شہری ہوابازی کی وزارت
شہری ہوابازی کی وزارت نے احمد آباد سے ہب اینڈ اسپوک بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کیا
ہندوستان کی بین الاقوامی ہوابازی مرکز حکمت عملی کے تحت احمد آباد تیسرا اسپوک ہوائی اڈہ بن گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 SEP 2026 8:49PM by PIB Delhi
شہری ہوابازی کی وزارت نے آج احمد آباد سے ہب اینڈ اسپوک بین الاقوامی پروازوں کے آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی احمد آباد ملک کا تیسرا ہوائی اڈہ بن گیا ہے، جسے بین الاقوامی مسافروں کی آمدورفت کے لیے ہندوستان کے ہب اینڈ اسپوک نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وارانسی اور امرتسر کے ہوائی اڈوں کو اس نظام سے مربوط کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول اور گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ جناب ہرش سنگھوی نے شرکت کی۔

مورخہ 25 جون 2026 کو وارانسی سے ہب اینڈ اسپوک آپریشنز کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستانی ہوابازی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ اس پہل کی مرحلہ وار توسیع کے تحت 28 جولائی 2026 کو امرتسر ہوائی اڈے سے ہب اینڈ اسپوک آپریشنز کا آغاز کیا گیا۔ آج احمد آباد کو اس نظام میں شامل کیے جانے کے ساتھ ہی ہم ایک مربوط، بلارکاوٹ اور مسافروں پر مرکوز ہوابازی نیٹ ورک تشکیل دینے کی سمت ایک اور اہم قدم اٹھا رہے ہیں، جو دہلی میں واقع ہمارے اپنے ہب ایئرپورٹ کے ذریعے ہندوستان کے مختلف خطوں کو براہ راست دنیا سے جوڑتا ہے۔ اب احمد آباد سے ہب اینڈ اسپوک آپریشن عالمی فضائی رابطے کو مزید مضبوط کریں گے، پرواز اے آئی 1117 مسافروں کو 22 مقامات تک رسائی فراہم کرے گی، جن میں زیادہ تر یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مقامات شامل ہیں، جبکہ شام کے وقت 20:15 بجے روانہ ہونے والی پرواز اے آئی 1121 شمالی امریکہ، مشرقی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور یورپ کے 17 مقامات تک فضائی رابطے میں توسیع فراہم کرے گی۔

شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے احمد آباد کے مسافروں کے لیے ہونے والی تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک احمد آباد سے پیرس، ٹورنٹو یا سڈنی جیسے مقامات کا سفر کرنے والے مسافروں کو دہلی کے لیے گھریلو پرواز لینا پڑتی تھی، الگ الگ ٹکٹوں کی بکنگ کرانی پڑتی تھی، دہلی پہنچنے پر اپنا سامان خود سنبھالنا پڑتا تھا، بڑے ہوائی اڈے پر امیگریشن کی قطاروں سے گزرنا پڑتا تھا اور اس دوران اگلی پرواز چھوٹ جانے کا خطرہ بھی رہتا تھا۔ ہب اینڈ اسپوک نظام کے تحت اب امیگریشن، چیک اِن اور سامان کی چیک اِن کی تمام کارروائی احمد آباد ہی میں مکمل ہو جائے گی اور مسافر کا سامان براہِ راست اس کی آخری بین الاقوامی منزل تک پہنچایا جائے گا۔
ہب اینڈ اسپوک ماڈل حکومت کی بین الاقوامی ہوابازی مرکز حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد 2030 تک ہندوستان کو ہندوستانی مسافروں کے لیے ترجیحی ہوابازی مرکز اور 2047 تک دنیا کے ایک اہم ہوابازی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس پہل کے تحت ہندوستان کے جغرافیائی محلِ وقوع اور وسیع ہوائی اڈہ بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستانی ہوابازی مراکز کے ذریعے فضائی رابطے کو مضبوط بنایا جائے گا اور بیرونِ ملک واقع ٹرانزٹ ہوائی اڈوں پر انحصار کم کیا جائے گا۔

اس اپنی نوعیت کے پہلے نظام کے تحت بین الاقوامی مسافر عالمی مقامات کے لیے سفر شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے ابتدائی اسپوک ہوائی اڈے پر چیک اِن، امیگریشن اور کسٹمز سے متعلق تمام کارروائیاں مکمل کر لیتے ہیں، جبکہ یہ اسپوک ایئرپورٹ خود بھی ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوتا ہے۔ مقررہ ہب ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد مسافر امیگریشن یا کسٹمز کی کارروائی دوبارہ کیے بغیر براہِ راست اپنی اگلی بین الاقوامی پرواز لے سکتے ہیں۔ سامان بھی بلارکاوٹ منتقل کر دیا جاتا ہے، جس سے مسافروں کی سہولت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور سفر کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں۔
اس نظام کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے، شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے بتایا کہ گزشتہ سال احمد آباد سے 1.6 کروڑ مسافروں نے بین الاقوامی پروازیں پکڑنے کے لیے دہلی کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہب اینڈ اسپوک نظام کے تحت سفر کی سہولت اور بلارکاوٹ رابطے کے باعث احمد آباد 2030 میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مقامات سے عالمی کھیل شائقین کو مدعو کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مسافروں کی آمدورفت میں اضافے کا فائدہ احمد آباد کے ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، ہیروں اور جواہرات اور انجینئرنگ کے شعبوں کو حاصل ہوگا۔ہب اینڈ اسپوک ماڈل سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے، جن میں ٹیئر – IIاور ٹیئر- III کے شہروں سے بین الاقوامی فضائی رابطے میں اضافہ، مسافروں کے بہتر سفری تجربے، ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال، فضائی کمپنیوں کی عملی کارکردگی میں بہتری اور ہندوستانی ہوابازی کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ شامل ہیں۔
اس کے فوائد محض ہوابازی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے۔ بہتر بین الاقوامی فضائی رابطے سے خاص طور پر گجرات کی کاروباری برادری، ہیروں کے برآمد کنندگان سمیت دیگر برآمد کنندگان، دست کاری کے کاریگروں، سرمایہ کاروں، سیاحوں اور طلبہ کو فائدہ ہوگا، کیونکہ اس سے بین الاقوامی بازاروں اور مقامات تک رسائی بہتر ہوگی۔ احمد آباد کا قومی ہوابازی مرکز کے نیٹ ورک کے ساتھ مضبوط انضمام تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے، جس سے گجرات کو عالمی سطح پر مربوط ریاست کے طور پر ترقی دینے میں مدد ملے گی۔
وزارت کی جانب سے کیے گئے مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوابازی مرکز کی ترقی سے 2030 تک تقریباً 4 لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار میں مزید 30 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ 2047 تک اس کے مجموعی اثرات سے تقریباً 1.6 کروڑ براہ بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور معیشت میں تقریباً 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا اضافی حصہ شامل ہونے کی توقع ہے۔
احمد آباد سے ہب اینڈ اسپوک پروازوں کا آغاز اس مرحلہ وار توسیع پذیر نظام کو آنے والے مہینوں میں ملک کے مزید ہوائی اڈوں تک وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جناب رام موہن نائیڈو نے بتایا کہ اس مرحلے میں ہب اینڈ اسپوک فضائی رابطے کو مزید 22 ہوائی اڈوں تک توسیع دی جائے گی، جن میں گجرات کا سورت بھی شامل ہے۔
اس موقع پر شہری ہوابازی کی وزارت کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا، حکومت گجرات کے چیف سکریٹری جناب منوج کمار داس، ڈی جی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجیش نروان، شہری ہوابازی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پنیت کنسل، بیورو آف امیگریشن، کسٹمز اور سی آئی ایس ایف کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ تقریب میں مختلف صنعتی ایسو سی ایشن، ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ افراد، سفری خدمات فراہم کرنے والے شراکت داروں، سیاحت کے نمائندگان اور ہوابازی و تجارت کے دیگر اہم متعلقہ فریقوں نے بھی شرکت کی۔ ان کی موجودگی احمد آباد سے بین الاقوامی فضائی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط باہمی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔


ش ح۔ م ش۔ ج ا
U.No. 2921
(ریلیز آئی ڈی: 2305865)
وزیٹر کاؤنٹر : 2