دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دیہی ترقی  کے مرکزی وزیرِ نے ڈبلیو ڈی سی-پی ایم کے ایس وائی   کی پیش رفت کا جائزہ لیا؛ ’خشک سالی سے پاک بھارت‘ کے لیے واٹرشیڈ ترقیاتی پروگرام کو تیز کرنے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2026 5:23PM by PIB Delhi

دیہی ترقی  کے مرکزی وزیرِ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج وزیر اعظم کرشی سنچائی یوجنا کے واٹرشیڈ ترقیاتی جزو( ڈبلیو ڈی سی-پی ایم کے ایس وائی) کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ریاستوں سے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کرنے اور زمینی سطح پر واضح اور بہتر نتائج کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے واٹرشیڈ ترقی کو ’’ترقی یافتہ بھارت کے لیے خشک سالی سے پاک بھارت‘‘ کے ہدف کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا، ’’واٹرشیڈ ترقی محض آبی ڈھانچے تعمیر کرنے کا پروگرام نہیں ہے؛ اس کا حقیقی مقصد کھیتوں تک پانی پہنچانا، زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا اور کسانوں کی آمدنی اور روزگار کے ذرائع کو مضبوط بنانا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ پانی کے ہر قطرے کا بہتر استعمال ہو اور اس کا فائدہ کسانوں تک پہنچے۔‘‘

ڈبلیو ڈی سی-پی ایم کے ایس وائی 2.0 اسکیم کے تحت اب تک 52.93 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کرتے ہوئے 1,220 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں کی کل منظور شدہ لاگت 12,404 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 8,134 کروڑ روپے ہے۔ مرکزی حصے میں سے 6,955.75 کروڑ روپے (85 فیصد) جاری کیے جا چکے ہیں۔

دیہی ترقی کے  مرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے خصوصی طور پر کسانوں پر مرکوز نتائج پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’واٹرشیڈ منصوبے کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ واٹرشیڈ اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 1.40 لاکھ ہیکٹر رقبے میں، جہاں پہلے بمشکل ایک فصل پیدا ہوتی تھی، اب کسان دو اور کئی مقامات پر تین فصلیں بھی حاصل کر رہے ہیں۔ باغبانی، سبزیوں کی پیداوار اور زیادہ قدر والی فصلوں کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کی زندگی میں خوشحالی آئی ہے۔ یہی تبدیلی ہماری اسکیموں کی حقیقی کامیابی ہے۔‘‘

پروگرام کے تحت 1.24 لاکھ آبی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے تعمیر اور بحال کیے گئے ہیں۔ ان میں چیک ڈیم، نالہ بند، پرکولیشن ٹینک، گاؤں اور کھیت کے تالاب، مینڈ بندی، ٹرینچز، آبی ذخائر اور بارش کے پانی کو جمع کرنے اور زیرِ زمین پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے والے دیگر ڈھانچے شامل ہیں۔ ان ڈھانچوں کے ذریعے بارش کے پانی کو مقامی سطح پر روکنے، اسے ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین پانی کی سطح کو بحال کرنے اور زراعت کے لیے پانی کی دستیابی بڑھانے میں اہم مدد ملی ہے۔

ان کوششوں کے نتیجے میں مزید 3.08 لاکھ ہیکٹر رقبے میں حفاظتی آبپاشی کی سہولت فراہم ہوئی ہے، جس سے بارش کے پانی پر منحصر علاقوں کے کسانوں کو کم بارش یا خشک سالی کی صورتِ حال میں اپنی فصلوں کو بچانے میں مدد مل رہی ہے۔ پروگرام سے اب تک 28.50 لاکھ کسان مستفید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، 1.45 لاکھ ہیکٹر رقبے میں جنگلات کی افزائش، باغبانی اور شجرکاری کی گئی ہے، جبکہ 2.85 کروڑ انسانی یومِ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔

جناب چوہان نے ریاستوں سے شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی، کارکردگی کے اصولوں اور عوام پر مرکوز طریقۂ کار کے تحت کام کرنے اور منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ واٹرشیڈ منصوبوں کا جائزہ صرف اخراجات کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمین کی بہتری، پانی کی دستیابی، آبپاشی، فصلوں کی شدت، زمین کی پیداواری صلاحیت اور کسانوں کی روزی روٹی میں ہونے والی حقیقی بہتری کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

جناب چوہان نے کہا، ’’ہم نے ’واٹرشیڈ یاترا‘ اور ’واٹرشیڈ مہوتسو‘ کے ذریعے واٹرشیڈ ترقی کو عوامی تحریک کی شکل دی ہے۔ اب ہمارا مقصد واٹرشیڈ ترقی کو محض ایک اسکیم کے طور پر نہیں بلکہ پانی اور زمین کے تحفظ، زرعی سلامتی اور دیہی خوشحالی کی قومی مہم کے طور پر آگے بڑھانا ہے۔ تیز رفتار عمل درآمد، بہتر نتائج اور زیادہ اثر انگیزی—یہی ہمارا عزم ہونا چاہیے۔‘‘

جائزہ اجلاس میں ریاستوں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں سے مربوط انداز میں کام کرنے کی اپیل کی گئی، تاکہ واٹرشیڈ ترقی کے فوائد آخری سطح تک کسانوں اور دیہی خاندانوں تک پہنچنا یقینی بنایا جا سکے۔

*****

ش ح ۔ع و۔ خ م

U. No.2884


(ریلیز آئی ڈی: 2305634) وزیٹر کاؤنٹر : 10