نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر نے ارنمولا اُتھریٹتھی وَلَم کَلی کا افتتاح کیا، کیرالَم کے مالامال ثقافتی ورثے کا جشن منایا


نائب صدر نے کہا: ارنمولا وَلَم کَلی کیرالَم کی لازوال روایات، عقیدت اور باہمی اتحاد کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے

ارنمولا وَلَم کَلی میں نائب صدر نے کہا: روایت اور جدیدیت ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں؛ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تصور ’’ترقی بھی، ورثہ بھی‘‘ کو یاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 AUG 2026 4:24PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج دریائے پمبا پر ارنمولا اُتھریٹتھی وَلَم کَلی کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس تہوار کو کیرالَم کے مالامال ثقافتی ورثے، عقیدت اور لازوال روایات کی شاندار علامت قرار دیا۔

 

 

کیرالَم کا حال ہی میں نام تبدیل کیے جانے پر ریاست کے عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے نائب صدر نے یاد دلایا کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے اجلاس کے دوران ریاست کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بل کی منظوری کی کارروائی کی صدارت کی۔ انہوں نے اونم کے موقع پر بھی اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔

جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ اونم اور وَلّا سَدیا کی مقدس روایت سے وابستہ ارنمولا وَلَم کَلی اجتماعی محنت، نظم و ضبط اور کھیل کے جذبے کی عمدہ مثال پیش کرتی ہے۔ اس موقع پر خوبصورت انداز میں سجائی گئی پَلّی یودَم کشتیوں میں ایک سو سے زیادہ ملاح مکمل ہم آہنگی کے ساتھ چپو چلاتے ہیں۔

دریائے پمبا کی روحانی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دریا سبریمالا کی یاترا کا ایک لازمی حصہ ہے اور عقیدے، تزکیۂ نفس اور روحانی سپردگی کی علامت ہے۔ سبریمالا کی اپنی سات یاتروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رکنِ پارلیمان نامزد کیے جانے سے کچھ ہی عرصہ قبل مقدس مقام کی اپنے پہلے درشن کو وہ خاص طور پر اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ بھگوان ایّپّا کی برکتیں بعد میں ہونے والی ان کی انتخابی کامیابی میں مؤثر ثابت ہوئیں۔

ارنمولا کے ثقافتی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے قدیم شری پارتھاسارتھی مندر اور جغرافیائی شناختی نشان (جی آئی ٹیگ) حاصل کرنے والے مشہور ارنمولا کنّڈی کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ گزشتہ سال نائب صدر کی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریبات کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے وہاں آنے والے مہمانوں کو ارنمولا کنّڈی تحفے میں دیے تھے، جنہوں نے اس کی نفیس کاریگری کو بے حد سراہا۔ انہوں نے آئندہ نسلوں کے لیے روایتی فنون، دستکاری اور روایتی علمی نظاموں کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ مشاہدہ پیش کرتے ہوئے کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے لوگ بھی ایسی عزیز روایات میں شرکت کے لیے واپس آتے ہیں، جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ ارنمولا اس بات کی بہترین مثال پیش کرتا ہے کہ ثقافتی روایات کس طرح لوگوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایت اور جدیدیت ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے تصور ’’ترقی بھی، ورثہ بھی‘‘ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مختلف تہوار ملک کے ثقافتی اتحاد کی عکاسی کرتے ہیں اور کہا: ’’ہماری گوناگوں تقسیم کا سبب نہیں، بلکہ ہماری طاقت کا سرچشمہ ہے۔‘‘

اس پروگرام میں کیرالَم کے گورنر جناب راجندر وشوناتھ ارلےکر؛ وزیرِ داخلہ جناب رمیش چنّیتھلا؛ وزیرِ اعلیٰ تعلیم جناب روزی ایم۔ جان؛ وزیرِ آبی وسائل جناب مونس جوزف؛ رکنِ پارلیمان جناب انٹو اینٹنی؛ ارنمولا کے رکنِ قانون ساز اسمبلی جناب ابِن ورکی اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2774


(ریلیز آئی ڈی: 2304708) وزیٹر کاؤنٹر : 12