عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں پبلک امتحانات  (غلط طور طریقوں کی  روک تھام) ترمیمی بل 2026 پیش کیا


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  اس  بل  سےامتحانات میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں پر قابو پانے اور طلبہ و نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے قانونی نظام میں مزید مضبوطی آئے گی

پبلک امتحانات سے متعلق مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے چھ خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں فعال  ہیں، جبکہ  مزید عدالتیں قائم کرنے کا منصوبہ ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 JUL 2026 4:59PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، ارضیاتی علوم کے وزیرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا سے منظور شدہ پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق) ترمیمی بل، 2026 کو راجیہ سبھا میں غور کے لیے پیش کیا۔

بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ترمیمی بل پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق) ایکٹ، 2024 کی فطری توسیع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کا ایکٹ اور موجودہ ترمیمی بل مل کر آزاد ہندوستان میں عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام کے لیے اپنی نوعیت کا ملک کا پہلا جامع قانونی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوامی امتحانات کے نظام میں اہلیت، یکسانیت، شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت تعمیری تجاویز کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور حالیہ تجربات اور موصولہ آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے مقصد سے یہ ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم امتحانات میں بدعنوانی اور سوالیہ پرچوں کے افشا کے خلاف حکومت کی قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کی توثیق کرتی ہیں، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ طلبہ کی حقیقی محنت اور کوششیں محفوظ رہیں۔

قانون سازی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں سوالیہ پرچوں کے افشا اور امتحانات سے متعلق بے ضابطگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، خواہ امتحان کسی بھی ریاست یا ادارے کے ذریعے منعقد کرایا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ایک مضبوط قومی قانونی ڈھانچے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق) بل جنوری 2024 میں پیش کیا گیا، فروری 2024 میں قانون کی شکل اختیار کر گیا، جبکہ یہ ایکٹ جون 2024 میں نافذ ہوا اور اس کے قواعد بھی جون 2024 میں مطلع کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ بڑی بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے منعقد کیے جانے والے امتحانات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی)، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز (آر آر بی ایس)، انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن (آئی بی پی ایس) اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قانون سازی کا مقصد عوامی امتحانات میں زیادہ یکسانیت، اعتبار اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ محنتی اور مستحق امیدواروں کو ان کی حقیقی کوششوں کا صلہ ملے اور منظم امتحانی جرائم کی وجہ سے ان کا مستقبل متاثر نہ ہو۔

ترمیمی بل کی اہم خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ غیر منصفانہ ذرائع اختیار کرنے والے افراد کے لیے سزا کو تین سے پانچ سال کی قید سے بڑھا کر پانچ سے دس سال کرنے کی تجویز ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے اور عوامی امتحانات منعقد کرنے سے نااہلی کی مدت چار سال سے بڑھا کر آٹھ سال کرنے کی تجویز ہے۔ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ڈائریکٹروں اور اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کے لیے بھی سزا کو تین سے دس سال کی قید سے بڑھا کر پانچ سے دس سال کرنے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ بل میں منظم جرائم کے لیے سزا کو پانچ سے دس سال کی قید سے بڑھا کر سات سے دس سال کرنے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کرنے کی بھی تجویز ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ترمیمی بل میں ایکٹ کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام، تفتیش کو دو ماہ کے اندر مکمل کرنے اور چارج شیٹ داخل کیے جانے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی سرکاری وکلا کی تقرری اور ایک نئی شق شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر خصوصی ٹاسک فورس یا مرکزی ایجنسی کے ذریعے تفتیش کی جا سکے گی، تاکہ منظم امتحانی جرائم کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر میں پہلے ہی چھ خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ مقدمات کے فوری فیصلے کو یقینی بنانے کے لیے مزید ایسی عدالتیں قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے عوامی امتحانات کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد میں پہلے ہی نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جس کی 46 میں سے 35 سفارشات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

بل کیلئے ایوان کی حمایت طلب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مجوزہ ترامیم سے ملک کے عوامی امتحانات کے نظام کی دیانت داری، شفافیت اور انصاف پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا، ساتھ ہی لاکھوں طلبہ اور ملازمت کے متلاشی افراد کی امیدوں کا بھی تحفظ ہوگا۔

1.png

2.png

3.png

4.png

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب

U.NO.2437


(ریلیز آئی ڈی: 2302023) وزیٹر کاؤنٹر : 13