بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حیدرآبادمیں پرشرما عدالت نے 8.29 کروڑ روپے کے 65 تاخیری ادائیگی کےمعاملات کو حل کیا،جس سےایم ایس ایز کونقدبہاؤاورکاروباری تسلسل کوبحال کرنے میں مددملی


مصالحتی عمل اور آن لائن تنازعات کے حل کے نظام نے تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں کے معاملات کو دوبارہ کاروباری اعتماد بحال کرنے کے مواقع میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 25 AUG 2026 10:31AM by PIB Delhi

تلنگانہ حکومت کے صنعت و تجارت کمشنریٹ نے وزارتِ ایم ایس ایم ای کے اشتراک سے انتہائی چھوٹے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ادائیگی میں تاخیر سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ’پریشرما عدالت‘ کے عنوان سے ایک مصالحتی کانکلیو کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کے تحت 8.29 کروڑ روپے مالیت کے تاخیر سے ادائیگی کے 65 معاملات کامیابی کے ساتھ حل کیے گئے۔ یہ مصالحتی کانکلیو حیدرآباد میں ایف ٹی سی سی آئی میں منعقد ہوا۔ جس میں مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں، خریداروں، سرکاری شعبے کے اداروں، مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کی سہولت کاری کونسلوں، متبادل تنازعات کے حل کے اداروں اور وزارتِ ایم ایس ایم ای و تلنگانہ حکومت کے افسران نے شرکت کی۔

مائیکرو یا چھوٹے کاروباری ادارے کے لیے ادائیگی میں تاخیر محض کسی بقایا بل کی عدم ادائیگی کا معاملہ نہیں ہوتی۔ اس کے اثرات ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، خام مال کی خریداری، قرضوں کی واپسی اور نئے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت تک پہنچ سکتے ہیں۔ ’پریشرما عدالت‘ نے اس امر کو اجاگر کیا کہ تنازعات کا بروقت اور مؤثر حل کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے، کاروباری اعتماد بحال کرنے اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مصالحتی کانکلیو میں کاروباری افراد کے ذاتی تجربات اس امر کا سب سے مضبوط ثبوت بن کر سامنے آئے کہ تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں کے مسائل حل ہونے سے ان کے کاروبار پر کیا اثر پڑا اور اس کے بعد وہ اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کر سکے۔ ان تجربات سے واضح ہوا کہ تنازعات کے حل کے حقیقی اثرات صرف نمٹائے گئے معاملات کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی جانچے جاتے ہیں کہ کتنے کاروبار دوبارہ فعال ہوئے اور آگے بڑھنے کے قابل بنے۔

کامیابی کی کہانیاں: تاخیر سے ادائیگیوں سے  لے کرکاروباری تسلسل تک

بقایا رقم کی وصولی سے اعتماد کی بحالی:نیمس سافٹ ویئر س لوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی محترمہ شالینی نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ادائیگیوں اور معاہدے سے متعلق تنازعات کے بارے میں بتایا، جن کے باعث ادارے کی جمع پونجی اور کاروباری اعتماد بری طرح متاثر ہوا تھا۔ تاخیر سے ادائیگی کے تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کے ذریعے ادارے نے 11 میں سے 9 معاملات کامیابی سے حل کر لیے ہیں۔ ان کے تجربے نے یہ واضح کیا کہ بقایا ادائیگی کی وصولی کا مطلب صرف رقم کی واپسی نہیں بلکہ کاروبار کو جاری رکھنے اور اسے مزید وسعت دینے کے لیے اعتماد کی بحالی بھی ہے۔

 

مصالحت کے ذریعے کاروباری تعلقات کا تحفظ:ناگارجنا ایگرو کیمیکلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے جناب مکند مہیشوری نے بتایا کہ کونسل کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ایسے خریدار سے بقایا رقم وصول کرنے میں مدد ملی، جو اس سے پہلے ان کی فون کالز کا جواب دینے سے گریز کرتا تھا۔ ادائیگی کی وصولی کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان کاروباری تعلقات بھی برقرار رہے۔ انہوں نے تقریب میں کہا، ’’نقدی کی روانی صنعت کے لیے آکسیجن کی مانند ہے۔‘‘

دو سال کے انتظار سے چند ماہ میں حل تک:سری سولیوشنز کے جناب آتماکوری نمل وار نے بتایا کہ وہ دو سال سے زائد عرصے تک اپنی بقایا رقم کی ادائیگی کے منتظر رہے۔ تنازعہ حل کرنے کے طریقۂ کار کے ذریعے ادارے نے تقریباً 30 لاکھ روپے کی رقم وصول کی۔ جبکہ چار معاملات تقریباً دو سے تین ماہ کے اندر نمٹا دیے گئے۔

 

جامع اور قابلِ رسائی تنازعات کے حل کا نظام ہر کاروباری فرد کے لیے معاون:کریم نگر سے سامنے آنے والے ایک معاملے نے قابلِ رسائی تنازعات کے حل کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ گھریلو استعمال کے پائپ کا کاروبار کرنے والے ایک معذور کاروباری فرد کو تقریباً 11 لاکھ روپے کی تاخیر سے ہونے والی ادائیگی کی وصولی کے لیے تنازعہ حل کرنے کے عمل سے فائدہ اٹھانے میں کامیابی ملی۔ اس معاملے سے واضح ہوا کہ کسی کاروباری فرد کے حالات اس کے لیے اپنے حق کے حصول اور شکایت کے ازالے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔

آن لائن تنازعات کے حل کا نظام رکی ہوئی ادائیگیوں کو کاروباری رفتار میں بدلتا ہے:حیدرآباد امونیا اینڈ کیمیکلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو نو خریداروں سے تقریباً 79 لاکھ روپے کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہونے کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا تھا۔ آن لائن تنازعات کے حل کے پلیٹ فارم کے ذریعے تین مصالحتی اجلاس منعقد کیے گئے۔ جن سے دونوں فریقوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کا موقع ملا۔ ایک بڑے خریدار نے 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی، جبکہ دیگر خریداروں نے بھی اپنی بقایا رقم ادا کرنا شروع کر دی۔ کمپنی کے مطابق مجموعی طور پر 54 لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی۔

 

ہر معاملے کے نمبر کے پیچھے ایک کاروباری فرد کی جدوجہد ہوتی ہے:شبری انڈسٹریز کے جناب گوپی کرشنا نے بتایا کہ ادائیگیوں میں تاخیر سے ان کے ادارے کی کریڈٹ پروفائل متاثر ہونے لگی تھی۔ تنازعات کے حل کے نظام کی مدد سے ادارہ دو ادائیگیوں کے ذریعہ تقریباً 40 لاکھ روپے کی بقایا رقم وصول کرنے میں کامیاب رہا۔اے پی انجینئرنگ کے جناب رنجیت ریڈی نے بتایا کہ آن لائن تنازعات کے حل کے نظام کے ذریعے ان کے تین معاملات حل کیے گئے۔ اسی طرح پانڈورنگا انٹرپرائزز کے جناب سرینواسولو نے تقریباً 16 لاکھ روپے کے ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا معاملے کا ذکر کیا، جو اس طریقۂ کار کے ذریعے تصفیے کی جانب بڑھا۔

آن لائن تنازعات کا حل: ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی نظام اور انسانی مداخلت کا امتزاج

سال2025 میں شروع کیا گیا آن لائن تنازعات کے حل کا پلیٹ فارم تنازعات کے حل کے عمل میں ٹیکنالوجی کو شامل کرتا ہے اور تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں سے متعلق معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ڈیجیٹل راستہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم معاملات کے حل میں انتہائی چھوٹے اور چھوٹے کاروباری اداروں کی سہولت کاری کونسلوں کا ادارہ جاتی کردار بدستور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

وزارتِ ایم ایس ایم ای کے تحت آر اے ایم پی کی ڈائریکٹر محترمہ انکیتا پانڈے نے تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں سے متعلق نظام کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ نظام ’سمادھان پورٹل‘ سے آگے بڑھ کر ایم ایس ایم ای آن لائن تنازعات کے حل کے پلیٹ فارم تک پہنچا ہے۔ پروگرام کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، تلنگانہ میں آن لائن تنازعات کے حل کے نظام کے ذریعے 800 سے زائد معاملات درج کیے گئے۔ جن میں سے تقریباً 85 معاملات حل کیے جا چکے ہیں۔

تلنگانہ حکومت کے صنعتوں کے کمشنر جناب جے نکھیل چکرورتی نے اس اقدام کو ریاست کے وسیع تر ایم ایس ایم ای ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا اہم ذرائع ہیں۔

پریشرما عدالت‘نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ تنازعات کے حل کے کسی نظام کی کامیابی کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جانا چاہیے کہ اس کے ذریعے کتنی فائلیں یا کتنے معاملات نمٹائے گئے، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس نظام نے کتنے کاروباری اداروں کو دوبارہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور آگے بڑھنے میں مدد دی۔ مصالحتی عمل، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور ڈیجیٹل ذرائع کو ایک مشترکہ نظام میں شامل کرکے اس اقدام کا مقصد کاروباری فرد، اس کے جائز حق اور ممکنہ حل کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا ہے۔

*****

ش ح۔ م ح۔ص ج

U.NO.2555


(रिलीज़ आईडी: 2303033) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu