وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع نے 16 ڈی پی ایس یو کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا؛ ریکارڈ دفاعی پیداوار میں ان کے قابل ذکر تعاون کو سراہا


جناب راج ناتھ سنگھ نے ڈی پی ایس یو پر زور دیا کہ وہ بروقت فراہمی، خود انحصاری، برآمدات اور عالمی معیار کے معیار پر توجہ دیں

’’میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘‘ کے مقصد کے حصول کے لیے ہمیں ڈی پی ایس یوز کو عالمی سطح کی بڑی کمپنیوں میں تبدیل کرنا ہوگا

ڈی پی ایس یو کی ترقی محض ایک اقتصادی یا صنعتی ضرورت نہیں ہے، یہ قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے: وزیر دفاع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2026 6:12PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے یکم ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں 16 دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں (ڈی پی ایس یوز) کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ کے ہمراہ، سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار اور ڈی پی ایس یوز کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹروں (سی ایم ڈیز) نے انہیں اداروں کی کارکردگی، اہم کامیابیوں اور مستقبل کے لائحۂ عمل کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر دفاع نے ڈی پی ایس یوز کی جانب سے مقامی پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں اضافے، جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری، دفاعی برآمدات میں اضافے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور بڑے منصوبوں پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے اور ایک مستحکم دفاعی صنعتی بنیاد کے قیام کے ساتھ آتم نربھر بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں ڈی پی ایس یوز کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تمام 16 ڈی پی ایس یوز مختلف شعبوں میں اپنی کامیابیوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اداروں کی مسلسل لگن اور عمدگی پر انہیں مبارک باد پیش کی۔انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ 2025-26 میں بھارت نے تقریباً 1.8 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی دفاعی پیداوار حاصل کی، جس میں ڈی پی ایس یوز کا حصہ 1.29 لاکھ کروڑ روپے رہا۔ انہوں نے اس کامیابی کو ایک خود انحصار دفاعی صنعتی بنیاد کے قیام کی جانب ملک کی نمایاں پیش رفت کا مظہر قرار دیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے ڈی پی ایس یوز پر زور دیا کہ وہ بروقت فراہمی، درآمدات پر انحصار کم کرنے، تحقیق و ترقی کو ٹیکنالوجی میں قیادت کی صلاحیت میں تبدیل کرنے، دفاعی برآمدات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے، سرمایہ جاتی اخراجات میں توسیع کے ساتھ پیداواری صلاحیت بڑھانے، اسٹارٹ اَپس اور ایم ایس ایم ایز کی مزید معاونت کرنے اور عالمی معیار کے مساوی معیارِ پیداوار حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ڈی پی ایس یوز کی ترقی محض معاشی یا صنعتی ضرورت نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا ناگزیر تقاضا ہے۔ دنیا میں حالیہ تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے یقینی سپلائی چین، ضرورت کے وقت پیداوار میں فوری اضافہ کرنے کی صلاحیت، اہم پرزہ جات کی دستیابی، تیز رفتار مرمت کی صلاحیت اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات کے دوران پیداوار برقرار رکھنے کی صلاحیت کتنی اہم ہے۔‘‘

جہاں  وزیردفاع  نے ڈی پی ایس یوز کے ذریعے آر اینڈ ڈی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ، وہیں انہوں نے کہا کہ آر اینڈ ڈی کی کامیابی کو نہ صرف خرچ کی گئی رقم سے ماپا جانا چاہیے ، بلکہ نئی ٹیکنالوجیز ، دانشورانہ املاک ، پروٹو ٹائپ اور آپریشنل مصنوعات کی ترقی سے ماپا جانا چاہیے ۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کے مخصوص شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں ہندوستان نہ صرف خود کفیل بن سکتا ہے بلکہ عالمی رہنما بھی بن سکتا ہے ۔

وزیر دفاع نے ڈی پی ایس یو پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات کے معیار کو عالمی معیار تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کرتے رہیں ۔  انہوں نے کہا کہ ’میک ان انڈیا ، میک فار دی ورلڈ‘ کے مقصد کے حصول کے لیے ہمیں تمام ڈی پی ایس یوز کو عالمی  جائنٹس میں تبدیل کرنے کا عزم کرنا چاہیے ۔

تقریب کے دوران ، سات ڈی پی ایس یوز-ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای) بی ای ایم ایل ، اور مدھانی کے سی ایم ڈیز نے مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت کے ایکویٹی حصص کے لیے کل 3,951 کروڑ روپے کے ڈیویڈنڈ چیک وزیر دفاع کو پیش کیے ۔

اس موقع پر وزیردفاع  نے چار کتابوں کا اجرا کیا جن میں ’آتم نربھر ڈی پی ایس یو-خود کفالت کی طرف ڈی پی ایس یو کا سفر‘ اشیاء کی مقامی کاری ، نئی مصنوعات تیار کرنے اور اگلے پانچ سالوں کے لیے اپنائے جانے والے نئے عمل ؛ ڈی ایس ایچ اے ، دفاعی ٹیکنالوجیز اور جدید مینوفیکچرنگ کے عمل پر نوجوانوں کے ذہنوں کے لیے صنعتوں کے طلباء کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک پہل ؛ اسے مستقبل کے لیے تیار ایرو اسپیس انٹرپرائز میں تبدیل کرنے کے لیے ایچ اے ایل کا ماڈرنائزیشن روڈ میپ ؛ اور ایرو اور دفاعی شعبے میں زیادہ سے زیادہ خود کفالت حاصل کرنے کے لیے ایچ اے ایل کا مقامی کاری روڈ میپ شامل ہیں ۔  یہ اشاعتیں خود انحصاری ، مقامی کاری ، اختراع اور مستقبل کے لیے تیار دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہیں ۔

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 2888


(ریلیز آئی ڈی: 2305701) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi , Tamil