PIB Backgrounder
ہندوستان کی جی ڈی پی کی کارکردگی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 SEP 2026 2:42PM by PIB Delhi
حقیقی جی ڈی پی 7.8 فیصد نمو کے ساتھ 27-2026 کا مستحکم آغاز
|
ہندوستان کی معیشت نے مالی سال 2026-27کا آغاز مستحکم انداز میں کیا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر7.8 فیصد ہوگئی، جس میں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ حقیقی جی وی اے میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا۔سرمایہ کاری میں 11.9 فیصد اضافہ ہوا، گھریلو کھپت میں 7.1 فیصد اور برآمدات میں 12.0فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یہ رفتار جولائی میں بھی برقرار رہی، جب صنعتی پیداوار میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا۔ اپریل سے جولائی کے دوران اشیاء اور خدمات کی مجموعی برآمدات میں سال بہ سال بنیاد پر 13.16 فیصد اضافہ ہوا۔جولائی میں صنعت اور خدمات کے شعبوں کو فراہم کئے جانے والے قرض میں بالترتیب 20.0فیصداور 22.9فیصد اضافہ ہوا۔
|
ہندوستان کی معاشی صورتحال
ہندوستان نے مالی سال 2026-27میں مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے درمیان قدم رکھا۔ ان بیرونی دباؤ کے باوجود مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں 7.8فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔ یہ مالی سال 2023-24سے 2026-27 تک کے چار سالہ عرصے کے دوران پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی سب سے زیادہ شرح نمو ہے۔ اس مضبوط کارکردگی کو مستحکم ملکی طلب اور مینوفیکچرنگ و خدمات کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے تقویت ملی ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی عالمی معیشت میں ہندوستان کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ جولائی 2026میں آئی ایم ایف نے ہندوستان کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک اور عالمی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر قرار دیا۔ ہندوستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بھی اس اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ اگست 2026 میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگزنے ہندوستان کی بی بی بی/-2‘ خودمختار کریڈٹ ریٹنگز کومستحکم آؤٹ لک کے ساتھ برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ 2025 میں ہندوستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کو’بی بی بی‘تک اپ گریڈ کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جو18 سال کے وقفے کے بعد کیا گیا تھا۔
2026-27 کا مستحکم آغاز
پہلی سہ ماہی میں شرح نمو میں تیزی

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (کیو-1) میں معاشی نمو مزید مضبوط ہوئی۔ یہ شرح نمو سہ ماہی کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) کے 7.0فیصد کے تخمینے سے بھی زیادہ رہی۔حقیقی جی ڈی پی (ریئل جی ڈی پی) یعنی مستقل قیمتوں پر جی ڈی پیمالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 81.36لاکھ کروڑ روپےرہنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں 7.8فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 6.9 فیصدتھی۔برائے نام جی ڈی پی یعنیموجودہ قیمتوں پر مبنی جی ڈی پی88.27 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں 10.3فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ اضافہ 8.1فیصد تھا۔
|
مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) سے مراد کسی مخصوص حسابی مدت کے دوران ملکی معیشت میں پیدا ہونے والی حتمی اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر ہے۔
|
- حقیقی جی وی اے کا تخمینہ 73.82لاکھ کروڑروپے لگایا گیا ہے، جس میں 8.2 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 7.0فیصدتھی۔
- برائے نام جی وے اے کا تخمینہ 80.53لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جس میں 11.5فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 8.1فیصدتھی۔
|
مجموعی قدر میں اضافہ (جی وی اے) معیشت میں مختلف پیدا کنندگان، صنعتوں یا شعبوں کے انفرادی تعاون کی پیمائش کرتا ہے۔
|
نظرثانی شدہ تخمینوں سے معاشی نمو کی تصویر مزید مضبوط ہوتی ہے
گزشتہ تین مالی برسوں کے لیے حقیقی جی ڈی پی کے تخمینوں میں نظرانی کرتے ہوئے انہیں بڑھا دیا گیا ہے۔ نظرانی شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی سہ ماہی کی کارکردگی پہلے کے اندازوں کے مقابلہ میں زیادہ مضبوط معاشی نمو کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
|
جدول-1: نظر ثانی شدہ حقیقی جی ڈی پی نمو کے تخمینے
|
|
مالی سال
|
ابتدائی تخمینہ
|
نظر ثانی شدہ تخمینہ
|
|
2023-24
|
7.2%
|
7.3%
|
|
2024-25
|
7.1%
|
7.2%
|
|
2025-26
|
7.7%
|
7.8%
|
|
ماخذ: شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی)
|
|
نظر ثانی شدہ تخمینوں کی بنیاد
سالانہ نظرثانی شدہ تخمینہ بیس سال 2022-23 کے ساتھ نئی قیمتوں اور پیداواری اشاریوں کے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں آؤٹ پٹ پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور بینکنگ سروسز پرائس انڈیکس (بی کے ایس پی آئی) شامل ہیں۔ مختلف ذرائع سے اپ ڈیٹ شدہ انتظامی ڈیٹا بھی شامل کیا گیا۔قومی کھاتوں کے اعدادوشمار کی نظرثانی کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے، براہ کرم ملاحظہ کریں: گنتی کیا شمار ہوتا ہے: ہندوستان کے قومی کھاتوں اور بنیادی اقتصادی اعدادوشمار کو مضبوط بنانا
|
گروتھ ڈرائیوروں کی تشکیل
اہم اخراجات کے اجزاء میں رجحانات
پہلی سہ ماہی میں اقتصادی سرگرمیوں کو سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافے، گھریلو کھپت اور مضبوط برآمدات سے مدد ملی۔
|
جدول-2: حقیقی جی ڈی پی کے اہم اخراجات کے اجزاء
|
|
جزو
|
تشریح
|
2025-26کیو-1
|
2026-27کیو-2
|
|
مجموعی فکسڈ کیپٹل فارمیشن (جی ایف سی ایف)
|
سرمایہ کاری کی ملکی فنڈنگ
|
5.8%
|
11.9%
|
|
نجی حتمی کھپت کے اخراجات (پی ایف سی ای)
|
سامان اور خدمات پر گھرانوں کا خرچ
|
6.8%
|
7.1%
|
|
برآمدات
|
باقی دنیا کو فراہم کردہ سامان اور خدمات
|
6.0%
|
12.0%
|
|
ماخذ: شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی)
|
ترقی بڑے شعبوں میں پھیلتی ہے۔
اخراجات کی طاقت پیداوار کی طرف بھی جھلکتی ہے، تیسرے اور ثانوی شعبوں میں تیزی سے توسیع ہوتی ہے۔
- ریئل جی وی اےکے لحاظ سےترتیری شعبہ میں 2026-27کیو-1 میں 10.0 فیصد اضافہ ہوا ، جو 2025-26 کیو-1میں 8.0 فیصد سے زیادہ ہے۔ سیکٹر کے اندرمالیاتی، رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی اور پیشہ ورانہ خدمات میں 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
- ثانوی شعبہ میں 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا ، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 6.1 فیصد تھا۔
- مینوفیکچرنگ نے 9.2% نمو ریکارڈ کی، جس کی حمایت کلیدی حصوں میں مضبوط پیداوار سے ہوئی ۔ کئی مینوفیکچرنگ کیٹیگریز نے بھی سہ ماہی کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا:
|
ٹیبل 3: مینوفیکچرنگ کی کلیدی زمرہ جات قابل ذکر فوائد کو ریکارڈ کرتے ہیں۔
سال بہ سال آئی آئی پی نمو (%)
|
|
مینوفیکچرنگ زمرہ
|
2025-26 کیو-1
|
2026-27کیو-2
|
|
بجلی کا سامان
|
9.7
|
27.0
|
|
دیگر نقل و حمل کا سامان
|
3.8
|
19.5
|
|
کمپیوٹر، الیکٹرانک اور آپٹیکل مصنوعات
|
8.8
|
12.4
|
|
مشینری اور سامان
|
6.6
|
9.1
|
|
ماخذ: شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی)
|
-
- آئی آئی پی کے تحت کیپٹل گڈز کی پیداوار میں بھی 2026-27 کیو-1میں 15.2 فیصداضافہ ہوا ، جو ایک سال پہلے 8.8 فیصد تھا۔ انفراسٹرکچر/تعمیراتی سامان میں بھی 6.1فیصد سے زیادہ 7.2فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
حالیہ اشارے مسلسل رفتار کا اشارہ دیتے ہیں۔

صنعتی سرگرمیاں مستحکم رہیں
- جولائی 2026 میں صنعتی پیداوار میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ شرح 5.4 فیصد تھی۔ مالی سال 2026-27 کے اپریل سے جولائی کے دوران صنعتی پیداوار میں 6.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 4.0 فیصد تھی۔
- جولائی - 2026 میں جولائی - 2025 کے مقابلے میں کیپٹل گڈز کی پیداوار میں 16.1 فیصد اضافہ ہوا۔ درمیانی اشیا(آئی جی) کی پیداوار میں 10.0 فیصد اور انفراسٹرکچر و تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں 6.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- انڈیکس آف کور انڈسٹریز(آئی سی آئی) میں جولائی 2026 کے دوران سال بہ سال بنیاد پر 5.4 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2026-27 کے اپریل سے جولائی کے دوران آئی سی آئی میں 4.3 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1.5 فیصد تھا۔
برآمدات کی مضبوط کارکردگی
- جولائی 2026میں ہندوستان کی اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات کا تخمینہ 80.14ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جو جولائی 2025کے مقابلے میں 13.31فیصد زیادہ ہے۔
- مالی سال 2026-27کے اپریل سے جولائی کے دوران مجموعی برآمدات کا تخمینہ 316.42ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ اپریل تا جولائی 2025-26کے دوران ریکارڈ کی گئی 279.63ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 13.16 فیصد زیادہ ہے۔
بڑے شعبوں میں قرض کی فراہمی میں توسیع
جولائی 2026میں بڑے شعبوں میں بینک قرض کی نمو مزید مضبوط ہوئی۔
- زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے لیے قرض میں سال بہ سال بنیاد پر 17.0فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی 2025میں یہ شرح 7.3فیصدتھی۔
- صنعت کے لیے قرض میں 20.0فیصد اضافہ ہوا، جو جولائی 2025میں 6.5فیصدتھا۔
- خدمات کے شعبہ کے لیے قرض میں 22.9فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی 2025میں یہ شرح 10.2فیصدتھی۔
ترقی کو فروغ دینے والے حالیہ پالیسی اقدامات
- موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (جولائی 2026) کے لیے 2030-31 تک 62,500کروڑ روپےمختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد پیداوار کو مزید وسعت دینا، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
- جولائی 2026 میں منظور کی گئی سیمی کنڈکٹر 2.02.0)سیمی کون) کے لیے 1,27,500کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم چپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ، جدید پیکیجنگ، تحقیق، خام مال، آلات اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی میں معاونت فراہم کرے گی۔
- جولائی 2026 میں منظور کی گئی بی ایچ اے وی وائی اے- بھویہ رسائن اسکیم کے لیے مالی سال 2026-27سے 2030-31 تک پانچ سالہ مدت کے لیے 3,030کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت ملک بھر میں تین مخصوص کیمیکل پارکس کے قیام میں معاونت فراہم کی جائے گی۔
- ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم(ای سی ایل جی ایس) 5.0 کا مقصد مغربی ایشیا کی صورتحال کے تناظر میں 2.55لاکھ کروڑ روپے کی اضافی قرض فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایم ایس ایم ایزکے لیے 100 فیصداورنان ایم ایس ایم ایز کے لیے 90 فیصد گارنٹی کوریج فراہم کی جائے گی۔
- پارلیمنٹ سے اگست 2026 میں منظور شدہ ایم ایس ایم (ترمیمی)ڈیولپمنٹ بل 2026تعمیلی تقاضوں کو آسان بناتا ہے اورایم ایس ایم ایزکی ترقی اور مسابقتی صلاحیت کو فروغ دیتا ہے۔
توانائی کی سلامتی
سال2026کے دوران متعارف کرائے گئے پالیسی اقدامات نے ان معاشی رجحانات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان اقدامات کا دائرہ مینوفیکچرنگ، توانائی کی سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری اور زراعت سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
مینوفیکچرنگ اور صنعت
- سمندر منتھن، نیشنل آف شور ایکسپلوریشن اسکیم کے لیے مالی سال 2030-31تک 84,084کروڑ روپےمختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ہندوستان کی سمندری توانائی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے توانائی کے وسائل کی تلاش میں معاونت فراہم کی جائے گی۔
- سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسیفکیشن منصوبوں کے فروغ کی اسکیم کو مئی 2026میں 37,500کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ منظور کیا گیا۔ یہ اسکیم سال 2030 تک 100ملین ٹن کوئلہ گیسیفکیشن کے ہدف کی تکمیل میں معاونت کرے گی اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کا مقصد رکھتی ہے۔
- جی او بی اے آر ڈی ایچ اے این- گوبر دھن، نیشنل سرکلر بایو انرجی اسکیم کو اگست 2026میں 23,731کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ منظور کیا گیا۔ اس اسکیم پر مالی سال 2026-27سے 2035-36 تک عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کا مقصد زرعی، حیوانی اور میونسپل نامیاتی فضلے سے کمپریسڈ بایو گیس کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
- پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا (پی ایم – ایس ایس وائی) کو جولائی 2026میں 5,070کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ منظور کیا گیا۔ یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے دوران منظور کیے جانے والے منصوبوں کے تحت 5,000میگاواٹ کے فلوٹنگ سولر منصوبوں کی معاونت کرے گی، جن کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی منسلک ہوگی۔
تجارت اور سرمایہ کاری
- ہندوستان-برطانیہ سی ای ٹی اے اور سماجی تحفظ سے متعلق معاہدہ (اے ایس ایس ) 15جولائی 2026کو نافذ العمل ہوئے۔ ان معاہدوں کے تحت برطانیہ کو ہندوستان کی تقریباً 99فیصد برآمدات کے لیے ڈیوٹی سے پاک رسائی فراہم کی گئی ہے۔
- ہندوستان-اسرائیل دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ (بی آئی اے) 4 جولائی 2026کو نافذ العمل ہوا۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ محفوظ اور قابلِ پیش گوئی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
- جون 2026میں سرکاری سکیورٹیز میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی شرکت کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات کا اعلان کیا گیا۔ اہم اقدامات میں ٹیکس سے استثنیٰ،فلی ایکسیسبل روٹ کے تحت وسیع تر کوریج اور سرمایہ کاری کے ضوابط کو آسان بنانا شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ہندوستان کی قرض مارکیٹ کو مزید گہرا بنانا ہے۔
- مئی 2026میں شروع کیے گئے ہندوستان میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) کو12,980کروڑ روپے کی خودمختار حکومتی ضمانت حاصل ہے۔ یہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سمندری خطرات کیلئے انشورنس کوریج فراہم کرتا ہے اور غیر ملکی بیمہ کنندگان پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
زراعت: کسانوں کی آمدنی اور پیداوار میں معاونت
مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک پردھان منتری کسان سمان ندھی(پی ایم-کی آئی ایس اے این) کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے لیے 3.15 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت اہل کسان خاندانوں کو براہ راست فائدہ منتقلی(ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے حکومت نے کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے والی قیمتیں یقینی بنانے کے مقصد سے 14 خریف فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں(ایم ایس پی) میں اضافہ کیا ہے۔ مطلق قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ سورج مکھی کے بیج، کپاس، نائجر سیڈ اور تل کے لیے کیا گیا۔
مئی - 2026 میں منظور کیے گئے مشن فار کاٹن پروڈکٹی وٹی (کپاس کانتی) کے لیے مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک5,659.22 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ مشن کپاس کے کسانوں کو جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے جوڑتا ہے، کیڑوں کے خطرات کو کم کرتا ہے اور پیداوار کے نظام اور زرعی تجارت کو مضبوط بناتا ہے۔
نیشنل انویسٹمنٹ پالیسی فار یوریا(این آئی پی یو)- 2026 کا مقصد گیس پر مبنی یوریا مینوفیکچرنگ یونٹس میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ پالیسی یوریا کی ملکی پیداوار میں اضافے اور یوریا کے معاملے میں بھارت کو خود کفیل بنانے کے ہدف کی حمایت کرتی ہے۔
یہ اقدامات گزشتہ ایک دہائی کے دوران کیے گئے پالیسی اقدامات، جن میں میک ان انڈیا، پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو(پی ایل آئی) اسکیمیں، پی ایم کے آئی ایس اے این ، ایکسپورٹ پروموشن مشن اور دیگر اقدامات شامل ہیں، کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔
خلاصہ
مالی سال 2026-27 کے آغاز میں ہندوستان کی معاشی کارکردگی معیشت کے اہم شعبوں میں وسیع البنیاد مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ سرمایہ کاری میں تیزی آئی ہے، گھریلو کھپت مضبوط رہی ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ، خدمات اور برآمدات نے بھی معیشت کو اضافی سہارا فراہم کیا ہے۔حالیہ مزید اشاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مضبوطی پہلی سہ ماہی کے بعد بھی برقرار رہی ہے۔ مختلف پالیسی اقدامات کے ذریعے حکومت کی مسلسل معاونت نے بھی معاشی سرگرمیوں کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔
پی آئی بی ریسرچ
حوالہ جات
Ministry of Statistics & Programme Implementation:
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2304949®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2304948®=48&lang=1
https://www.mospi.gov.in/uploads/announcements/announcements_1772117257791_84ae898f-7be2-4b7d-a135-565e1a809513_FAQ_GDP_26022026_1902.pdf
https://www.mospi.gov.in/sites/default/files/publication_reports/national_accounta_0.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2304222®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/FaqDetails.aspx?ModuleId=4&NoteId=157582&lang=1®=48
Ministry of Finance:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2280989&lang=1®=48
Ministry of Commerce & Industry:
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2301558&lang=2®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298878&lang=1®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2285085&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294775&lang=1®=6
Ministry of Electronics & IT:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284796&lang=2®=48
Ministry of Chemicals and Fertilizers:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288866&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288824&lang=1®=48
Ministry of Petroleum & Natural Gas:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2295494&lang=1®=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2301012®=48&lang=1
Ministry of New and Renewable Energy:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292465&lang=1®=1
Ministry of Agriculture & Farmers Welfare:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292460&lang=1®=6
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260618&lang=3®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258187®=48&lang=2
Union Cabinet:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284789&lang=1®=20
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258114&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292445&lang=1®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260621&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253242&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250032&lang=1®=20
Cabinet Committee on Economic Affairs (CCEA):
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284800&lang=1®=3
Reserve Bank of India (RBI):
https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/Bulletin/PDFs/0BULL25082026F2C1FCCDD5CBB4F6EAE15BCBB541FC331.PDF
https://www.rbi.org.in/Scripts/BS_PressReleaseDisplay.aspx?prid=63287
https://www.rbi.org.in/scripts/BS_PressReleaseDisplay.aspx?prid=63478
International Monetary Fund (IMF):
https://www.imf.org/en/news/articles/2026/07/09/tr-07092026-imf-press-briefing-transcript-july-09-2026
United Nations (UN):
https://unstats.un.org/unsd/nationalaccount/glossresults.asp?gID=232&
PIB Archives:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297792&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150624&lang=1®=48
Others:
https://www.spglobal.com/ratings/en/regulatory/article/-/view/type/HTML/id/3618793
India’s GDP Performance
پی ڈی ایف کے لیےیہاں کلک کریں:
*****
) ش ح – ظ الف – اش ق )
(ریلیز آئی ڈی: 2305620)
وزیٹر کاؤنٹر : 3