خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
مرکزی وزیر محترمہ انپورنا دیوی نے مشن شکتی پر خواتین و اطفال کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
ملک بھر میں 991 فعال ون اسٹاپ سینٹرز کے ذریعے 15.20 لاکھ سے زیادہ خواتین کی مدد کی گئی
پی ایم ایم وی وائی کے تحت تقریباًًً 4.60 کروڑ ماؤں کو 21,343 کروڑ روپے سے زیادہ کی زچگی کے فوائد حاصل ہوئے ہیں
36 ریاستی اور 765 ضلعی سنکلپ: خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہیں
प्रविष्टि तिथि:
21 AUG 2026 7:01PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر، محترمہ انپورنا دیوی نے آج کولکاتہ، مغربی بنگال میں خواتین و اطفال کی وزارت سے منسلک ارکان پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مشن شکتی کے تین اہم اجزا - ون اسٹاپ سینٹرز (او ایس سی)، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) اور سنکلپ: خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز (ایچ ای ڈبلیو) پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں ایوانوں کے ارکان پارلیمنٹ اور وزارت کے سینئر اہلکاران نے اجلاس میں شرکت کی۔

ارکان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ خواتین و اطفال کی وزارت، خواتین کی قیادت میں ترقی اور ایک وِکست بھارت کے بارے میں وزیرِ اعظم کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عہدبستہ ہے۔ انھوں نے بیان کیا کہ مشن شکتی خواتین کی حفاظت، سلامتی اور تفویضِ اختیارات کے لیے بھارت سرکار کی مربوط اسکیم ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ اس کی ’سمبل‘ ذیلی اسکیم کے تحت - جس میں ون اسٹاپ سینٹرز، ویمن ہیلپ لائن، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور ناری عدالت شامل ہیں - مرکزی حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 100% مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ’سمرتھیا‘ ذیلی اسکیم کے تحت - جس میں خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز، پی ایم ایم وی وائی، شکتی سدن، سکھی نواس اور پالنا شامل ہیں - مرکز اور ریاستوں کے درمیان 60:40 کے تناسب سے فنڈنگ کی جاتی ہے، اور شمال مشرقی اور خصوصی زمرے کی ریاستوں کے لیے 90:10 کے تناسب سے، جب کہ قانون ساز اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 100% مرکزی فنڈنگ حاصل ہوتی ہے۔
ون اسٹاپ سینٹر
وزیر موصوف نے ارکان کو مطلع کیا کہ ون اسٹاپ سینٹر، جنھیں نربھیا فنڈ کے تحت مالی امداد فراہم کی جاتی ہے اور جو 1 اپریل 2015 سے نافذ ہیں، تشدد سے متاثرہ خواتین اور پریشان حال خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے مربوط مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک او ایس سی قائم کرنا ہے۔ اب تک 1,033 او ایس سیز کو منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 991 فعال ہیں اور انھوں نے 15.20 لاکھ سے زیادہ خواتین کی مدد کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہر او ایس سی طبی امداد، ضلعی قانونی خدمات اتھارٹی کے تعاون سے مفت قانونی امداد، رابطہ افسران کے ذریعے پولیس کی مدد، نفسیاتی سماجی مشاورت اور پانچ دن تک کی عارضی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے، جسے 20 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ او ایس سیز سرکاری اسپتالوں کے اندر یا قریب واقع ہیں اور ان کے پاس بچاؤ اور خواتین کو طبی، قانونی اور پولیس کی مدد کے لیے لے جانے کے لیے ایک وقف شدہ 24x7 گاڑی موجود ہے۔ وزیر موصوف نے مشن شکتی ڈیش بورڈ کو بھی اجاگر کیا، جو ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو او ایس سیز کی حقیقی وقت میں، ریاستی اور ضلعی سطح پر نگرانی کو ممکن بناتا ہے، ساتھ ہی جیو ٹیگنگ، آن لائن اپوائنٹمنٹ اور نیویگیشن کی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ تمام او ایس سیز کو پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔
پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا
پی ایم ایم وی وائی پر، وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اسکیم، جو 1 جنوری 2017 سے پورے بھارت میں نافذ ہے، پہلے بچے کے لیے 5,000 روپے کی نقد ترغیب براہ راست ماں کے آدھار سے منسلک بینک یا پوسٹ آفس اکاؤنٹ میں دو قسطوں میں فراہم کرتی ہے - 3,000 روپے حمل کے اندراج اور کم از کم ایک قبل از پیدائش چیک اپ پر، اور 2,000 روپے بچے کی پیدائش کے اندراج اور ویکسینیشن کے پہلے دور کی تکمیل پر۔ جننی سرکشا یوجنا کے تحت حاصل ہونے والے فائدے کے ساتھ، ایک خاتون کو اوسطاً 6,000 روپے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر دوسرا بچہ لڑکی ہو تو 6,000 روپے کی نقد ترغیب بھی دی جاتی ہے، تاکہ لڑکی کے تئیں مثبت رویے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

انھوں نے ارکان کو مطلع کیا کہ پی ایم ایم وی وائی کے تحت، 4.60 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو 21,343 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ حالیہ اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ 21 مئی 2025 سے متعارف کرائی گئی لازمی آدھار پر مبنی بائیو میٹرک تصدیق نے یہ یقینی بنایا ہے کہ فوائد صرف حقیقی مستفیدین تک پہنچیں۔ اس نظام کے ذریعے 64.65 لاکھ مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے۔ 1 جولائی 2025 کو شروع کی گئی ’ڈیو لسٹ‘ پہل کے تحت، پوشن ٹریکر پر رجسٹر شدہ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں تک آنگن واڑی اور آشا کارکنان ان کے دروازے پر پہنچ کر فعال طور پر رسائی حاصل کرتے ہیں، اور اس کے ذریعے 36.42 لاکھ مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے۔ ایک مربوط شکایات کے ازالے کا نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت اب ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 14 دنوں کے اندر شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ موصول ہونے والی ایک لاکھ سے زیادہ شکایات میں سے 87% سے زیادہ کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔ پی ایم ایم وی وائی پورٹل پر سرچ اور ٹریک کی سہولت اور ٹول فری اور کثیر لسانی ہیلپ لائن، 1515 کا استعمال پی ایم ایم وی وائی درخواست اور ادائیگی کی حیثیت کی جانچ کرنے کے لیے 22.52 لاکھ سے زیادہ بار کیا گیا ہے۔
سنکلپ: خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز
وزیر موصوف نے کہا کہ سنکلپ: ایچ ای ڈبلیو، جو 1 اپریل 2022 کو سمرتھیا ذیلی اسکیم کے تحت شروع کیا گیا تھا، قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر ایک واحد ونڈو کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ خواتین کے لیے دستیاب اسکیموں اور سہولیات کے بارے میں معلومات کے فرق کو پُر کیا جا سکے، انھیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے رہ نمائی فراہم کی جا سکے، اور وزارتوں اور شعبوں میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مشن شکتی کے لیے پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور ضلعی سطح پر بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کی سرگرمیاں منعقد کرتا ہے۔ فی الحال، ملک بھر میں 36 ریاستی ایچ ای ڈبلیوز اور 765 ضلعی ایچ ای ڈبلیوز فعال ہیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے ارکان پارلیمنٹ محترمہ منجو شرما، محترمہ جیوتی ناگ ناتھ واگھمارے، محترمہ مایا چنتامن اور محترمہ سواتی مالیوال نے ان اسکیموں کی رسائی اور فراہمی کو مضبوط بنانے کے بارے میں اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں۔

وزیرِ مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے ارکان کا ان کے قیمتی مشوروں کے لیے شکریہ ادا کیا اور انھیں یقین دلایا کہ وزارت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مشن شکتی کے تحت ہر ضرورت مند خاتون حفاظت، سلامتی اور تفویضِ اختیارات کی خدمات تک رسائی حاصل کر سکے۔ انھوں نے ذکر کیا کہ خواتین و اطفال کی وزارت وزیرِ اعظم کے اس رہ نما اصول پر عمل پیرا ہے کہ بہبود اور مدد قطار میں کھڑے آخری شخص تک پہنچنی چاہیے۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 2455
(रिलीज़ आईडी: 2302150)
आगंतुक पटल : 6