صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے ایچ ون این ون انفلوئنزا سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا؛ چوکس رہنے اور مضبوط نگرانی پردیا زور
प्रविष्टि तिथि:
21 AUG 2026 4:10PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے آج ملک میں ایچ ون این ون انفلوئنزا کی موجودہ صورت حال اور اس سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا، جس میں قومی دارالحکومت پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ دہلی کے وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

مرکزی وزیر صحت نے قومی سطح پر نگرانی اور وبائی صورت حال، انفلوئنزا جیسی بیماری (آئی ایل آئی) اور شدید نوعیت کے سانس کے انفیکشن (ایس اے آر آئی) کے رجحانات، ٹیسٹنگ اور لیبارٹری نگرانی، نیز موسمی انفلوئنزا کے مریضوں سے نمٹنے کے لیے صحت کی سہولیات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ جناب نڈا نے مسلسل چوکس رہنے، مضبوط نگرانی اور پیشگی تیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انفلوئنزا کے رجحانات پر قریبی نظر رکھی جائے اور مریضوں کی تعداد میں کسی بھی غیر معمولی اضافے یا مریضوں کے کسی مخصوص علاقے یا گروہ میں غیر معمولی طور پر جمع ہونے کی بروقت نشاندہی اور مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جائے۔
دہلی میں صحت کی سہولیات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں اسپتالوں میں بستروں، انتہائی نگہداشت کی سہولیات، آکسیجن کی سہولت والے بستروں، وینٹی لیٹرز، ضروری ادویات، تشخیصی سہولیات اور دیگر اہم طبی سامان کی دستیابی شامل تھی۔ وزیرموصوف نے اضافی مریضوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے مناسب گنجائش اور مؤثر و بلا تعطل حوالگی کے نظام کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جنہیں خصوصی یا انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہو۔

مرکزی وزیر صحت نے انفلوئنزا کے معاملات کی جلد تشخیص، بروقت جانچ اور مناسب طبی انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ موجودہ نگرانی اور لیبارٹری کے مؤثر نظام سے بھرپور استفادے پر زور دیا۔

اس سے قبل 10 جولائی 2026 کو مرکزی وزارت صحت کے سکریٹری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خط لکھ کر شدید نوعیت کی سانس کی بیماریوں (اے آر آئی) کے لیے تیاریوں اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور صحت کی سہولیات کو مناسب طور پر تیار رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔
جناب نڈا نے عوامی بیداری اور احتیاطی صحت کے طریقوں کی اہمیت پر بھی زور دیا، جن میں سانس کی صفائی اور ہاتھوں کی صفائی شامل ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایسے افراد جن میں سانس سے متعلق علامات مسلسل برقرار رہیں یا شدید نوعیت اختیار کر جائیں، سانس لینے میں دشواری ہو یا خطرے کی دیگر علامات ظاہر ہوں، وہ فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔

مرکزی وزیر صحت نے ایک بار پھر کہا کہ صورتِ حال پر قریبی اور مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ڈینگی اور ملیریا سمیت موسمی بیماریوں کی روک تھام اور قابو پانے کے لیے مستقل اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب نڈا نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ پیشگی اقدامات اور مکمل تیاری پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کریں اور موسمی بیماریوں کی روک تھام، پھیلاؤ اور قابو پانے کے حوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے میونسپل کونسلروں اور دیگر مقامی اداروں کی فعال شرکت کو یقینی بنائیں۔
مرکزی وزیر نے قومی دارالحکومت میں مقامی اداروں کی فعال شمولیت اور حکومت کے تمام شعبوں کی مشترکہ کوششوں پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے ٹی بی کے کیسوں کی نشاندہی میں ہونے والے اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے، ہر سطح پر عوامی نمائندوں کی فعال شرکت کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ حقائق اور شواہد پر مبنی معلومات کو عام کیا جا سکے اور کمیونٹی کی شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزارت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اسپتالوں، لیبارٹریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھتے ہوئے ایچ ون این ون سمیت موسمی انفلوئنزا کی مؤثر نگرانی، جلد تشخیص، بروقت طبی انتظام اور پیشگی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
اجلاس میں مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پونیا سلیلہ سری واستو؛ ایڈیشنل سکریٹری (عوامی صحت) ڈاکٹر راکیش گپتا؛ دہلی کے محکمہ صحت کے سکریٹری جناب روپیش کمار ٹھاکر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
***
ش ح۔ ش ت۔ م الف
U. No- 2433
(रिलीज़ आईडी: 2301995)
आगंतुक पटल : 9