PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

کانوں اور معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) ترمیمی ایکٹ، 2026


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 5:25PM by PIB Delhi

سوال: ریاستی حکومتیں کانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی کن اقسام/زمرہ جات میں محصول وصول کرتی ہیں؟

ریاستوں کو اس وقت رائلٹی، نیلامی پریمیم، ڈیڈ رینٹ، ضلعی معدنیاتی فاؤنڈیشنز (ڈی ایم ایف) کو ادائیگیاں، جی ایس ٹی اور ٹرانزٹ فیس سمیت تقریباً 14 اقسام کے ٹیکس، چارجز، فیس اور دیگر محصولات حاصل ہوتے ہیں۔ اس کےعلاوہ بعض ریاستوں نے معدنیات والی اراضی  پر بھی ٹیکس متعارف کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری کمپنیوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔ بعض معاملات میں یہ ٹیکس 20 فیصد تک بھی ہے۔

سوال: کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاست اور مرکز کے درمیان کس طرح تقسیم کی جاتی ہے؟

فی الحال کان کنی کے شعبے سے حاصل ہونے والی تقریباً 90 فیصد آمدنی ریاستوں کو حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران معدنیات سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی (کوئلہ اور غیر کوئلہ معدنیات) میں ریاستوں کا حصہ درحقیقت تقریباً 28 فیصدپوائنٹس بڑھ کر26- 2025میں یہ تقریباً 1,14,549.28 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد ریاستوں کو حاصل ہونے والی آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ معدنیاتی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ریاستوں کو بدستور ملتا رہے گا۔

سوال: 2015 سے معدنیات کے شعبے میں کون سی اہم اصلاحات کی گئی ہیں؟

2015 سے کان کنی کے شعبے میں درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں یہ شعبہ زیادہ شفاف، مسابقتی اور مستقبل کی مانگ کے لیے بہتر طور پر تیار ہوا ہے:

 

  • مسابقتی ای-نیلامی اور کانوں کو  کانکنی کیلئے کھولنے کا ریکارڈ سال

کانوں اور معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) قانون میں 2015 کی ترمیم کے ذریعے معدنیاتی مراعات کا منمانی طور پر مختص کرنے کا نظام ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے 17 ریاستوں میں اہم معدنیات کے 723 بلاکس کی نیلامی کی جا چکی ہے، جن میں راجستھان 140 کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد مدھیہ پردیش 127 اور اڈیشہ 76 بلاکس کے ساتھ دوسرے اور تیسرے مقام پر ہیں۔ مالی سال26- 2025 اب تک کا بہترین سال رہا، جس میں ریکارڈ 212 بلاکس کی نیلامی کی گئی اور 36 بلاکس کو فعال کر دیا گیا۔ کوئلے کے شعبے میں141 کانوں کی نیلامی کی جا چکی ہے اور 23 کانوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔

  • پیداوار میں اضافہ اور عالمی سطح پر مقام

مالی سال26- 2025 میں اہم معدنیات کی پیداوار کی قدر میں 26.8 فیصد اضافہ ہوا۔ خام لوہے کی پیداوار ریکارڈ 313 ملین ٹن اور چونے کے پتھر کی پیداوار 484 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ گزشتہ دو برسوں میں سے ہر سال کوئلے کی پیداوار ایک بلین ٹن سے تجاوز کر گئی ، جبکہ 2014 کے مقابلے میں غیر کوئلہ معدنیات کی پیداوار تقریباً تین گنا ہو چکی ہے۔ بھارت اس وقت چونے کے پتھر کی پیداوار میں عالمی سطح پر دوسرے، زنک میں تیسرے، خام لوہے کی پیداوار میں چوتھے اور باکسائٹ کی پیداوار کے معاملے میں پانچویں نمبر پر ہے۔

  • قومی اہم معدنیات مشن اور بیرون ملک سے حصول

قومی اہم معدنیات مشن (این سی ایم ایم) کو 29 جنوری 2025 کو 16,300 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ منظوری دی گئی تھی، جس میں مالی سال 31- 2023 تک 2,600 کروڑ روپے کی بجٹ کی امداد بھی شامل ہے۔ بھارت کے ارضیاتی سروے (جی ایس آئی) اور قومی معدنیاتی تلاش اور ترقی سے متعلق ٹرسٹ (این ایم ای ڈی ٹی) 1,200 اہم معدنیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ این ایم ای ڈی ٹی کی جانب سے 3,828.52 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیے گئے 777 منصوبوں میں سے 255 منصوبے اہم معدنیات سے متعلق ہیں۔ 2025 کی ترمیم کے ذریعے این ایم ای ڈی ٹی کو بیرون ملک معدنیاتی تلاش کے منصوبوں کی معاونت کا اختیار دیا گیا ہے۔ کھنج بدیش انڈیا لمیٹڈ (کابِل) نے ارجنٹینا میں لیتھیم کی تلاش کے خصوصی حقوق حاصل کئے ہیں۔

  • پروسیسنگ، ری سائیکلنگ اور تحقیقی صلاحیت میں اضافہ

اہم معدنیات کی ری سائیکلنگ کے لیے 1,500 کروڑ روپے کی ترغیبی اسکیم 2 اکتوبر 2025 کو شروع کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت 58 اداروں نے سالانہ 850 ہزارٹن پیداواری صلاحیت کا وعدہ کیا ہے، جبکہ ہدف 270کلو ٹن مقرر کیا گیا تھا۔ آندھرا پردیش، گجرات، اڈیشہ اور مہاراشٹر میں اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے پارکس (سی ایم پی پی) کے قیام کے لیے 500 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ مسلسل تین بجٹوں میں اہم معدنیات، لیتھیم آئن بیٹری کے اسکریپ اور پروسیسنگ میں استعمال ہونے والے سرمایہ جاتی سامان پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ مہا مشن کے تحت نو اداروں کو 210 کروڑ روپے کی لاگت سے سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) کا درجہ دیا گیا ہے۔

  • وسیع تر اور بہتر مالی اعانت سے آراستہ معدنیاتی تلاش کا نظام

سال2014 کے بعد سے معدنیاتی تلاش کی سرگرمیوں میں تقریباً 200 گنا اضافہ ہوا ہے اور اب 51 نجی ایجنسیوں کو اس کام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ نیشنل منرل ایکسپلوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ (این ایم ای ڈی ٹی) میں حصہ بڑھا کر 3 فیصد کر دیا گیا ہے اور براہِ راست معدنیاتی تلاش کے اخراجات کا نصف واپس ادا کیا جاتا ہے۔ معدنیاتی تلاش کے لائسنس رکھنے والوں کے لیے تلاش کے اخراجات کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ حد 20 کروڑ روپے اور جامع لائسنس رکھنے والوں کے لیے 8 کروڑ روپے ہے۔ جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے فیلڈ سیزن 26-2025 کے دوران 457 منصوبے مکمل کیے، جن میں 230 منصوبے اہم اور اسٹریٹجک معدنیات سے متعلق تھے، جبکہ این ایم ای ڈی ٹی نے 25-2024میں ایسے 62 منصوبوں اور26-2025میں 84 منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔

  • آسان عمل اور ڈیجیٹل نگرانی

اب کان کنی کی لیز میں ایک مرتبہ زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک رقبے میں توسیع کی جا سکتی ہے، جبکہ جامع لائسنس کے لیے یہ حد 30 فیصد تک ہے۔ مخصوص کانوں سے معدنیات کی فروخت کی حد ختم کر دی گئی ہے، جبکہ کسی لیز میں اہم، اسٹریٹجک یا گہرائی میں موجود معدنیات شامل کرنے پر اضافی ادائیگی کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے تیار کردہ یونیفائیڈ مائننگ پورٹل (یو ایم پی) نیلامی سے لے کر کان کو فعال کیے جانے تک بلاک کے پورے مراحل کی نگرانی کرتا ہے۔ کوئلہ اور معدنیات کے تبادلے کے پلیٹ فارم منصفانہ قیمت کے تعین میں مزید معاونت فراہم کرتے ہیں۔

سوال: 2015 کی ترمیم نے کان کنی سے متاثرہ لوگوں تک کان کنی کے فوائد کی تقسیم میں کس طرح تعاون کیا ہے؟

سال2015 میں مرکزی حکومت نے کان کنی سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ کان کنی کے فوائدکا اشتراک کرنے کے لیے ضلع معدنیاتی فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف) کا تصور متعارف کرایا۔ مقامی فلاح و بہبود کے لیے پردھان منتری کھنج کشیتر کلیان یوجنا (پی ایم کے کے کے وائی) اور 656 ضلع معدنیاتی فاؤنڈیشنز (ڈی ایم ایف) قائم کی گئیں، جن میں 106 امنگوں والے اضلاع شامل ہیں۔ ڈی ایم ایف کے تحت جمع ہونے والی پوری رقم مقامی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ ان شعبوں اور منصوبوں کا تعین کرتی ہے جن کے لیے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ ان اقدامات کے ذریعے سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، پینے کے پانی اور بہتر رہائشی حالات جیسی ضروری بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی میں معاونت کی جاتی ہے۔

سوال: 2026 کی ترمیمی قانون معدنیات پر درآمدی انحصار کے مسئلے سے کیسے نمٹتا ہے؟

یہ قانون گھریلواقتصادی ترقی یا علاقائی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی اسٹریٹجک مفادات کے لیے بھی ایک مستحکم اور معقول ٹیکس نظام فراہم کرتا ہے۔ اس استحکام سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اہم معدنیات کی پیداوار بڑھانے اور معدنیات کی درآمد پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سوال: کیا 2026 کا ترمیمی ایکٹ معدنیات سے مالا مال ریاستوں کے آمدنی کے ذرائع کو متاثر کرے گا؟

ریاستیں اس وقت کان کنی کی سرگرمیوں پر تقریباً 14 اقسام کے ٹیکس، چارجز، فیس اور دیگر محصولات عائد کر رہی ہیں۔

اس وقت کان کنی کے شعبے میں عائد مجموعی ٹیکسوں اور قانونی ادائیگیوں میں سے تقریباً 90 فیصد ریاستوں کو حاصل ہوتا ہے اور ترمیم کے بعد بھی یہ صورتِ حال برقرار رہے گی۔ لہٰذا ایم ایم ڈی آر ایکٹ میں موجودہ ترمیم کی وجہ سے ریاستوں کو آمدنی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

یہ قانون طویل مدتی مالیاتی استحکام فراہم کرتا ہے، کیونکہ کان کنی کے منصوبوں کے لیے کئی برسوں تک بڑے پیمانے پر ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں ریاستی حکومت کی معدنی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

سوال: کیا یہ قانون ریاستوں کو حاصل ہونے والی آمدنی کو متاثر کرتا ہے؟

یہ قانون ریاستوں کو حاصل ہونے والی آمدنی میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ ریاستوں کو رائلٹی، نیلامی پریمیم، ڈی ایم ایف اور جی ایس ٹی میں اپنا حصہ بدستور ملتا رہے گا۔ 2015 میں نیلامی کا نظام شروع ہونے کے بعد سے ریاستوں کو کوئلے سمیت کان کنی کے شعبے سے 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہو چکی ہے۔ اس وقت کان کنی کے شعبے سے حاصل ہونے والی تقریباً 96 فیصد آمدنی ریاستوں کو حاصل ہوتی ہے، جبکہ مرکز کو جی ایس ٹی کے توسط سے تقریباً 4 فیصد آمدنی ملتی ہے۔ اس کے بجائے یہ قانون کان کنی کے منصوبوں کو اقتصادی طور پر قابلِ عمل رکھنے کا مقصد رکھتا ہے، تاکہ زیادہ پیداوار، سرمایہ کاری اور کان کنی کی مسلسل سرگرمیوں کے نتیجے میں ریاستوں کے لیے زیادہ پائیدار آمدنی پیدا ہو۔ درحقیقت، گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریاستی معدنی آمدنی میں تقریباً 354 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 26-2025 میں تقریباً 82,366 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

سوال: یہ قانون معیشت کے لیے کس طرح مددگار ہے؟

ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی مالیاتی نظام قائم کرنے سے طویل مدتی پالیسی وژن صنعت کی مزید شرکت اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انہیں پہلے سے کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ استحکام سرمایہ کاری کو راغب کرے گا، اہم معدنیات کی پیداوار میں اضافہ کرے گا، درآمدات پر انحصار کم کرے گا اور ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

سوال: ریاستوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے معدنیاتی ٹیکس عام شہری کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟

معدنیات اسٹیل، بجلی، سیمنٹ اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بنیادی خام مال ہیں، جب ریاستیں معدنیات نکالنے کے مرحلے پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہیں تو اس سے ٹیکس پر ٹیکس لگنے کا اثر پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں معدنیات کی لاگت بڑھ جاتی ہے، پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر عام شہری کے لیے زندگی گزارنے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔

سوال: کیا یہ قانون صرف چند بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے؟

اس قانون کا مقصد کسی مخصوص کارپوریٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانا نہیں ہے۔ اس کا مقصد کان کنی کے شعبے میں ٹیکس کے ڈھانچے میں وضاحت، ضابطہ کاری اور قانونی اصلاحات لانا ہے۔ آج معدنیاتی بلاکس  من مانی طور پر مختص نہیں کیے جاتے۔ تمام بلاکس مسابقتی بولی کی بنیاد پر 100 فیصد شفاف ای-نیلامی کے ذریعے مختص کیے جاتے ہیں۔ 2014 سے پہلے جو نظام رائج تھا، وہ اب موجود نہیں ہے۔ آج معدنیاتی بلاکس کی تخصیص ذاتی صوابدیدیا اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سب سے زیادہ بولی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ تقریباً 725 معدنیاتی بلاکس کی نیلامی کی جا چکی ہے اور 105 بلاکس فعال ہو چکے ہیں۔ اسی طرح 141 کوئلے کی کانوں کی کامیابی کے ساتھ نیلامی کی گئی ہے، جن میں سے 23 فعال ہو چکی ہیں۔

نیلامی کا عمل سرکاری شعبے کی کمپنیوں، چھوٹی و درمیانی صنعتوں، اسٹارٹ اپس، بھارتی کمپنیوں اور عالمی کمپنیوں کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ نیلام کیے گئے 725 اہم معدنیاتی بلاکس میں 300 منفرد بولی دہندگان شامل ہیں۔ اسی طرح ملک میں اس وقت فعال تمام کانوں میں 337 منفرد کمپنیوں کے پاس کان کنی کی لیز موجود ہے۔اگر پرانے اور غیر یقینی ٹیکس مطالبات ماضی سے نافذ کیے جائیں یا ایک ہی وقت میں عائد کر دیے جائیں تو اس سے اسٹیل، سیمنٹ، ایلومینیم اور بجلی جیسے شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کا اثر بالآخر عام شہری تک بنیادی ڈھانچے، مکانات، بجلی اور دیگر ضروری اشیا و خدمات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں پہنچے گا۔یہ قانون ریاستی خزانے سے کسی کارپوریٹ ادارے کو رقم منتقل نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کے بقایا واجبات معاف کرتا ہے۔ یہ صرف ان محصولات کو منظم کرنے کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو کان کنی کے شعبے اور وسیع تر معیشت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کا مقصد قانونی تنازعات میں کمی لانا، پالیسی کے حوالے سے یقین دہانی فراہم کرنا اور ایک مستحکم و مسابقتی کان کنی کا شعبہ تشکیل دینا ہے، تاکہ صنعت اور ملک دونوں ترقی کر سکیں۔

 

سوال: کیا ترمیمی قانون کے ذریعے کیےگئےبدلاؤ معمولی معدنیات پر بھی نافذ ہوتےہیں؟

نہیں- ایم ایم ڈی آر ترمیمی قانون 2026 کا اطلاق ان معمولی معدنیات پر نہیں ہوتا جنہیں خصوصی طور پر ریاستی حکومتیں منظم اور کنٹرول کرتی ہیں۔ تقریباً 50 معمولی معدنیات اس زمرے میں شامل ہیں، جن میں ریت، بجری، مٹی، سلیکا، گرینائٹ، سنگِ مرمر، جپسم، لیٹرائٹ اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔ یہ قانون ان معمولی معدنیات کو منظم کرنے، ان کا انتظام کرنے یا ان پر ٹیکس عائد کرنے کے ریاستی حکومتوں کے اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔ لہٰذا ایسی معمولی معدنیات کے حوالے سے ریاستوں کے موجودہ ضابطہ جاتی اور مالیاتی اختیارات اس ایکٹ سے بدستور متاثر نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

وزارتِ کوئلہ

وزارتِ کان کنی

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

****

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. No-2329

 


(रिलीज़ आईडी: 2301292) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English