صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارتِ صحت نے جذام پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے اور اس کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے این ایل ای پی جائزہ وصلاحیت سازی ورکشاپ کا انعقاد کیا


ورکشاپ میں صحت کے حکام اور تکنیکی شراکت داروں نے جذام کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کے لیے بروقت تشخیص، رابطوں کی تلاش اور آخری سطح تک اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا

این ایل ای پی کے تحت ضلعی سطح پر تجربات کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کے عمل سے جذام کی بروقت تشخیص، فوری علاج اور کمیونٹی کی شمولیت کو مزید تقویت ملے گی

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 5:25PM by PIB Delhi

جذام  کو ختم کرنے اور اس نمٹنے کےدو روزہ قومی پروگرام (این ایل ای پی) جائزہ و استعداد سازی ورکشاپ آج مدھیہ پردیش کے اندورشہر میں شروع ہوئی۔ صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے مرکزی جذام ڈویژن (سی ایل ڈی) کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس ورکشاپ کا مقصد پروگرام کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانا، تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور جذام کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے (آئی او ٹی) کے ہدف کے حصول کے لیے مرکوز اقدامات کو تیز کرنا ہے۔

اس ورکشاپ میں 70 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (جذام)، مرکزی جذام ڈویژن کے افسران، آر ایل ٹی آر آئی رائے پور اور آسکا انسٹی ٹیوٹ کے نمائندے، ریاستی جذام افسران، چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسران، مدھیہ پردیش کے تمام 51 اضلاع کے ضلع سطح کے جذام افسران، ضلعی کنسلٹنٹس، تکنیکی ترقیاتی شراکت دار اور اے پی اے ایل کے ایک نمائندے شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001SCQK.jpg

اجلاس میں جذام کی وبائی صورتِ حال کا جائزہ لینے، پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لینے، عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے اور زمینی سطح کے تجربات و بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جذام کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کی آخری مرحلے کی حکمتِ عملی کے اہم اجزا کے طور پر بیماری کے ابتدائی کیسز کی بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے، بروقت علاج شروع کرنے اور اسے مکمل کرنے، معذوری سے بچاؤ اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

ورکشاپ کا آغاز مدھیہ پردیش کے ریاستی جذام افسر کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے خصوصی خطاب کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مدھیہ پردیش میں جذام کی وبائی صورتِ حال،جذام کے روک تھام سے متعلق قومی پروگرام (این ایل ای پی) کے تحت مرکوز حکمتِ عملیوں، جذام کے کیسز کی تشخیصی مہم (ایل سی ڈی سی) کے معیار اور نتائج کو بہتر بنانے، اور ماضی کے رابطوں کا سراغ لگانے اور مرکوز رابطہ جاتی سراغ رسانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ڈاکٹر سنیل وی گٹے، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (جذام) کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں پروگرام کےڈیٹا سے استفادہ کرتے ہوئے ان ترجیحی اضلاع اور علاقوں کی نشاندہی کی اہمیت اجاگر کی گئی جہاں زیادہ مؤثر نگرانی اور ہدفی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ مرکوز حکمتِ عملیوں پر عمل درآمد کے ذریعے جذام کے پھیلاؤ کی شرح کو فی 10,000 آبادی میں ایک سے کم کیا جائے، جبکہ منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کی آخری مرحلے کی کوششوں کے تحت بیماری کی بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے، بروقت علاج اور معذوری سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی قومی پروگرام افسر ڈاکٹر رشمی شکلا نے ’’جذام کے کیسز کی تشخیصی مہم (ایل سی ڈی سی) کے معیار اور نتائج میں بہتری‘‘ کے موضوع پر ایک تکنیکی اجلاس کی قیادت کی۔ اجلاس میں مہم کے نفاذ کے معیار کو بہتر بنانے اور کیسز کی تشخیص سے متعلق سرگرمیوں کی مؤثریت میں اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ایک اور تکنیکی اجلاس، جو آر ایل ٹی آر آئی رائے پور کے ڈاکٹر سندیپ جوگڈنڈ نے منعقد کیا، ’’ماضی کے رابطوں کا سراغ لگانے اور مرکوز رابطہ جاتی سراغ رسانی‘‘ کے موضوع پر مبنی تھا۔ اجلاس میں ایسے ممکنہ کیسز کی نشاندہی کے لیے رابطوں کا سراغ لگانے کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تکنیکی رہنمائی فراہم کی گئی جن کی تشخیص نہیں ہو سکی یا جو نظر سے رہ گئے ہوں، نیز متاثرہ برادریوں میں بیماری کی منتقلی کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے پر بھی توجہ دی گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0026YDL.jpg

تکنیکی طور پر غور و خوض کے بعد مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع کے ضلع سطح کے جذام افسران کے ساتھ غوروفکر اور تجربات کے تبادلے کا اجلاس منعقد ہوا۔ علی راج پور، انوپ پور، بڑوانی، برہان پور اور دھار سمیت مختلف اضلاع نے اپنے زمینی تجربات پیش کیے، جن میں پروگرام کی کارکردگی، عملی چیلنجز، ترجیحی شعبوں اور بیماری کی بروقت تشخیص، فوری علاج اور معذوری سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضلع سطح پر کیے جا رہے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

تجربات کے تبادلے کے اس اجلاس سے ضلعی ٹیموں کے درمیان باہمی سیکھنے کے عمل کو بھی فروغ ملا اور پروگرام کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اور قابلِ تقلید طریقۂ کار کی نشاندہی کا موقع فراہم ہوا۔ اے پی اے ایل کے نائب صدر نے جذام کے ابتدائی کیسز کی بروقت تشخیص اور برادری کی سطح پر اقدامات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنے تجربات اور عملی بصیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پروگرام کے نفاذ میں جذام سے متاثرہ افراد کے نقطۂ نظر کو شامل کرنے اور برادری کی شمولیت کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

دو روزہ ورکشاپ 20 اگست 2026 کو بھی جاری رہے گی، جس میں مزید غور و خوض اور استعداد سازی کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد ضلع سطح کی حکمتِ عملیوں کو مزید مستحکم کرنا، پروگرام کے نفاذ کو مضبوط بنانا اور جذام کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے مرکوز اقدامات کو تیز کرنا ہے۔

******

ش ح۔م م ع۔اش ق

U. No. 2328


(रिलीज़ आईडी: 2301287) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil