امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے گجرات کے احمد آباد میں ٹروئیکا فارماسیوٹیکلز کے زیرِ اہتمام فارما اِنّووا ایوارڈز تقریب 2026 میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی
وزیر اعظم مودی جی نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ 2047 تک بھارت ہر شعبے میں دنیا کا نمبر ایک ملک بنے—ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک، جو اپنی تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا کی سرکردہ معیشتوں میں شامل ہو
بھارتی ادویہ سازی کا شعبہ ملک کے لیے ایک اہم قومی اثاثہ ہے اور اس کی اہمیت کو کم نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اسی لیے مودی حکومت پی آر آئی پی اسکیم کے ذریعے ادویہ سازی اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور جدت کو فروغ دے رہی ہے
بھارت کو نہ صرف ادویات کے شعبے میں خود کفیل بننا چاہیے بلکہ یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ بھارت میں تیار کی جانے والی ادویات دنیا کے ہر حصے تک پہنچیں
مودی حکومت کی بلک ڈرگ پارک اور میڈیکل ڈیوائس پارک اسکیموں نے عالمی معیار کا پیداواری نظام قائم کیا ہے اور بھارت کو ادویہ سازی کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا ہے
ہر کمپنی کو تحقیق کو فروغ دینا چاہیے اور تحقیق میں مصروف ہونہار طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ جب تک ہم تحقیق کو فروغ نہیں دیں گے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے
آج بھارت وینٹی لیٹر تیار کر رہا ہے اور مودی حکومت ایسا ماحول تیار کر رہی ہے جس کے تحت 2028 سے پہلے پٹیوں سے لے کر ایم آر آئی مشینوں تک ہر طرح کے طبی آلات بھارت میں ہی تیار کیے جا سکیں
ہمارے نوجوانوں نے امریکہ کے مقابلے میں 22 گنا کم لاگت میں ایک نجی سیٹلائٹ تیار کرکے خلا میں بھیجا۔ آج ملک بھر میں لاکھوں اسٹارٹ اَپس وجود میں آ رہے ہیں
‘‘کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ متعدد ناکامیوں کا سامنا کرنے کے باوجود بے خوف ہوکر آگے بڑھنے کا حوصلہ برقرار رہے۔’’ امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ
2014 میں جس بھارت کو ‘فریجائل فائیو’ کا حصہ اور مفلوج پالیسی‘ کا شکار قرار دیا جاتا تھا، وہی بھارت آج مودی جی کی قیادت میں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کا سب سے بڑا مرکز بن رہا ہے
صحت کے شعبے میں ہم نے جامع نقطۂ نظر اپنایا ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال، صحت کے بنیادی ڈھانچے، ادویات، تحقیق و ترقی اور طبی مصنوعات کی تیاری، ان تمام شعبوں پر بیک وقت کام کیا ہے
صفائی ستھرائی بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مودی حکومت نے ہر گھر میں بیت الخلا اور صاف پینے کے پانی تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 9:31PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج گجرات کے احمد آباد میں ٹروئیکا فارماسیوٹیکلز کے زیرِ اہتمام فارما اِنّووا ایوارڈز تقریب 2026 میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے سامنے یہ ہدف رکھا ہے کہ جب بھارت اپنی آزادی کی صد سالہ سالگرہ منائے تو ملک ہر شعبے میں دنیا کا نمبر ایک ملک ہو۔ بھارت ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک ہو، اپنی تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا کی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ بھارت میں یہ سب حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صلاحیت کو صحیح سمت دی جائے، اسی کے مطابق پالیسیاں بنائی جائیں اور ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نچلی سطح تک پہنچایا جائے۔ جب مودی جی 2014 میں ملک کے وزیر اعظم بنے تھے تو بھارت دنیا کی 11ویں سب سے بڑی معیشت تھا، اور صرف گزشتہ 12 برسوں میں ہم دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گئے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ کووڈ-19 کے بحران نے ثابت کر دیا کہ بھارت نے دنیا میں اس وبا سے سب سے بہتر انداز میں نمٹا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا بھر میں حکومتیں کووڈ-19 کے خلاف جنگ لڑ رہی تھیں، جبکہ بھارت میں عوام، ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے مل کر اس وبا کا مقابلہ کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں نے امریکہ کے مقابلے میں 22 گنا کم لاگت میں ایک نجی سیٹلائٹ تیار کرکے خلا میں بھیجا اور آج ملک بھر میں لاکھوں اسٹارٹ اَپس وجود میں آ رہے ہیں۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھارت دنیا کے ان پہلے تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ویکسین تیار کی۔ ہم نے نہ صرف اپنے لوگوں کو ویکسین لگائی بلکہ دنیا کے 70 ممالک کو بھی ویکسین بھیجیں، جس سے وہاں لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت احساسِ کمتری سے باہر نکلے، اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے اور ان میں یہ اعتماد اور جوش پیدا کرے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور ہم پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ 2014 میں بھارت کو‘فریجائل فائیو’ میں شمار کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ ملک مفلوج پالیسی کا شکار ہے۔ وہی بھارت آج دنیا کے سب سے پرکشش پیداواری مراکز میں سے ایک بن کر ابھرا ہے اور اسے عالمی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔ ہم نے قواعد، سوچ، نظام اور طریقۂ کار میں تبدیلی کی ہے۔ 2014 میں ملک کے صرف 1.8 کروڑ گھروں میں بیت الخلا تھے، جبکہ آج 13 کروڑ گھروں میں بیت الخلا موجود ہیں۔ کسی شخص کی صحت اور گھر میں بیت الخلا کی دستیابی کے درمیان گہرا تعلق ہے، کیونکہ صفائی ستھرائی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح آج 16 کروڑ گھروں تک نل کے ذریعے صاف پینے کا پانی پہنچ رہا ہے۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے بھارت کے غریب ترین طبقات کے لیے آیوشمان بھارت اسکیم شروع کی، جس کے تحت حکومتِ ہند 5 لاکھ روپے تک کے علاج کا پورا خرچ برداشت کرتی ہے۔ ملک میں 70 کروڑ افراد کے علاج کے اخراجات کی کوریج اس اسکیم کے تحت شروع کی گئی ہے۔ صحت کے شعبے میں ہم نے جامع نقطۂ نظر اپنایا ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال، صحت کے بنیادی ڈھانچے، ادویات، تحقیق و ترقی اور طبی مصنوعات کی تیاری، ان تمام شعبوں پر بیک وقت کام کیا ہے۔ اس کے بعد دیہی صحت کے بنیادی ڈھانچے پر 1.60 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس کے نتیجے میں اسپتالوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہوا اور دیہی علاقوں میں اسپتالوں کی سہولیات میں بھی اضافہ کیا گیا۔ اب باری ادویہ سازی کی صنعت کی ہے۔ بھارت کو نہ صرف ادویات کے شعبے میں خود کفیل بننا ہوگا بلکہ دنیا کو ادویات فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آتم نربھر بھارت کے وژن کے تحت مودی حکومت نے اس شعبے میں پی ایل آئی اسکیم بھی نافذ کی ہے۔ بھارت میں اہم اے پی آئی، کلیدی ابتدائی خام مال اور طبی آلات کی تیاری کے لیے مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ بلک ڈرگ پارک اور میڈیکل ڈیوائس پارک کی پالیسیوں کے ذریعے پوری دنیا کے لیے بھارت میں عالمی معیار کا پیداواری نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران انتہائی مشکل حالات کے باوجود، 140 کروڑ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد بھارت پی پی ای کِٹس اور این-95 ماسک کا خالص برآمد کنندہ بن گیا۔ صرف 13 ماہ کے اندر ہم نے اپنی دونوں ویکسین، کوویکسین اور کووِشیلڈ، تیار کر لی تھیں۔ یہ بلک ڈرگ پارکس اور ادویہ سازی کے شعبے کے لیے تیار کی گئی پی ایل آئی اسکیم آنے والے دنوں میں بھارت کی ادویہ سازی کی صنعت کو مضبوط بنانے اور اس شعبے میں چین کی بالادستی کو ختم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوں گی۔ اب تک ان اقدامات کے تحت 42,700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور بھارت 3.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ادویات برآمد کر چکا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر کمپنی کو تحقیق پر توجہ دینی ہوگی اور تحقیق میں مصروف طلبہ، ہونہار طلبہ اور پیشہ ور افراد کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ حکومتِ ہند نے تحقیق کو فروغ دینے کے لیے تین اچھی اسکیمیں بھی شروع کی ہیں۔ جب تک ہم تحقیق کو فروغ نہیں دیں گے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم نے ادویہ سازی اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی پالیسی بھی تیار کی ہے۔ پی آر آئی پی اسکیم کئی ہزار کروڑ روپے کی ایک اہم پہل ہے، جس کے ذریعے حکومت آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج ہم وینٹی لیٹر بھی تیار کر رہے ہیں اور ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس کے تحت 2028 سے پہلے تمام طبی آلات بھارت میں ہی تیار ہونے لگیں گے۔
*****
(ش ح ۔ ع و۔ت ا)
U. No.2698
(ریلیز آئی ڈی: 2304141)
وزیٹر کاؤنٹر : 5