عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

عوامی انتظامیہ اور طرزحکمرانی میں اصلاحات کے شعبے میں تعاون سے متعلق بھارت۔ملیشیاء مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا


بھارت اور ملیشیاء نے عوامی انتظامیہ، طرزحکمرانی میں اصلاحات، صلاحیت سازی اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا

دونوں ملکوں نے نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) اور ملیشیاءکے پبلک سروس ڈپارٹمنٹ کے درمیان جاری پروگراموں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 4:03PM by PIB Delhi

عوامی انتظامیہ اور  طرزحکمرانی میں اصلاحات کے شعبے میں تعاون سے متعلق بھارت-ملیشیاء مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا دوسرا اجلاس 18 اگست 2026 کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ طور پر صدارت محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پُنیت یادو اورملیشیاءکے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف پبلک سروس (ڈیولپمنٹ) جناب داتوک ڈاکٹر محمد بخاری بن اسماعیل نے کی۔بھارت کی جانب سے ڈی اے آر پی جی، وزارتِ خارجہ( ایم ای اے)، بشمول کوالالمپور میں واقع بھارتی ہائی کمیشن اور نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) کے اعلیٰ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

1.jpeg

ملیشیاءکے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جناب پُنیت یادو نے بھارت اور م ملیشیاء کے درمیان طویل عرصے سے قائم کثیرجہتی تعلقات کو اجاگر کیا، جو عوام سے عوام کے تعلقات  کی جڑوں میں گہرائی سے پیوست ہیں اورمشترکہ اقدار اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2024 میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک توسیع دی گئی اور فروری 2026 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ملیشیاء کے دورے سے دوطرفہ تعاون کو مزید تقویت ملی۔

مشترکہ ورکنگ گروپ( جے ڈبلیو جی) نے 13 نومبر 2024 کو منعقد ہونے والے اپنے پہلے اجلاس کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پہلے اجلاس کی کارروائی کی توثیق اور منظوری دی گئی، جبکہ طے شدہ سرگرمیوں کے درمیان رابطہ کاری اور ان پر عمل درآمد کو آسان بنانے کے لیے دونوں جانب سے رابطہ افسران مقرر کیے گئے۔

بھارتی تکنیکی و اقتصادی تعاون (آئی ٹیک) پروگرام کے تحت جاری صلاحیت سازی کے تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملیشیاء کی جانب سے تعلیمی ماڈیولز، ادارہ جاتی اور فیلڈ دوروں، پروگرام کی رابطہ کاری اور شرکا کے لیے فراہم کی جانے والی میزبانی کے حوالے سے مثبت رائے پیش کی گئی۔ 2026 اور 2027 کے گروپس کے لیے مجوزہ صلاحیت سازی کے پروگراموں پر بھی بات چیت ہوئی۔ ملیشیائی فریق نے اعلیٰ سطح کے ملیشیائی افسران کے لیے خصوصی نوعیت کے پروگرام شروع کرنے کی تجویز پر غور کرنے کا خیرمقدم کیا۔

2.jpeg

اجلاس میں سرکاری شعبے کو جدید بنانے اور حکمرانی میں اصلاحات کے حوالے سے تجربات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ ملیشیاءنے عوام، طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرکاری شعبے میں تبدیلی کے اپنے طریقۂ کار سے آگاہ کیا، جس میں اختراع کو ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ بات چیت میں ڈیجیٹل حکومت، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ خدمات، مشترکہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، سائبر سکیورٹی، بلاک چین، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی اور مربوط حکومتی نظام جیسے موضوعات شامل رہے۔ اس دوران شہریوں کو مزید آسان، تیز رفتار اور شہری مرکوز سرکاری خدمات فراہم کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔

بھارتی فریق نے مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام (سی پی گرامس) کے تحت شہریوں کی شکایات کے مرکزی ازالے کے نظام سے متعلق معلومات پیش کیں، جو شکایات کے ازالے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن دستیاب ڈیجیٹل شہری رابطہ پلیٹ فارم ہے۔ ’سمادھان دی دی‘ محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر بی جی)کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ مؤثر، شفاف اور شہری مرکوز حکمرانی کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی وائس چیٹ بوٹ ’سمادھان دی دی‘ کو 30 مئی 2026 کو شروع کیا گیا تھا، جس کے ذریعے سی پی گرامس کو مزید قابلِ رسائی، کثیر لسانی اور شہریوں پر مرکوز بنایا گیا ہے۔ یہ چیٹ بوٹ گفتگو پر مبنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو فوری، آسان اور صارف دوست جوابات فراہم کرتا ہے۔

ملیشیاء کی جانب سے ’ملیشیاء-بھارت طرز حکمرانی شراکت داری: 2027-2029 اسٹریٹجک روڈ میپ‘ کا ایکشن پلان پیش کیا گیا۔ اس پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جس کے ذریعے حکمرانی اور عمل درآمد کا ایک فریم ورک وضع کرنے اور مفاہمت کی عرضداشت کے تحت طے شدہ شعبوں میں اقدامات پر عمل درآمد کے لیے تین سالہ لائحۂ عمل تیار کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔

3.jpeg

ملیشیائی فریق نے محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی)، نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) اور بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو سراہا۔ دونوں ملکوں نے تجربات اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کا خیرمقدم کیا اور تعاون کے لیے ٹھوس، عملی اور نتائج پر مبنی شعبوں کی نشاندہی کرنے پر اتفاق کیا۔اجلاس کا اختتام ادارہ جاتی روابط، علم کے تبادلے اور صلاحیت سازی کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا، جس کا مقصد سرکاری اداروں کو مضبوط بنانا، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے تجربے کو مزید بہتر بنانا ہے۔

****

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. No-2323


(रिलीज़ आईडी: 2301220) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu