PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت ٹیکسی


‘‘بھارت کا پہلا باہمی تعاون پر مبنی سواری فراہم کرنے والا پلیٹ فارم’’

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 AUG 2026 3:31PM by PIB Delhi

’’بھارت ٹیکسی‘‘ ہندوستان کا پہلا کوآپریٹو کی قیادت والا سفری  پلیٹ فارم ہے ، جو 6 جون 2025 کو ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ ، 2002 کے تحت قائم کیا گیا تھا ۔  8 قومی کوآپریٹو اداروں کے تعاون سے ، یہ ڈیجیٹل نقل و حرکت کو ایک ممبر کی ملکیت والے ماڈل کے ساتھ جوڑتا ہے ۔  یہ پلیٹ فارم زیرو کمیشن ماڈل کی پیروی کرتا ہے ، جو سارتھیوں کو ممبر مالکان کی حیثیت سے حصہ لیتے ہوئے کرایہ کی مکمل آمدنی برقرار رکھنے کے  اہل بناتا ہے ۔  25 جولائی 2026 تک ، بھارت ٹیکسی کے کئی شہروں میں تقریباً 8 لاکھ رجسٹرڈ ڈرائیور اور تقریباً41 لاکھ رجسٹرڈ صارف ہیں ۔  یہ پلیٹ فارم شفاف قیمتوں کا تعین ، متعدد سواری کے زمرے ، خواتین پر مرکوز نقل و حرکت کے اقدامات ، ڈیجیٹل انضمام  اور سماجی تحفظ کی مدد فراہم کرتا ہے ۔  ادارہ جاتی شراکت داری ، 2029 تک ملک گیر توسیع کی منصوبہ بندی  اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی خدمات کے ساتھ ، بھارت ٹیکسی جامع اور تعاون پر مبنی شہری نقل و حرکت کے ذریعے سہکار سے سمردھی کے وژن کو آگے بڑھاتا ہے ۔

 

باہمی تعاون کے ذریعہ شہری سفری نظام میں تبدیلی

بھارت کے شہر ایسے متنوع سفری نظام پر انحصار کرتے ہیں جو لوگوں کو روزگار کے مقامات ، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور ضروری خدمات سے جوڑے رکھتے ہیں۔ عوامی نقل و حمل شہری آمدورفت کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ نجی گاڑیاں، پیدل چلنا اور سائیکل چلانا سفر کے اضافی ذرائع فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران موبائل ایپ کے ذریعے سواری کی سہولت فراہم کرنے والی خدمات بھی اس پورے نظام کا ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔ یہ خدمات آسان اور ضرورت کے مطابق سفری سہولت کے ساتھ آخری منزل تک آمدورفت کا رابطہ فراہم کرتی ہیں، موجودہ سفری نظام کی تکمیل کرتی ہیں اور شہری بھارت کی بڑھتی ہوئی سفری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

جیسے جیسے ڈیجیٹل سفری خدمات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، انہیں زیادہ جامع، شفاف اور خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے زیادہ مفید بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی  جا رہی ہے۔ باہمی  تعاون کی وزارت، شہری آمدورفت کے شعبے میں کوآپریٹو بنیادوں پر کاروباری ماڈل کو فروغ دے کر اس مقصد کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ طریقۂ کار ٹیکنالوجی کو جمہوری ملکیت کے تصور سے ہم آہنگ کرتا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی معاشی شمولیت یقینی بنتی ہے اور مساوی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔

کوآپریٹیو نے طویل عرصے سے ہندوستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہ ادارے زراعت، قرض، بینکاری، رہائش اور خواتین کی فلاح و بہبود سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا بھر میں موجود کوآپریٹو اداروں کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ باہمی تعاون کی وزارت، کوآپریٹو اداروں کو روزگار پیدا کرنے، سماجی تحفظ فراہم کرنے اور نچلی سطح پر عوام کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کے مؤثر ذرائع کے طور پر مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی وسیع تر پالیسی کے تحت ’’بھارت ٹیکسی‘‘ ایک اہم اور نمایاں پہل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ بھارت کا پہلا باہمی تعاون سے چلنے والا سواری فراہم کرنے والا پلیٹ فارم ہے اور حکومت کے ’’سہکار سے سمردھی‘‘ یعنی ’’تعاون سے خوش حالی‘‘ کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002KWYN.jpg

 

بھارت ٹیکسی  کا قیام

بھارت ٹیکسی کو ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ-2002 کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا ۔  یہ ایکٹ ایک سے زیادہ ریاستوں میں کام کرنے والی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو کنٹرول کرتا ہے ۔  یہ رضاکارانہ تشکیل ، جمہوری کام کاج  اور ادارہ جاتی خود مختاری کو قابل بناتا ہے جبکہ اپنی مدد آپ ، باہمی تعاون  اور اراکین کی معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کو فروغ دیتا ہے ۔

بھارت ٹیکسی کو باضابطہ طور پر 6 جون 2025 کو آٹھ قومی سطح کے کوآپریٹو اداروں نے قائم کیا تھا ۔ اس کے بانی اراکین میں شامل ہیں:

  • نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی)
  • انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ (افکو)
  • نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ)
  • کرشک بھارتی کوآپریٹو لمیٹڈ (کربھکو)
  • گجرات کوآپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن لمیٹڈ (امول)
  • نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (نیفیڈ)
  • نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی)
  • نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹ لمیٹڈ (این سی ای ایل)

بنیادی طور پر اس پلیٹ فارم میں ڈرائیوروں، جنہیں ’’سارتھی‘‘ کہا جاتا ہے، کو تعاونی نظام کے تحت رکن مالکان کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد آمدنی میں شفافیت، ادارہ جاتی نمائندگی اور خدمات کے اخلاقی معیار کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جواب دہی اور مشترکہ قدر پیدا کرنے کے اصولوں پر مبنی نظام کے ذریعے مسافروں کو قابلِ اعتماد اور سستی سفری خدمات فراہم کرنا بھی اس کا مقصد ہے۔

تیزی سے پھیلتی ہوئی پلیٹ فارم معیشت کے پس منظر میں بھارت ٹیکسی نے ڈیجیٹل سفری خدمات کو تعاونی ملکیت اور ڈرائیوروں کی شمولیت کے ساتھ یکجا کیا ہے۔ یہ شہری آمدورفت کے لیے ایک نئے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تکنیکی جدت کو تعاون کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

کوآپریٹیو ملکیت ماڈل

بھارت ٹیکسی کو ایک ایسے تعاونی نظام کے تحت تشکیل دیا گیا ہے جس میں انتظام و انصرام، ملکیت اور مالی شمولیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس نظام میں ’’سارتھی‘‘ کو پلیٹ فارم کا مرکزی کردار حاصل ہے۔ انہیں صرف ڈرائیور ہی نہیں بلکہ پلیٹ فارم کے انتظام، کارکردگی اور ترقی میں شراکت دار کی حیثیت سے بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

زیرو کمیشن پر مبنی مالیاتی ماڈل

بھارت ٹیکسی صفر کمیشن اور بغیر اضافی کرایے میں اضافے کے اصول پر مبنی کرایہ نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ اسے روایتی سواری فراہم کرنے والے پلیٹ فارم کے تعاونی متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ تعاونی ادارہ رکنیت پر مبنی نظام کے تحت کام کرتا ہے، جس کے ذریعے ڈرائیور اپنی سواری سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

مسافروں سے صرف سفر کے فاصلے، وقت اور موجودہ شرح کے مطابق مقررہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ موبائل اطلاق کے ذریعے کسی اضافی سہولت فیس، پلیٹ فارم فیس یا مانگ میں اضافے کی صورت میں اضافی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا۔

بھارت ٹیکسی اسکیم کے تحت تعاونی ادارے کی آمدنی کا 20 فیصد حصہ سارتھیوں کے سرمائے کے طور پر بھارت ٹیکسی میں جمع کیا جاتا ہے۔ باقی 80 فیصد رقم سارتھیوں میں ان کی ٹیکسیوں کے ذریعے طے کیے گئے کل فاصلے، یعنی کلومیٹر کے حساب سے تقسیم کی جاتی ہے۔ 7 فیصد سروس  فیس صرف بھارت ٹیکسی کے زیرِ انتظام ہوائی اڈوں پر واقع پیشگی کرایہ وصولی مراکز پر عائد کی جاتی ہے، تاکہ انتظامی و عملی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003G3QA.jpg

 

سارتھی پارٹنرز بطور مالک

بھارت ٹیکسی اس تعاونی اصول پر قائم ہے کہ جو لوگ اپنی محنت اور خدمات کے ذریعے ادارے میں حصہ ڈالتے ہیں، انہیں ملکیت اور فیصلہ سازی میں بھی شریک ہونا چاہیے۔ یہ طریقۂ کار ’’سارتھی ہی مالک‘‘ کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت سارتھی ادارے کے انتظام و انصرام میں حصہ لے سکتے ہیں اور پلیٹ فارم کی ترقی سے حاصل ہونے والے فوائد میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ نظام فیصلہ سازی میں شفاف شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ سارتھیوں کو ملکیت کے مرکز میں رکھ کر بھارت ٹیکسی ایک ایسے منصفانہ، جامع اور شراکت دار شہری سفری نظام کے قیام کی کوشش کر رہی ہے جس میں تمام متعلقہ فریقوں کی مؤثر شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

ملکیت اور حکمرانی کے ڈھانچے کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:

  • حصص کے ذریعے ملکیت: سارتھی تعاونی ادارے کے حصص خرید کر اس کے رکن مالک بن سکتے ہیں۔ ہر حصے کی قیمت 100 روپے مقرر کی گئی ہے۔ کوئی سارتھی اگر شراکت دار بننا چاہے تو 500 روپے مالیت کے حصص خرید کر ملکیتی حقوق حاصل کر سکتا ہے۔
  • ڈرائیوروں پر مرکوز انتظام و انصرام: حصص سارتھیوں کے پاس ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ادارے کے رکن بن جاتے ہیں اور پالیسیوں کی تشکیل اور عملی فیصلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
  • قیادت میں نمائندگی: بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سارتھی ارکان کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں، تاکہ انتظام و انصرام میں ڈرائیوروں کے مفادات کی مناسب نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0042QAH.jpg

 

ملکیت، شراکت اور آمدنی کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرکے اس اقدام کا مقصد سواری فراہم کرنے والی خدمات کے لیے ایک زیادہ منصفانہ اور شراکت دار نظام تشکیل دینا ہے۔

بھارت میں تیزی سے بڑھتا ہوا دائرہ کار

25 جولائی2026 تک بھارت ٹیکسی سے تقریباً8 لاکھ سارتھی اور لگ بھگ 41 لاکھ صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ سروس دہلی-این سی آر، گجرات، لکھنؤ، چنڈی گڑھ، ممبئی، جے پور، کانپور اور پونے میں جاری ہے۔ مثال کے طور پر 25 جولائی 2026 تک جے پور میں30 ہزار سے زیادہ سارتھی اور تقریباً 7 لاکھ صارفین بھارت ٹیکسی سے منسلک ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ، آئندہ چند ماہ کے دوران رانچی، پٹنہ، گوہاٹی، بھوپال، کولکاتہ، اندور اور ناگپور میں بھی اس کی خدمات شروع کرنے کی تیاری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0057YPO.jpg

اس پلیٹ فارم کو مرحلہ وار طریقے سے بتدریج ملک کے مزید مقامات  تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ بھارت ٹیکسی کا مقصد 2029 تک ملک بھر میں اپنی موجودگی قائم کرنا ہے، تاکہ تعاونی بنیادوں پر سواری فراہم کرنے والی خدمات کو پورے ملک کے مختلف شہروں تک پہنچایا جا سکے۔

سفری خدمات کا ایک نظر میں جائزہ

بھارت ٹیکسی ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے سفری خدمات اور سماجی اقدامات کو یکجا کرتی ہے۔ یہ قابلِ اعتماد، شفاف اور سب کو یکساں طور پر دستیاب سفری خدمات کو فروغ دیتی ہے۔ اس موبائل اطلاق میں سواری کے متعدد اختیارات اور صارف دوست سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن کی مدد سے سفر کی بکنگ اور اس کا انتظام آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایسے اقدامات کی بھی حمایت کرتا ہے جو سفری شعبے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو فروغ دیتے ہیں اور خواتین مسافروں کے تحفظ کو بہتر بناتے ہیں۔

ہر سفر کے لیے سواری کےمختلف سہولیات

بھارت ٹیکسی کے موبائل اطلاق میں سفر کی مختلف ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سواری کی کئی اقسام فراہم کی گئی ہیں۔ مسافر فاصلے، آرام اور مسافروں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اقسام کی گاڑیوں میں سے اپنی ضرورت کے مطابق انتخاب کر سکتے ہیں۔

سواری کے دستیاب زمروں میں درج ذیل شامل ہیں:

  • 2 وہیلر (بائیک ٹیکسی)
  • آٹو
  • اکانومی کیب
  • پریمیم سیڈان
  • ایکس ایل کیب (ایس یو وی)
  • آؤٹ –اسٹیشن ٹریول
  • شیڈولڈ رائیڈز

یہ اختیارات صارفین کو مختصر شہری سفروں، روزمرہ آمدورفت اور طویل بین شہری سفر کے لیے سفری خدمات حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

 

بھارت ٹیکسی کے ذریعے سواری کیسے بک کریں

بھارت ٹیکسی پلیٹ فارم مسافروں کو آسان ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سواری بک کرنے اور ڈرائیوروں کو ’’سارتھی‘‘ کے طور پر رجسٹریشن کرانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ سواری بک کرنے کا طریقہ کار تیز، سادہ اور صارف دوست بنایا گیا ہے۔ موبائل اطلاق کے ذریعے بکنگ کے علاوہ، بھارت ٹیکسی منتخب ہوائی اڈوں پر پیشگی کرایہ وصولی کے مراکز بھی چلاتی ہے، جہاں براہِ راست سواری بک کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، پلیٹ فارم سے ’’سارتھی‘‘ کے طور پر منسلک ہونے کے خواہش مند ڈرائیور مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے اور رجسٹریشن کا ابتدائی عمل مکمل کرکے موبائل اطلاق یا ویب  سائٹ کے ذریعے اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006UFEQ.jpg

 

شفاف کرایہ کا نظام

یہ پلیٹ فارم شفاف کرایہ کے نظام پر عمل کرتا ہے تاکہ مسافروں کے لیے کرایے میں پیش بینی اور منصفانہ رویے کو یقینی بنایا جا سکے۔ کرایے کا تخمینہ پہلے ہی دکھا دیا جاتا ہے اور نظام میں غیر منصفانہ طور پر کرایے میں اچانک اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اس طریقۂ کار کا مقصد کرایے کے حساب میں واضح اور شفاف طریقہ برقرار رکھنا ہے، تاکہ مسافر زیادہ اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اپنے سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

نقل و حرکت کے ذریعہ خواتین کو با اختیار بنانا

بھارت ٹیکسی نے خواتین مسافروں کے تحفظ اور سہولت کو بہتر بنانے کے لیے ’’سارتھی دیدی‘‘ سہولت متعارف کرائی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین مسافر موبائل اطلاق پر ایسی سواری کا انتخاب کر سکتی ہیں جسے خاتون ڈرائیور چلا رہی ہو۔

خواتین کی سفری خدمات کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے بھارت ٹیکسی نے ’’بائیک دیدی‘‘ اقدام بھی شروع کیا ہے۔ فروری 2026 تک اس اقدام کے تحت 150 سے زیادہ خواتین ڈرائیور اس پلیٹ فارم سے منسلک ہو چکی تھیں۔ ان اقدامات کا مقصد خواتین کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا اور تعاونی سفری نظام میں ان کی شرکت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0075C37.jpg

 

محفوظ اور پرامن سفر

بھارت ٹیکسی نے اپنے پلیٹ فارم کے بنیادی نظام میں ابتدا ہی سے حفاظتی اقدامات کو شامل کیا ہے، تاکہ مسافروں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس نظام میں پولیس سے رابطے اور کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی سہولت موجود ہے، جس سے ہنگامی صورت حال میں مربوط نگرانی اور بروقت کارروائی ممکن ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ، ہر ڈرائیور کی شناخت اور کوائف کی تصدیق، وقتاً فوقتاً پس منظر کی جانچ اور حفاظتی تربیت کی جاتی ہے۔ موبائل ایپ میں سفر کی براہِ راست نگرانی، ہنگامی مدد اور ڈرائیوروں کی درجہ بندی کی سہولت بھی موجود ہے۔ حفاظتی درجہ بندی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ صرف تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ ڈرائیور ہی پلیٹ فارم پر فعال رہیں۔

شراکت داری اور ڈیجیٹل انضمام کو فروغ دینا

بھارت ٹیکسی نے اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، خدمات کے نظام اور سارتھیوں کے لیے سماجی تحفظ کی معاونت کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔ سرکاری اداروں، مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی سے متعلق شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کے ذریعے یہ پلیٹ فارم اپنی عملی کارکردگی کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ یہ شراکت داریاں سارتھیوں اور مسافروں، دونوں کے لیے سہولیات فراہم اور فائدے مند ہیں۔

ڈیجیٹل انڈیا کے تحت جدید ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگی

نیشنل ای۔گورننس ڈویژن (این ای جی ڈی) کے ساتھ مفاہمت ناموں کے تحت بھارت ٹیکسی کو ڈیجیٹل انڈیا کے دائرۂ کار میں مشاورتی اور تکنیکی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے بھارت ٹیکسی کو ڈیجی لاکر، امَنگ اور اے پی آئی سیتو جیسے قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ساتھ مربوط کیاجاسکتا ہے۔

ڈیجی لاکر

ڈیجی لاکر،الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کی ایک اہم پہل ہے۔ یہ شہریوں کو اپنے مستند ڈیجیٹل دستاویزات محفوظ رکھنے، ان کی تصدیق کرنے اور انہیں دوسروں کے ساتھ مشترک  کرنے کے لیے ایک محفوظ کلاؤڈ پر مبنی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

امنگ (یونیفائیڈ موبائل ایپلی کیشن فار نیو ایج گورننس)

امَنگ ڈیجیٹل انڈیا کے تحت ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو شہریوں کو ایک ہی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے مختلف سرکاری خدمات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مرکزی، ریاستی اور بلدیاتی  اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی متعدد خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ خدمات موبائل ایپلی کیشن (آئی او ایس، اینڈرائیڈ)، چیٹ بوٹ، وائس بوٹ اور ویب سائٹ جیسے مختلف ذرائع کے ذریعے دستیاب ہیں۔

اے پی آئی سیتو

اے پی آئی سیتو بھارت سرکار کا ایک آزادانہ اے پی آئی پلیٹ فارم ہے، جو مختلف ای۔گورننس نظاموں کے درمیان محفوظ اور باہمی مطابقت رکھنے والے انداز میں معلومات اور خدمات کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے ذریعے ڈیجیٹل خدمات کی بلاتعطل فراہمی میں مدد ملتی ہے۔

 

اس انضمام کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:

  • محفوظ ڈیجیٹل تصدیق کے ذریعے سارتھیوں کا کاغذی کارروائی سے پاک اندراج
  • قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے سرکاری خدمات تک یکجا رسائی
  • محفوظ اور باہمی مطابقت رکھنے والا ڈیجیٹل نظام
  • نقدی کے بغیر ادائیگی کے نظام کی معاونت
  • پورے پلیٹ فارم کی عملی کارکردگی میں بہتری

اہم اداروں کے ساتھ شراکت داری

بھارت ٹیکسی نے خدمات کی صلاحیتوں کو وسعت دینے اور مسافروں کی سہولت بہتر بنانے کے لیے کئی اداروں کے ساتھ معاہدے بھی کیے ہیں۔ ان شراکت داریوں کے ذریعے پلیٹ فارم کو سفری بنیادی ڈھانچے، مالیاتی خدمات اور بیمہ سے متعلق معاونت کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بڑے شراکت دار اداروں میں شامل ہیں:

  • دہلی ٹریفک پولیس
  • دہلی میٹرو ریل کارپوریشن
  • ایئرپورٹ اتھارٹی
  • آئی ایف ایف سی او ٹوکیو انشورنس
  • اسٹیٹ بینک آف انڈیا
  • پے ٹی ایم

ان شراکت داریوں کے ذریعے مختلف ادارے بھارت ٹیکسی کی خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں، جبکہ مسافروں کو سفری بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے منسلک اضافی سہولیات بھی حاصل ہوتی ہیں۔

سارتھیوں کے لیے سماجی تحفظ

بھارت ٹیکسی سے وابستہ سارتھیوں کو ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے وہ سماجی تحفظ کی متعدد سہولیات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے بعد سارتھی اور ان کے اہلِ خانہ آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی-پی ایم جے اے وائی) کے تحت 5 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کے اہل ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سرکاری صحت عامہ کی اسکیم ہے، جسے 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔

 

ای-شرم پورٹل

ای-شرم پورٹل، جو محنت و روزگار کی وزارت نے شروع کیا ہے، غیر منظم شعبے کے کارکنوں کا آدھار سے تصدیق شدہ اور منسلک قومی ڈیٹا بیس تیار کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ان کارکنوں تک سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کے فوائد ہدف بند انداز میں پہنچانے میں مدد  ملتی ہے۔

 

اضافی فلاحی اقدامات میں شامل ہیں:

  • معمولی شرح پر آئی ایف ایف سی او ٹوکیو کے ذریعے5 لاکھ روپے کا ذاتی حادثاتی بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔
  • ڈرائیوروں کی طویل مدتی فلاح و بہبود اور بیمہ سے متعلق حل کے لیے مشاورتی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
  • پے ٹی ایم کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ڈرائیوروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے اجتماعی صحت بیمہ کی سہولت فراہم کرنے میں معاونت کی جاتی ہے۔

 

ہوائی اڈوں سے سفری رابطہ

بھارت ٹیکسی نے دہلی ٹورزم اینڈ ٹرانسپورٹیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور دہلی ایئرپورٹ پارکنگ سروسز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت اس کی سفید ٹیکسی خدمات کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مختلف ٹرمینلوں پر متعدد پارکنگ مقامات سے چلانے کی اجازت حاصل ہوگی۔ یہ انتظام بھارت ٹیکسی کی کالی پیلی ٹیکسی خدمات کی تکمیل کرتا ہے اور توقع ہے کہ اس سے ہوائی اڈے پر سواری گاڑیوں کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔

تعاون کی بنیاد پر شہری آمد و رفت کا نیا سفر

بھارت ٹیکسی بھارت کے شہری سفری شعبے میں تعاونی بنیادوں پر ایک اہم اور نمایاں اختراع کی نمائندگی کرتی ہے۔ ڈرائیوروں کی ملکیت پر قائم یہ پلیٹ فارم سارتھیوں کو انتظام و انصرام، آمدنی اور خدمات کی فراہمی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ تعاونی نظام کے ذریعے مسافروں کو شفاف، قابلِ اعتماد اور سستی سفری خدمات فراہم کرتا ہے۔

قومی تعاونی اداروں اور عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی معاونت سے بھارت ٹیکسی نے ٹیکنالوجی کو سماجی تحفظ کی سہولیات کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ شراکت داریوں اور خواتین پر مرکوز اقدامات کے ذریعے یہ جامع اور سب کے لیے قابلِ رسائی سفری نظام کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اہم شہروں میں خدمات پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں، جبکہ بھارت ٹیکسی نے 2029 تک مرحلہ وار ملک گیر توسیع کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت کے ڈیجیٹل سفری نظام میں تعاونی شرکت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ حکومت کے وسیع تر تصور ’’سہکار سے سمردھی‘‘ یعنی ’’تعاون سے خوش حالی‘‘ کو آگے بڑھاتا ہے۔

 

حوالہ جات

باہمی تعاون کی وزارت


https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225907

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2214633

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2231721

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223166

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224048

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2278302&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289491&reg=48&lang=1

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)

https://www.digilocker.gov.in/

https://web.umang.gov.in/

https://web.umang.gov.in/landing/

https://www.apisetu.gov.in/

محنت و روزگار کی وزارت

https://eshram.gov.in/

بھارت ٹیکسی

https://bharattaxiapp.com/

https://bharattaxiapp.com/products/

https://bharattaxiapp.com/coop-model/

https://bharattaxiapp.com/faq/

پی آئی بی بیک گراؤنڈرس

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215759&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150721&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2185049&reg=3&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

********

 ش ح ۔ت ف ۔ش ت

U.No. 2521


(ریلیز آئی ڈی: 2302865) وزیٹر کاؤنٹر : 13