ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سمندری اور قطبی سائنس اور ٹیکنالوجی برکس  ورکنگ گروپ کا آٹھواں اجلاس

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 5:33PM by PIB Delhi

ارضیاتی علوم  کی وزارتِ نے بھارت کی برکس صدارت کے دوران 12 سے 14 اگست 2026 تک گوا میں برکس ورکنگ گروپ برائے سمندری و قطبی سائنس و ٹیکنالوجی کا آٹھواں اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کی میزبانی نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ نے کی۔ برکس سمندری و قطبی سائنس و ٹیکنالوجی ورکنگ گروپ کے قیام کے بعد سے اس کی سرگرمیاں بھارتی حکومت کے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے تعاون سے برکس رکن ممالک کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ اجلاس میں برازیل، چین، مصر، بھارت، انڈونیشیا، روس، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام، سائنس دانوں، ماہرین اور نمائندوں نے شرکت کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے سمندری اور قطبی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر غور وخوض کیا۔اجلاس کا افتتاح 12 اگست کو نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تھمبن میلوتھ نے کیا، جبکہ ایٹریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ارضیاتی علوم کی وزارتِ کے سابق سکریٹری ڈاکٹر مادھون نائر راجیون نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ تین روزہ اجلاس کی صدارت نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ، گوا کے ڈائریکٹر نے کی اور برکس رکن ممالک کے وفود نے اس میں شرکت کی۔ بھارتی وفد میں وزارتِ ارضیاتی سائنس کی وزارت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے حکام اور سائنس دان شامل تھے، جس کی قیادت ارضیاتی علوم کی وزارت کے سائنس داں ’جی‘ اور مشیر ڈاکٹر سندیپ کمار مکھوپادھیائے نے کی۔

مذکورہ  ورکنگ گروپ اجلاس برکس رکن ممالک کے درمیان سمندری اور قطبی تحقیق کے شعبے میں سائنسی تعاون، علم کے تبادلے، استعدادِ کار میں اضافے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ اس اجلاس میں برکس ممالک کو درپیش مسائل اور مواقع پر غور وخوض کیا گیا، جن میں ساحلی علاقوں کے چیلنجز، بالخصوص ساحلی شہروں کے تحفظ پر خصوصی توجہ مرکوز کیا جانا  مضبوط اور لچک دار سمندری معلوماتی خدمات کی ترقی کے لیے مشترکہ تعاون کے ذریعے عالمی سمندری مشاہداتی نظام کو مضبوط بنایا جانا، مشترکہ قطبی تحقیق کو فروغ دینا، انٹارکٹک مہم میں جامع شرکت اور بالخصوص نوجوان محققین کے لیے استعدادِ کار میں اضافے کے مواقع کو وسعت دینا شامل ہیں۔مذکورہ اجلاس کے دوران برکس ممالک کے وفود نے ساحلی علاقوں کو موسمی و قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط اور لچک دار بنانے کی مشترکہ پہل قطبی و سمندری حیاتیاتی تنوع کے مشترکہ مطالعے، پانچویں بین الاقوامی قطبی سال کے لیے اہم اہداف مقرر کرنے اور نوجوان محققین کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔ برکس صدارت کے دوران بھارت ، ورکنگ گروپ کے لیے روڈ میپ کی تیاری کے جاری کام کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ، اس کے قلیل مدتی نفاذ کے لیے عملی منصوبہ تیار کرنے میں بھی رابطہ کاری کرے گا۔

برکس سمندری و قطبی سائنس و ٹیکنالوجی ورکنگ گروپ کے آٹھویں اجلاس کے اختتامی اجلاس سے ورچوئل وسیلے سے  خطاب کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے ارضیاتی علوم کی وزارتِ کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی. سرینواسا کمار تمالانے گوا میں منعقدہ تین روزہ اجلاس کے دوران ہونے والے نتیجہ خیز تبادلۂ خیال اور حاصل شدہ نتائج پر برکس رکن ممالک کے مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے سمندری اور قطبی سائنس کے شعبے میں سائنسی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک قابلِ قدر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔سکریٹری موصوف نے اہم ترجیحی شعبوں پر اتفاقِ رائے حاصل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اجلاس کے نتائج کو ٹھوس مشترکہ اقدامات میں تبدیل کریں، جن میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، سائنس دانوں اور طلبہ کا تبادلہ، تحقیقی بنیادی ڈھانچے کا اشتراک اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ اجلاس کی سفارشات اور نتائج برکس کے درمیان سمندری اور قطبی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔اجلاس کا اختتام برکس ممالک کے اس عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا کہ مشترکہ کوششوں اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے سمندری اور قطبی سائنس و ٹیکنالوجی کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

**********

 (ش ح ۔ ش م۔ت ا )

U. No. 2382


(रिलीज़ आईडी: 2301645) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu