PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ


اکثر پوچھے جانے والے سوالات(ایف اے کیو ایس)

प्रविष्टि तिथि: 21 AUG 2026 4:25PM by PIB Delhi

پروجیکٹ کے بارے میں

1۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کیا ہے؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) آبی وسائل کا ایک بڑا ترقیاتی پروجیکٹ ہے، جس کا مقصد مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے بندیل کھنڈ خطے میں طویل عرصے سے موجود پانی کی قلت اور آبپاشی کے مسائل کو حل کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت کین بیسن سے بیتوا بیسن تک پانی منتقل کیا جائے گا۔ اس کے لیے داؤدھن ڈیم، لنک کینال اور دیگر متعلقہ تعمیرات شامل ہیں۔ کے پی ایل پی، قومی دریاؤں کو باہم جوڑنے کےتحت عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہونے والا پہلا ترجیحی پروجیکٹ ہے۔

2۔ پروجیکٹ کا خاکہ کیا ہے؟

اس پروجیکٹ میں کین دریا سے بیتوا دریا تک پانی منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مدھیہ پردیش کے پنا اور چھترپور اضلاع میں، کھجوراہو سے تقریباً 40 کلومیٹر دور، کین دریا پر 96.7 میٹر بلند داؤدھن ڈیم تعمیر کیا جائے گا۔داؤدھن ڈیم کے قریب سے 216.465 کلومیٹر طویل کین-بیتوا لنک کینال نکالی جائے گی، جو جھانسی کے قریب باروا ساگر میں جا کر ملے گی۔پروجیکٹ کے دیگر اہم اجزا میں لوئر اور پروجیکٹ ،کوٹھا بیراج  اوربینا کمپلیکس ملٹی پرپز پروجیکٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں کی جانب سے مختلف آبپاشی اور آبی بنیادی ڈھانچے کے کام بھی کیے جائیں گے۔ ان میں موجودہ نہری نظام کی جدید کاری اور مضبوطی، تالابوں اور وئیروں کی مرمت و بحالی، بیراجوں کی تعمیر، پمپنگ اور پریشرائزڈ پائپ/مائیکرو آبپاشی نظام کی ترقی، موجودہ کمانڈ اعلاقوں  کو مستحکم کرنا، نئے کمانڈعلاقوں  کی ترقی، اور متعلقہ پانی کی فراہمی و آبپاشی پروجیکٹوں کا نفاذ شامل ہے۔

3۔ پروجیکٹ کی کل لاگت کتنی ہے؟

اس منصوبے کی کل لاگت 44,605 کروڑ روپے ہے۔

4۔ اس پروجیکٹ کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد 25 دسمبر 2024 کو معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے رکھا تھا۔اس وقت داؤدھن ڈیم کی تعمیر جاری ہے، جبکہ لنک کینال پر کام ابھی شروع ہونا باقی ہے۔ لوئر اور پروجیکٹ، کوٹھا بیراج اور بینا کمپلیکس ملٹی پرپز پروجیکٹ بھی زیرتعمیر ہیں۔مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے دیگر ریاستی سطح کے پروجیکٹوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر)کی تیاری بھی حتمی مرحلے میں ہے۔اس پروجیکٹ کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔

5۔ اس پروجیکٹ کی ضرورت کیوں ہے؟

بُندیل کھنڈ کے خطے کو تاریخی طور پر بار بار پانی کی قلت، بارش پر انحصار، آبپاشی کی ناکافی سہولیات، کئی علاقوں میں زیرزمین پانی کی سطح میں کمی اور خشک سالی کے باعث زرعی سرگرمیوں کو لاحق خطرات کا سامنا رہا ہے۔

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے زیادہ قابل اعتماد پانی دستیاب ہو، ساتھ ہی قابل تجدید توانائی پیدا کی جائے اور خطے کی مجموعی ترقی کو فروغ دیا جائے۔لہٰذا یہ پروجیکٹ محض آبپاشی کا منصوبہ نہیں بلکہ بندیل کھنڈ کے لیے ایک جامع آبی تحفظ اور علاقائی ترقی کا منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے۔

6۔ اس پروجیکٹ کے اہم فوائد کیا ہیں؟

اس پروجیکٹ  کے ذریعے 10.62 لاکھ ہیکٹیئر رقبے کو آبپاشی کی سہولت فراہم کی جائے گی، تقریباً 62 لاکھ افراد کو پینے کا پانی دستیاب کرایا جائے گا، جبکہ 103 میگاواٹ پن بجلی اور 27 میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کی جائے گی۔ اس طرح یہ پروجیکٹ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے وسیع زرعی علاقوں میں صاف پینے کا پانی، بجلی اور سال بھر قابل اعتماد آبپاشی کی سہولت فراہم کرے گا اور بُندیل کھنڈ کے خطے میں طویل عرصے سے جاری پانی کے بحران کو مستقل طور پر حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

7۔ اس منصوبے سے کن علاقوں کو فائدہ ہوگا؟

یہ منصوبہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں پھیلے پانی کی قلت سے دوچار بُندیل کھنڈ کے خطے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ اس کے تحت مدھیہ پردیش کے چھترپور، نیواری، ٹیکم گڑھ، پنا، ساگر، دموہ، دتیا، ودیشا، شیوپوری اور رائسین جبکہ اتر پردیش کے باندا، مہوبا، جھانسی اور للت پور اضلاع کو فائدہ پہنچے گا۔

8۔ کیا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ مقامی علاقے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا؟

جی ہاں۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ مقامی علاقے میں، خصوصاً جاری تعمیراتی مرحلے کے دوران، روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ تعمیرات، انجینئرنگ، نقل و حمل، تعمیراتی سامان کی فراہمی، مشینری چلانے، سیکیورٹی، خدمات اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں میں روزگار پیدا ہو رہا ہے۔ مقامی دکان دار، ٹرانسپورٹرز، سپلائرز اور خدمات فراہم کرنے والے افراد بھی بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ طویل مدت میں بہتر آبپاشی اور پانی کی دستیابی سے زراعت اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جس سے خطے میں مزید روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا ہوں گے۔

9۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ بندیل کھنڈ میں زراعت کو کیسے بہتر بنائے گا؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ زیادہ قابل اعتماد آبپاشی کا پانی فراہم کرے گا، جس سے کسانوں کا غیر یقینی بارش پر انحصار کم ہوگا اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر سکیں گے۔ آبپاشی کے پانی کی بہتر دستیابی سے فصلوں کی کاشت کی شدت اور پیداوار میں اضافہ، مختلف اقسام کی فصلوں اور زیادہ منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ، خشک سالی کے خطرات میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری کی توقع ہے۔ اس طرح یہ پروجیکٹ بندیل کھنڈ کے دیہی علاقوں میں زرعی معیشت اور لوگوں کے ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

10۔ کیا کے بی ایل پی بندیل کھنڈ میں خشک سالی کا خاتمہ کر دے گا؟

یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ یہ پروجیکٹ خشک سالی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دے گا۔

اس کے بجائے، کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) کا مقصد اپنے کمانڈ اور مستفید علاقوں میں قابل اعتماد آبپاشی اور پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرکے پانی کے تحفظ اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے۔

 

 11۔ کیا زیرزمین پانی کی سطح میں بہتری آئے گی؟

آبپاشی اور دیگر ضروریات کے لیے سطحی پانی کی دستیابی سے موزوں علاقوں میں زیرزمین پانی پر حد سے زیادہ انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں لنک نہر کے ساتھ واقع تالابوں کی بحالی اور ان میں پانی پہنچانے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے، جہاں تکنیکی طور پر یہ ممکن ہو۔ اس سے زیرزمین پانی کی سطح میں اضافے اور مقامی سطح پر پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیرزمین پانی کی صورتحال میں حقیقی بہتری کا انحصار مقامی ارضیاتی و آبی حالات اور زیرزمین پانی کے پائیدار استعمال کے طریقوں پر ہوگا۔

12۔ اس ترقی سے وسیع تر خطے کو کس طرح فائدہ ہوگا؟

خشک سالی سے فصلوں کو تحفظ ملنے کے باعث زرعی پیداوار میں اضافہ، نقصانات میں کمی اور کسان خاندانوں کی آمدنی میں بہتری متوقع ہے۔ بہتر بنیادی سہولیات اور نقل و حمل کے رابطوں سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پوری مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔اس پروجیکٹ سے زرعی سرگرمیوں میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور مجبوری کے باعث ہونے والی نقل مکانی میں کمی کے ذریعے اس پسماندہ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ بہتر بنیادی ڈھانچہ نئے اسکولوں، صحت مراکز، تجارتی منڈیوں اور زرعی صنعتوں کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گا، جس سے یہ خطہ بتدریج زیادہ خوشحال بن سکتا ہے۔

13۔ کیا زیریں علاقوں کے گاؤں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا؟

نہیں۔ زیریں علاقوں میں زرعی سرگرمیوں، پینے کے پانی کی ضروریات اور آبی ماحولیاتی نظام پر کوئی منفی اثر نہ پڑے، اس کے لیے پورے سال کم از کم مطلوبہ ماحولیاتی بہاؤ کو مسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ اسی طرح، خطے میں تیار کیا جانے والا آبی بنیادی ڈھانچہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

 

 14۔ شدید مون سون کے دوران سیلاب کے خطرات سے کیسے نمٹا جائے گا؟

ڈیم سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حفاظتی ڈھال کا کام کرے گا۔ اس کے خودکار اسپل وے گیٹ اور چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول رومز پانی کی آمد کی مسلسل نگرانی کریں گے تاکہ نشیبی علاقوں کے دیہات میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔

 

15۔ کیا کےبی ایل پی کے فوائد اس کے اثرات سے زیادہ ہیں؟

اس پروجیکٹ کا مقررہ تکنیکی، معاشی، ماحولیاتی اور سماجی جائزے کے عمل کے ذریعے مکمل طور پر جائزہ لیا گیا ہے۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) کا مقصد آبپاشی، پینے کے پانی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر فوائد فراہم کرنا ہے، جبکہ ناگزیر اثرات سے نمٹنے کے لیے تلافی، تخفیف اور بازآبادکاری و بحالی کے اقدامات بھی نافذ کیے جائیں گے۔

اس لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ پروجیکٹ کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں کم سے کم کیا جائے، ان کے اثرات کو محدود کیا جائے، مناسب معاوضہ دیا جائے اور ذمہ داری کے ساتھ ان کا انتظام کیا جائے، جبکہ پروجیکٹ سے حاصل ہونے والے عوامی فوائد کو یقینی بنایا جائے۔

16۔ کیا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ صرف کسانوں کے لیے فائدہ مند ہے؟

نہیں۔ کین-یتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) کے فوائد صرف کسانوں کے لیے آبپاشی کی سہولیات تک محدود نہیں ہیں۔ یہ پروجیکٹ آبپاشی کی سہولیات کے ذریعے کسانوں کو فائدہ پہنچائے گا، جبکہ دیہی اور شہری آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی، توانائی کے شعبے کو پن بجلی کی پیداوار، اور مقامی آبادی کو روزگار، بنیادی ڈھانچے اور بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے فائدہ پہنچے گا۔ مجموعی طور پر یہ پروجیکٹ بندیل کھنڈ خطے میں آبی تحفظ، زرعی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

17۔ کیا کے بی ایل پی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا؟

بڑے آبی بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کے لیے رسائی کی سڑکوں، پلوں، رابطہ سڑکوں اور دیگر متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بہتری ضروری ہوتی ہے۔ جہاں ایسے بنیادی ڈھانچے کو پروجیکٹ کے حصے کے طور پر تعمیر یا بہتر بنایا جائے گا، وہاں اس سے قریبی علاقوں کے درمیان رابطہ اور آمد و رفت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

18۔ کیا پروجیکٹ کے تحت بننے والی سڑکوں سے مقامی آبادی کو فائدہ ہوگا؟

جی ہاں۔ پروجیکٹ سے متعلق سڑکیں اور رابطے کا بنیادی ڈھانچہ آس پاس کی آبادی اور عام لوگوں کو بالواسطہ فوائد فراہم کرے گا۔ اس سے زرعی پیداوار کی نقل و حمل، منڈیوں تک رسائی، اسکولوں اور صحت کی سہولیات تک پہنچ، تعمیراتی اور معاشی سرگرمیوں، لوگوں اور سامان کی آمد و رفت، اور پروجیکٹ سے متعلق سہولیات تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔

  • زرعی پیداوار کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔

  • منڈیوں تک رسائی بہتر ہوگی۔

  • اسکولوں اور صحت کی سہولیات تک رسائی آسان ہوگی۔

  • تعمیراتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

  • لوگوں اور سامان کی آمد و رفت میں سہولت ہوگی۔

  • منصوبے سے متعلق سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی۔

19۔ کیا کےبی ایل پی برا راست کوئی نیا ٹرانسپورٹ کوریڈور تیار کرے گا؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ بنیادی طور پر آبی وسائل اور توانائی کا پروجیکٹ ہے۔ اس لیے نقل و حمل سے متعلق فوائد کو پروجیکٹ سے وابستہ سڑکوں، پلوں اور بہتر رابطہ کاری کے حوالے سے بیان کیا جانا چاہیے۔ کےبی ایل پی کو ایک باقاعدہ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے، جب تک کسی مخصوص ٹرانسپورٹ سہولت کو باضابطہ طور پر پروجیکٹ کے حصے کے طور پر منظور نہ کیا گیا ہو۔

20۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) میں پینے کے پانی کی فراہمی کو ایک اہم جزو کیوں قرار دیا گیا ہے؟

پینے کے پانی کی فراہمی کےبی ایل پی کا ایک اہم جزو ہے، کیونکہ آبی تحفظ صرف زراعت کے لیے ہی نہیں بلکہ دیہی اور شہری آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے بھی ضروری ہے۔ قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی دستیابی سے صحتِ عامہ، صفائی ستھرائی اور گھریلو تحفظ میں بہتری آتی ہے۔ اس سے خاندانوں، خصوصاً خواتین، کو پانی جمع کرنے میں صرف ہونے والے وقت میں کمی آتی ہے اور تعلیم، ذریعۂ معاش اور مجموعی معیارِ زندگی کو بھی سہارا ملتا ہے۔ اس طرح کےبی ایل پی کے فوائد صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ انسانی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود سے بھی وابستہ ہیں۔

زمین ، گاؤں اور متاثرہ افراد

 21۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی )کے لیے زمین کی ضرورت کیوں ہے؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے مختلف مستقل اور عارضی حصوں کی تعمیر اور ترقی کے لیے زمین درکار ہے۔ اس میں داؤدھن ڈیم اور اس سے متعلقہ تعمیرات، آبی ذخیرے اور زیرِ آب آنے والا علاقہ، کین-بیتوا لنک کینال، پاور ہاؤسز، رسائی کی سڑکیں، منصوبے سے متعلق بنیادی ڈھانچہ، رہائشی کالونیاں، تعمیراتی سہولیات اور پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے ضروری دیگر متعلقہ کام شامل ہیں۔

22۔ مدھیہ پردیش میں اس پروجیکٹ سے کتنے گاؤں متاثر ہوں گے؟

اس پروجیکٹ سے مدھیہ پردیش میں 22 گاؤں متاثر ہوں گے، جن میں 8 گاؤں ضلع پنا اور 14 گاؤں ضلع چھترپور میں ہیں۔

23۔ کیا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے لیے عوامی سماعت کی گئی تھی؟

جی ہاں۔ کین- جی ہاں۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کے عمل کے تحت ماحولیاتی اثرات کے جائزے سے متعلق 2006 کے نوٹیفکیشن کی دفعات کے مطابق عوامی سماعتیں منعقد کی گئی تھیں۔ عوامی سماعت کے دوران مقامی لوگوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات اور پیش کردہ تجاویز کو منصوبے کے ماحولیاتی جائزے اور منفی اثرات کو کم کرنے کے اقدامات کو حتمی شکل دیتے وقت مدنظر رکھا گیا تھا۔

24۔ کیا لوگوں کی رضامندی کے بغیر زمین حاصل کی جا رہی ہے؟

نہیں۔ زمین کا حصول منصفانہ معاوضہ اور شفافیت کے حق سے متعلق قانون، 2013 (ایل اے آر آر ایکٹ 2013) اور مدھیہ پردیش حکومت پر لاگو دیگر ریاستی قوانین کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ قانون کے تحت ضروری رضامندیاں حاصل کی گئی ہیں اور اسی کے مطابق بازآبادکاری کا منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مدھیہ پردیش حکومت نے بازآبادکاری اور بحالی کا ایک جامع پیکیج منظور کیا ہے، جس کے تحت بازآبادکاری اور بحالی سے متعلق تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بازآبادکاری کا منصوبہ متاثرہ افراد کی رضامندی پر مبنی ہے، اور تمام متاثرہ خاندانوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عام اراضی حصول قانون کے تحت معاوضہ حاصل کریں یا اس کے مقابلے میں زیادہ مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج کا انتخاب کریں۔

25۔ زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعات کو کیسے حل کیا جائے گا؟

زمین کی ملکیت اور حقوق سے متعلق معاملات کی دیکھ بھال ضلع کلکٹر کی سربراہی میں مجاز محصولات اور اراضی حصولی حکام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ جہاں زمین کے حقِ ملکیت، وراثت، ملکیت یا استحقاق سے متعلق کوئی تنازع ہو، وہاں متعلقہ معاملے کو نافذ قوانین اور مروجہ انتظامی و عدالتی طریقۂ کار کے مطابق نمٹایا جاتا ہے۔

معاوضہ اور خصوصی بازآبادکاری پیکیج

26۔ کیا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے تحت بازآبادکاری اور بحالی کے لیے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے کوئی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے؟

جی ہاں، مدھیہ پردیش حکومت نے 2023 میں منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور بحالی کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس خصوصی پیکیج کے تحت حاصل کی جانے والی زمین کا معاوضہ قانون کے تحت مقررہ شرح یا 12.50 لاکھ روپے فی ہیکٹیئر، دونوں میں سے جو زیادہ ہو، اس شرح سے ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مکانات، درختوں، کنوؤں، ٹیوب ویلوں اور دیگر غیر منقولہ اثاثوں کا معاوضہ بھی قانون کے تحت مقررہ طریقے سے دیا جاتا ہے۔اہل خاندانوں کو دیہی علاقوں میں رہائشی پلاٹ کے لیے 7 لاکھ روپے اور شہری علاقوں میں 6.50 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جا رہی ہے، یا اگر خاندان پلاٹ لینے کا انتخاب نہ کرے تو 12.50 لاکھ روپے کی یکمشت مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے اہل خاندانوں کو، جو مخصوص درج فہرست علاقوں میں رہتے ہیں، منظور شدہ پیکیج کے تحت اضافی مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

 

27۔ اراضی حصول، بازآبادکاری اور بحالی ایکٹ، 2013 کے تحت بازآبادکاری اور بحالی کی امداد حاصل کرنے کے لیے کن افراد یا خاندانوں کو پروجیکٹ سے متاثرہ خاندان (پی اے ایف) تصور کیا جاتا ہے؟

پروجیکٹ سے متاثرہ خاندان سے مراد ایسا خاندان ہے جس کی زمین، مکان، جائیداد، جنگلاتی حقوق یا ذریعۂ معاش کا بنیادی وسیلہ پروجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول کے باعث متاثر ہوا ہو۔

اس میں شامل ہیں:

· ایسے زمین مالکان جن کی زمین حاصل کی گئی ہو؛

· ایسے افراد جن کا ذریعۂ معاش زمین کے حصول کے باعث متاثر ہوا ہو؛

· ایسے کرایہ دار، زرعی مزدور اور بٹائی دار جن کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہو؛

· درج فہرست قبائل اور روایتی جنگلاتی باشندے جن کے تسلیم شدہ جنگلاتی حقوق متاثر ہوئے ہوں؛ اور

· دیگر اہل خاندان جو منصفانہ معاوضہ اور شفافیت کے حق سے متعلق اراضی حصول، بازآبادکاری اور بحالی ایکٹ، 2013 کی دفعہ 3(ج) کے تحت آتے ہوں۔

ایسے خاندان قانون اور قابل اطلاق قواعد کے تحت فراہم کردہ بازآبادکاری اور بحالی (آر اینڈ آر) کے فوائد حاصل کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

 

28۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ میں بازآبادکاری اور بحالی کے فوائد کے لیے خاندانی اکائی کا شمار کس طرح کیا جاتا ہے؟

اراضی حصول، بازآبادکاری اور بحالی ایکٹ، 2013 کی دفعہ 3(م) کے مطابق خاندان میں متعلقہ شخص، اس کا شوہر یا بیوی، نابالغ بچے اور زیرِ کفالت نابالغ بھائی اور بہنیں شامل ہوتے ہیں۔

بازآبادکاری اور بحالی کے فوائد کے لیے درج ذیل کو الگ الگ خاندانی اکائی تصور کیا جاتا ہے:

  • بالغ بیٹے یا بیٹیاں (18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے)، خواہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔

  • بیوائیں، مطلقہ خواتین اور وہ خواتین جنہیں ان کے خاندان نے چھوڑ دیا ہو، الگ الگ خاندان تصور کی جاتی ہیں۔

اس طرح، کے بی ایل پی  میں پروجیکٹ  سے متاثرہ خاندانوں کی تعداد اراضی حصول، بازآبادکاری اور بحالی ایکٹ، 2013 کے مطابق اہل خاندانی اکائیوں کی نشاندہی کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے، جس کے لیے متاثرہ خاندانوں کا سروے اور تصدیقی عمل انجام دیا جاتا ہے۔

29۔ ان خاندانوں کے لیے کے بی ایل پی کے تحت کیا مدد دستیاب ہے جو زمین کے مالک نہیں ہیں لیکن منصوبے کی وجہ سے ان کا ذریعۂ معاش متاثر ہوا ہے؟

ایل اے آر آر ایکٹ، 2013 کے تحت بازآبادکاری اور بحالی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے صرف زمین کا مالک ہونا ہی واحد معیار نہیں ہے۔ ایسے اہل بے زمین خاندان بھی، جن کے ذریعۂ معاش کا بنیادی وسیلہ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے باعث متاثر ہوا ہے، ایکٹ اور ریاستی حکومت کی قابل اطلاق دفعات کے تحت مقررہ اہلیت کی شرائط پوری کرنے کی صورت میں پروجیکٹ سے متاثرہ خاندان (پی اے ایف) تصور کیے گئے ہیں۔

ایسے اہل خاندانوں کو کے بی ایل پی کی منظور شدہ آر اینڈ آر دفعات کے تحت قابل اطلاق آر اینڈ آر فوائد فراہم کیے جاتے ہیں ۔

 

 30۔ منتقلی کے بعد لوگوں کو اپنا ذریعۂ معاش دوبارہ قائم کرنے میں کس طرح مدد دی جاتی ہے؟

مختلف اسکیموں کے تحت متاثرہ خاندانوں کے لیے خصوصی ذریعۂ معاش کی بحالی کے پروگرام فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں میں پیشہ ورانہ اور ہنر مندی کی تربیت، خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی )کے لیے مالی گرانٹس، چھوٹے کاروبار کے لیے مدد اور پروجیکٹ کے آپریشنز میں ترجیحی بنیاد پر روزگار کی فراہمی شامل ہے۔

31۔ لوگوں کو اپنی زمین کا کتنا معاوضہ ملتا ہے؟

متاثرہ خاندانوں کو اراضی حصول کے قانون کے تحت مقررہ شرح یا مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی پیکیج کے مطابق 12.50 لاکھ روپے فی ہیکٹیئر، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہو، ادا کی جاتی ہے۔

 

 32۔ زمین پر موجود مکانات، درختوں اور کنوؤں کا کیا ہوگا؟

مکانات، درختوں، کنوؤں، ٹیوب ویلوں اور دیگر مستقل اثاثوں کا بھی قانون کے مطابق حساب لگا کر معاوضہ دیا جاتا ہے۔

33۔ اگر کوئی خاندان صرف نقد رقم کے بجائے نیا رہائشی پلاٹ چاہتا ہو تو کیا ہوگا؟

اہل خاندانوں کو دیہی علاقوں میں رہائشی پلاٹ کے لیے 7 لاکھ روپے اور شہری علاقوں میں 6.50 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جا سکتی ہے۔

 

 34۔ اگر کوئی خاندان پلاٹ بالکل نہیں لینا چاہتا تو کیا ہوگا؟

ایسی صورت میں وہ اس کے بجائے فی خاندان 12.50 لاکھ روپے کی یکمشت مالی امداد حاصل کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

 

35۔ کیا درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے اضافی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے؟

جی ہاں۔ درج فہرست علاقوں میں رہنے والے اہل درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو معمول کے پیکیج کے علاوہ اضافی مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

36۔ اس خصوصی پیکیج کی منظوری کس نے دی؟

مدھیہ پردیش حکومت نے 13 ستمبر 2023 کو اس خصوصی پیکیج کی منظوری دی تھی۔ اس سے قبل ریاستی کابینہ نے 9 ستمبر 2023 کو اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔

37۔ اب تک کتنا معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے؟

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 360.66 کروڑ روپے کے معاوضے کے ایوارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 321.97 کروڑ روپے، یعنی لگ بھگ 89 فیصد رقم، خاندانوں کو پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے۔ صرف گاؤں کی آبادی والے علاقوں میں ہی منظور شدہ رقم کا 94 فیصد سے زیادہ حصہ تقسیم کیا جا چکا ہے۔

 

38۔  پورے پروجیکٹ کے لیے مجموعی معاوضے کے اعداد و شمار کیا ہیں؟

پورے منصوبے میں 5,039 متاثرہ خاندانوں کے لیے تقریباً 629.87 کروڑ روپے کے معاوضے کے ایوارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 604.745 کروڑ روپے، یعنی لگ بھگ 96 فیصد رقم، پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے۔ باقی رقم ضروری قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔

 

39۔ زمین کے معاوضے کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے اور ادائیگی کیسے کی جاتی ہے؟

معاوضے کا حساب سرکاری طور پر مقرر کردہ مارکیٹ ریٹ اور قانون کے تحت فراہم کردہ بحالی و آبادکاری کے الاؤنسز کی بنیاد پر شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ ادائیگی براہ راست تصدیق شدہ زمین مالکان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی ہے، تاکہ درمیانی افراد کے کردار اور غیر ضروری تاخیر کو روکا جا سکے۔

40۔ کیا صحت اور تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

جی ہاں۔ جاری فلاحی پروگراموں کے تحت باقاعدگی سے مفت طبی معائنہ کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں، موبائل طبی گاڑیوں کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور طلبہ کو وظائف بھی دیے جا رہے ہیں۔

 

41۔ کے بی ایل پی اے کا متاثرہ خاندانوں کے تئیں کیا نقطۂ نظر ہے؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی (کے بی ایل پی اے) اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اراضی کے حصول سے صرف زمین اور جائیداد ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ متاثرہ خاندانوں کی زندگی اور ذریعۂ معاش بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے کے بی ایل پی اے کی توجہ بروقت معاوضے کی ادائیگی، بازآبادکاری اور بحالی، ذریعۂ معاش کے لیے معاونت، ضرورت کے مطابق منتقلی، بازآبادکاری کی جگہوں پر بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی، متاثرہ افراد سے مشاورت اور شکایات کے ازالے پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بازآبادکاری اور بحالی کے پورے عمل کے دوران منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ منصفانہ، شفاف اور باوقار طریقے سے برتاؤ کیا جائے۔

42۔ کیا متاثرہ زمین مالکان کو معاوضہ ملے گا؟

جی ہاں، اہل زمین مالکان اور زمین پر تسلیم شدہ حقوق یا مفادات رکھنے والے دیگر افراد کو قابل اطلاق قانونی ضوابط کے مطابق معاوضہ اور دیگر قابل قبول فوائد حاصل کرنے کا حق ہے۔

معاوضے کے عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متاثرہ افراد کو وہ تمام فوائد حاصل ہوں جن کے وہ قانون کے تحت حقدار ہیں۔

 

اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی بھی چھوٹ نہ جائے

 

43۔ اگر کسی شخص کا نام معاوضے کی فہرست میں شامل نہ ہو تو کیا ہوگا؟

متاثرہ خاندانوں کی درخواست پر ضلع انتظامیہ نے چھترپور اور پنا کے متاثرہ گاوں  میں دوبارہ سروے کرایا ہے۔ جن افراد کے نام پہلے فہرست میں شامل نہیں ہو سکے تھے، ان کے نام اب معاوضے کے ایوارڈز میں شامل کیے جا چکے ہیں۔

44۔ اس عمل کے منصفانہ اور درست رہنے کی نگرانی کون کرتا ہے؟

ضلع انتظامیہ زمین کے ریکارڈ کا مسلسل جائزہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ، اراضی کے حصول سے متعلق قانون کے تحت قائم قومی نگرانی کمیٹی پورے بازآبادکاری کے عمل کی نگرانی کرتی ہے۔

45۔ خاندانوں کو دستاویزات اور کاغذی کارروائی میں کون مدد فراہم کرتا ہے؟

مخصوص فیلڈ سہولت افسران ہر ہفتے دیہات کا دورہ کرتے ہیں اور خاندانوں کو ان کے استحقاق کی تصدیق، بینکاری سے متعلق کاغذی کارروائی اور درخواستیں جمع کرانے میں بلا معاوضہ مدد فراہم کرتے ہیں۔

46۔ کیا متاثرہ خاندان اب بھی اپنی شکایات یا مسائل اٹھا سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ شکایات باقاعدگی سے موصول کی جاتی ہیں اور ان کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، انتظامیہ نے متاثرہ دیہات میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی شکایات سننے اور ان کے حل کے لیے خصوصی کیمپ بھی منعقد کیے ہیں۔

 

47۔ پروجیکٹ سے متاثرہ لوگوں کے لیے کےبی ایل پی اے کا کیا پیغام ہے؟

کے بی ایل پی اےکا پیغام واضح ہے کہ بُندیل کھنڈ کی ترقی پروجیکٹ سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنی چاہیے۔ کے بی ایل پی اے متعلقہ ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور متاثرہ برادریوں کے ساتھ مل کر قابل اطلاق قوانین، منظور شدہ پروجیکٹوں  اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اراضی کے حصول، بازآبادکاری و بحالی اور ماحولیاتی اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس کا مقصد پروجیکٹ کے منصفانہ، شفاف اور ذمہ دارانہ نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔

متاثرہ اور بے گھر خاندانوں کے لیے مدد

48۔ کیا بے گھر ہونے والے خاندانوں کے بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے؟

جی ہاں۔ کوشش کی جاتی ہے کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے بچوں کا داخلہ اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں کرایا جائے، تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو اور تعلیمی سلسلہ جاری رہے۔

49۔ کیا بے گھر ہونے والے خاندانوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں؟

جی ہاں۔ طبی کیمپ منعقد کیے گئے ہیں، جہاں لوگوں کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ادویات تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کے ہینڈ پمپس کی مرمت بھی کی جاتی ہے۔

50۔ کیا بے گھر ہونے والے خاندانوں کو حکومت کی دیگر فلاحی اسکیموں تک بھی رسائی حاصل ہوتی ہے؟

جی ہاں۔ خصوصی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ متاثرہ خاندان حکومت کی دیگر فلاحی اسکیموں سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ ان میں مویشی پروری، سماجی تحفظ اور خواتین و بچیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیمیں شامل ہیں۔

51۔ کیا منتقلی کے بعد بھی حکومت بے گھر ہونے والے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے؟

جی ہاں، بے گھر ہونے والے خاندانوں سے باقاعدگی سے رابطہ برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ کسی بھی مشکل کی بروقت نشاندہی کی جا سکے اور ان کی شکایات کا منصفانہ اور فوری ازالہ کیا جا سکے۔

قبائلی اور جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے حقوق

52۔ کیا اس پروجیکٹ میں قبائلی برادریوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے؟

جی ہاں۔ درج فہرست قبائل اور جنگلات پر انحصار کرنے والی دیگر برادریوں کے حقوق کو جنگلاتی حقوق ایکٹ، 2006 کے تحت جنگلاتی حقوق کی قانونی طور پر شناخت اور ان کے تصفیے کے مقررہ عمل کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

 

53۔ کیا جنگلات کی منظوری سے قبل مقامی برادریوں کی رضامندی حاصل کی گئی تھی؟

متعلقہ ضلعی کلکٹروں نے درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں (جنگلاتی حقوق کی شناخت) ایکٹ، 2006 کے تحت مقررہ تقاضوں کے مطابق متعلقہ گرام سبھاؤں کی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی حاصل کرنے کا عمل شروع کیا۔ اسی بنیاد پر اور قابل اطلاق قانونی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے 3 اکتوبر 2023 کو پروجیکٹ کے لیے جنگلاتی منظوری دی۔

ماحولیاتی اور قانونی منظوری

54۔ کیا پروجیکٹ کو حکومت کی تمام مطلوبہ منظوری مل چکی ہے؟

جی ہاں۔ اس پروجیکٹ کو قانون کے تحت درکار تمام قانونی منظوری حاصل ہو چکی ہیں، جن میں ماحولیاتی منظوری (2017)، جنگلی حیات سے متعلق منظوری (2016)، قبائلی امور کی وزارت سے منظوری (2017) اور جنگلاتی منظوری (2023) شامل ہیں۔

 

55۔ کیا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے؟

بڑے آبی وسائل کے کسی بھی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی طرح کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے بھی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے، جن کا محتاط جائزہ لینا اور مؤثر طریقے سے انتظام کرنا ضروری ہے۔

 

اسی لیے اس پروجیکٹ میں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اور ماحولیاتی انتظامی منصوبہ (ای ایم پی) شامل کیا گیا ہے، جبکہ ماحولیاتی، جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق قابل اطلاق تقاضوں کی بھی مکمل پابندی کی جا رہی ہے۔

اس پروجیکٹ کا بنیادی نقطۂ نظر یہ ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

56۔ کیا کےبی ایل پی کے ماحولیاتی اثرات کا پروجیکٹ پر عمل درآمد سے پہلے جائزہ لیا گیا تھا؟

جی ہاں۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کا قانونی منظوری کے عمل کے تحت تفصیلی ماحولیاتی مطالعات کے ذریعے جائزہ لیا گیا تھا۔ ان جائزوں کی بنیاد پر پورجیٹ کو 25 اگست 2017 کو ماحولیاتی منظوری دی گئی، جبکہ ضروری وائلڈ لائف اور جنگلات کی منظوری بھی مقررہ شرائط اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے اقدامات کے ساتھ حاصل کی گئی۔

پروجیکٹ کے تحت ماحولیاتی انتظام، متبادل شجرکاری، جنگلی حیات کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات بھی نافذ کیے جا رہے ہیں، تاکہ شناخت کیے گئے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

57۔ کےبی ایل پی کے تحت پنا ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر)کے مرکزی علاقے میں جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی تلافی کیسے کی جا رہی ہے؟

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات، جن میں ناگزیر جنگلاتی نقصان اور حیاتیاتی تنوع پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں، سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تلافی کے طور پر شجرکاری، جنگلی حیات کے تحفظ اور مسکن کے انتظام، آبی گزرگاہوں کے بالائی علاقوں کے علاج و تحفظ اور گریٹر پنا لینڈ اسکیپ کے لیے انٹیگریٹڈ لینڈ اسکیپ مینجمنٹ پلان (آئی ایل ایم پی) پر عمل درآمد شامل ہے۔

اس کے علاوہ، تلافی کے مقصد سے پنا ٹائیگر ریزرو کے بنیادی علاقے سے متصل غیر جنگلاتی زمین کا مساوی رقبہ فراہم کیا گیا ہے، جس سے ریزرو کے اطراف جنگلی حیات کے مسکن اور تحفظ کے پورے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

جنگلات اور وائلڈ لائف کی منظوری کی شرائط کے مطابق منظور شدہ تحفظ اور ماحولیاتی اثرات میں کمی کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ناگزیر جنگلاتی نقصان کی تلافی، ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کرنا اور وسیع تر خطے میں حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

58۔ پنا ٹائیگر ریزرو کے حوالے سے کیا تشویش ہے؟

اس پروجیکٹ کے پنا کے خطے سے قربت اور اس کے ساتھ تعلق کے باعث ماحولیاتی اور جنگلی حیات سے متعلق اہم پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں جنگلی حیات اور جنگلات کے تحفظ سے متعلق حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

حکومت نے اس پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ وسیع تر ماحولیاتی منظرنامے کی سطح پر منصوبہ بندی اور تحفظ کے اقدامات بھی کیے ہیں۔

 

59۔ م ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

اس پروجیکٹ کا مقصد نہ صرف بُندیل کھنڈ میں پانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ خطے کے مجموعی ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے، خصوصاً ان انواع کے تحفظ کو جو وسیع قدرتی مساکن پر انحصار کرتی ہیں، جیسے شیر، گدھ اور گھڑیال۔ منظور شدہ ماحولیاتی انتظامی پروجیکٹ کے مطابق تخفیفی اقدامات کرنے کے علاوہ، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک جامع مربوط ماحولیاتی منظرنامہ انتظامی پروجیکٹ تیار کیا ہے، جو نہ صرف پنا ٹائیگر ریزرو بلکہ اس کے آس پاس کے علاقوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

گریٹر پنا لینڈ اسکیپ کے لیے مربوط ماحولیاتی منظرنامہ انتظامی پروجیکٹ بھارت میں تحفظ ماحول کی تاریخ میں شروع کیے جانے والے اہم اور منفرد حفاظتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

 

60۔ گریٹر پنا لینڈ اسکیپ کونسل کیا ہے؟

پنا ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر) اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک جامع انٹیگریٹڈ لینڈ اسکیپ مینجمنٹ پلان (آئی ایل ایم پی)تیار کیا گیا ہے۔ گریٹر پنا لینڈ اسکیپ مینجمنٹ پلان پر منظم اور مقررہ مدت میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے گریٹر پنا لینڈ اسکیپ کونسل (جی پی ایل سی )تشکیل دی گئی ہے، جس کی صدارت مدھیہ پردیش حکومت کے چیف سیکریٹری کرتے ہیں اور اس میں تمام متعلقہ فریقوں کے نمائندے شامل ہیں۔کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے تحت ماحولیاتی انتظامی منصوبے اور انٹیگریٹڈ لینڈ اسکیپ مینجمنٹ پلان (آئی ایل ایم پی )پر عمل درآمد کے لیے مناسب مالی وسائل بھی مختص کیے گئے ہیں۔ یہ ماڈل مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتا ہے۔

61۔ متبادل شجرکاری کیا ہے؟

جب کسی منظور شدہ پروجیکٹ کے لیے جنگلاتی زمین کا استعمال تبدیل کیا جاتا ہے تو قابل اطلاق جنگلاتی قوانین اور منظور شدہ شرائط کے مطابق متبادل شجرکاری اور دیگر مقررہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد جنگلاتی زمین کے منظور شدہ استعمال کی تلافی کرنا اور طویل مدت میں ماحولیاتی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

62۔ کیا کے بی ایل پی سے حیاتیاتی تنوع متاثر ہوگا؟

پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کے دوران حیاتیاتی تنوع پر ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ منصوبے میں ایسے تدارکی اور حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں جن کا مقصد ناگزیر اثرات کو کم کرنا، ان کا مناسب انتظام کرنا اور جہاں ضروری ہو ان کی تلافی کرنا ہے۔تعمیراتی مرحلے اور پروجیکٹ کے آپریشن کے دوران ماحولیاتی نگرانی بھی کی جائے گی، تاکہ ممکنہ اثرات کی مسلسل نگرانی اور مناسب انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آگے کا لائحہ عمل

63۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ پروجیکٹ مقررہ سمت میں آگے بڑھے؟

معاوضے اور بحالی و آبادکاری کا کام شفاف، منصفانہ اور مقررہ مدت کے مطابق جاری ہے۔ مقامی حکام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ان کے مسائل کی فوری نشاندہی کی جا سکے اور انہیں جلد حل کیا جا سکے۔

64۔ آگے بڑھتے ہوئے اس پروجیکٹ کا وسیع تر مقصد کیا ہے؟

اس پروجیکٹ کا مقصد خطے کی ترقیاتی ضروریات اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق و فلاح و بہبود کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اس کے تحت متاثرہ خاندانوں کی عزت و وقار کے ساتھ بحالی و آبادکاری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ بندیل کھنڈ کو طویل مدت میں آبپاشی، پینے کے پانی اور بجلی کے فوائد فراہم کرنا ہے۔

65۔ لوگ اس منصوبے کے بارے میں مزید معلومات کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟

مزید معلومات کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی (کے بی ایل پی اے)کی سرکاری ویب سائٹ، جل شکتی کی وزرات اور مدھیہ پردیش کے چھترپور اور پنا اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

حوالہ: جل شکتی کی وزارت۔

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ش آ۔ ن م۔

U-2506         


(रिलीज़ आईडी: 2302711) आगंतुक पटल : 2
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Punjabi , Gujarati