شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر رام موہن نائیڈو نے ایس اے ایف اور کورسیا کے نفاذ کے لیے ہندوستان کی تیاریوں کا جائزہ لیا


ایس اے ایف کی پیداوار، بلینڈنگ کے روڈ میپ اور کاربن اکاؤنٹنگ فریم ورک پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 9:55PM by PIB Delhi

شہری ہوابازی کی وزارت نے آج وزیر رام موہن نائیڈو کی صدارت میں ایک اعلی سطحی اسٹیک ہولڈر میٹنگ کا انعقاد کیا ،جس میں پائیدار ایوی ایشن فیول (ایس اے ایف) کو اپنانے اور کاربن آفسیٹنگ اینڈ ریڈکشن اسکیم فار انٹرنیشنل ایوی ایشن (سی او آر ایس آئی اے) کی تعمیل کے لیے ہندوستان کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سی او آر ایس آئی اے ، بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او)  کا عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی کا فریم ورک ہے۔

اجلاس میں شہری ہوا بازی کے سیکریٹری کے علاوہ وزارتِ شہری ہوا بازی، وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس، وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن(ڈی جی سی اے) ، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی ) ، بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) ، بیورو آف انرجی ایفیشنسی (بی ای ای) ، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (او ایم سیز) ، ایئرلائنز، ایئرپورٹ آپریٹرز اور دیگر اہم شراکت داروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک بھر میں ایس اے ایف کی پیداوار، سرٹیفکیشن اور سپلائی چین کی ترقی کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے نافذ کیے جانے والے مختلف ایس اے ایف پیداواری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور ان تنصیبات کو شروع کرنے کے لیے مقررہ مدت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز نے 2027 سے متوقع مانگ کو پورا کرنے کے لیے پائیدار ایوی ایشن فیول کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے درکار اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس موقع پر وزیرِ شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو نے کہا: ’’ہندوستان ایک مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی پائیدار ایوی ایشن فیول (ایس اے ایف) ایکو سسٹم تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جو ہمارے ہوا بازی کے شعبے کی ترقی میں معاونت کرے اور عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی کی کوششوں میں بامعنی کردار ادا کرے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، ہم ایس اے ایف کو محض ایک قانونی یا ضابطہ جاتی تقاضے کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم قومی موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایس اے ایف کی ویلیو چین سے کسانوں سمیت متعدد اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔‘‘

وزیرِ شہری ہوا بازی نے مزید کہا    ، ’’ایک صنعت کی حیثیت سے ہم پہلے ہی اخراج میں کمی کے لیے متعدد محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔ 2014 میں ملک میں ایسے ہوائی اڈوں کی تعداد صفر تھی، جبکہ آج ملک کے 104 ہوائی اڈے مکمل طور پر 100 فیصد سبز توانائی کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیزنگ کے نظام کو فروغ دینے کے ذریعے ایئرلائنز کو جدید اور زیادہ ایندھن مؤثر طیاروں پر مشتمل بیڑے رکھنے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ایس اے ایف بھی ہماری اجتماعی کوششوں کا ایک اہم جزو ہے۔ اب ہمیں فزیبلٹی اسٹڈیز سے آگے بڑھ کر ٹھوس پیداواری ٹائم لائنز کی طرف اور بلند عزائم سے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ہر اسٹیک ہولڈر کی ذمہ داریاں واضح ہونی چاہئیں تاکہ مناسب مقدار میں پیداوار کے ساتھ ساتھ مضبوط اور مؤثر اکاؤنٹنگ بھی یقینی بنائی جا سکے۔ ہماری فوری ترجیح یہ ہے کہ ایک فیصدسی او آر ایس آئی اے بلینڈنگ کی لازمی شرط کو سب سے زیادہ مؤثر اور کم لاگت والے طریقے سے حاصل کیا جائے۔ طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت کاربن کریڈٹ آف سیٹ میکانزم کو حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے تیار کیا جانا چاہیے۔‘‘

جناب رام موہن نائیڈو نے ایس اے ایف بلینڈنگ مینڈیٹ کے مجوزہ نفاذ کے روڈ میپ کا جائزہ لیا، جس میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (او ایم سیز)، ایئرلائنز اور ایئرپورٹ آپریٹرز کے کردار اور ذمہ داریوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں آئی سی اے او / سی او آر ایس آئی اے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط اکاؤنٹنگ، مانیٹرنگ اور رپورٹنگ فریم ورک قائم کرنے، مکمل نگرانی اور قابلِ سراغ نظام کے ساتھ قومی ایس اے ایف رجسٹری تیار کرنے، نیز سرٹیفکیشن اور مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں مربوط اور مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے  وزیرموصوف  نے کہا، ’’یہ منتقلی تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اجتماعی فیصلہ سازی اور قریبی رابطہ کاری کے ذریعے ہونی چاہیے۔ ہم نے ایس اے ایف کی سپلائی چین کی ترقی، قومی ایس اے ایف رجسٹری، اکاؤنٹنگ اور رپورٹنگ کے نظام اور مؤثر سی او آر ایس آئی اے تعمیل کے لیے درکار اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔ مجھے اب تک ہونے والی نمایاں پیش رفت اور تمام متعلقہ وزارتوں اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ظاہر کیے گئے عزم سے حوصلہ ملا ہے۔ ہم نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی ہے کہ شناخت کیے گئے اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کریں، تاکہ یکم جنوری 2027 سےسی او آر ایس آئی اے کے لازمی مرحلے کے آغاز سے کافی پہلے ہندوستان مکمل طور پر تیار ہو‘‘۔

ایس اے ایف پالیسی اور ایس اے ایف کے مالی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے مزید کہا، ’’ ایس اے ایف پالیسی کا مسودہ اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اسی لیے ہم مختلف سطحوں پر متعدد بین  وزارتی مشاورتیں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔ میرے لیے مسافر کی آواز بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور مسافر ہماری صنعت کا سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس عمل سے مسافروں اور ایئرلائنز پر ممکنہ حد تک کم بوجھ پڑے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں  ایس اے ایف کے تمام ممکنہ راستوں کا مطالعہ کرنا ہوگا اور ہر راستے کے اندر پیداوار سے لے کر ایئرپورٹ پر اس کے استعمال تک سب سے زیادہ مؤثر اور کم لاگت والے طریقۂ کار کی نشاندہی کرنا ہوگی۔‘‘

اجلاس میں ہندوستان کی سی او آر ایس آئی اے کے نفاذ کے لیے تیاریوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس میں اجازت نامے جاری کرنے اور ہندوستان میں سی او آر ایس آئی اے سے ہم آہنگ کاربن مارکیٹ فریم ورک کی تیاری کے امور شامل تھے۔

حکومتِ ہند پائیدار ایوی ایشن فیول(ایس اے ایف) کی ملکی پیداوار کو فروغ دینے، ہندوستان کے ہوا بازی کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی ہوا بازی سے ہونے والے کاربن اخراج میں کمی لانے اور ہندوستان کو پائیدار ہوا بازی کے میدان میں عالمی رہنما کے طور پر قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

 

********

 (ش ح ۔ش ت  ۔ت ا )

U. No. 2797


(ریلیز آئی ڈی: 2304905) وزیٹر کاؤنٹر : 8