جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس 2026 کا روڈ شو ممبئی میں منعقد کیا، شراکت داروں پر ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو تیز کرنے پر زوردیا
جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ سبز توانائی کا شعبہ سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے
مہاراشٹر حکومت کے وزیر جناب اتل موریشور ساوے نے بتایا کہ مہاراشٹر حکومت اس سربراہی اجلاس میں شراکت دار ریاست کے طور پر شرکت کرے گی
بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس و ایکسپو 2026 کا انعقاد 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 5:46PM by PIB Delhi
نئی و قابلِ تجدید توانائی، تعلیم، صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیرجناب پرہلاد جوشی نے آج ممبئی میں منعقدہ روڈ شو کے دوران سرمایہ کاروں، منصوبہ سازوں، مالیاتی اداروں، صنعت کے رہنماؤں اور دیگر شراکت داروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجتماع سے خطاب کیا۔ یہ روڈ شو بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس و ایکسپو (بی آر ایس ای )2026 کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔
تقریب کے دوران کلیدی خطاب میں مرکزی وزیر برائے نئی و قابلِ تجدید توانائی جناب پرہلاد جوشی نے توانائی کے شعبے سے وابستہ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ آئندہ بی آر ایس ای 2026 میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس عالمی سطح پر نمایاں دلچسپی پیدا کر رہا ہے۔بی آر ایس ای 2026میں تین بڑے عالمی پلیٹ فارمز ایک ہی چھت تلے جمع ہوں گےجس میں بی آر ایس ای اجلاس اور ایکسپو ، انٹرنیشنل سولر الائنس کی 9ویں جنرل اسمبلی، اور گرین ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس شامل ہے ۔ جناب جوشی نے بتایا کہ چار روزہ اس اہم تقریب میں 75 سے زائد ممالک کے سربراہانِ حکومت اور وزرائے توانائی، عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کار، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان اور قابلِ تجدید توانائی کی پوری ویلیو چین سے وابستہ 25,000 سے زائد شرکاء کی شرکت متوقع ہے۔
جناب جوشی نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس صنعت سے وابستہ شراکت داروں کو نئی شراکت داریاں قائم کرنے، نئی منڈیوں کے امکانات تلاش کرنے اور عالمی سرمایہ کاروں و ٹیکنالوجی فراہم کنندگان سے رابطہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کے لیے یہ سربراہی اجلاس اپنے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی پائپ لائن کو عالمی منصوبہ سازوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے پیش کرنے کا پلیٹ فارم ہوگا۔ اسی طرح بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ منصوبوں اور مالیاتی مواقع کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ بھارت نے 300 گیگاواٹ سے زیادہ نصب شدہ غیر روایتی ایندھن کے ذریعے توانائی کی صلاحیت حاصل کرلی ہے، جو تقریباً 302 سے 303 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت تقریباً 53.5 لاکھ خاندان مستفید ہو چکے ہیں۔جناب جوشی نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کی غیر فوسل فیول توانائی کی صلاحیت 80.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر 300.5 گیگاواٹ ہوگئی ہے، جو 275 فیصد اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں شمسی توانائی کی صلاحیت 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر 165 گیگاواٹ ہوگئی، یعنی تقریباً 58 گنا اضافہ ہوا۔ جبکہ ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کی صلاحیت تقریباً 21 گیگاواٹ سے بڑھ کر 58 گیگاواٹ ہوگئی، جو 176 فیصد اضافہ ہے۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 27-2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران بھارت نے 17 گیگاواٹ سے زیادہ قابلِ تجدید توانائی کی نئی صلاحیت شامل کی، جس میں 14.33 گیگاواٹ شمسی توانائی اور 2 گیگاواٹ سے زیادہ ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی شامل ہے۔
جناب جوشی نے کہا کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر بھارت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑی مقدار میں راغب کر رہا ہے۔ ملک بھر میں تیزی سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پیشِ نظر انہوں نے کہا کہ سبز توانائی کا شعبہ سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل فیول توانائی کی صلاحیت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں 30 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس سرمایہ کا ایک بڑا حصہ بھارتی مالیاتی اداروں، کیپٹل مارکیٹس، انشورنس فنڈز، انفراسٹرکچر سرمایہ کاروں اور نجی سرمایہ کے ذریعے متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ممبئی بھارت کے صاف توانائی کے سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم مرکز ہے۔
مہاراشٹر سے بی آر ایس ای 2026 سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے جناب جوشی نے ریاست پر زور دیا کہ وہ اپنے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور کامیاب ماڈلز کو عالمی سطح پر پیش کرے، خصوصاً پی ایم کُسُم کے تحت اپنے تجربات کو اجاگر کرے۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں کامیاب شمسی توانائی ماڈلز کو دیگر علاقوں میں نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے پر بھی زور دیا۔

مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے قابلِ تجدید توانائی جناب اتل موریشور ساوے نے کہا کہ مہاراشٹر، بی آر ایس ای 2026 میں شراکت دار ریاست کے طور پر شرکت کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت فعال وینڈر نیٹ ورک کے حوالے سے مہاراشٹر ملک کی سرفہرست ریاستوں میں شامل ہے۔ ریاست میں چھتوں پر شمسی توانائی کی تنصیب کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نظام پہلے ہی موجود ہے۔جناب ساوے نے مزید کہا کہ مہاراشٹر نے سب سے زیادہ تعداد میں سولر پمپس نصب کرنے کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے۔مہاراشٹر کا ہدف ہے کہ 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کی 65 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کی جائے۔ اس ہدف کو ملک کے سب سے بڑے صنعتی توانائی کے طلب والے مراکز میں سے ایک اور تیزی سے پھیلتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے نظام سے تقویت حاصل ہے۔جناب ساوے نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت اس ہدف کے حصول کے حوالے سے پُرامید ہے اور اسے مقررہ مدت میں حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) کے سیکریٹری، جناب سنتوش کمار سارنگی نے کہا کہ بی آر ایس ای 2026 قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر غور و خوض کے لیے ایک ون اسٹاپ پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری، جناب جے وی این سبرامنیم نے ان مواقع کو پیش کیا جو بی آر ایس ای 2026 قابلِ تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں کے لیے فراہم کرے گا۔
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت اور آئی ایس اے کی میزبانی میں، جبکہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ روڈ شو ملک گیر علاقائی پروگراموں کی سیریز کا دوسرا پروگرام تھا، جس کا مقصد 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے بی آر ایس ای 2026 سے قبل اس کے لیے رفتار اور جوش پیدا کرنا تھا۔ اس تقریب میں نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت، حکومتِ مہاراشٹر کے سینئر نمائندے اور بھارت کے قابلِ تجدید توانائی، بینکاری اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
ممبئی روڈ شو میں بھارت کے ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے پروگراموں کی نچلی سطح تک تیزی سے بڑھتی ہوئی رسائی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد گھرانے اب پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت اپنی شمسی توانائی خود پیدا کر رہے ہیں، جبکہ فروری 2024 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے 28,000 کروڑ روپے سے زائد کی مرکزی مالی معاونت جاری کی جا چکی ہے۔ اس اسکیم کا بجٹ مالی سال 26-2025 میں 17,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 27-2026 میں 22,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے دائرۂ کار اور رفتار کی عکاسی کرتا ہے۔ پی ایم کُسُم اسکیم کے تحت لاکھوں کسانوں نے ڈیزل پر انحصار کرنے والے آبپاشی نظام کی جگہ شمسی توانائی سے چلنے والے پمپس اختیار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ محض توانائی کے صارفین کے بجائے توانائی پیدا کرنے والے فعال شراکت داروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
ممبئی میں منعقدہ یہ تقریب 24 اگست 2026 کو جے پور میں منعقد ہونے والے کامیاب افتتاحی روڈ شو کے بعد منعقد ہوئی۔ آنے والے ہفتوں میں حیدرآباد، احمد آباد، لکھنؤ، بنگلورو اور کولکاتا میں مزید روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے۔ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای)اور منتظم شراکت داروں نے تمام ریاستی حکومتوں، بجلی کی تقسیم و فراہمی سے وابستہ اداروں اور صنعت سے تعلق رکھنے والے شراکت داروں کو ان علاقائی اجلاس میں فعال طور پر شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔
بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس و ایکسپو (بی آر ای سربراہ اجلاس) 2026 کے بارے میں:
بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس و ایکسپو (بی آر ای سربراہ اجلاس) 2026 دنیا کی سب سے بڑی قابلِ تجدید توانائی ایکسپو میں سے ایک ہے۔ یہ وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کا ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد صاف توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مزید معلومات اور تازہ ترین معلومات کے لیے ویب سائٹ ملاحظہ کریں: www.bresummit.in۔
*****
(ش ح ۔ ع و۔ت ا)
U. No.2696
(ریلیز آئی ڈی: 2304064)
وزیٹر کاؤنٹر : 5