کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم ( آئی ایف ایم ایس) ڈیٹا پر مبنی کھاد کےبندوبست کے ایک نئے مرحلے میں داخل
میری فصل میرا بیورا ( ایم ایف ایم بی) کے ساتھ آئی ایف ایم ایس کا انضمام ڈیٹا پر مبنی کھاد کے بندوبست کو مضبوط کرتا ہے
آئی ایف ایم ایس 14 کروڑ سے زیادہ آدھار سے مربوط خریداروں، 2.5 لاکھ سے زیادہ خردہ فروشوں اور سالانہ تقریباً 7 کروڑ میٹرک ٹن کھاد کی فروخت کے لین دین کو جوڑتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 AUG 2026 4:21PM by PIB Delhi
انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم ( آئی ایف ایم ایس) جو کہ بھارت میں کھاد کے بندوبست کی ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی ہے، ڈیجیٹل اقدامات کے ایک سلسلے کے آغاز کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت کو مضبوط کرنا، کھاد کی دستیابی کو بہتر بنانا اور کھاد کی سپلائی چین کی زیادہ مؤثر، ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو ممکن بنانا ہے۔

محکمہ کھاد کے لیے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی ) کے ذریعے تیار کردہ اور تکنیکی طور پر تعاون یافتہ آئی ایف ایم ایس کھاد کے ماحولیاتی نظام ، بشمول پیداوار، درآمدات، نقل و حرکت، اسٹاک کی دستیابی، خردہ فروخت اور سبسڈی کی پروسیسنگ کے اہم مراحل کو جوڑتا ہے ۔ قومی سطح پر کام کرتے ہوئے یہ نظام 14 کروڑ سے زیادہ آدھار سے منسلک کھاد خریداروں، 2.5 لاکھ سے زیادہ خردہ فروشوں اور سالانہ تقریباً 7 کروڑ میٹرک ٹن کھاد کی فروخت کے لین دین کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ سالانہ تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی کھاد سبسڈی کی انتظامیہ کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔
آئی ایف ایم ایس کا کردار صرف لین دین کی نگرانی سے آگے
حالیہ برسوں میں محکمے نے کھاد کے لین دین کو ریکارڈ کرنے سے ہٹ کر آئی ایف ایم ایس کے کردار کی توسیع کی ہے، جس کی توجہ اسے ایک مربوط نگرانی اور فیصلہ سازی کے معاون پلیٹ فارم کے طور پر تیار کرنے پر مرکوز ہے۔

اہلکاروں کو کھاد کی پیداوار، درآمدات، ڈسپیچز، نقل و حرکت، اسٹاک اور خردہ فروخت کا ایک جامع منظر فراہم کرنے کے لیے نئے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی ٹولز تیار کیے گئے ہیں۔ یہ ٹولز قومی، ریاستی، ضلعی اور خردہ فروش کی سطح پر نگرانی کو ممکن بناتے ہیں، جس سے غیر معمولی رجحانات اور ابھرتی ہوئی سپلائی کی صورتحال کی ابتدائی مرحلے میں ہی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تجزیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے خریداروں کے زمرے، لینڈ ہولڈنگز ، فصلوں، اضلاع اور کھاد کی اقسام کے لحاظ سے کھاد کی خریداری کے معائنے کو بھی ممکن بنایا ہے۔ اس لئے آئی ایف ایم ایس کے ذریعے دستیاب لین دین کی معلومات کے اس بڑے حجم کو نہ صرف فروخت کا ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بلکہ کھپت کی نوعیتوں کی شناخت اور زیادہ ہدف پر مبنی نگرانی اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کسان، زمین اور فصل کی معلومات کا انضمام
ڈیٹا پر مبنی کھاد کےبندوبست کی طرف ایک اہم قدم آئی ایف ایم ایس کا ریاستوں اور دیگر سرکاری پلیٹ فارموں کے زیر انتظام کسانوں، زمین اور فصلوں کے ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام رہا ہے۔

ہریانہ میں میری فصل میرا بیورا ( ایم ایف ایم بی) کے ساتھ انضمام اور اس کے بعد 'ایگری اسٹیک' کے ساتھ انضمام کی طرف ہونے والے کام نے کھاد کے لین دین کو کسان اور زرعی معلومات کے ساتھ جوڑنے کےمیکانزم کو قائم کیا۔
ان اقدامات نے کھاد کے خریداروں کو کسان اور زمین کے ریکارڈ کے ساتھ ملانے میں قیمتی تجربہ فراہم کیا اور زمین اور فصل کی معلومات کی دستیابی اور معیار سے متعلق عملی مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کھاد کی ضروریات اور کھپت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کھاد کے لین دین کے ڈیٹا کو زرعی ڈیٹا کے ساتھ یکجا کرنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کیا۔
ان انضمام کے ذریعے حاصل کردہ تجربے نے کسانوں کی ضروریات کے ساتھ کھاد کی خریداری کو جوڑنے کے لیے ایک زیادہ منظم طریقہ کار کی بنیاد رکھی ہے۔
کھاد کی فروخت کا فریم ورک ایک اضافی ڈیجیٹل لیئر متعارف کراتا ہے

اس تجربے کی بنیاد پر، کھاد کی فروخت کا فریم ورک (ایف ایس ایس) ایک اہم اقدام کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد موبائل ایپ پر مبنی کھاد کی بکنگ کے نظام کو موجودہ آئی ایف ایم ایس پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس) ایکو سسٹم کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
اس فریم ورک کے تحت ایک کسان زمین اور ملکیت کی تفصیلات کی تصدیق کے بعد ایگری اسٹیک میں بنائی گئی اپنی آئی ڈی کی بنیاد پر مطلوبہ کھاد کی بکنگ کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ایک کیو آر پر مبنی بکنگ تیار کی جاتی ہے اور بکنگ کی معلومات تک پی او ایس ڈیوائس پر رسائی حاصل کی جاتی ہے، جس سے مطلوبہ کھاد اور بالآخر خریدی گئی مقدار کے درمیان تصدیق ممکن ہو جاتی ہے۔
اس فریم ورک کو مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے محکمہ اور اس میں شامل ریاستوں کو بڑے پیمانے پر نفاذ سے پہلے بکنگ کے رویے، زمین اور فصل کی معلومات، کھاد کی کھپت اورعملیاتی مسائل کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس پائلٹ پروجیکٹ نے ایگری اسٹیک اور آئی ایف ایم ایس کے درمیان تصدیق اور تجزیہ کی ایک اہم نئی لیئر بھی تیار کی ہے۔
یہ فریم ورک مختلف معیارات کے تجزیے کو ممکن بناتا ہے، جیسے کہ فی ہیکٹر کھاد کی کھپت،لینڈ ہولڈنگ کی مختلف کیٹیگریز کے لحاظ سے کھپت، پروڈکٹ اور فصل کے لحاظ سے کھاد کا استعمال اور بکنگ کے وقت ظاہر کی گئی کھاد کی ضرورت اور اصل خریداری کے درمیان تعلق۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ فریم ورک حقیقی کسانوں کو ان کی تخمینہ شدہ ضروریات کے مطابق کھاد تک رسائی اور خریداری کے قابل بناتا ہے، جبکہ کھاد کی فروخت کے عمل میں زیادہ شفافیت اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی لاتا ہے۔ ایسا تجزیہ انفرادی لین دین کی نگرانی سے آگے بڑھ کر، کھاد کی کھپت کو اس کے زرعی تناظر میں سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔
کھاد کی نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی کو مضبوط کیا گیا
اس مدت کے دوران وہیکل لوکیشن ٹریکنگ سسٹم ( وی ایل ٹی ایس) اقدام کے ذریعے کھاد کی نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔
جب اسے آئی ایف ایم ایس میں پہلے سے دستیاب گڈز- ان- ٹرانزٹ، ڈسپیچ اور اسٹاک کی معلومات کے ساتھ یکجا کیا جاتا ہے، تو وہیکل ٹریکنگ حکام کو روانگی کے مقام سے لے کر اس کی منزل تک کھاد کی نقل و حرکت کا ایک زیادہ مکمل ڈیجیٹل منظر فراہم کرتی ہے۔

یہ اقدام نہ صرف بھیجی جانے والی کھاد کی مقدار بلکہ سپلائی چین کے ذریعے اس کی نقل و حرکت اور مطلوبہ منزل پر اس کی حتمی دستیابی کی نگرانی کرنے کی محکمہ کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
الیکٹرانک سبسڈی پروسیسنگ، شفافیت اور آڈٹ کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے
آئی ایف ایم ایس کھاد کی سبڈی کے انتظام میں مسلسل ایک مرکزی رول ادا کر رہا ہے ، جس میں سبسڈی کی ادائیگیاں پی او ایس نیٹ ورک کے ذریعے ریکارڈ کی گئی کھاد کی اصل فروخت سے منسلک ہوتی ہیں۔
یکم جنوری 2026 کو سبسڈی بلوں کی الیکٹرانک پروسیسنگ اور مالیاتی نظاموں بشمول پی ایف ایم ایس/ای-بل عمل کے ساتھ انضمام کی سمت میں مزید کام کیا گیا۔
آئی ایف ایم ایس کھاد کے بندوبست کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تیار ہو رہا ہے
کیے جانے والے اقدامات آئی ایف ایم ایس کے ایک اہم ارتقا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جو نظام بنیادی طور پر کھاد کی نقل و حرکت، فروخت اور سبسڈی سے متعلق لین دین کے انتظام کے لیے شروع ہوا تھا، وہ اب تیزی سے ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے جو بھارت کے کھاد کے ماحولیاتی نظام میں متعدد اسٹیک ہولڈروں اور ڈیٹا سیٹس کو آپس میں جوڑتا ہے۔
پیداوار، درآمدات، لاجسٹکس، اسٹاک، کسان اور زمین کی معلومات، کھاد کی بکنگ، خردہ لین دین اور سبسڈی پروسیسنگ کا بڑھتا ہوا انضمام، بہتر ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر، فیصلہ سازوں کو کھاد کی صورتحال کا ایک زیادہ جامع اور بروقت منظر فراہم کر رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے نہ صرف لین دین کا ریکارڈ رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ سمجھنے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے کہ کھاد کہاں دستیاب ہے، یہ کیسے منتقل ہو رہی ہے، اسے کون خرید رہا ہے، کتنی کھاد استعمال ہو رہی ہے اور یہ طریقے زرعی ضروریات سے کیسے مطابقت رکھتے ہیں۔
یہ ارتقا کھاد کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے، شفافیت کو بہتر بنانے اور بھارت کے سب سے اہم زرعی اِن پٹس میں سے ایک کے زیادہ باخبر بندوبست کو ممکن بنانے کے لیے قابل اعتماد ڈیجیٹل معلومات کے استعمال کو مضبوط بنا رہا ہے۔
**********
(ش ح- ن ا)
U.N:2775
(ریلیز آئی ڈی: 2304741)
وزیٹر کاؤنٹر : 11