PIB Backgrounder
وزیراعظم اَنّ داتا آئے سنرکشن ابھیان (پی ایم-آشا)
‘‘کسانوں کو بااختیار بنانے کیلئے کم از کم امدادی قیمت پر مبنی نظام کو مستحکم کرنا’’
प्रविष्टि तिथि:
21 AUG 2026 10:43AM by PIB Delhi
وزیراعظم اَنّ داتا آمدنی تحفظ مہم (پی ایم-آشا) کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت دلانے کیلئے حکومت کی ایک اہم قیمتوں کی حمایت کی اسکیم ہے۔ اس میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے اور کسانوں کو مجبوری میں کم قیمت پر اپنی فصل فروخت کرنے سے بچانے کے لیے مختلف منصوبے شامل ہیں۔ دلہن، تلہن اور کھوپرا کی خریداری مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے نیفڈ اور این سی سی ایف جیسی تنظیموں کے ذریعے کی جاتی ہے۔سال 2027-2026 کے لئے 7,200 کروڑ روپے کی بجٹ مختص رقم کے ساتھ،‘پی ایم-آشا’ مؤثر قیمتوں کی حمایت کے اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ آدھار پر مبنی تصدیق، ‘ای-نام’، ‘ای-سمردھی’ اور ‘ای-سمیکتی’ سمیت ڈیجیٹل اصلاحات نے شفافیت اور خریداری کی صلاحیت میں بہتری پیدا کی ہے۔ زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ سے حاصل ہونے والی مدد اور خریداری کا دائرہ وسیع کئے جانے سے یہ اسکیم مزید مضبوط ہوئی ہے۔
|
کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دلانا
|
حکومت نے یہ یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا فائدہ چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسانوں سمیت تمام کسانوں تک پہنچے۔‘وزیراعظم ان داتا آمدنی تحفظ مہم’ (پی ایم-آشا) ایک اہم پہل ہے۔ حکومت نے ستمبر 2018 میں اس اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ اسے اس طرح وضع کیا گیا تھا کہ صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام بھی برقرار رہے اور ساتھ ہی کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت بھی مل سکے۔
‘پی ایم-آشا’ایک مربوط فریم ورک کے تحت قیمتوں کی حمایت کے متعدد نظام کو یکجا کرتی ہے۔ ہر نظام کو فصل اور بازار کی صورتِ حال کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اسکیم کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے نفاذ میں مدد کرتی ہے اور کسانوں کو مجبوری میں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنے سے بچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ صارفین کے لیے غذائی اشیا کی قیمتوں میں استحکام یقینی بناتے ہوئے کسانوں کی آمدنی کو بھی مستحکم رکھتی ہے۔
’پی ایم-آشا’کے تحت خریداری کا انتظام ہر زرعی مارکیٹنگ سیزن سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ مرکزی نوڈل ایجنسیاں اور ریاستی حکومتیں فصلوں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ہی خریداری کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیتی ہیں۔ اس مربوط طریقۂ کار سے خریداری کا عمل بروقت مکمل ہوتا ہے اور پورے ملک میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
|
‘‘پالیسی کا ڈھانچہ اور ادارہ جاتی فریم ورک’’
|
وزیرِ اعظم اَن داتا آئے سنرکشن ابھیان (پی ایم آشا) وسیع طور پر چار اہم اجزا پرائس سپورٹ اسکیم (پی ایس ایس)، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھنے سے متعلق فنڈ (پی ایس ایف)، قیمت کے فرق کی تلافی کی اسکیم (پی ڈی پی ایس)اور مارکیٹ اقدامات سے متعلق اسکیم (ایم آئی ایس) پر مشتمل ہے۔

|
1. قیمتوں کے تحفظ سے متعلق اسکیم (پی ایس ایس)
|
یہ اسکیم اس وقت کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر فصلوں کی خرید یقینی بناتی ہے جب کٹائی کے وقت بازار کی قیمتیں ایم ایس پی سے کم ہو جائیں۔ اس میں بنیادی طور پر دلہن، تلہن اور کھوپرا شامل ہیں۔ ریاستی حکومتوں کی درخواست پر نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن (این اے ایف ای ڈی) اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن (این سی سی ایف)جیسی ایجنسیوں کے ذریعے خریداری کی جاتی ہے۔اس کے لیے صرف وہی کسان اہل ہوتے ہیں جن کے پاس زمین کے درست قانونی دستاویزات ہوں۔ اس طرح بغیر کسی بچولیئے کے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ کسانوں کو مجبوری میں اپنی فصل فروخت نہیں کرنی پڑتی اور قیمتوں میں شدید کمی کے دوران ان کی آمدنی مستحکم رہتی ہے۔
خریداری سال 2025–2024 سے، قیمت امدادی اسکیم (پی ایس ایس)کے تحت دالوں، تلہن اور کھوپرا کی خریداری کی ابتدائی اجازت کسی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی کل پیداوار کے 25 فیصد تک دی گئی ہے۔ اس حد سے زیادہ اضافی خریداری کو سکریٹریوں کی کمیٹی قومی پیداوار کے 25 فیصد تک منظور کر سکتی ہے۔تاہم، ملکی دالوں کی پیداوار بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کے لیے تور ،اڑد اور مسور کی خریداری کی اجازت ریاست کی پیداوار کے 100 فیصد تک دی گئی ہے۔
|
2.قیمتوں کے استحکام سے متعلق فنڈ (پی ایس ایف)
|
قیمت استحکام فنڈ (پی ایس ایف) صارفین کو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت دالوں، پیاز اور آلو جیسی ضروری اشیاء کا بفر اسٹاک برقرار رکھا جاتا ہے۔ اسے اہم زرعی و باغبانی مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔فصل کی کٹائی کے موسم میں اشیاء کی خریداری کی جاتی ہے اور قلت کے موسم میں انہیں مارکیٹ میں جاری کیا جاتا ہے، تاکہ قیمتوں میں اچانک اضافے کو کنٹرول کیا جا سکے اور اشیاء صارفین کے لیے قابلِ استطاعت رہیں۔اب پی ایس ایف کوپی ایم-آشا میں ضم کر دیا گیا ہے، تاہم اس کا انتظام اب بھی محکمہ امورِ صارفین کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
|
3.قیمت کے فرق کی تلافی کی اسکیم (پی ڈی پی ایس)
|
پی ڈی پی ایس کے تحت کسانوں کی پیداوار کی براہِ راست خریداری نہیں کی جاتی۔ اس کے بجائے، کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور منڈی میں حاصل ہونے والی اصل مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق کی رقم ادا کی جاتی ہے۔ یہ ادائیگی ایم ایس پی کی قیمت کے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک براہِ راست کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں کی جاتی ہے۔یہ اسکیم بنیادی طور پر تلہن کے لیے استعمال ہوتی ہے اور بڑے پیمانے پر خریداری کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔ اس طرح کسانوں کو مارکیٹ میں اپنی پیداوار فروخت کرنے کی آزادی ملتی ہے، جبکہ ایم ایس پی کے ذریعے آمدنی کا تحفظ بھی برقرار رہتا ہے۔
|
4. مارکیٹ میں اقدامات سے متعلق اسکیم (ایم آئی ایس)
|
مارکیٹ مداخلت اسکیم (ایم آئی ایس) کا مقصد مختلف جلد خراب ہونے والی زرعی اور باغبانی مصنوعات کی خریداری کرنا ہے۔ اس کے تحت ٹماٹر، پیاز اور آلو جیسی اشیاء کو شامل کیا جاتا ہے، جن پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) لاگو نہیں ہوتی۔یہ اسکیم اس وقت فعال کی جاتی ہے جب مارکیٹ کی قیمتیں گزشتہ معمول کے سیزن کی قیمتوں کے مقابلے میں کم از کم 10 فیصد گر جائیں۔ اس کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتیں اخراجات میں حصہ داری کرتی ہیں، جبکہ خریداری کے لیے نیفیڈ اور این سی سی ایف جیسی مرکزی نوڈل ایجنسیوں کے ذریعے کارروائی کی جاتی ہے۔یہ اسکیم خاص طور پر ضرورت سے زیادہ پیداوار کی صورتِ حال میں مفید ہے، جب مارکیٹ میں اشیاء کی رسد طلب سے زیادہ ہو جاتی ہے اور قیمتیں تیزی سے گرنے لگتی ہیں۔
|
پی ایم-آشا کے تحت مالی معاونت میں اضافہ
|
وزیراعظم انّ داتا آمدنی تحفظ یوجنا (پی ایم-آشا) کے تحت گزشتہ چند برسوں میں بجٹ مختص کرنے کی رقم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2025–2024 میں اس اسکیم کے تحت حقیقی اخراجات 5,437.99 کروڑ روپے رہے۔ 2025–26 میں بجٹ بڑھ کر 6,941.36 کروڑ روپے ہو گیا، جبکہ 2027–2026 میں اسے مزید بڑھا کر 7,200.00 کروڑ روپے کر دیا گیا۔یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کی توجہ کسانوں کے لیے آمدنی میں معاونت یقینی بنانے اور قیمتوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط کرنے پر ہے۔

|
لاگت سے اعتماد تک: کسانوں کیلئے منافع بخش آمدنی کو یقینی بنانا
|
’پی ایم-آشا’ کے تحت شامل اسکیموں کی مدد سے، پیداواری لاگت سے زیادہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کو مضبوط کرتی ہے اور ساتھ ہی اہم فصلوں کی مسلسل کاشت کو فروغ دیتی ہے۔ سال 2027-2026 میں، دھان (عام) کی لاگت 1,627 روپے فی کوئنٹل تھی، جبکہ اس کی ایم ایس پی 2,441 روپے فی کوئنٹل تھی، جس سے 814 روپے کا منافع حاصل ہوا۔ سویا بین (زرد) کی لاگت 3,805 روپے فی کوئنٹل تھی، جبکہ اس کی ایم ایس پی 5,708 روپے فی کوئنٹل تھی، جس سے 1,903 روپے کا منافع حاصل ہوا۔

سال 2027-2026 میں، گندم کی پیداواری لاگت 1,239 روپے فی کوئنٹل اور 2,585 روپے ایم ایس پی فی کوئنٹل ہے، جو 1,346 روپے کا منافع (مارجن) یقینی بناتی ہے۔ وہیں، جوٹ کی پیداواری لاگت 3,662 روپے فی کوئنٹل اور 5,925 روپے فی کوئنٹل ایم ایس پی ہے، جو 2,293 روپے کا سب سے زیادہ منافع فراہم کرتی ہے۔ ایم ایس پی کا یہ منافع بخش مارجن قیمتوں کے تحفظ کو مضبوط کرکے اور زرعی منڈیوں میں کسانوں کا اعتماد بڑھا کر ’پی ایم-آشا’ کے مقاصد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔مجموعی طور پر، ایم ایس پی مختلف فصلوں اور برسوں میں مسلسل پیداواری لاگت سے زیادہ رہی ہے، اور ‘پی ایم-آشا’ کسانوں کو بہتر قیمت دلوا کر اس نظام کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ یہ ایک ایسے معاون ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جو زرعی شعبے میں مستحکم آمدنی اور ترقی کو فروغ دیتا ہے۔
|
کھیت سے بازار تک کنکٹی ویٹی کو مضبوط بنانا
|
حکومت نے زرعی مارکیٹنگ اور فصل کی کٹائی کے بعد کی بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانے کے لیے ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف) اور ای-نام (ای-این اے ایم) جیسی کئی پہل شروع کی ہیں۔ ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف) کے تحت 2,14,437 منصوبوں کے لیے 96,426 کروڑ روپے مالیت کے قرضے منظور کیے گئے ہیں، جس سے 1,66,179 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری متحرک ہوئی ہے۔ای-نام پلیٹ فارم نے 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی 1,656 منڈیوں کو مربوط کیا ہے، جس کے ذریعے 4,94,847 کروڑ روپے کی تجارت ممکن ہوئی ہے۔ اس کے تحت ‘ای-نام’ پر 4,776 کسان پیداواریت سے متعلق تنظیموں (ایف پی اوز) کو رجسٹر کیا گیا ہے اور ’ڈیجیٹل کامرس کے لیے اوپن نیٹ ورک‘ (او این ڈی سی) سے 7,334 ایف پی اوز کو منسلک کیا گیا ہے۔ حکومت نے 25,081 زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ 992.6 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کرنے کی گنجائش والے 50,249 گوداموں کی بھی منظوری دی ہے۔
حال ہی میں پی ایم-آشا میں کی گئی اصلاحات کے تحت کسانوں کی بایومیٹرک تصدیق، پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں سے براہِ راست خریداری، ٹماٹر، پیاز اور آلو کی فصلوں کے لیے نقل و حمل کی امداد اور مارکیٹ مداخلت اسکیم (ایم آئی ایس) کے تحت قیمت کے فرق کی ادائیگی جیسے انتظامات شروع کیے گئے ہیں۔
بہار اور چھتیس گڑھ: پی ایم-آشا کے نفاذ میں پیش رفت
بہار میں نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن (این سی سی ایف) کے ذریعے پہلی بار مسور کی منظم خریداری شروع کی گئی ہے۔ یہ ‘پی ایم-آشا’ کے تحت دالوں کی خریداری کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ خریداری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے 48 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) کو شامل کیا گیا ہے۔ 10 اگست 2026 تک این سی سی ایف نے 1,042.65 میٹرک ٹن مسور کی خریداری کی، جس کے لیے 358 کسانوں کا اندراج کیا گیا اور 285 کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔ اسی مدت کے دوران، نیفیڈ نے بھی 1,814.13 میٹرک ٹن مسور کی خریداری کی، جس میں 495 کسانوں کا اندراج کیا گیا اور 455 کسانوں کو فائدہ پہنچا۔
چھتیس گڑھ میں‘پی ایم-آشا’ کے تحت جاری 200 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور 12 کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) کے نیٹ ورک کے ذریعے خریداری کے کاموں کو مضبوط کیا گیا ہے۔ 10 اگست 2026 تک NCCF نے 18,392.228 میٹرک ٹن چنا، 22.231 میٹرک ٹن مسور اور 1,035.0205 میٹرک ٹن سرسوں کی خریداری کی ہے۔ اس کے تحت 21,721 کسانوں کا اندراج کیا گیا اور 13,790 کسانوں کو فائدہ پہنچا۔ اسی مدت کے دوران، این اے ایف ای ڈی نے 17,020.65 میٹرک ٹن چنا اور 355.05 میٹرک ٹن مسور کی خریداری کی ہے۔ اس میں 46,146 کسانوں کا اندراج کیا گیا اور 13,673 کسانوں کو فائدہ ملا۔ان اقدامات نے ایم ایس پی کے تحت خریداری کو مضبوط بنانے، منڈی تک رسائی بہتر کرنے اور خطے کی سطح پر دالوں میں خود کفالت کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
|
کسانوں کی آمدنی کو محفوظ بنانا اور منڈیوں کو مضبوط کرنا
|
‘پی ایم-آشا’ یقینی خریداری، قیمتوں کے استحکام اور مؤثر مارکیٹ اقدامات کے ذریعے کسانوں کی مدد کرنے کے لیے ایک مضبوط اور منظم نظام کے طور پر ابھری ہے۔ یہ نیفیڈ اور این سی سی ایف جیسی ایجنسیوں کے ذریعے دالوں، تلہن اور کھوپرا جیسی اہم فصلوں کی بروقت خریداری کو ممکن بناتی ہے۔ اضافی خریداری مراکز کے قیام نے کسانوں کی منڈی تک رسائی اور ان کے اجتماعی بااختیار بنانے کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ڈیجیٹل اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی معاونت نے تمام ریاستوں میں خریداری کے عمل کی شفافیت، کارکردگی اور رسائی کو بہتر بنایا ہے۔ مجموعی طور پر، ان کوششوں سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملتی ہے، انہیں مجبوری میں کم قیمت پر فصل فروخت کرنے کی نوبت نہیں آتی، اور ملک میں ایک مستحکم اور مضبوط زرعی معیشت کو فروغ ملتا ہے۔
حوالہ
وزارتِ زراعت و کسان بہبود
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2155528®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2112407®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246181®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241414®=3&lang=2
https://agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154999&ModuleId=3®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/annex/268/AU2274_YtUhNS.pdf?source=pqars
کابینہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2055990®=3&lang=2
وزارتِ خزانہ
www.indiabudget.gov.in/doc/eb/sbe1.pdf
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب
U.NO.2421
(रिलीज़ आईडी: 2302037)
आगंतुक पटल : 7