سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

درج فہرست ذاتوں سے متعلق قومی کمیشن کی طرف سے ترن تارن معاملے میں ملزم کے خلاف فوری کارروائی اور پانچ دن کے اندر گرفتاری کی سفارش


کمیشن نے سابق مرکزی وزیرِ داخلہ آنجہانی بوٹا سنگھ کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصروں کا جائزہ لیا؛ درخواست گزار اور اس کے زیرِ کفالت افراد کو دہلی اور پنجاب میں پولیس تحفظ فراہم کرنے کی سفارش

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 AUG 2026 8:03PM by PIB Delhi

درج فہرست ذاتوں سے متعلق قومی کمیشن کے معزز چیئرمین جناب کشور مکوانا کی صدارت میں آج پنجاب کے ترن تارن میں انتخابی مہم کے دوران پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جناب امریندر سنگھ راجا وارنگ کی جانب سے سابق مرکزی وزیرِ داخلہ آنجہانی جناب بوٹا سنگھ کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرے کیے جانے کے معاملے میں سماعت کی گئی۔

جوابی فریق کے حکام کی جانب سے پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی جناب ہربھریت سنگھ اور ڈی ایس پی، ای او و سائبر کرائم، پنجاب پولیس جناب گلزار سنگھ سماعت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار اور آنجہانی جناب بوٹا سنگھ کے صاحبزادے جناب سربجوت سنگھ بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔

فریقین کو سننے اور ریکارڈ پر پیش کیے گئے مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن نے تفتیش مکمل کرنے، ملزمان کو گرفتار کرنے اور کارروائی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے میں ہونے والی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ تاخیر اس حقیقت کے باوجود ہوئی کہ گزشتہ سماعت کے دوران کمیشن نے اس سلسلے میں واضح سفارشات جاری کی تھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260831200459_f61738.jpg

5 مئی 2026 کو منعقدہ سماعت کے دوران کمیشن نے سفارش کی تھی کہ متعلقہ قواعد کے مطابق مقررہ مدت کے اندر تفتیش مکمل کی جائے۔

درخواست گزار کی اس شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے کہ اسے مبینہ ملزمان کی جانب سے دھمکی آمیز فون موصول ہو رہے ہیں، کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ، 1989 کی دفعہ 15A کے تحت درخواست گزار اور اس کے زیرِ کفالت افراد کو ضروری تحفظ فراہم کیا جائے۔ کارروائی سے متعلق رپورٹ 30 دن کے اندر کمیشن کو پیش کرنا ضروری تھا۔ تاہم، کمیشن نے نوٹ کیا کہ مطلوبہ رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔

تاخیر کے مسلسل جاری رہنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے سفارش کی کہ متعلقہ حکام قانون کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی شروع کریں اور کی گئی کارروائی کی صورتِ حال سے کمیشن کو پانچ دن کے اندر آگاہ کریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image002_20260831200513_1781ed.jpg

کمیشن نے مزید سفارش کی کہ تفتیش کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور مزید کسی تاخیر کے بغیر مجاز عدالت کے سامنے فردِ جرم دائر کی جائے۔ کمیشن نے متعلقہ مجاز حکام سے یہ بھی کہا کہ تفتیش اور گرفتاری میں ہونے والی تاخیر کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

اگر تفتیشی افسر یا افسران کی جانب سے فرائض کی دانستہ غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق مناسب محکمانہ کارروائی کی جائے، جس میں درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ، 1989 کی دفعہ 4 کے تحت کارروائی پر غور بھی شامل ہو سکتا ہے۔ کمیشن نے اپنی سفارشات پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ 30 دن کے اندر طلب کی ہے۔

کمیشن نے درخواست گزار کی سلامتی کے معاملے کو بھی خصوصی سنجیدگی سے لیا۔ جناب سربجوت سنگھ کو مبینہ طور پر مسلسل ملنے والی دھمکیوں کے پیشِ نظر، کمیشن نے سفارش کی کہ درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ، 1989 کی دفعہ 15A کے مطابق درخواست گزار اور اس کے زیرِ کفالت افراد کو دہلی اور پنجاب، دونوں مقامات پر فوری اور مناسب پولیس تحفظ فراہم کیا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image003_20260831200526_65166d.jpg

کمیشن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ متاثرین، شکایت کنندگان، گواہوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کا تحفظ قانون کے تحت فراہم کیا جانے والا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔ متعلقہ حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ درخواست گزار کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا مرعوب کیے جانے کے خدشے کے بغیر اس معاملے کی پیروی کر سکے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2839


(ریلیز آئی ڈی: 2305239) وزیٹر کاؤنٹر : 10