مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم سوانِدھی نے تنظیمِ نو کے ایک سال مکمل کئے: قرض کی سہولت، ڈیجیٹل شمولیت اور روزگار کے مواقع میں توسیع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 AUG 2026 5:07PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند  کی اطلاعات و نشریات کی وزارتِ  کے مطابق، پرائم منسٹر اسٹریٹ وینڈر آتم نربھر ندھی (پی ایم سوا ندھی) اسکیم نے اپنی تنظیمِ نو شدہ شکل میں ایک سال مکمل کر لیا ہے۔

یہ اسکیم  یکم جون 2020 کو شہری ریڑھی پٹری فروشوں  کو بغیر کسی ضمانت کے ورکنگ کیپیٹل قرض فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔ 27 اگست 2025 کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد تنظیمِ نو شدہ اسکیم کے تحت قرض دینے کی مدت 31 مارچ 2030 تک بڑھا دی گئی ہے۔

نئی شکل میں اسکیم کا خصوصی زور رسمی قرض تک رسائی، ڈیجیٹل مالی شمولیت، سماجی تحفظ، صلاحیت سازی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے پر ہے۔ اس اسکیم سے 1.15 کروڑ ریڑھی پٹری والوں  کو فائدہ پہنچانے کا ہدف ہے، جن میں 50 لاکھ نئے مستفیدین شامل ہوں گے۔

تنظیمِ نو کے بعد پہلے ایک سال کے دوران 10.56 لاکھ نئے مستفیدین کو مجموعی طور پر 21.86 لاکھ قرضے فراہم کیے گئے، جن کی مالیت  6294 روپے کروڑ ہے۔

رسمی قرض تک رسائی کو مزید وسعت دینے کے لیے اہل ریڑھی پٹری فروشوں کے لیے یو پی آئی سے منسلک روپے کریڈٹ کارڈ متعارف کرایا گیا ہے، جس کی قرض کی حد 30000 روپے تک ہے۔ اب تک 27077 کریڈٹ کارڈز کی منظوری دی جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ مکمل طور پر ڈیجیٹل قرض دینے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس نے قرض کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ اس میں درخواست دینے، جانچ پڑتال، منظوری اور رقم کی ادائیگی تک تمام مراحل شامل ہیں۔

ریڑھی پٹری فروشوں کے لیے وینڈر مائگریشن ماڈیول تیار  کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے جب کوئی ریڑھی پٹری والا ایک شہری بلدیاتی ادارے یا مردم شماری والے قصبے سے دوسرے مقام پر منتقل ہوتا ہے تو اس کا سفارش نامہ باآسانی نئے مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سرکاری اسکیم کے فوائد کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور ریڑھی پٹری  فروشوں کو دوبارہ پورا عمل شروع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہ اسکیم اپنے شہری خطے کے طریقۂ کار کے ذریعے اپنی رسائی میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس میں مردم شماری والے قصبوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جس سے مزید ریڑھی پٹری فروشوں کو رسمی قرض اور روزگار معاونت کے نظام سے منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔

پی ایم سوانِدھی اب صرف قرض فراہم کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ کاروباری ترقی اور اختراع کی جانب بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ جاری پی ایم سوانِدھی اسٹارٹ اَپ چیلنج کے ذریعے نئے کاروباری اداروں اور اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ وہ بازار تک رسائی، ڈیجیٹل ادائیگی، مالی خدمات، رسد اور ریڑھی پٹری کے بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں نئے حل تیار کرسکیں۔

ریڑھی پٹری کے بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانے کے لیے ملک بھر میں 50 اسٹریٹ فوڈ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ہر مرکز کے لیے شہروں کو 4 کروڑ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جا سکے گی، جبکہ ریڑھی پٹری فروشوں کے مخصوص علاقوں کے اعلان کے لیے اضافی 25 لاکھ روپے بھی دیے جائیں گے۔

آخری سطح تک سرکاری سہولیات کی رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے لوک کلیان میلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان میلوں میں ریڑھی پٹری فروشوں، بینکوں اور شہری مقامی اداروں کو ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے تاکہ انہیں قرض، فلاحی اسکیموں اور صلاحیت سازی کے پروگراموں تک آسان رسائی فراہم کی جا سکے۔

لوک کلیان میلوں کا اگلا مرحلہ یکم ستمبر سے 30 ستمبر 2026 تک منعقد کیا جائے گا۔

آغاز سے اب تک پی ایم سوانِدھی کے ذریعے 78.68 لاکھ ریڑھی پٹری فروشوں کو 1.18 کروڑ سے زائد قرضے حاصل کرنے میں مدد ملی ہے، جن کی مجموعی مالیت 19171 کروڑ روپے ہے۔ قرضوں کی بروقت واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے 421 کروڑ روپے بطور سودی  سبسڈی جاری کیے گئے ہیں۔

 اس کے علاوہ 57.09 لاکھ ریڑھی پٹری فروشوں نے 908 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل لین دین کیے ہیں۔ سوانِدھی سے سمردھی کے تحت 51.15 لاکھ سے زائد مستفید خاندانوں کی سماجی و اقتصادی معلومات جمع کرنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ منتخب 8 مرکزی حکومتی فلاحی اسکیموں کے تحت اہل افراد کے لیے 1.59 کروڑ سے زائد منظوریوں کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لیے رقم واپس کرنے کی ترغیبات بھی دی جا رہی ہیں، جن میں خوردہ اور تھوک، دونوں طرح کے لین دین شامل ہیں۔ اب تک اس مقصد کے لیے 418.78 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

اب تک 6 لاکھ سے زائد اسٹریٹ فوڈ فروشوں کو خوراک کی حفاظت اور صفائی ستھرائی کے بارے میں ایف ایس ایس اے آئی کی تربیت بھی دی جا چکی ہے۔

اس طرح پی ایم سوانِدھی محض قرض فراہم کرنے والی اسکیم سے آگے بڑھ کر روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ایک جامع پہل بن چکی ہے۔ اس میں رسمی قرض، ڈیجیٹل شمولیت، سماجی تحفظ، صلاحیت سازی، اختراع اور بہتر ریڑھی پٹری بنیادی ڈھانچے کو یکجا کیا گیا ہے۔

تنظیمِ نو کے بعد پہلے سال کی پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت ریڑھی پٹری فروشوں کو مالی طور پر بااختیار، ڈیجیٹل طور پر مربوط اور سماجی طور پر محفوظ چھوٹے کاروباری افراد بنانے کے لیے مسلسل عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ یہ اقدامات وکست بھارت 2047 کے وژن میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ ت ف۔ ن م۔

U- 2666


(ریلیز آئی ڈی: 2303864) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil , Kannada