شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے دہلی کے آئی جی آئی ہوائی اڈے پر ٹرانس شپمنٹ کارگو آپریشنز کا افتتاح کیا


کامیاب عملی آزمائش کے بعد وزیر نے ٹرانس شپمنٹ اصلاحات کو 2نئے بین الاقوامی اور 4 نئےگھریلو  مقامات تک وسعت دی

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 9:06PM by PIB Delhi

شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے آج دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈی آئی اے ایل) کے ٹرانس شپمنٹ ایکسی لینس سینٹر (ٹی ای سی)، آئی جی آئی ایئرپورٹ، ٹرمینل 2 پرہندوستان کی ٹرانس شپمنٹ (ٹی پی) کارگو اصلاحات کے توسیع شدہ مرحلے کا افتتاح کیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1000638512SVT9.jpg

اس موقع پر جناب رام موہن نائیڈو نے کہاکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں ہم شہری ہوا بازی کے شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ صنعت سے موصول ہونے والی آراء کی بنیاد پر ہم نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کی دوبارہ لازمی جانچ کی دیرینہ ضرورت کی نشاندہی ایک اہم رکاوٹ کے طور پر کی۔ اس ضرورت کو ختم کرنے سے کارگو ٹرمینلز پر کارگو کی ترسیل کے وقت، ہینڈلنگ کے اخراجات اور بھیڑ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ چنئی–دہلی–فرینکفرٹ روٹ پر عملی آزمائش نے کامیابی کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ اوسط مجموعی ترسیلی وقت کو 60 گھنٹے سے کم کرکے صرف 20 گھنٹے کیا جا سکتا ہے۔‘‘

گھریلو  سے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کے عملی آزمائشی منصوبے کا آغاز 20 جون 2026 کو چنئی–دہلی–فرینکفرٹ روٹ پر ڈی آئی اے ایل کے ٹرانس شپمنٹ ایکسی لینس سینٹر (ٹی ای سی) کے ذریعے کیا گیا، جس کے تحت ایئر انڈیا نے مکمل خدمات انجام دی۔ آغاز کے بعد سے اس عملی آزمائشی منصوبے کے تحت 280 میٹرک ٹن کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کی گئی، جبکہ طیارے کی گنجائش کے استعمال کی شرح 75 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 100 فیصد ہو گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/10006385168WI9.jpg

عملی آزمائشی منصوبے کی کامیابی کی بنیاد پر آج اس نیٹ ورک کو مزید چار گھریلو ابتدائی مراکز، یعنی بنگلورو، احمد آباد، ممبئی اور حیدرآباد اور دو نئی بین الاقوامی مقامات یعنی لندن اور کوپن ہیگن تک وسعت دی گئی ہے۔ توسیع شدہ نیٹ ورک کے نتیجے میں ان روٹس پر ایئر انڈیا کی ماہانہ کارگو ترسیل 1,763 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 3,183 میٹرک ٹن ہونے کی توقع ہے، جو تقریباً 80 فیصد اضافہ ہے۔

جناب رام موہن نائیڈو نے کہاکہ اب ہم اس کامیاب ماڈل کو مزید چار بڑے گھریلو کارگو مراکز اور دو نئے بین الاقوامی مقامات کو جوڑ کر وسعت دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہماری فوری توجہ ملکی سے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ پر ہے، لیکن ہمارا وسیع تر مقصد مشرق اور مغرب کے درمیان ہندوستان کے تزویراتی محلِ وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کو عالمی کارگو ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہم اس نظام کو بین الاقوامی سے بین الاقوامی اور بین الاقوامی سے گھریلو ٹرانس شپمنٹ تک بھی وسعت دیں گے۔

وزیرموصوف نے مزید کہاکہ یہ اصلاحات حکومت کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہیں ،جس کے تحت بڑے ہندوستانی ہوائی اڈوں کو عالمی ٹرانزٹ مراکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ مسافروں کے لیے مرکز اور ذیلی مراکز پر مبنی فضائی آپریشنز کو بہتربنانے کے بعد اب حکومت ہندوستان کی فضائی کارگو مرکز کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے۔

اس سے قبل 21 جولائی 2025 کو بیورو آف سول ایویشن سیکورٹی (بی سی اے ایس) کی جانب سے اے وی ایس ای سی سرکلر نمبر 6/2024 میں ضمیمہ دوم کے ذریعے جاری کردہ نظرثانی شدہ نظام کے تحت مقررہ حفاظتی اقدامات کی پابندی کی شرط پر محفوظ ٹرانس شپمنٹ کارگو کو دوبارہ جانچ کے بغیر مخصوص ٹرانسفر کارگو سکیورٹی ہولڈ ایریاز (ٹی سی ایس ایچ اے) کے ذریعے منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

وزیر نے کامیاب نفاذ میں شامل تمام متعلقہ فریقوں بشمول ڈی آئی اے ایل، بی سی اے ایس، سی آئی ایس ایف، ایئر لائنز اور کسٹمز کو مبارک باد دی کہ انہوں نے باہمی تعاون سے ایک اہم رکاوٹ کو دور کرنے اور ہندوستان کے فضائی کارگو نظام کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آنے والے مہینوں میں مزیدگھریلو ابتدائی اور بین الاقوامی  مراکز کو اس نظام کے دائرے میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے عالمی سطح پر مسابقتی ہوا بازی اور کارگو مرکز کے طور پرہندوستان کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔

اس موقع پر شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا، ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا(اے اے آئی) کے چیئرمین جناب وپن کمار، شہری ہوا بازی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب اسنگبا چوبا آؤ، بیورو آف سول ایویشن سیکورٹی (بی سی اے ایس) کی جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل محترمہ پرتیھا امبیڈکر اور شہری ہوا بازی کی وزارت، اے اے آئی، بی سی اے ایس، ڈی آئی اے ایل، ایئر انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

*****

(ش ح۔ م ع ن ۔ م ش)

UR-2348


(रिलीज़ आईडी: 2301422) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu