نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر منسکھ مانڈوِیا نے 2036 اولمپک کے لیے بھارتی ایتھلیٹس کا پول تیار کرنے کی غرض سے باصلاحیت ایتھلیٹس کی شناخت کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کی


ایس اے ئی کی 63ویں گورننگ باڈی کی میٹنگ ٹیلنٹ کی تلاش، کوچنگ اور کھیل کود کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر مرکوز کی گئی

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 6:38PM by PIB Delhi

لال قلعہ کی فصیل سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک گیر کھیلوں کے ٹیلنٹ کی تلاش  کے اعلان کو آگے بڑھاتے ہوئے، نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے آج 2036 کے اولمپکس کے لیے بھارت کے ایتھلیٹس کا پول تیار کرنے کی خاطر ایک تیز رفتار اور جامع ٹیلنٹ کی شناخت کے روڈ میپ کی ضرورت پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001NYDY.jpg

اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) کی 63ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، ڈاکٹر مانڈویا نے اس بات پر زور دیا کہ اگلے ایک دہائی کے دوران بھارت کی کھیلوں کی خواہشات کے لیے بنیادی کام کا آغاز ابھی سے ہونا چاہیے۔ معزز وزیر نے کہا، ’’ملک میں اولمپکس کی میزبانی دیکھنے سے پہلے، آئندہ 10 برسوں کا جو منصوبہ ہے، اسے اسی لمحے سے پوری رفتار کے ساتھ شروع کرنا ہوگا۔‘‘

ملک بھر میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی شناخت کرنے اور انہیں نکھارنے کے بارے میں وزیرِ اعظم کی ہدایت کے عین مطابق، ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) کو اپنے ٹیلنٹ کی تلاش کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا اور اعلیٰ ترین سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے ایتھلیٹس کی شناخت کے لیے ایک منظم اور باضابطہ نظام وضع کرنا ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0027MRL.jpg

انہوں نے مزید کہا کہ، ’’ٹیلنٹ کی شناخت دو واضح مراحل میں ہونی چاہیے: پہلے، ریاست اور ضلع کی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایتھلیٹس کی شناخت کی جائے، اور پھر ان ایتھلیٹس کی جانچ کی جائے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ آیا ان میں فٹنس، جذبہ، لگن اور اگلی سطح تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ٹیلنٹ کی شناخت کے عمل میں کھیلوں کے پورے ڈھانچے کا احاطہ کیا جانا چاہیے، جس میں اسکول، اضلاع اور کالج شامل ہوں۔ انہوں نے ذکر کیا، 'مقصد ٹیلنٹ کا ایک جامع ذخیرہ تیار کرنا ہونا چاہیے، جو بعد میں اسپورٹس اسکولوں اور اعلیٰ سطح کے تربیتی نظاموں کو باصلاحیت کھلاڑی فراہم کر سکے۔'

ڈاکٹر مانڈویا نے تربیتی نظام کو وسعت دینے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل تیار کرنے کی ضرورت پر مزید زور دیا۔ ایسے فریم ورک کے تحت، ریاست اور ضلع کی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ کے ذریعے منتخب کیے جانے والے ایتھلیٹس کو خصوصی تربیت کے لیے موزوں اکیڈمیوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی میں زیادہ شرکت کے ذریعے کھیلوں کی ترقی کو وسعت دینے میں کارپوریٹ سیکٹر کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ اس طرح کی شراکت داریوں سے سرکاری مراکز سے ہٹ کر ملک میں تربیت کی گنجائش کو بڑھانے میں مدد ملے گی اور ٹیلنٹ کی شناخت کے نظام سے ابھرنے والے ایتھلیٹس کے لیے اکیڈمیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0030R19.jpg

کوچنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، گورننگ باڈی نے نیشنل کوچ ایکریڈیٹیشن بورڈ (این سی اے بی) کے قیام کی منظوری دی ہے۔ نیشنل کوچ ایکریڈیٹیشن بورڈ، جو کہ ترمیم شدہ کھیلو انڈیا اسکیم کا ایک اہم جزو ہے، کوچز کی رجسٹریشن اور ان کی ترقی کے لیے ایک زیادہ منظم اور باضابطہ فریم ورک فراہم کرے گا۔"

گورننگ باڈی نے ایس اے آئی میں ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر اسسٹنٹ کوچ (پے لیول-6) کے عہدے پر تقرری کے لیے بھرتی کے قوانین میں ایک مجوزہ ترمیم کی بھی منظوری دی۔

بھارت کے کھیلوں کے نظام کی ترقی میں تیزی اور تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ڈاکٹر مانڈویا نے کہا، ’’بہت سی تبدیلیاں اور پیش رفت ہو رہی ہیں، ہمیں اس رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا اور اپنے کھیلوں کے منصوبوں کو مزید مستحکم اور تیز کرنے کے لیے تین گنا رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سے بڑھتی ہوئی توقعات اور ہندوستانیوں میں کھیلوں کے تئیں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیشِ نظر ملک کو اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ مانڈویا نے کہا، ’’ہمیں نئی نسل کے لیے نئے وژن (عزم) کو پورا کرنا ہوگا اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

***

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:2395


(रिलीज़ आईडी: 2301725) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी , Gujarati