نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

ایمس رائے پور، چھتیس گڑھ  میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خوف سے امن، ترقی اور مواقع کی جانب سفر کی علامت ہے: نائب صدر جمہوریہ


مضبوط سیاسی عزم، پختہ سکیورٹی پالیسی اور ترقی پر مبنی حکمرانی نے چھتیس گڑھ میں نکسل ازم کے خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے نائب صدر جمہوریہ

وکست بھارت اسی وقت ممکن ہے جب ہر ریاست، ضلع اور گاؤں ترقی کرے: نائب صدر جمہوریہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 1:07PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، رائے پور کی تیسری کانووکیشن تقریب میں شرکت کی اور فارغ التحصیل طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے عوام کی صحت، اعتماد اور زندگیوں کی خدمت کی ذمہ داری پوری عزم و دیانت داری کے ساتھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔

 

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ کانووکیشن محض جشن کا موقع نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس دلانے کا بھی موقع ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج آپ کو اپنی ڈگریاں مل رہی ہیں اور کل آپ کو اس سے کہیں زیادہ قیمتی ذمہ داری سونپی جائے گی،بھارت کے عوام کی صحت، اعتماد اور زندگیوں کی حفاظت کی ذمہ داری۔‘‘

نائب صدر جمہوریہ نے 2012 میں ایمس رائے پورکےقیام کے بعد بالخصوص وسطی بھارت میں صحت کی دیکھ بھال، طبی تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں علاقائی عدم مساوات کو دور کرنے میں ادا کیے گئے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی مختصر مدت میں یہ ادارہ ایک بڑے اعلیٰ درجے کے طبی ادارے کے طور پر ترقی کر چکا ہے، جو چھتیس گڑھ کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاستوں کے عوام سمیت دیہی اور قبائلی برادریوں، کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمس رائے پور کی ترقی چھتیس گڑھ میں رونما ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں کو کئی دہائیوں تک درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ دشوار گزار جغرافیہ، ناکافی رابطہ کاری اور بائیں بازو کی انتہا پسندی نے ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹیں پیدا کی تھیں۔ بہت سے دور دراز اور قبائلی علاقوں میں خوف اور تشدد کے باعث سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں کی ترقی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں ان برادریوں کو ضروری خدمات تک رسائی کے لیے طویل فاصلے اور محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج چھتیس گڑھ اپنے ماضی کے سائے سے نکل چکا ہے اور خوشحالی، ترقی اور پیش رفت کی ایک نئی صبح کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کا سہرا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی فیصلہ کن قیادت، امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کے پختہ عزم اور وزیر اعلیٰ جناب وشنو دیو سائی کی مخلصانہ قیادت کو دیا۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری نکسل ازم کے خطرے کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور جو علاقے کبھی تشدد کے لیے جانے جاتے تھے، اب وہاں سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، بہتر رابطہ کاری، سرمایہ کاری اور مواقع کی بات ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تبدیلی اس بات کی ایک طاقتور مثال ہے کہ مضبوط سیاسی عزم، پختہ سکیورٹی پالیسی اور ترقی پر مبنی حکمرانی کس قدر نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔‘‘

نائب صدر جمہوریہ نے ایمس رائے پور کو نئے چھتیس گڑھ کی بہترین علامتوں میں سے ایک قرار دیا، جو خوف اور محرومی کے دور سے نکل کر امن، ترقی اور امکانات کے دور کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے جدید طبی خدمات اور اعضا کی پیوند کاری کے شعبے میں ادارے کی کامیابیوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے چھتیس گڑھ میں پہلی بار ’سواپ‘ گردے کی پیوند کاری، گردے کی پیوند کاری میں 95 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح، گردے اور کارنیل کی پیوند کاری اور کان کے امپلانٹ کو اہم کامیابیاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خطے میں جدید طبی سہولیات کتنی تیزی سے عام لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دل کی پیوند کاری کے پروگرام کی منظوری ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔

قومی ترقی کے ’وکست بھارت‘ کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے متوازن ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ وژن اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب ہر ریاست، ضلع اور گاؤں ترقی کرے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی ’وکست بھارت‘ کے وژن کا بنیادی حصہ ہے اور گزشتہ 12 برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ خواتین کے داخلوں کی تعداد 2014-15 میں 1.57 کروڑ سے بڑھ کر 2023-24 میں 2.24 کروڑ ہو گئی، جو 42.2 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ ایمس رائے پور کی کانووکیشن تقریب میں بھی انہوں نے بتایا کہ 376 خواتین اور 313 مرد طلبہ کو ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔

فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے نوجوان گریجویٹس سے اپیل کی کہ وہ ہمیشہ ’منشیات سے پُرزور انکار‘ کہیں اور ایسے بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ٹیکنالوجی آخری شہری تک پہنچے اور ہر نوجوان بھارتی بہتر مستقبل کا خواب دیکھ سکے۔

نائب صدر نے آگے کہاکہ”آپ کا علم شفا بخشے، آپ کی تحقیق جدت کو فروغ دے اور آپ کی خدمت دوسروں کے لیے باعثِ ترغیب بنے،“

انہوں نے ایمس رائے پور کے طبی خدمات میں عمدگی، سائنسی جدت، عوامی صحت اور ہمدردانہ خدمت کے شعبوں میں مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چھتیس گڑھ کی یہ تبدیلی ’وکست بھارت 2047‘ کی جانب ملک کے وسیع تر سفر کا ایک اہم باب ثابت ہوگی۔ نائب صدر جمہوریہ نے ہونہار طلبہ کو طلائی تمغے اور اسناد بھی عطا کئے۔

اس موقع پر چھتیس گڑھ کے گورنر جناب رمن ڈیکا، صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکل و کھادوں کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل، چھتیس گڑھ کے صحت و خاندانی بہبود اور طبی تعلیم کے وزیر جناب شیام بہاری جیسوال، رائے پور کے رکن پارلیمنٹ جناب برج موہن اگروال، ایمس رائے پور کے صدر پروفیسر (ڈاکٹر) سنجیو ہانڈا اور ایمس رائے پور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اشوک جندل موجود تھے۔

********

 

ش ح۔ ع ح  ۔رض

U-2925

 


(ریلیز آئی ڈی: 2305882) وزیٹر کاؤنٹر : 10