شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے میسورو میں شہری ہوا بازی کی مشاورتی کمیٹی کی صدارت کی


کمیٹی نے اُڑان کے اگلے مرحلے اور پائلٹ ٹریننگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا

प्रविष्टि तिथि: 21 AUG 2026 7:04PM by PIB Delhi

شہری ہوا بازی کی وزارت کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس آج میسورو، کرناٹک میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی، جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے مرکزی وزیر مملکت برائے شہری ہوا بازی اور کوآپریشن، جناب مرلیدھر موہول کی موجودگی میں کی۔

ارکان پارلیمنٹ جناب گوپال جی ٹھاکر (دربھنگا، بہار)؛ جناب انوپ سنجے دھوترے (اکولا، مہاراشٹر)؛ محترمہ سانی گھوش (جادوپور، مغربی بنگال)؛ جناب کاماکھیا پرساد تاسا (کازیرنگا، آسام)؛ ڈاکٹر ایم دھناپال (راجیہ سبھا، تمل ناڈو) اور جناب رام راؤ ساکارام وڈکوٹے (راجیہ سبھا، مہاراشٹر) نے میسورو کے رکن پارلیمنٹ جناب یادویر چاماراجا وڈیار کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔

وزیر جناب رام موہن نائیڈو کی قیادت میں شہری ہوا بازی کی وزارت کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی 2017 کے بعد پہلی بار دہلی سے باہر ملی، جو حکومت کے اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے کہ گفت و شنید کو علاقوں کے قریب لایا جائے۔ میسورو میں آج کے اجلاس میں، کمیٹی نے اُڑان کے اگلے مرحلے، فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشن (ایف ٹی او) ایکو سسٹم میں اصلاحات اور اندرا گاندھی راشٹریہ اُڑان اکیڈمی (آئی جی آر یو اے) کی تبدیلی پر تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے، جناب رام موہن نائیڈو نے کہا کہ بھارت کی ہوا بازی کی ترقی تیزی سے بڑی منزلوں سے آگے اور صرف ہوائی اڈوں کی ترقی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ”وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اُڑان کے وژن سے متاثر ہو کر، ہوا بازی تیزی سے علاقائی ترقی اور جامع اقتصادی ترقی کا ایک انجن بن رہی ہے؛ جس سے کسانوں، برآمد کنندگان، کاروباروں اور برادریوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسی وقت، بھارت ڈرونز اور ای وی ٹی او ایل کے ذریعے ہوا بازی کی جدت طرازی کی اگلی لہر کی قیادت کر رہا ہے، جب کہ ایم آر او اور ایئر کارگو جیسے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھا رہا ہے۔“

اُڑان کے ذریعے لائی گئی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا، ”گذشتہ دس برسوں میں، ہم نے ہوائی اڈے کی ترقی اور ایئر لائنز کے لیے وایبلٹی گیپ فنڈنگ میں تقریباًًً 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اب ہم اُڑان کے اگلے مرحلے کے تحت 28,840 کروڑ روپے کے بے مثال ایوارڈ کے ساتھ اس عزائم کو ایک نئی سطح پر لے جا رہے ہیں۔“ کمیٹی کو ایف ٹی او ایکو سسٹم میں اصلاحات کے بارے میں بھی تفصیل فراہم کی گئی تاکہ تربیت یافتہ پائلٹوں کی دستیابی کو بڑھایا جا سکے جب کہ حفاظت اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

ایف ٹی او ایکو سسٹم 2020 میں 32 ایف ٹی اوز سے بڑھ کر 2026 میں 41 ہو گیا ہے، جب کہ فلائنگ بیسز 32 سے بڑھ کر 63 ہو گئے ہیں۔ وزیر رام موہن نائیڈو کی ہدایات کے تحت شروع کیا گیا ایف ٹی او رینکنگ فریم ورک نے ایف ٹی اوز کی شفاف جواب دہی کو ممکن بنایا ہے، جس سے نوجوانوں کو اپنے پائلٹ کیریئر کے پہلے قدم پر باخبر فیصلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔

ہوا بازی کے شعبے میں مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا، ”بھارتی ایئر لائنز نے دنیا میں کہیں بھی بے مثال پیمانے پر طیاروں کے آرڈر دیے ہیں۔ لیکن طیاروں کے آرڈر کہانی کا صرف ایک حصہ ہیں، ان طیاروں کو اڑانے کے لیے ایک ہنر مند اور حفاظت کے تئیں باشعور افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔ ہم بھارت کی ہوا بازی کی ترقی کو چلانے کے لیے افرادی قوت کو درآمد نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اس افرادی قوت کو یہیں بھارت میں تربیت دینا چاہتے ہیں۔“

کمیٹی نے اندرا گاندھی راشٹریہ اُڑان اکیڈمی (آئی جی آر یو اے) کی تبدیلی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں طیاروں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی معیار 1,500 گھنٹے کے مقابلے میں سالانہ فی طیارہ اوسطاً 1,765 پرواز کے گھنٹے ہے۔ ادارے نے دو دہائیوں سے زیادہ کے بار بار کے خسارے کے بعد پہلی بار بجٹ سرپلس بھی حاصل کیا ہے۔

سیکرٹری، شہری ہوا بازی کی وزارت، جناب سمیر کمار سنہا؛ ڈائریکٹر جنرل، ڈی جی سی اے، جناب ویر وکرم یادو؛ چیئرمین، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، جناب وپن کمار؛ ڈائریکٹر جنرل، بی سی اے ایس، جناب راجیش نروان؛ اور دیگر سینئر اہلکار ارکان پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے کے لیے موجود تھے۔ وزیر موصوف نے ارکان کی قیمتی تجاویز کو سراہا اور یقین دلایا کہ شہری ہوا بازی کے شعبے کی مسلسل ترقی اور فروغ کے لیے اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان پر مناسب غور کیا جائے گا۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 2456


(रिलीज़ आईडी: 2302149) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Kannada