بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کی مناسب گنجائش کا جائزہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 JUL 2026 2:44PM by PIB Delhi

بجلی ایکٹ، 2003 کی دفعہ 7 کے تحت ملک میں بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ یا بجلی گھر قائم کرنا لائسنس لینے سے مستثنیٰ سرگرمی ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی کوئی بھی کمپنی بجلی ایکٹ، 2003 کے تحت الگ سے لائسنس حاصل کیے بغیر بجلی پیدا کرنے کا مرکز قائم، اسے چلانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کی مجاز ہے، بشرطیکہ وہ بجلی کے گرڈ سے کنکشن کے حوالے سے مقررہ تکنیکی معیارات پر پوری طرح عمل کرے۔

مالی سال 27-2026 میں جون 2026 تک مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کیے گئے اضافے کی تفصیلات جدول میں دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ، ملک میں بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ نہایت ضروری ہے، خاص طور پر ان اوقات میں جب بجلی کی طلب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔ اضافی پیداواری صلاحیت سے نہ صرف بجلی کی وافر دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ بجلی کی قلت اور اچانک بندش کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی کا نظام مزید مستحکم، قابلِ اعتماد اور مؤثر بنتا ہے۔

اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے گرڈ میں شامل کرنے کے لیے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کی مناسب گنجائش بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی بجلی اتھارٹی اور بجلی کی وزارت کی جانب سے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت اور اضافی بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کو جذب کرنے کی اہلیت سے متعلق کیے گئے جائزوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

(i) ترسیلی بنیادی ڈھانچہ:

بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق ترسیلی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت ہند نے 2024 کا قومی بجلی منصوبہ (ترسیل) جاری کیا ہے، جس میں 2023 سے 2032 تک کے عرصے کے لیے ترسیلی نظام کی ضروریات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق جون 2026 تک موجود 5.09 لاکھ سرکٹ کلومیٹر کے ترسیلی نیٹ ورک کو بڑھا کر 2032 تک 6.48 لاکھ سرکٹ کلومیٹر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح، تبدیلی کی صلاحیت کو جون 2026 تک موجود 1,478 جی وی اے سے بڑھا کر 2032 تک 2,345 جی وی اے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، مختلف علاقوں کے درمیان بجلی کی منتقلی کی صلاحیت کو بھی جون 2026 تک موجود 120 گیگاواٹ سے بڑھا کر 2032 تک 168 گیگاواٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کا مقصد ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں کے درمیان بجلی کی مؤثر اور قابلِ اعتماد ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔

(ii) تقسیم کا بنیادی ڈھانچہ:

چونکہ بجلی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، اس لیے بجلی کی فراہمی اور تقسیم کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومت اور بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنی یا ادارے کی ہوتی ہے۔ لہٰذا، ہر متعلقہ بجلی تقسیم کار ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقے میں بجلی کی مناسب، مؤثر اور قابلِ اعتماد تقسیم کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

مرکزی بجلی اتھارٹی کی جانب سے مستقبل میں متوقع بجلی کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے طویل مدتی منصوبے کے مطابق، بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے اور تقسیم کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔

66/33/22 کلو واٹ کی سطح پر سب اسٹیشنوں کی مجموعی صلاحیت کو مارچ 2026 تک موجود 605 جی وی اے سے بڑھا کر 2030 تک 711 جی وی اے اور 2035 تک 872 جی وی اے کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح، تقسیم کے نظام میں استعمال ہونے والے ٹرانسفارمروں کی صلاحیت کو موجودہ 895 جی وی اے سے بڑھا کر 2030 تک 1,135 جی وی اے اور 2035 تک 1,631 جی وی اے کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، 11 کلو وولٹ کے فیڈروں کی مجموعی لمبائی کو 55.35 لاکھ سرکٹ کلومیٹر سے بڑھا کر 2030 تک 61.60 لاکھ سرکٹ کلومیٹر اور 2035 تک 70.77 لاکھ سرکٹ کلومیٹر کرنے کا منصوبہ ہے۔ کم وولٹیج کی لائنوں کی مجموعی لمبائی بھی 84.75 لاکھ سرکٹ کلومیٹر سے بڑھا کر 2030 تک 95.69 لاکھ سرکٹ کلومیٹر اور 2035 تک 111.67 لاکھ سرکٹ کلومیٹر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق تقسیم کے نظام کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور صارفین کو زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اس وقت حکومت ہند کی جانب سے جولائی 2021 میں شروع کی گئی اصلاح شدہ تقسیمِ بجلی شعبہ اسکیم کے تحت بجلی کی تقسیم کرنے والے اداروں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید اور مضبوط بنانا، تقسیم کار اداروں کی عملی کارکردگی بہتر کرنا اور انہیں مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔ اس کے تحت تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے، بجلی کے نقصانات میں کمی لانے اور اسمارٹ میٹرنگ کے کاموں کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں بجلی کے نقصانات میں کمی لانے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے لیے 1.53 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں اور اسمارٹ میٹرلگانےکے کاموں کے لیے 1.31 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں سے بجلی کی تقسیم کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے، تکنیکی اور تجارتی نقصانات کو کم کرنے اور بجلی کی کھپت اور فراہمی کی بہتر نگرانی میں مدد ملے گی۔

حکومت نے ترسیلی منصوبوں، پن بجلی منصوبوں اور تھرمل بجلی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور انہیں مقررہ وقت پر شروع کرنے کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات اور نگرانی کے مؤثر نظام بھی وضع کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد منصوبوں میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر کو روکنا، تعمیراتی مدت کو کم کرنا اور لاگت میں اضافے کو کم سے کم کرنا ہے، تاکہ بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کی نئی صلاحیت کو جلد از جلد ملک کے بجلی کے نظام میں شامل کیا جا سکے۔

ان اقدامات اور نگرانی کے طریقہ کار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. ترسیلی منصوبوں کی نگرانی:ترسیلی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرکے بجلی کی ترسیل کے نظام میں شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ان منصوبوں پر قریبی نظر رکھی جاتی ہے اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والی کمپنیوں یا اداروں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ترسیلی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ سینٹرل ٹرانسمیشن یوٹیلیٹی آف انڈیا لمیٹڈ (سی ٹی یو آئی ایل)، مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) اور بجلی کی وزارت کی جانب سے لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ محکمہ برائے فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے تحت قائم خصوصی پلیٹ فارم ’پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ‘ (پی ایم جی) کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے۔ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ’پرو ایکٹو گورننس اینڈ ٹائم لی امپلیمنٹیشن‘ (پرگتی) پورٹل کے ذریعے ان منصوبوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ان نگرانی کے نظام اور جائزہ کے طریقہ کار کی مدد سے ترسیلی منصوبوں سے متعلق راستہ حاصل کرنے کے حقوق، جنگلات سے متعلق منظوری، زمین کے حصول، مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان تال میل اور منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والی دیگر رکاوٹوں کو بروقت دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جاتا ہے اور انہیں مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ii        ترسیلی منصوبوں کی نگرانی:ترسیلی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرکے بجلی کی ترسیل کے نظام میں شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ان منصوبوں پر قریبی نظر رکھی جاتی ہے اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والی کمپنیوں یا اداروں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ترسیلی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ سینٹرل ٹرانسمیشن یوٹیلیٹی آف انڈیا لمیٹڈ (سی ٹی یو آئی ایل)، مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) اور بجلی کی وزارت کی جانب سے لیا جاتا ہے۔

iii       اس کے علاوہ، منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ محکمہ برائے فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے تحت قائم خصوصی پلیٹ فارم ’پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ‘ (پی ایم جی) کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے۔ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ’پرو ایکٹو گورننس اینڈ ٹائم لی امپلیمنٹیشن‘ (پراگتی) پورٹل کے ذریعے ان منصوبوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ان نگرانی کے نظام اور جائزہ کے طریقہ کار کی مدد سے ترسیلی منصوبوں سے متعلق راستہ حاصل کرنے کے حقوق، جنگلات سے متعلق منظوری، زمین کے حصول، مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان تال میل اور منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والی دیگر رکاوٹوں کو بروقت دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جاتا ہے اور انہیں مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  1. مرکز اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں بجلی کی اوسط فراہمی کے اوقات مالی سال 2014 کے 12.5 گھنٹے سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 22.6 گھنٹے ہو گئے ہیں۔ اسی طرح شہری علاقوں میں بجلی کی اوسط فراہمی کا دورانیہ مالی سال 2014 کے 22.1 گھنٹے سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 23.4 گھنٹے ہو گیا ہے۔
  2. بجلی کی تقسیم کرنے والے اداروں کے مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات (اے ٹی اینڈ سی لاسز) میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ قومی سطح پر یہ نقصانات مالی سال 2014 میں 22.62 فیصد تھے، جو کم ہو کر مالی سال 2025 میں 15.04 فیصد رہ گئے۔
  3. بجلی کی اوسط لاگتِ فراہمی اور اوسط وصول شدہ آمدنی کے درمیان فرق، جو اس بات کا اہم پیمانہ ہے کہ بجلی تقسیم کرنے والے ادارے اپنی لاگت پوری کرنے میں کس حد تک کامیاب ہیں، مالی سال 2014 میں 0.78 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں صرف 0.06 روپے فی یونٹ رہ گیا ہے۔
  4. 29 جولائی 2025 کو ہندوستان نے بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل حاصل کیا۔ اس روز ملک کی بجلی کی کل 203 گیگاواٹ طلب میں سے 51.5 فیصد طلب قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے پوری کی گئی۔
  5. مالی سال 26-2025کے دوران بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں ریکارڈ 64,695 میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا۔ اس میں سے 50,905 میگاواٹ کی صلاحیت قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل ہوئی، جس میں بڑے پن بجلی منصوبے شامل نہیں ہیں۔ یہ ایک سال کے دوران قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے، جس نے مالی سال 25-2024 میں قائم کیے گئے 34,054 میگاواٹ کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
  6. ملک میں توانائی کی قلت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ مالی سال 14-2013 میں توانائی کی قلت 4.2 فیصد تھی، جو مالی سال 26-2025 میں گھٹ کر صفر فیصد رہ گئی۔ یہ بجلی کی طلب پوری کرنے اور فراہمی کو یقینی بنانے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
  7. ہندوستان نے کوپ-26 میں کیے گئے اپنے وعدے کو مقررہ مدت سے پانچ سال پہلے ہی پورا کر لیا ہے۔ 2025 میں ملک نے اپنی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل کرنے کا قومی سطح پر طے شدہ ہدف حاصل کر لیا، جبکہ اس ہدف کو حاصل کرنے کی مقررہ مدت 2030 تھی۔

جدول

مالی سال 27-2026 میں جون 2026 تک مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کیے گئے اضافے کی تفصیلات:

)تمام اعداد و شمار میگاواٹ میں(

تھرمل (کوئلہ پر مبنی(

جوہری

ہائیڈرو

)آر ای ایس ہائیڈرو کو چھوڑ کر)

کل

2,260

0

650

13,251.26

16,161.26

 

یہ معلومات بجلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب شری پد نائک نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ع و  ۔ ص ج

U. No-2507


(ریلیز آئی ڈی: 2302629) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil