وزارت خزانہ
ڈی آر آئی نے ہاتھی دانت کی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث جنگلاتی حیات کے اسمگلنگ کےگروہ کا پردہ فاش کیا
ہاتھی دانت کی 54 نایاب تیار شدہ مصنوعات برآمد، چار افراد گرفتار
प्रविष्टि तिथि:
19 AUG 2026 9:00PM by PIB Delhi
ایک بڑی کارروائی میں، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) نے جنگلاتی حیات کے اسمگلروں کے ایک گروہ کو پکڑا اور آج ہاتھی دانت کے 54 خوبصورت نقش و نگار والے مجسمے اور اشیاء برآمد کیں۔
ہاتھی دانت کی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت سے متعلق ایک مخصوص اطلاع پر عمل کرتے ہوئے، ڈی آر آئی کے افسران نے لکھنؤ میں ایک منظم کارروائی کی منصوبہ بندی کی۔ اس دوران جنگلاتی حیات کی اشیاء کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ایک گروہ کے چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جس کے نتیجے میں ہاتھی دانت کی 54 نایاب اور خوبصورت تیار شدہ مصنوعات برآمد ہوئیں۔
برآمد کی جانے والی اشیاء میں بیل، ہاتھی اور کتے جیسے جانوروں کے مجسمے؛ جنگجو اور بچے کو گود میں لیے ہوئے ماں کے انسانی مجسمے؛ اور دیگر سامان جیسے قینچی، کنگھی، اگربتی اسٹینڈ اور سندوردانی وغیرہ شامل ہیں۔ ہاتھی دانت سے بنی یہ برآمد شدہ مصنوعات نہایت خوبصورت، باریک نقش و نگار والی اور تجارتی و قدیم اور نایاب ہونے کے لحاظ سے انتہائی قیمتی ہیں۔ ضبط کی گئی مصنوعات اور گروہ کے چاروں ارکان کو مزید تحقیقات کے لیے اتر پردیش کے محکمہ جنگلات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔


جنگلاتی حیات کے تحفظ سے متعلق ،وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 کے تحت ہاتھی دانت اور اس سے بنی مصنوعات کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے۔ یہ اقدام ’سائٹس‘(سی آئی ٹی ای ایس) - معدوم اور کمیاب جنگلی جانوروں نیز جنگلاتی حیاتیات و نباتات کی بین الاقوامی تجارت کے معاہدے کے تحت ہندوستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
جولائی کے مہینے میں (پریس ریلیز لنک: https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284262®=1&lang=1 )، دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران راجستھان کے سجان گڑھ سے 11 کلوگرام ہاتھی دانت برآمد کیا گیا، جبکہ ہاؤڑہ سے دیوی دیوتاؤں کے خوبصورت نقش و نگار والے ہاتھی دانت کے دو مجسمے ضبط کیے گئے تھے۔
مئی کے مہینے میں (پریس ریلیز لنک: https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266027®=48&lang=2 )، ڈی آر آئی نے کرناٹک کے شہر میسورو میں ایک گروہ کو ناکام بنایا تھا اور 4 کلوگرام ہاتھی دانت برآمد کیے تھے۔
کارروائیوں کا یہ سلسلہ غیر قانونی جنگلاتی حیات کی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کو ظاہر کرتا ہے اور قومی قوانین اور ’سائٹس‘(سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہندوستان کے تنوعِ حیات (بائیو ڈائیورسٹی) کی حفاظت اور ایسے مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے ڈی آر آئی کے مصمم عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ش ب ۔ع ن)
U. No. 2347
(रिलीज़ आईडी: 2301426)
आगंतुक पटल : 4