیں۔ انہوں نے صنعت سے ان مواقع میں شرکت کرنے کی اپیل کی اور مختلف ممالک کو بھی ان پارکوں میں اپنے مخصوص صنعتی زون قائم کرنے پر غور کرنے کے لئے صعنتکاروں کو دعوت دی۔ انہوں نے کہا ’’شاید ہمیں ان پارکوں میں سے ایک کو امریکہ-ہندوستان شراکت داری کے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔ شاید ہم دو، تینیا پانچ ایسے پارک قائم کر سکتے ہیں جو صرف آٹو پرزہ جات کے لیے ہوں اور میں آپ کی ضروریات کے مطابق پلگ اینڈ پلے بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکتا ہوں۔‘‘
پیوش گوئل نے کہا کہ اصلاحات اور مزید اصلاحات کا عمل صنعت کے تعاون کے بغیر اسی رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں آپ کے خیالات کی ضرورت ہے۔ ہمیں آپ کی تجاویز درکار ہیں۔ ہمیں آپ کے مطالبات جاننے ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ کو کن چیلنجز کا سامنا ہے، کون سی مشکلات درپیش ہیں اور ہم آپ کی مزید کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ’’ہم ایک ایسی حکومت ہیں جو سنتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی بات ہمارے سامنے رکھیں‘‘ اور صنعت و حکومت کے درمیان مسلسل مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
پیوش گوئل نے حال ہی میں ڈیٹا سینٹر کی صنعت کے ساتھ ہونے والی اپنی تین گھنٹے کی ملاقات کا حوالہ بھی دیا۔ جس میں بڑی تعداد میں امریکی کمپنیاں شامل تھیں اور جو بڑے پیمانے پرہندوستان میں سرمایہ کاری اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ قابلِ اعتماد شراکت دار ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے ہر شعبے کو مزید مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پیوش گوئل نے کہا کہ وہاں حالات معمول پر آنے کے بعد ہندوستان جلد ہی خلیج تعاون کونسل اور اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی آزاد تجارتی معاہدے کرے گا ۔تاکہ اہم معدنیات تک زیادہ رسائی یقینی بنائی جا سکے، جو مضبوط اور لچکدار سپلائی چین کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے اجاگر کیا کہ امریکہ اور ہندوستان اہم معدنیات کے شعبے میں شراکت دار کی حیثیت سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے شروع کیے گئے ’’پیکس سلیکا‘‘ اقدام کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت یکساں سوچ رکھنے والے جمہوری، نیک نیت اور منصفانہ طرزِ عمل پر یقین رکھنے والے ممالک مل کر اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ کوئی ایک جغرافیائی خطہ تجارت کو بطور ہتھیار استعمال نہ کر سکے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ یہ پیش رفت آٹو پرزہ جات کی صنعت کو عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کرنے میں مدد دے گی اور اسے 500 ارب امریکی ڈالر کی صنعت بننے کے ہدف کی جانب آگے بڑھائے گی۔
اختتام سے قبل پیوش گوئل نے صنعت کے لیے چند اہم ترجیحات بھی بیان کیں۔ انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ مقامی کاروباروں کو عالمی کاروبار میں تبدیل کیا جائے اور جن مصنوعات کے لیے سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے فعال مقامی پیداوار کا پروگرام شروع کیا جائے۔ تاکہ مستقبل میں اچانک اور غیر متوقع عالمی بحرانوں کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے صنعت سے ویلیو چین میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے اور مربوط اور انتہائی اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات و خدمات فراہم کرنے کی جانب بڑھنے کی اپیل کی۔ جن میں ایسی مصنوعات بھی شامل ہوں جو اعلیٰ معیار کے ساتھ ڈیزائن، تیار اور دنیا بھر میں فراہم کی جائیں۔
پیوش گوئل نے صنعت میں حفاظتی امور پر زیادہ توجہ دینے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کو حفاظتی معاملات کی پوری ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں چھوڑنی چاہیے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ آٹو پرزہ جات کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، جس میں بہتر معیار کی جانچ اور صارفین کی ضروریات کا بہتر اندازہ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت جیسی جدید تر ین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔ انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق تیار کی جانے والی گاڑیوں کا بھی حوالہ دیا۔ جنہیں امریکہ اور یورپ میں تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے اور بہتر حفاظتی خصوصیات کی ضرورت پر زور دیا۔
گاڑیوں کو کباڑ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے پیوش گوئل نے کہا کہ صنعت اور حکومت کو مل کر اس عمل کو پرانی گاڑیوں کے مالکان کے لیے فائدہ مند اور نئی گاڑی خریدنے والوں کے لیے ایک پرکشش اور قیمتی متبادل بنانا چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مقصد حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپنی جانب سے قدر اور مراعات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور صنعت پر زور دیا کہ وہ گاڑیوں کو کباڑ میں تبدیل کیے جانے کے وقت ان کی مناسب قیمت پیش کرنے کے لیے آگے آئے، تاکہ جدید دور کی گاڑیوں کے لیے ایک وسیع تر منڈی تیار کی جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میں امریکی سفیر عزت مآب سرجیو گور نے آٹو موٹیو شعبے میں امریکہ-ہندوستان تعاون کے مزید گہرے ہونے کو اجاگر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ’’تاریخی عروج‘‘ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ’’مل کر نقل و حرکت کے مستقبل کا خاکہ تیار کر رہے ہیں‘‘ اور ہندوستان کی آٹو پرزہ جات کی صنعت کو سپلائی چین کی مضبوطی میں ایک قابلِ اعتماد اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں منصفانہ، باہمی اور باہمی فائدے پر مبنی تجارتی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہیں اور دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والی تجارتی مفاہمت سمیت حاصل ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل رواں ماہ کے آخر میں امریکہ کا دورہ کریں گے، جہاں امریکہ جی 20 مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
جناب گور نے ادویہ سازی، فوجی سازوسامان کی فروخت اور فوجی مشقوں، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور خلائی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ’’پیکس سلیکا اعلامیے‘‘ کو جدت پر مبنی ضابطہ جاتی نظام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور بتایا کہ ہندوستان ان اولین ممالک میں شامل تھا۔ جنہیں اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے ہندوستان کے آٹو موٹیو نظام میں امریکی کمپنیوں اور امریکہ میں ہندوستانی کمپنیوں، جن میں ہندوستان فورج، سندرم کلیٹن اور مہندرا شامل ہیں، کی موجودگی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے ہندوستانی آٹو پرزہ جات کے مینوفیکچررز کو گرین فیلڈ اسمبلی یونٹس، تحقیق و ترقی کے مراکز اور تقسیم کے نیٹ ورکس کے ذریعے امریکہ میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ دنیا بھر کے سفارتخانوں میں پہلے نمبر پر رہا ہے اور اس کے ذریعے امریکہ میں 24 ارب امریکی ڈالر کی نئی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
اپنے خطاب میں جنوبی ایشیا کے لیے تجارتی کمشنر اور مغربی ہندوستان کے لیے برطانوی نائب ہائی کمشنر ہرجندر کنگ نےہندوستان-برطانیہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی مضبوطی کو اجاگر کیا اور کہا کہ آٹو موٹیو اور مستقبل کی نقل و حرکت سے متعلق شعبے برطانیہ کی جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندو ستان-برطانیہ وژن 2035، برطانیہ کی جدید صنعتی حکمتِ عملی اور ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کا حوالہ دیا، جو 15 جولائی 2026 کو نافذ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی 99 فیصد اور ہندوستان کی 90 فیصد محصولات کی مدات پر عائد محصولات کو ختم کر کے صفر یا انتہائی کم کر دیا گیا ہے۔ جبکہ تجارت اور کاروبار کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کسٹمز اور سرحدی کارروائیوں کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ سپلائی چین کو مزید مضبوط اور گہرا کرے گا اور مشترکہ منصوبوں اور شراکت داریوں کے قیام کے مواقع فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت آٹو پرزہ جات تیار کرنے والے اداروں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک محصولات سے پاک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے جدید انجینئرنگ، جدت طرازی اور صفر اخراج والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں برطانیہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ جن میں برقی موٹریں، بیٹریاں، ہائیڈروجن پر مبنی حل، ہلکے وزن کے مرکب مواد اور سافٹ ویئر سے متعین گاڑیوں کے نظام شامل ہیں۔
***
ش ح۔م ح ۔رض
U-2967
(ریلیز آئی ڈی: 2306217)
وزیٹر کاؤنٹر : 5