بجلی کی وزارت
قومی پاور گرڈ کا جائزہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 JUL 2026 2:53PM by PIB Delhi
بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے 2024 میں قومی بجلی منصوبہ (حصہ دوم: ترسیل) مطلع کیا ہے۔ یہ منصوبہ 2023 سے 2032 تک کی مدت کے لیے ترسیلی نظام کی ضروریات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ متوقع پیداواری صلاحیت میں اضافے اور معیشت کے مختلف ابھرتے ہوئے اور روایتی شعبوں میں بجلی کی طلب میں متوقع اضافے کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ ان شعبوں میں بجلی کی ترسیل، ڈیٹا سینٹرز اور ملک بھر میں صنعتی توسیع شامل ہیں۔ ترسیلی منصوبہ بندی میں بدلتے ہوئے لوڈ مراکز اور بجلی کی طلب کے نئے اقسام کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے قابل اعتماد انضمام کو یقینی بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اس ترسیلی منصوبے میں 2032 تک متوقع 388 گیگاواٹ کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی ترسیلی نظاموں کو شامل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق ترسیلی نیٹ ورک جون 2026 تک 5.09 لاکھ سرکٹ کلومیٹر سے بڑھ کر 2032 تک 6.48 لاکھ سرکٹ کلومیٹر ہونے کا امکان ہے، جبکہ تبدیلی کی صلاحیت جون 2026 تک 1,478 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2,345 گیگاواٹ ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، بین علاقائی ترسیلی صلاحیت کو جون 2026 تک 120 گیگاواٹ سے بڑھا کر 2032 تک 168 گیگاواٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران شروع کیے گئے ترسیلی صلاحیت میں اضافے، گرڈ کی جدید کاری، اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز کی تنصیب، بیٹری کی توانائی کوذخیرہ کرنے کے نظام اور سائبر سکیورٹی کے اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- ترسیلی صلاحیت میں اضافے کی تفصیلات:
گزشتہ تین برسوں (مالی سال 24-2023 سے مالی سال 26-2025) کے دوران مجموعی طور پر 35,172 سرکٹ کلومیٹر ترسیلی لائنیں اور 270,174 میگاواٹ تبدیلی کی صلاحیت (220 کلو وولٹ اور اس سے زیادہ) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافی ترسیلی لائنوں اور تبدیلی کی صلاحیت کا خلاصہ جدول-I میں دیا گیا ہے۔
- گرڈ کی جدید کاری اور اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز کا نفاذ:
اسٹیٹک سنکرونس کمپنسیٹرز(ایس ٹی اے ٹی سی او ایمز)، سنکرونس کنڈینسرز (ایس وائی این سی او اینز) اور دیگر لچک دار اے سی ترسیلی نظام (فیکٹس) کے آلات جیسی جدید گرڈ کےلیےمعاون ٹیکنالوجیز کا استعمال وولٹیج کے استحکام کو بہتر بنانے، نظام کی مضبوطی بڑھانے اور قابل تجدید توانائی کے قابلِ اعتماد انضمام کو فروغ دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، قابل تجدید توانائی کے انضمام کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں قابل تجدید توانائی کی پیش گوئی اور حقیقی وقت میں گرڈ کے انتظام کے لیے علاقائی توانائی انتظامی مراکز کا قیام، تعدد کے ضابطے اور توازن کے لیے خودکار پیداواری کنٹرول اور معاون خدمات کا نفاذ وغیرہ شامل ہیں۔
- بیٹری توانائی کے ذخیرہ کرنے کا نظام (بی ای ایس ایس):
مورخہ30 جون 2026 تک ملک میں ایک میگاواٹ فی گھنٹہ(1 ایم ڈبلیو ایچ) سے زیادہ صلاحیت والے بیٹری توانائی کوذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) کی نصب شدہ صلاحیت 2,927.85 میگاواٹ / 8,660.20 میگاواٹ گھنٹے ہے۔ ریاست وار تفصیلات جدول-دوم میں دی گئی ہیں۔
- سائبر سکیورٹی کے اقدامات:
ہندوستانی بجلی گرڈ کی سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت ہند نے اپریل 2023 میں بجلی کے شعبے میں سائبر سکیورٹی سے متعلق واقعات کے تال میل، رپورٹنگ اور ان سے نمٹنے کے لیے شعبہ جاتی مخصوص سائبر سکیورٹی واقعات سے نمٹنے والی ٹیم یعنی کمپیوٹر سکیورٹی انسیڈنٹ رسپانس ٹیم – پاور (سی ایس آئی آر ٹی-پاور) قائم کی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران کیے گئے سائبر سکیورٹی اقدامات میں سائبر سکیورٹی کی نگرانی اور واقعات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پاور سسٹم ڈیولپمنٹ فنڈ (پی ایس ڈی ایف) کے تحت سکیورٹی آپریشنز سینٹر (ایس او سی) اور نیٹ ورک آپریشنز سینٹر (این او سی) کے قیام کے لیے فنڈز کی منظوری شامل ہے۔
اس کے علاوہ بجلی کے پورے شعبے میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ہندوستانی ٹیکنالوجی اداروں (آئی آئی ٹیز)، راشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو)، نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر (این سی آئی آئی پی سی) اور دیگر اداروں کے تعاون سے سائبر سکیورٹی تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور صلاحیت سازی کے اقدامات باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے قومی گرڈ کی لچک، قابل اعتماد کارکردگی اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ساحلی علاقوں میں سمندری طوفانوں سے محفوظ اور بجلی کی بہتر ترسیل و تقسیم کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ٹاسک فورس نے جامع اقدامات کی سفارش کی ہے۔ ان میں زیادہ سخت ہنگامی حالات کے معیار کی بنیاد پر ترسیلی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کا فریم ورک، سمندری طوفان سے متاثرہ علاقوں میں ترسیل اور تقسیم (ٹی اینڈ ڈی) کے بنیادی ڈھانچے کی نقشہ سازی، رنگ یا میش نظام کے تحت تقسیم کے نیٹ ورک کی منصوبہ بندی، ہنگامی بحالی کے نظام، موبائل سب اسٹیشنز، موبائل ڈی جی سیٹس، بجلی کے نظام کے اثاثوں کو ڈیجیٹل بنانا، تقسیم شدہ توانائی کے وسائل کی تعیناتی، توانائی کی بچت کرنے والے آلات کا معیار مقرر کرنا اور استعمال، معائنے اور نگرانی کے لیے ان مینڈ ایریل ویکل (یو اے وی)/ڈرونز جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال، ساحلی شاہراہ منصوبوں کے ساتھ زیرزمین ترسیلی راہداری وغیرہ شامل ہیں۔
قومی گرڈ کی سائبر لچک کو سی ایس آئی آر ٹی-پاور اور گرڈ-انڈیا میں سکیورٹی آپریشنز سینٹر (ایس او سی) اور نیٹ ورک آپریشنز سینٹر (این او سی) کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی کے نظام سے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس نظام کی مسلسل نگرانی سی ای آر ٹی-اِن اور نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر (این سی آئی آئی پی سی) کے ذریعے بھی کی جا رہی ہے۔ معلوماتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آپریشنل ٹیکنالوجی (او ٹی) کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور پی نیٹریشن ٹیسٹنگ (وی اے/پی ٹی) کی جاتی ہے، جبکہ معروف تکنیکی اور قومی سلامتی کے اداروں کے تعاون سے مسلسل صلاحیت سازی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ سائبر خطرات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے مطابق تیاری کو مؤثر اور ہمہ وقت برقرار رکھا جاسکے۔
ٹیبل I
اے. ترسیلی لائنیں (220 کلو وولٹ اور اس سے زیادہ، مکمل طور پر فعال) سرکٹ کلومیٹر میں:
|
سال
|
انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس)
|
انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی این ایس ٹی ایس)
|
کل(آئی ایس ٹی ایس + آئی این ایس ٹی ایس
|
|
2023-24
|
6,283
|
7,920
|
14,203
|
|
2024-25
|
3,652
|
5,178
|
8,830
|
|
2025-26
|
6,009
|
6,130
|
12,139
|
|
کل
|
15,944
|
19,228
|
35,172
|
- تبدیلی کی صلاحیت (220 کلو وولٹ اور اس سے زیادہ، مکمل طور پر فعال) ایم وی اے میں:
|
سال
|
انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس)
|
انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم
(آئی این ایس ٹی ایس)
|
کل(آئی ایس ٹی ایس + آئی این ایس ٹی ایس
|
|
2023-24
|
31,820
|
38,908
|
70,728
|
|
2024-25
|
39,335
|
47,098
|
86,433
|
|
2025-26
|
72,905
|
40,108
|
1,13,013
|
|
کل
|
1,44,060
|
1,26,114
|
2,70,174
|
ٹیبل-II
نصب شدہ بیٹری توانائی کوذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) کی صلاحیت اور ریاست وار تفصیلات
:
|
نمبر شمار
|
بی ایس ایس یس کی تعیناتی کی تفصیلات
|
ریاست
|
صلاحیت
|
|
میگاواٹ
|
ایم ڈبلیو ایچ
|
|
1.
|
روہنی میں ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل کے سب اسٹیشن پر لیتھیم آئن بیٹری-این ایم سی کے ساتھ10 ایم ڈبلیو؍10 ایم ڈبلیو ایچکا بی ای ایس ایس پروجیکٹ
|
دہلی
|
10
|
10
|
|
2.
|
20 میگاواٹ سولر پاور پراجیکٹ جنوبی انڈمان میں ڈولی گنج اور اتم پہاڑ میں 16 میگاواٹ/8 میگاواٹ بی ای ایس ایس کے ساتھ مربوط
|
انڈمان اور نکوبار
|
16
|
8
|
|
3.
|
موڈھیرا سورج مندر سولر منصوبہ بمع بی ای ایس ایس (سوجن پورہ گاؤں میں 6 میگاواٹ ایس پی وی کے ساتھ 6 میگاواٹ/19.2 میگاواٹ گھنٹے بی ای ایس ایس نصب کیا گیا ہے، جبکہ سورج مندر میں 50 کلوواٹ ایس پی وی کے ساتھ 150 کلوواٹ گھنٹے بی ای ایس ایس نصب کیا گیا ہے)۔
|
گجرات
|
6
|
19.2
|
|
4.
|
لکشدیپ میں 1.7 میگاواٹ سولر پی وی پاور پلانٹ (اگاتی میں 300 کلوواٹ اور کَوارَتّی میں 1400 کلوواٹ) کے ساتھ 0.5 میگاواٹ/1.4 میگاواٹ گھنٹے بی ای ایس ایس (کوارتی میں)۔
|
لکشدیپ
|
0.5
|
1.4
|
|
5.
|
چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں میں بی ای ایس ایس منصوبہ
100 میگاواٹ (اے سی) سولر پی وی منصوبہ، جس کے ساتھ 40 میگاواٹ/120 میگاواٹ گھنٹے کا بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام نصب ہے۔
|
چھتیس گڑھ
|
40
|
120
|
|
6.
|
جی ایس ای سی ایل گجرات سولر پلس اسٹوریج ہائبرڈ منصوبہ — 35 میگاواٹ سولر پی وی کے ساتھ 57 میگاواٹ گھنٹے بی ای ایس ایس
مقام: کچھ لیگنائٹ تھرمل پاور اسٹیشن (کے ایل ٹی پی ایس)
|
گجرات
|
12
|
57
|
|
7.
|
ایس ای سی آئی پیک پاور 1200 میگاواٹ، جس کے ساتھ 75 میگاواٹ/150 میگاواٹ گھنٹے کا بی ای ایس ایس ہے۔
|
کرناٹک
|
75
|
150
|
|
8.
|
ایس ای سی آئی آر ٹی سی 400 میگاواٹ، جس کے ساتھ 25 میگاواٹ/100 میگاواٹ گھنٹے کا بی ای ایس ایس ہے۔
|
راجستھان
|
23
|
92
|
|
9.
|
ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے تحت دہلی میں 20 میگاواٹ/40 میگاواٹ گھنٹے کا بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام (بی ای ایس ایس)۔
|
دہلی
|
20
|
40
|
|
10.
|
این ای ٹی آر اے، این ٹی پی سی، گریٹر نوئیڈا میں 0.6 میگاواٹ/3 میگاواٹ گھنٹے کا وی آر ایف بی (وینیڈیم ریڈوکس فلو بیٹری) توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام۔
|
اتر پردیش
|
0.6
|
3
|
|
11.
|
کاجرا، لکھی سرائے میں 185 میگاواٹ (اے سی) سولر پی وی کے ساتھ 45.4 میگاواٹ، 4 گھنٹے کے لیے (کم از کم 254 میگاواٹ گھنٹے) بی ای ایس ایس۔
|
بہار
|
70.5
|
282
|
|
12.
|
کَھاوڑا قابلِ تجدید توانائی پارک، رن آف کچھ میں سولر پاور منصوبوں کی معاونت کے لیے 250 کلوواٹ/1,200 کلوواٹ گھنٹے کا بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام (بی ای ایس ایس)۔
|
گجرات
|
0.25
|
1.2
|
|
13.
|
کولکاتا میٹرو ریل کارپوریشن کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کے جزو کے طور پر ایل ایف پی یا ایل ٹی او بیٹریوں کے استعمال پر مبنی 4 میگاواٹ کے فور کواڈرینٹ انورٹرز۔
|
مغربی بنگال
|
4
|
6.4
|
|
14.
|
گجرات کے 400 کلو وولٹ چارل سب اسٹیشن، سانند-2 جی آئی ڈی سی، چارل میں 180 میگاواٹ/360 میگاواٹ گھنٹے کا خودمختار بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام (بی ای ایس ایس)۔
|
گجرات
|
180
|
360
|
|
15.
|
جونیپر مرچنٹ سیل بی ای ایس ایس
|
راجستھان
|
250
|
500
|
|
16.
|
اے سی ایم ای مرچنٹ سیل بی ای ایس ایس
|
راجستھان
|
800
|
3,200
|
|
17.
|
اڈانی مرچنٹ سیل بی ای ایس ایس
|
گجرات
|
1,200
|
3,370
|
|
18.
|
ایم ایس ای ڈی سی ایل کے لیے ٹی سی جی سی بی کے تحت پیس ڈیجٹیک کی جانب سے 300 میگاواٹ/600 میگاواٹ گھنٹے کے خودمختار بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) کے پائلٹ منصوبے۔
|
مہاراشٹر
|
220
|
440
|
|
|
کل
|
2,927.85
|
8,660.20
|
لیجنڈ:
وضاحت:
ایس ای سی آئی- سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ
ٹی بی سی بی- ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی
ایم ایس ای ڈی سی ایل- مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ
جی آئی ڈی سی — گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن
آر ٹی سی — چوبیس گھنٹے
یہ معلومات توانائی کے مرکزی وزیر مملکت جناب شریپد نائک نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*****
ش ح ۔م ع ن۔ خ م
U. No.2721
(ریلیز آئی ڈی: 2304287)
وزیٹر کاؤنٹر : 4