کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد کا مراکش کا سرکاری دورہ اختتام پذیر؛ بھارت-مراکش مشترکہ کمیشن کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت


جناب پرساد نے بھارت-مراکش اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا؛ مشترکہ کمیشن کے ساتویں اجلاس سے تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو نئی رفتار ملی

بھارت اور مراکش آئندہ پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دو گنا کرنے پر متفق؛ ترجیحی تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا

بھارت اور مراکش 2027 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ منائیں گے؛ مشترکہ کمیشن کا آٹھواں اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوگا

جناب جتن پرساد نے مراکش کے کاروباری اداروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی؛ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، قابل تجدید توانائی، صحت اور ادویہ سازی کے شعبوں میں مواقع پرو روشنی ڈالی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 AUG 2026 6:09PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے 24 سے 25 اگست 2026 تک مملکت مراکش کا ایک کامیاب سرکاری دورہ مکمل کیا، جس کے دوران انہوں نے مراکش کے سینیئر وزراء اور معزز شخصیات کے ساتھ متعدد دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران انہوں نے اپنے مراکشی ہم منصب، مملکت مراکش کے وزیر صنعت و تجارت کے ماتحت وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت، عزت مآب جناب عمر حجیرہ کے ساتھ بھارت-مراکش مشترکہ کمیشن کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔

بھارت اور مراکش کے درمیان ایک دیرینہ اور باہمی طور پر مفید شراکت داری قائم ہے، جسے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور مراکش کے فرمانروا عزت مآب شاہ محمد ششم کی قیادت میں مضبوط تزویراتی رفتار حاصل ہوئی ہے۔

اپنے دورے کے دوران جناب جتن پرساد نے مراکش-بھارت بزنس فورم میں شرکت کی، مراکش کے سینیئر وزراء کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں، بھارتی کاروباری برادری سے تبادلۂ خیال کیا اور انڈیا-مراکش فاسفور کے مینوفیکچرنگ یونٹ کا دورہ بھی کیا۔ یہ مراکش کے او سی پی گروپ اور بھارتی شراکت داروں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ دورے کے دوران فاسفیٹ اور کھادوں کے شعبے میں بھارت-مراکش کی دیرینہ شراکت داری کا جائزہ لیا گیا۔

جناب پرساد کے ہمراہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد بھی تھا، جس نے چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اینڈ سروسز اور جنرل کنفیڈریشن آف مورکن انٹرپرائز (سی جی ای ایم) کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں۔

بھارت-مراکش مشترکہ کمیشن کا ساتواں اجلاس

بھارت-مراکش مشترکہ کمیشن کے ساتویں اجلاس سے دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی اور تعاون کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک قائم ہوا، جس کا مقصد تجارت میں اضافہ، منڈی تک رسائی کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کو فروغ دینا اور بھارتی و مراکشی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

دونوں جانب نے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، کھاد، زراعت، ادویہ سازی، توانائی، کان کنی، ڈیجیٹل تبدیلی، نقل و حمل اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور متنوع بنانے پر اتفاق کیا۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو بھارت اور مراکش کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں مسلسل مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں ممالک نے اپنی دیرینہ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں جانب نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی اشیا کے دائرے میں تنوع پیدا کرنے اور اشیا و خدمات دونوں کے لیے منڈی تک رسائی کو وسعت دینے سے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کی خاطر خواہ غیرمستفاد صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دو گنا کرنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری وفود کے باقاعدہ تبادلے، تجارتی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے دورے اور نیٹ ورکنگ کی سرگرمیاں نئے کاروباری مواقع کی نشاندہی، منڈی تک رسائی کو آسان بنانے اور مراکشی و بھارتی کمپنیوں کے درمیان پائیدار شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔

تجارت میں اضافے کے لیے جن ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں کھاد اور کیمیکل، معدنی وسائل، مشینری اور برقی آلات، آٹوموٹیو پرزے اور گاڑیاں، تعمیراتی سامان، پولیمر، زرعی و غذائی مصنوعات، چائے، دھاتیں اور سیاحت شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے ادویہ سازی کی مصنوعات کے لیے قابل پیش گوئی اور بر وقت منڈی تک رسائی کو آسان بنانے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔

اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام فراہم کرنے کی غرض سے دونوں جانب نے بھارت-مراکش مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) قائم کرنے پر اتفاق کیا، جو دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے امکانات اور بھارت و مراکش کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے کے امکان کا جائزہ لے گا۔ مشترکہ ورکنگ گروپ ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کا بھی جائزہ لے گا اور اشیا و خدمات کے لیے بہتر منڈی تک رسائی اور تجارتی سہولت کاری کے مواقع تلاش کرے گا۔

دونوں جانب نے بھارتی ادویہ ساز کمپنیوں کو در پیش ضابطہ جاتی اور منڈی تک رسائی سے متعلق مسائل، جن میں مارکیٹ اتھارائزیشن کے طریقۂ کار اور منظوری کی مدت بھی شامل ہے، کو مشترکہ طور پر حل کرنے پر اتفاق کیا، تاکہ دو طرفہ تجارت کو آسان بنایا جا سکے اور ادویہ سازی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔ بھارتی جانب نے برآمد کے لیے اہم مصنوعات سے متعلق منڈی تک رسائی کے مسائل اور بھارت سے درآمد کیے جانے والے سیرامک ٹائل کے حوالے سے جاری تحقیقات کا معاملہ بھی اٹھایا۔

دونوں جانب نے کاروبار سے کاروبار (بی2بی) روابط کو مضبوط بنانے، تجارتی میلوں اور نمائشوں، کاروباری فورم اور سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمیوں میں باہمی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے میں مراکش-بھارت بزنس کونسل اور مراکش-بھارت چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

زراعت کے شعبے میں دونوں جانب نے پائیدار زراعت، غذائی تحفظ، ایس پی ایس اقدامات، خوراک کے تحفظ، زرعی تحقیق، ڈیجیٹل زراعت، بایوٹیکنالوجی اور زرعی ویلیو چین میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں جانب نے مراکش کے نیشنل آفس آف فوڈ سیفٹی اور بھارت کی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے درمیان غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اس مفاہمت کی یادداشت میں معلومات، تکنیکی مہارت اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور محفوظ و پائیدار دو طرفہ تجارت کو آسان بنانے کے لیے سرگرمیوں کا ایک فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

دونوں جانب نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے دوران 2026-2030 کے لیے ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر بھی دستخط کیے۔ یہ پروگرام فن کاروں اور پیشہ ور افراد کے تبادلے، میلوں اور نمائشوں میں شرکت، ورثے کے تحفظ میں تعاون اور عجائب گھروں، کتب خانوں اور آرکائیوی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے ذریعے ثقافتی تبادلوں اور تعاون کو فروغ دے گا۔

دونوں ممالک نے اس بات کا ذکر کیا کہ 2027 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ ثقافتی تبادلوں اور عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گی۔

دونوں جانب نے بھارت-مراکش مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس کو نئی دہلی میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کی تاریخ سفارتی ذرائع کے ذریعے باہمی رضامندی سے طے کی جائے گی۔

مراکش-بھارت بزنس فورم: سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ترجیحی شعبے

24 اگست 2026 کو کاسابلانکا میں جنرل کنفیڈریشن آف مورکن انٹرپرائزز (سی جی ای ایم) کی میزبانی میں منعقدہ مراکش-بھارت بزنس فورم میں جناب جتن پرساد نے کاروباری اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم شعبوں کو اجاگر کیا، جن میں آٹوموٹیو، مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی، اسٹارٹ اپ اور مالیات، کھاد اور کیمیکلز، صحت اور ادویہ سازی شامل ہیں۔

جناب پرساد نے آٹوموٹیو ویلیو چین میں مزید گہرے تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا، جن میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے پرزے اور پریسیژن سب اسمبلی؛ قابل تجدید توانائی، جس میں شمسی توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور گرڈ مینجمنٹ؛ اسٹارٹ اپ، فن ٹیک اور مالیات؛ مصنوعی ذہانت؛ صحت؛ اور ادویہ سازی، جس میں اسپتال، تشخیصی خدمات، ادویات، طبی آلات اور ڈیجیٹل صحت شامل ہیں۔

جناب جتن پرساد نے بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے مراکشی کاروباری اداروں کو بھارت میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور بھارت کی ترقی کے سفر میں شرکت کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن اور وکست بھارت 2047 کے تحت بھارت ایک جدید اور عالمی معیشت سے مربوط اقتصادی نظام تشکیل دے رہا ہے، جو بھارت-مراکش کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔

او سی پی-بھارت شراکت داری: فاسفیٹ اور کھاد کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا

جناب جتن پرساد نے انڈیا-مراکو فاسفور کا دورہ کیا، جو مراکش کے او سی پی گروپ اور بھارتی شراکت داروں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے، اور فاسفیٹ اور کھاد کے شعبے میں بھارت-مراکش کی دیرینہ شراکت داری کا جائزہ لیا۔

دونوں جانب نے اس تزویراتی شعبے میں مضبوط اور دیرپا تعاون کا خیرمقدم کیا، جس میں او سی پی گروپ اور بھارتی شراکت داروں، یعنی پریڈیپ فاسفیٹس لمیٹڈ اور انڈو-مراکو فاسفور کے درمیان مشترکہ منصوبے بھی شامل ہیں۔

او سی پی کی ٹیم نے وزیر کو بھارتی زرعی شعبے کی ضروریات کے مطابق فاسفیٹ اور کھاد کی فراہمی کے اپنے عزم سے آگاہ کیا۔ اس دورے سے بھارت کی کھاد کی سپلائی چین کو سہارا دینے اور فاسفیٹ و کھاد کے پورے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے میں اس شراکت داری کی اہمیت کی ایک بار پھر توثیق ہوئی۔

اعلیٰ سطحی دو طرفہ ملاقاتیں: تجارت، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینا

جناب جتن پرساد نے مراکش کے خارجہ تجارت کے وزیرِ مملکت عزت مآب جناب عمر حجیرہ اور صنعت و تجارت کے وزیر عزت مآب جناب ریاض مزور کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے سرمایہ کاری کے وزیر مملکت عزت مآب جناب کریم زیدان اور ڈیجیٹل تبدیلی اور انتظامی اصلاحات کی وزیرِ مملکت عزت مآب ڈاکٹر امل الفلاح سغروشنی سے بھی ملاقات کی۔

ملاقاتوں کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، صنعت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی طور پر مفید اقتصادی روابط کے نئے شعبوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی گئی، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبے میں۔

بھارتی کاروباری برادری سے رابطہ اور عوامی سطح پر روابط

جناب جتن پرساد نے مراکش میں بھارتی کاروباری برادری اور بھارتی برادری کے ارکان سے ملاقات کی اور بھارت-مراکش تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھارتی برادری کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے بھارتی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مراکش کے ساتھ اپنے روابط کو مزید وسعت دیں اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کریں۔ اس کے ساتھ انہوں نے بھارتی اور مراکشی کاروباری اداروں کے درمیان مزید وسیع تعاون کے امکانات پر بھی زور دیا۔

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 2631


(ریلیز آئی ڈی: 2303578) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी , Tamil