PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ای- شرم پورٹل کے 5 سال


ایک جامع سماجی تحفظ کے نظام کی تشکیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 2:38PM by PIB Delhi

ای-شرم پورٹل 26 اگست 2026 کو اپنے قیام کے پانچ سال مکمل کر رہا ہے، جو ہندوستان کی غیر منظم شعبے کی افرادی قوت کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزارت محنت و روزگار کی جانب سے 2021 میں شروع کیے گئے اس پورٹل نے ملک میں پہلی مرتبہ آدھار سے منسلک غیر منظم شعبہ سے منسلک  کارکنوں کا قومی ڈیٹا بیس قائم کیا۔ یہ ہر رجسٹرڈ کارکن کو ایک منفرد یونیورسل اکاؤنٹ نمبر فراہم کرتا ہے اور اب یہ ایک ایسے جامع ڈجیٹل پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے جو فلاحی اسکیموں، روزگار، ہنرمندی، اپرنٹس شپ اور پنشن کی خدمات کو ایک ہی جگہ مربوط کرتا ہے۔ 31.89 کروڑ سے زائد رجسٹریشن کے ساتھ ای-شرم نے فوائد کی مؤثر فراہمی، خدمات کی منتقلی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو بہتر بنایا ہے۔ یہ حکومت کے ایک جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی سماجی تحفظ کے نظام کے ویژن کو آگے بڑھا رہا ہے۔

ہندوستان کی غیر منظم شعبے کی افرادی قوت کو بااختیار بنانا

جیسے جیسے ہندوستان وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کے ویژن کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، اس کی وسیع افرادی قوت کو بااختیار بنانا جامع اور پائیدار ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ غیر منظم شعبہ مختلف اقسام کے کارکنوں پر مشتمل ہے، جن میں زرعی مزدور، تعمیراتی کارکن، گھریلو ملازمین، سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے، مہاجر مزدور، گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز اور دیگر بہت سے کارکن شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ہندوستان کی افرادی قوت اور معیشت کا ایک اہم ستون ہیں۔ لہٰذا، ان کے لیے سماجی تحفظ اور فلاحی سہولیات تک رسائی یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image004_20260825143721_3d972a.png

اس عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے ای-شرم پورٹل 26 اگست 2021 کو شروع کیا گیا تھا اور اب اپنے قیام کے 5 سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ ہندوستان کے غیر منظم شعبہ کے کارکنوں کے لیے ایک جامع سماجی تحفظ کا نظام قائم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ای-شرم کے پس پشت ویژن

نیشنل انفارمیٹکس سینٹر(این آئی سی)کی جانب سے تیار کردہ ای-شرم پورٹل نے ملک میں آدھار سے تصدیق شدہ غیر منظم شعبے کے کارکنوں کا پہلا قومی ڈیٹا بیس(این ڈی یو ڈبلیو) قائم کیا۔ یہ ہر رجسٹرڈ کارکن کو ایک منفرد 12 ہندسوں پر مشتمل یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (یو اے این)فراہم کرتا ہے۔ اس کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:

  • وزارتوں اور محکموں کی فلاحی اسکیموں کے باہمی انضمام کے ذریعے سماجی تحفظ کی خدمات کی مؤثر فراہمی کو بہتر بنانا۔
  • اے پی آئی ایس کے ذریعے سرکاری اداروں کے ساتھ کارکنوں کے ڈیٹا کی محفوظ شیئرنگ کو ممکن بنانا جس  سے فلاحی اسکیموں کی مؤثر فراہمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد ملتی ہے۔
  • مہاجر اور تعمیراتی کارکنوں کے لیے ملک بھر میں سماجی تحفظ اور فلاحی فوائد تک رسائی اور ان کی منتقلی کو آسان بنانا۔
  • ایک جامع قومی ڈیٹا بیس تشکیل دینا، جو قومی ہنگامی حالات اور بحرانوں کے دوران بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر ردِعمل میں معاون ثابت ہو۔

’’غیر منظم شعبہ کا کارکن‘‘ سے مراد گھر سے کام کرنے والا کارکن، خود روزگار کارکن، یا غیر منظم شعبہ میں اجرت پر کام کرنے والا کارکن ہے۔ اس میں منظم شعبے کا وہ کارکن بھی شامل ہے جو ای ایس آئی سی، ای پی ایف او کا رکن یا سرکاری ملازم نہ ہو۔

ایک جامع  مشترکہ حل کی جانب ارتقا

ای-شرم پورٹل نے محض کارکنوں کے رجسٹریشن پلیٹ فارم سے آگے بڑھ کر 21 اکتوبر 2024 کو ای-شرم ون اسٹاپ سلوشن کے آغاز کے ساتھ ایک متحدہ خدمات کی فراہمی کے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر لی۔ اب اس میں فلاح و بہبود، روزگار، ہنرمندی اور پنشن کی خدمات کو مربوط کیا گیا ہے۔ یہ مرکزی بجٹ 2024-25 کے اس ویژن سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت ایک ہی ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف نوعیت کی محنت و مزدوری سے متعلق خدمات فراہم کی جائیں گی۔ رجسٹرڈ کارکن اہل اسکیموں تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے حاصل کیے گئے فوائد بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم مختلف سرکاری پورٹلز کے درمیان باہمی ربط اور انضمام کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس سے غیر منظم شعبے کے کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ تک رسائی مضبوط ہوتی ہے اور خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنتی ہے۔

  • ون اسٹاپ سلوشن ایک ہی پلیٹ فارم پر 15 سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کو یکجا کرتا ہے۔ ان میں پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا (پی ایم-ایس وائی ایم) ، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا(پی ایم ایس بی وائی) ، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا(پی ایم جے جے بی وائی) ، نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی) ، ون نیشن ون راشن کارڈ (اواین او آر سی) ، پردھان منتری آواس یوجنا–گرامین (پی ایم اے وائی-جی) اور دیگر اسکیمیں شامل ہیں۔
  • ای-شرم پر رجسٹرڈ کارکن پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم ایس بی وائی) اور پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا(پی ایم جے جے بی وائی) میں ای-شرم پورٹل کے ذریعے آسانی سے اندراج کر سکتے ہیں۔پی ایم ایس بی وائی کے تحت حادثاتی موت یا مستقل معذوری کی صورت میں 2لاکھ روپے اور جزوی معذوری کی صورت میں 1لاکھ روپے کے حادثاتی بیمہ فوائد کے اہل ہیں۔ پی ایم جے جے بی وائی کسی بھی وجہ سے موت کی صورت میں 2 لاکھ روپے کی لائف انشورنس کوریج فراہم کرتی ہے۔
  • یہ پورٹل کارکنوں کو روزگار کے مواقع کے لیے نیشنل کریئر سروس (این سی ایس)سے جوڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ہنرمندی اور اپرنٹس شپ کے لیے اسکل انڈیا ڈجیٹل ہب تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ کارکن ’مائی اسکیم‘کے ذریعے ان سرکاری اسکیموں کی شناخت بھی کر سکتے ہیں جن کے لیے وہ اہل ہو سکتے ہیں۔
  • پورٹل کے ذریعے اہل کارکن پردھان منتری شرم یوگی مان دھن (پی ایم-ایس وائی ایم اسکیم میں اندراج کر سکتے ہیں، جس کے تحت اہلیت کی شرائط پوری ہونے پر 60 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد کم از کم 3,000 روپے ماہانہ کی یقینی پنشن فراہم کی جاتی ہے۔
  • بھاشنی پلیٹ فارم کے تعاون سے 2025 میں 22 زبانوں میں کثیر لسانی سہولت متعارف کرائی گئی۔

A screen shot of a computerAI-generated content may be incorrect.

  • پورٹل میں مہاجر کارکنوں کے اہلِ خانہ کی تفصیلات درج کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
  • یہ تعمیراتی کارکنوں کے ڈیٹا کو ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے کارکنوں کو متعلقہ بلڈنگ اینڈ دیگر کنسٹرکشن ورکرز (BOCW) بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن میں مدد ملتی ہے۔
  • ای-شرم، غیر منظم شعبے کے کارکنوں کے قومی ڈیٹا بیس کے حصے کے طور پر گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اب تک تقریباً 11.5 لاکھ پلیٹ فارم ورکرز پورٹل پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس ایسے کارکنوں کے لیے موزوں سماجی تحفظ اور فلاحی اقدامات کی تشکیل اور مؤثر نفاذ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ای-شرم رجسٹریشن: اہلیت اور طریق کار

ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن آسان، قابل رسائی اور ایک مرتبہ کا عمل ہے۔

اہلیت: 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کا کوئی بھی کارکن جو غیر منظم شعبے میں کام کرتا ہو ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے اہل ہے۔ کارکن انکم ٹیکس ادا کرنے والا یا ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) یا ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کا رکن نہیں ہونا چاہیے۔

دائرۂ کار: یہ پورٹل غیر منظم شعبے کے مختلف کارکنوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں تعمیراتی کارکن، مہاجر کارکن، گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز، سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے، گھریلو ملازمین، زرعی کارکن اور دیگر غیر منظم شعبے کے کارکن شامل ہیں۔

رجسٹریشن کیسے کریں: کارکن ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ وہ قریبی کامن سروس سینٹر (سی ایس سی)یا ریاستی سیوا کیندر کے ذریعے بھی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے فیلڈ افسران بھی ضلع اور ذیلی ضلع سطح پر رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

رجسٹریشن کی لاگت: ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔ کارکنوں کو کسی بھی رجسٹریشن ایجنسی یا سروس فراہم کنندہ کو کوئی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ضروری دستاویزات: رجسٹریشن کے لیے آدھار نمبر،آدھار ای کے وائی سی کے لیے اور موبائل نمبر درکار ہے۔ بہتر ہے کہ موبائل نمبر آدھار سے منسلک ہو۔

ہندوستان کی غیر منظم شعبے کی افرادی قوت کا بڑھتا ہوا احاطہ

گزشتہ 5 برسوں کے دوران ای-شرم پورٹل پر ہونے والی رجسٹریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ 18 اگست 2026 تک مختلف جنسوں، عمر کے گروپس، پیشوں اور ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے وسیع پیمانے پر اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔

A close-up of a blue and white graphAI-generated content may be incorrect.

  •  مجموعی  رجسٹریشن: پورٹل پر 31.89 کروڑ رجسٹریشن ہو چکے ہیں۔
  • صنفی تقسیم: رجسٹرڈ کارکنوں میں خواتین کا تناسب 54.28 فیصد جبکہ مردوں کا تناسب 45.72 فیصد ہے۔
  • عمر کے لحاظ سے تقسیم: 0.08 فیصد کارکنوں کی عمر 16 سے 18 سال ہے، 55.21 فیصد رجسٹرڈ کارکن 18 سے 40 سال کی عمر کے ہیں، 24.18 فیصد کی عمر 40 سے 50 سال ہے، جبکہ 20.53 فیصد کارکنوں کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے( 20اگست 2026 تک)۔
  • اہم پیشہ ورانہ شعبے: زراعت، گھریلو و خانگی ملازمین، تعمیرات اور ملبوسات کے شعبوں میں سب سے زیادہ رجسٹریشن ہوئی ہے۔
  • سرفہرست ریاستیں: اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں سب سے زیادہ رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • رجسٹریشن کا طریقہ: زیادہ تر رجسٹریشن کامن سروس سینٹرز (ی ایس سیز) کے ذریعے مکمل کی گئی ہیں، جس کے بعد خود رجسٹریشن کا نمبر آتا ہے۔

محنت کشوں کی فلاح و بہبود کا مستقبل تعمیر کرنا

ای-شرم پورٹل نے ہندوستان کی غیر منظم شعبے کی افرادی قوت کے لیے ایک جامع اور ٹیکنالوجی سے فعال سماجی تحفظ کے نظام کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ غیر منظم شعبے کے کارکنوں کے لیے ملک گیر ڈجیٹل شناخت اور ڈیٹا بیس تشکیل دے کراس نے حکومتی معاونت کی زیادہ ہدفی اور شفاف فراہمی کو ممکن بنایا ہے۔ جیسے جیسے اس کا دائرۂ کار اور خدمات مسلسل وسیع ہو رہی ہیں ای-شرم ایک زیادہ جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تعمیر میں ایک اہم ڈجیٹل ستون کی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 

حوالہ جات

Ministry of Labour & Employment

https://eshram.gov.in/

https://maandhan.in/

https://www.youtube.com/watch?v=b5anRFQBono

https://www.pib.gov.in/pressreleasepage.aspx?prid=1749294&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2090895&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099153&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2109421&reg=48&lang=2

https://eshramwebportal-megh.azureedge.net/nduwwsmedia/sites/default/files/pdf/leaflets/leaflet-en.pdf

Ministry of Electronics & IT

https://www.nic.gov.in/newsletter-content/products-services/

Ministry of Finance

https://www.indiabudget.gov.in/doc/bspeech/bs2024_25.pdf

Click here to see pdf

PIB Research

*****

ش ح- ظ الف- ج

UR No.2565


(ریلیز آئی ڈی: 2303148) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , Bengali , Gujarati , Tamil