امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایکس مل چینی کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی؛ خوردہ قیمتوں میں بھی کمی کا آغاز


حکومتی اقدامات سے مارکیٹ میں چینی کی دستیابی بہتر، ترسیل اور فراہمی کا عمل تیز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 3:03PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک میں چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے اور مقامی مارکیٹ میں مصنوعی طور پر رسد میں کمی پیدا کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے متعدد فعال اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایکس مل چینی کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ خوردہ سطح پر بھی چینی کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ سپلائی چین میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کے معمول کے مطابق منتقلی کے پیش نظر توقع ہے کہ خوردہ قیمتیں بھی جلد ایکس مل قیمتوں میں ہونے والی کمی کے رجحان کی پیروی کریں گی۔

حکومت ملک بھر میں چینی کی قیمتوں، ذخائر اور نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے متعدد فعال اقدامات کیے گئے ہیں کہ چینی کی وافر دستیابی کا فائدہ صارفین تک پہنچے۔ ایکس مل اور خوردہ قیمتوں میں کمی کا موجودہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں آنے والا اچانک اور نمایاں اضافہ بنیادی طور پر ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی کا نتیجہ تھا، حالانکہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

چینی کے حقیقی ذخائر کی تصدیق سے وافر دستیابی کی تصدیق

ملک بھر میں شوگر ملوں میں چینی کے موجودہ  ذخائر کی تصدیق کے لیے چلائی گئی مہم نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ملک میں چینی کی وافر مقدار میں دستیابی موجود ہے۔کئی معاملات میں شوگر ملوں کے پاس موجود چینی کے ذخائر حکومت کو ماہانہ گوشواروں میں ظاہر کیے گئے ذخائر سے بھی زیادہ پائے گئے۔ حقیقی ذخائر کی تصدیق کی اس کارروائی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ملک میں چینی کی کوئی قلت نہیں ہے، لہٰذا صارفین کے لیے گھبراہٹ میں خریداری کرنے یا ضرورت سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔بعض معاملات میں شوگر ملوں کی جانب سے شارٹ سیلنگ کا عمل بھی سامنے آیا، یعنی ملوں نے ماہانہ کوٹے کے تحت انہیں مختص کی گئی مقدار سے کم چینی فروخت کی۔ اس طرح کے اقدامات، وافر حقیقی ذخائر موجود ہونے کے باوجود، مارکیٹ میں چینی کی رسد کو بلاوجہ محدود کرتے ہیں اور مصنوعی طور پر قلت کا تاثر پیدا کرسکتے ہیں۔

ستمبر سے پندرہ روزہ چینی کوٹہ نظام نافذ

حکومت نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ بعض معاملات میں شوگر ملوں کی جانب سے ماہ کے آغاز میں فروخت کی جانے والی چینی خریداروں کی جانب سے ماہ کے اختتام کے قریب وصول یا اٹھائی جا رہی تھی۔ اس عمل کے باعث مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے میں مدد مل رہی تھی۔ان مسائل کے تدارک اور چینی کو بروقت مارکیٹ تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر سے موجودہ ماہانہ کوٹہ نظام کی جگہ پندرہ روزہ چینی کوٹہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔ پندرہ روزہ کوٹے کے تحت شوگر ملوں کو مختص شدہ کوٹے کا کم از کم 40 فیصد پہلے ہفتے میں فروخت کرنا ہوگا، جبکہ باقی مقدار اگلے ہفتے میں فروخت کرنا لازم ہوگا۔

پندرہ روزہ کوٹہ نظام کے فوائد ۔ یہ نظام حکومت کو درج ذیل امور میں مدد دے گا:

  • مانگ اور رسد کی صورتحال کی زیادہ مؤثر نگرانی۔
  • مارکیٹ کے حالات میں تبدیلیوں پر فوری ردعمل۔
  • چینی کی رسد میں مصنوعی کمی پیدا کرنے کی روک تھام۔
  • مارکیٹ میں وافر دستیابی برقرار رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر اضافی کوٹہ جاری کرنا۔

یہ لچکدار طریقۂ کار اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ملک میں چینی کی رسد حقیقی طلب کے مطابق مناسب اور متوازن سطح پر برقرار رہے۔

فروخت کے سات روز کے اندر چینی کی ترسیل لازمی

شوگر ملوں کو پہلے ہی ہدایت دی جاچکی ہے کہ فروخت کی جانے والی چینی کو فروخت کے سات روز کے اندر اندر مل سے روانہ کیا جائے۔پندرہ روزہ کوٹہ نظام اور فروخت کے سات روز کے اندر لازمی ترسیل، دونوں اقدامات مل کر سپلائی چین میں چینی کی نقل و حرکت کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں گے۔ اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ چینی شوگر ملوں سے ڈیلرز اور بالآخر صارفین تک تیزی سے پہنچے، جبکہ غیر ضروری ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی کی بنیاد پر اسٹاک رکھنے کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔چینی کے بڑے خریداروں اور صنعتی صارفین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عملی ضروریات سے زائد چینی کا ذخیرہ جمع نہ کریں۔

چینی کے نئے سیزن سے دستیابی مزید مستحکم ہونے کی توقع

چینی کے نئے سیزن کے لیے گنے کی کرشنگ 15 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ توقع ہے کہ اکتوبر کے دوران 10 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) سے زائد چینی تیار کی جائے گی۔حکومت نے شوگر ملوں کو اکتوبر میں تیار ہونے والی چینی بغیر کسی پابندی کے فروخت کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے، تاکہ نئے سیزن کی پیداوار جلد از جلد مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوسکے۔نومبر میں چینی کی پیداوار تقریباً 45 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) رہنے کی توقع ہے، جس سے ملک کی کھپت کے لیے چینی کی اضافی اور خاطر خواہ فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

حکومت کی جانب سے صارفین کو چینی کی وافر دستیابی کی یقین دہانی

حکومت ایک بار پھر صارفین کو یقین دلاتی ہے کہ ملک میں چینی کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ملک بھر میں، خصوصاً آئندہ تہواروں کے سیزن کے دوران، مناسب اور مسلسل مقدار میں چینی کی دستیابی اور مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

اہم نکات

  • گزشتہ چند دنوں کے دوران ایکس مل چینی کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ خوردہ قیمتوں میں بھی کل سے کمی کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔ توقع ہے کہ خوردہ قیمتیں بھی جلد ایکس مل قیمتوں میں ہونے والی کمی کے رجحان کی پیروی کریں گی۔
  • حکومت کی جانب سے چینی کے ذخائر کی تصدیق سے ملک میں چینی کی وافر دستیابی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ متعدد معاملات میں شوگر ملوں کے پاس موجود ذخائر ان کے ماہانہ گوشواروں میں ظاہر کیے گئے ذخائر سے زیادہ پائے گئے۔
  • ستمبر سے پندرہ روزہ چینی کوٹہ نظام موجودہ ماہانہ کوٹہ نظام کی جگہ لے گا۔ اس سے حکومت کو مارکیٹ کی صورتحال کی تقریباً حقیقی وقت میں نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر اضافی کوٹہ جاری کرنے میں مدد ملے گی۔
  • شوگر ملوں کی جانب سے فروخت کی گئی چینی کو سات روز کے اندر روانہ کرنا لازمی ہوگا، جس سے ملوں سے ڈیلرز اور مقامی مارکیٹ تک چینی کی تیز تر ترسیل یقینی بنے گی اور غیر ضروری طور پر ذخائر جمع کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
  • جلد کرشنگ اور نئے سیزن کی پیداوار سے چینی کی دستیابی میں نمایاں اضافہ ہوگا: کرناٹک اور مہاراشٹر میں فعال شوگر ملوں سے ستمبر کے دوران تقریباً 2 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) اضافی چینی مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے، جبکہ اکتوبر میں 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد اور نومبر میں تقریباً 45 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) چینی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

******

ش ح۔ ش ت ۔ ر ب


(ریلیز آئی ڈی: 2304241) وزیٹر کاؤنٹر : 14