PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی مکھانہ صنعت:روایتی فصل سے عالمی سپر فوڈ تک

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 10:24AM by PIB Delhi

Text Box: Makhana, or fox nut, has emerged as a fast-growing agri-food product in India. This is due to its nutritional value, rising health awareness, and increasing global demand. India is the world's largest producer of makhana. Bihar contributes nearly three-fourths of the country's production and around 80–85 percent of the global supply. In 2025–26, India exported 7,264.89 MT of makhana products (export value ₹19296.08 lakh). Domestic prices also increased significantly due to strong demand for healthy and premium snacks. Government initiatives, including the National Makhana Board and the ₹476.03 crore Central Sector Scheme, support research, processing, branding, exports, and farmers. With growing domestic and international demand, makhana has strong potential to increase farmer incomes. It can also generate rural employment and strengthen India's agri-food exports.

مکھانہ:بھارت میں سپر فوڈ کا شعبہ تیزی سے ترقی کی رہ پر

 

 

 

مکھانہ، جسے سائنسی طور پر ایوریالے فیروکس کہا جاتا ہے، ایک آبی فصل ہے جو بنیادی طور پر کم گہرے تالابوں، جھیلوں اور آبی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس پودے کا قابلِ استعمال حصہ اس کا بیج ہے۔ بھوننے یا پراسیس کرنے کے بعد اس بیج کو پھلا کر فاکس نٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت دنیا میں مکھانہ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس برتری کو سازگار زرعی موسمی حالات اور مکھانہ کی طویل عرصے سے جاری کاشت کے روایتی طریقوں سے تقویت ملتی ہے، خاص طور پر بہار، مغربی بنگال اور آسام میں۔

گزشتہ برسوں کے دوران مکھانہ بہار کی ایک روایتی غذا سے ترقی کرتے ہوئے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی صحت بخش غذا بن گیا ہے۔ اس تبدیلی میں صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری اور حکومت کی معاون پالیسیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مکھانہ سے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنے والے نئے کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کسان پیداوار تنظیموں(ایف پی اوز) کے بڑھتے ہوئے کردار نے بھی اس شعبے کی توسیع میں نمایاں تعاون کیا ہے۔مکھانہ کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے مرکزی بجٹ 2025-26 میں قومی مکھانہ بورڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس بورڈ کا باقاعدہ آغاز 15 ستمبر 2025 کو بہار میں کیا گیا۔ یہ اقدام مکھانہ کی پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے حکومت نے مکھانہ کی ترقی کے لیے مرکزی شعبے کی ایک اسکیم منظور کی ہے، جس کے تحت 26-2025 سے 31-2030 تک کی مدت کے لیے مجموعی طور پر 476.03 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد تحقیق اور اختراع کو فروغ دینا، معیاری بیجوں کی دستیابی بہتر بنانا اور کسانوں کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو مضبوط کرنا ہے۔اس کے علاوہ، اسکیم کے تحت مکھانہ کی پیداوار اورپیداوار کے طور طریقوں کو بہتر بنانے، فصل کے بعد کے انتظامات کو جدید بنانے، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور معیار پر کنٹرول کے نظام کو مزید مستحکم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔مکھانہ کی ترقی کے لیے مرکزی شعبے کی اس اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 کے لیے 30 کروڑ روپے اور مالی سال 27-2026 کے لیے 90 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

بھارت میں مکھانہ کی تیزی سے ترقی

 

 

 

بھارت مکھانہ کی پیداوار میں بدستور دنیا بھر میں واضح طور پر سرفہرست ہے۔ بھارت کی مکھانہ پیداوار میں بہار کا حصہ تقریباً تین چوتھائی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں مکھانہ کی مجموعی رسد میں بہار تقریباً 80 سے 85 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔ مکھانہ کی کاشت بنیادی طور پر شمالی بہار میں مرکوز ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003Z2ML.jpg

یہ خاص طور پر کوسی طاس کے اضلاع سپول، سہرسہ اور مدھے پورہ کے علاوہ متھیلا اور سیمانچل خطوں کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اس طرح بہار مکھانہ کے پورے شعبے کا مرکزی مرکز بن گیا ہے۔

25-2024 میں زراعت اور کسانوں کے بہبود کےمحکمہ کے باغبانی شماریات یونٹ کے حتمی تخمینے کے مطابق، بھارت میں مکھانہ کی مجموعی پیداوار 63,910 میٹرک ٹن رہی، جبکہ فی ہیکٹر اوسط پیداواریت 2.03 میٹرک ٹن رہی۔26-2025 کے دوسرے پیشگی تخمینوں کے مطابق، بھارت میں مکھانہ کی مجموعی پیداوار 80,590 میٹرک ٹن رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ فی ہیکٹر اوسط پیداواریت 2.34 میٹرک ٹن ہے۔ بہار ملک میں مکھانہ کا سب سے زیادہ پیدا کرنے والی ریاست ہے، جہاں 26-2025 میں مکھانہ کی پیداوار 60,000 میٹرک ٹن اور فی ہیکٹر اوسط پیداواریت 2.00 میٹرک ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔

روایتی طور پر مکھانہ کی کاشت تالابوں میں کی جاتی رہی ہے، تاہم اب کھیتوں میں کاشت کے جدید طریقوں اور سوارنا ویدیہی اور سبور مکھانہ-1جیسی بہتر اقسام کے استعمال سے پیداواریت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس شعبے کی ترقی میں زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ، پیداواریت میں بہتری اور کاشت سے وابستہ خطرات میں کمی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

Text Box: Makhana-Geographical Indication (GI) Tag“Mithila Makhana” has been granted a GI tag, recognizing the unique quality, reputation, and traditional knowledge associated with makhana produced in the Mithila region of Bihar. The GI status provides legal protection, enhances market differentiation, and strengthens branding potential in domestic and international markets.

مکھانہ کی منڈی میں ملکی پیداوار اور کھپت کی صورتِ حال

 

 

 

بھارت ہر سال 0.6 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ مکھانہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 40 فیصد، یعنی قریباً 0.23 سے 0.25 لاکھ میٹرک ٹن مکھانہ برآمد کیا جاتا ہے، جبکہ باقی مقدار ملک میں ہی استعمال ہوتی ہے۔ صاف ستھری اور قدرتی اجزا پر مشتمل غذاؤں اور نباتاتی سپر فوڈز کی عالمی طلب میں اضافے کے باعث بھارت کی مضبوط پیداواری بنیاد مکھانہ کو بین الاقوامی منڈیوں میں ایک اعلیٰ معیار کی اسنیک کے طور پر مستحکم مقام دلانے میں مدد دے رہی ہے۔

ملک میں مکھانہ کی منڈی نے 2022-2021 سے 25-2024 کے دوران سالانہ 17 سے 18 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ اس ترقی کے اہم عوامل میں صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری، اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور برانڈڈ مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کا پھیلاؤ شامل ہیں۔ ملکی سطح پر مضبوط مانگ نے برآمدی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بھی اس شعبے کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد کی ہے۔

توقع ہے کہ 30-2029 تک مکھانہ کی ملکی منڈی 11,000 سے 12,000 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران مکھانہ کی پیداوار میں صرف 4 سے 5 فیصد اضافہ ہوا۔ مکھانہ کی اوسط قیمت 2020 سے 2022 کے دوران تقریباً 500 روپے فی کلوگرام تھی، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 1,250 روپے فی کلوگرام ہو گئی۔ قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں صحت بخش اسنیکس کی بڑھتی ہوئی طلب، پریمیم برانڈنگ اور رسد میں محدود اضافہ شامل ہیں۔

تخمینہ شدہ ماہانہ ملکی کھپت (پھولا ہوا مکھانہ)

بھارت میں پھولے ہوئے مکھانے کی ماہانہ ملکی کھپت کا تخمینہ 3,000 سے 3,500 میٹرک ٹن ہے۔ تہواروں کے موسم میں، جب اسنیکس کی طلب عروج پر ہوتی ہے، کھپت بڑھ کر تقریباً 5,000 میٹرک ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔

ملکی کھپت میں برانڈڈ تیزی سے فروخت ہونے والی اشیائے صرف (ایف ایم سی جی) اور منظم اسنیک تیار کرنے والے اداروں کا حصہ ماہانہ 1,800 سے 2,000 میٹرک ٹن ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس شعبے میں پریمیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور خوردہ بازار تک رسائی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ کھلے اور غیر منظم خوردہ کاروبار کا حصہ ماہانہ 1,200 سے 1,400 میٹرک ٹن ہے۔ خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور بازاروں میں اس کی اہمیت برقرار ہے، اگرچہ پیک شدہ مصنوعات کی مقبولیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔

مقامی کھیتوں سے عالمی منڈیوں تک: برآمداتی سفر

 

 

 

2025 سے پہلے مکھانہ کو عام ہم آہنگ نظامِ نام گذاری (ایچ ایس این) کوڈز کے تحت درجہ بند کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے مکھانہ سے متعلق مخصوص برآمدی اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے 2025 میں پھولے ہوئے مکھانے اور مکھانے سے تیار دیگر مصنوعات کے لیے الگ ایچ ایس این کوڈ متعارف کرایا۔2025-26 میں بھارت نے مکھانے سے تیار مصنوعات کی 7,264.89 میٹرک ٹن مقدار برآمد کی، جن کی مجموعی برآمدی مالیت 19,296.08 لاکھ روپے رہی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0054CS1.jpg

بھارت کی مکھانہ برآمدی منڈیاں چند ممالک تک محدود ہیں۔ امریکہ (40 فیصد)، کینیڈا (20 فیصد) اور متحدہ عرب امارات (17 فیصد) مل کر مکھانہ کی کل برآمدات کا 77 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ تاہم، زیادہ حجم والی ان منڈیوں میں مکھانے کی فی یونٹ قیمت نسبتاً کم ہے؛ امریکہ میں 19.5 ڈالر فی کلوگرام، کینیڈا میں 15.8 ڈالر فی کلوگرام اور متحدہ عرب امارات میں 13.3 ڈالر فی کلوگرام ہے۔اس کے مقابلے میں جرمنی (26.0 ڈالر فی کلوگرام)، نیپال (21.6 ڈالر فی کلوگرام) اور آسٹریلیا (21.0 ڈالر فی کلوگرام) جیسی چھوٹی منڈیاں کم مقدار، یعنی 1 سے 5 فیصد، کے باوجود مکھانے کی زیادہ قیمت فراہم کرتی ہیں۔ برطانیہ ایک متوازن صورتِ حال پیش کرتا ہے، جہاں اس کی منڈی کا حصہ 10 فیصد ہے اور اوسط قیمت تقریباً 20 ڈالر فی کلوگرام ہے۔یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اور خلیجی منڈیوں سے آگے بڑھ کر زیادہ قیمت ادا کرنے والے خطوں کو ہدف بنا کر برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور مجموعی برآمدی آمدنی میں اضافہ کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

مکھانہ کی کاشت میں توسیع اور کسانوں کی مدد کو مزید مستحکم کرنا

 

 

 

اس اسکیم کے تحت مختلف ریاستوں میں مزید 1,010 ہیکٹر رقبے کو مکھانہ کی کاشت کے تحت لایا گیا ہے، جبکہ 73 ہیکٹر رقبے کو بیج کی پیداوار کے پروگرام کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ مکھانہ کی بہتر پیداواری ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کرنے کے لیے مجموعی طور پر 89 فرنٹ لائن مظاہرے (ایف ایل ڈیز) منعقد کیے گئے۔کسانوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ریاستی زرعی یونیورسٹیوں (ایس اے یوز)، مرکزی زرعی یونیورسٹیوں (سی اے یوز)، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے اداروں وغیرہ میں سیمینار، مطالعاتی دورے اور تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔مکھانہ کی ترقی کے لیے مرکزی شعبے کی اسکیم کے تحت 2025-26 میں ملک بھر کے مجموعی طور پر 8,159 کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

کرکرے ذائقے کے پیچھے سائنس: مکھانے کی غذائی برتری

 

 

 

مکھانہ غذائیت سے بھرپورایک غذا ہے، جس میں کاربوہائیڈریٹس، اعلیٰ معیار کی پروٹین، غذائی ریشہ اور میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس اور آئرن جیسے ضروری خرد غذائی اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اس میں سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے اور یہ کولیسٹرول سے پاک ہے، جس کی وجہ سے یہ مختلف غذائی ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے موزوں غذا بن جاتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0060D89.jpg

مکھانہ اپنی غذائی خصوصیات اور صحت سے متعلق فوائد کی وجہ سے بے حد اہمیت رکھتا ہے اور اسے تیزی سے ایک عالمی سپر فوڈ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس میں گلائیسیمک لوڈ کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ذیابیطس پر قابو رکھنے والے افراد کے لیے موزوں غذا ہے۔ یہ دل کی صحت کو بہتر بنانے، نظامِ ہاضمہ کو تقویت دینے میں بھی معاون ہے اور اسے عمر رسیدہ ہونے کے اثرات کو کم کرنے والی خصوصیات کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکھانے کی غذائی ترکیب عام طور پر استعمال کیے جانے والے کئی خشک میووں، مثلاً بادام، اخروٹ اور کاجو کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔

اس میں چکنائی کی مقدار بہت کم، یعنی فی 100 گرام صرف 0.33 گرام ہوتی ہے۔ یہ غذائی ریشے سے بھرپور ہے، مختلف ضروری امائنو ایسڈز فراہم کرتا ہے اور اس میں تقریباً 95 فیصد پروٹین قابلِ ہضم ہوتی ہے۔ اس کے ضروری امائنو ایسڈز کا اشاریہ اور کیمیائی اسکور مچھلی کے پروٹین کے برابر پائے جاتے ہیں۔

سپر فوڈ کی تیاری: بیج سے اسنیک تک

 

 

 

مکھانہ کی پیداوار میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو مل کر اس کی ویلیو چین تشکیل دیتے ہیں۔ کھیت کی سطح پر مکھانے کی فصل کی کاشت اور بیجوں کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ صفائی اور خشک کرنا بنیادی پروسیسنگ کے مراحل ہیں۔ بھوننے یا پھلانے، درجہ بندی، پالش کرنے اور پیکنگ جیسے کام ثانوی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے زمرے میں آتے ہیں۔

کاشت کی سطح پر پیداوار

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image008FKHH.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007BGGX.jpg

کاشت کی سطح پر پیداوار میں تالابوں کی تیاری، بیجوں کی چھٹائی، فصل کا انتظام اور آبی ذخائر سے مکھانے کی دستی کاشت شامل ہے۔ یہ مرحلہ انتہائی محنت طلب ہے اور اس میں ماہر افرادی قوت کی دستی محنت پر انحصار کیا جاتا ہے۔ بیجوں کو جمع کرنا خاص طور پر دشوار کام ہے، کیونکہ یہ پانی کے اندر کیا جاتا ہے۔ مکھانے کی کاشت میں اب بھی روایتی طریقے غالب ہیں اور اس شعبے میں مشین کے استعمال کی سطح محدود ہے۔

بنیادی پروسیسنگ

مکھانے کی بنیادی پروسیسنگ زیادہ تر گھریلو یا گاؤں کی سطح پر روایتی آلات اور طریقوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس عمل کا آغاز خام بیجوں کو خشک کرنے اور صاف کرنے سے ہوتا ہے، جس کے بعد انہیں زیادہ درجۂ حرارت پر بھونا جاتا ہے۔ گرم کیے گئے بیجوں کو پھر پھلایا جاتا ہے، جس سے مکھانہ اپنی ہلکی پھلکی اور خستہ شکل اختیار کر لیتا ہے، جسے عام طور پر اسنیک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پھلانے کے بعد مکھانے کو پالش کیا جاتا ہے اور سائز اور معیار کے مطابق چھانٹ کر مختلف درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بڑے اور اعلیٰ معیار کے مکھانے کو منڈی میں زیادہ قیمت ملتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image009CZ56.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image010WUEA.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image011CR9I.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0129HMQ.jpg

ثانوی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0148DHA.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image013699H.jpg

حتمی مصنوعات، یعنی پھولے ہوئے مکھانے کو پالش کرکے پیک کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ثانوی پراسیسنگ روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر وسیع ہو گئی ہے۔ اب اس میں مختلف ذائقوں والا مکھانہ، کھانے کے لیے تیار اسنیکس، مکھانے کا آٹا اور دیگر مصنوعات بھی شامل ہیں۔ یہ شعبہ ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مکھانہ سے متعلق تحقیق کا قومی مرکز (این آر سی ایم)

 

 

 

مکھانہ  سے متعلق تحقیق کا قومی مرکز (این آر سی ایم) تحقیق اور استعداد سازی کے ذریعے بھارت میں مکھانہ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مرکز پورے شعبے میں مکھانہ کی بہتر کاشت اور پروسیسنگ کے طریقوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔ این آر سی ایم نے زیادہ پیداوار دینے والی مکھانے کی اقسام اور کانٹے سے پاک آبی سنگھاڑے کی اقسام تیار کی ہیں، پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی مربوط زرعی نظام متعارف کرائے ہیں اور مکھانہ کے ساتھ مچھلی کی مشترکہ کاشت کا نظام بھی شروع کیا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران این آر سی ایم نے کسانوں، کرشی وگیان کیندروں اور مختلف اداروں کو زیادہ پیداوار دینے والے مکھانے کے 15,824.1 کلوگرام بیج فراہم کیے ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھانے والے اہم اداروں میں نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ)، ریاستی ماہی پروری کے محکمے، بہار ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ سوسائٹی اور دیگر ادارے شامل ہیں۔

2012 سے 2023 کے دوران 3,000 سے زائد کسانوں کو مکھانے کی بہتر کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے طریقوں کی تربیت دی گئی ہے۔ تربیت میں پانی کے مؤثر استعمال، موزوں فصل نظام اور متوازن غذائی اجزا کے انتظام پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مرکز نے 24 کاروباری اداروں کو تکنیکی معاونت بھی فراہم کی ہے، جس سے دیہی روزگار کے ذرائع کو تقویت ملی ہے اور مکھانہ پر مبنی زرعی صنعتوں کی ترقی میں مدد ملی ہے۔

صلاحیت سازی کی ان کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی مکھانہ تحقیق مرکز (این آر سی ایم)نے ریاستی زرعی یونیورسٹیوں اور مرکزی زرعی یونیورسٹی، بہار کے ساتھ مل کر تربیت دینے والوں کی تربیت کے طریقۂ کار کی تجویز پیش کی ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد مکھانہ کی پوری ویلیو چین میں توسیعی خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس کے دائرے میں کاشت، پروسیسنگ، درجہ بندی، خشک کرنا، پھلانا، پیکنگ اور برانڈنگ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، این آر سی ایم نے مکھانہ پھلانے اور ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی تیاری کے لیے کئی آلات اور مشینیں بھی تیار کی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنیادوں پر تیار اور فروخت کرنے کے لیے مینوفیکچررز کو لائسنس دیا گیا ہے۔ ان میں مکھانے کے بیج دھونے کی مشین، بیجوں کی درجہ بندی کرنے والی مشین، ابتدائی بھونائی کی مشین، مکھانہ پھلانے کی مشین اور پھولے ہوئے مکھانے کی درجہ بندی کرنے والی مشین شامل ہیں۔ مختلف ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنے کی ٹیکنالوجیز بھی تجارتی استعمال کے لیے منتقل کی گئی ہیں۔

مکھانہ، غذائیت، کسانوں اور عالمی منڈیوں کو جوڑنے والی فصل

 

 

 

مکھانہ بھارت کے تیزی سے ترقی کرنے والے زرعی غذائی شعبوں میں سے ایک اہم غذا بن کر ابھرا ہے۔ صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری، ملکی طلب میں مسلسل اضافے اور برآمدات کے مضبوط امکانات نے اس شعبے کی ترقی کومزید رفتار دی ہے۔ سازگار زرعی موسمی حالات، روایتی مہارت اور مسلسل تکنیکی ترقی کی بدولت بھارت عالمی سطح پر مکھانہ کی پیداوار میں بدستور سرفہرست ہے۔

قومی مکھانہ بورڈ کا قیام اس شعبے کی پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ قومی مکھانہ تحقیق مرکز جیسے ادارے تحقیق کو آگے بڑھانے، کسانوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنے اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

صحت بخش، نباتاتی اور اعلیٰ معیار کی غذائی مصنوعات کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں مکھانہ کسانوں کی آمدنی میں اضافے، دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور زرعی برآمدات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

حوالہ جات

 

 

 

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کی وزارت

https://horticulture.bihar.gov.in/HORTMIS/BAIPP/Downloads/ModelDPRMakhana.pdf

https://horticulture.bihar.gov.in/MainSite/Documents/Publication/Makhana.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2203165&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099490&reg=3&lang=2

تجارت اور صنعت کی وزارت

https://apeda.gov.in/sites/default/files/study_reports/Makhana_Report_English.pdf

https://apeda.gov.in/sites/default/files/2026-01/MIC_November_Monthly_dashboard_Makhana_311225.pdf

https://icrier.org/pdf/SBrief_Makhana.pdf

خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صعنت کی وزارت

https://pmfme.mofpi.gov.in/pmfme/newsletters/enewsmakhanaspecial6.html

PIB Backgrounder

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150318&reg=3&lang=2

See PDF

******

ش ح۔م م ع۔اش ق

U. No. 2311


(रिलीज़ आईडी: 2301202) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Bengali , हिन्दी , Bengali-TR , Gujarati