کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

 تجارت کی محکمےنے برآمد کنندگان کے لیے یورپی یونین کے سی بی اے ایم ضوابط سے متعلق بیداری اجلاس منعقد کیا


بھارتی برآمد کنندگان میں بیداری اور تیاری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے این اے بی سی بی اور ای ای پی سی کے اشتراک سے اجلاس منعقد کیا گیا

برآمد کاروں کو سی بی اے ایم کی ذمہ داریوں، مصنوعات میں شامل کاربن کے اخراج، اعداد و شمار کی رپورٹنگ، منظوری اور تصدیق کے طریقۂ کار سے واقف کیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 18 AUG 2026 10:09PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کی وزارت  کے تجارت کے محکمےنے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار سرٹیفکیشن باڈیز (این اے بی سی بی) اور انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ای ای پی سی) کے اشتراک سے آج نئی دہلی کے وانجیہ بھون میں برآمد کنندگان کے لیے یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (یورپی یونین سی بی اے ایم) کے ضوابط سے متعلق بیداری اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں برآمد کاروں اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد سمیت تقریباً 100 شرکاء نے حصہ لیا۔ مذکورہ اجلاس کا مقصد سی بی اے ایم کے تحت تبدیل ہوتے ہوئے ضابطہ جاتی تقاضوں کے حوالے سے بھارتی برآمد کاروں  میں بیداری اور تیاری کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

تکنیکی اجلاس میں شرکاء کو یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (یورپی یونین سی بی اے ایم) کے نظام، اس کے دائرۂ کار اور اس کے تحت آنے والی مصنوعات، برآمد کنندگان کی ذمہ داریوں، مصنوعات میں شامل کاربن اخراج کے حساب، اعداد و شمار جمع کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کے تقاضوں، نیز منظوری اور تصدیق کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ لوہے اور فولاد اور ایلومینیم کے شعبوں سے متعلق عملی کیس اسٹڈیز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا تاکہ برآمد کاروں کو ان تقاضوں کے عملی اطلاق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکے۔

مذکورہ اجلاس نے برآمد کاروں اور صنعتی نمائندوں کو سی بی اے ایم کے ضابطہ جاتی اور تکنیکی پہلوؤں کو سمجھنے اور تعمیل و رپورٹنگ سے متعلق امور پر وضاحت حاصل کرنے کے لیے ایک باہمی تبادلۂ خیال کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس اجلاس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پائیداری سے متعلق ضابطہ جاتی تقاضے بین الاقوامی تجارت کے لیے تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں، اس لیے بروقت بیداری اور مناسب تیاری نہایت ضروری ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجارت کے محکمے کے جوائنٹ سکریٹری جناب امیت ورما نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی برآمد کنندگان کو بین الاقوامی منڈیوں میں پائیداری سے متعلق ابھرتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مناسب معلومات اور تیاری سے لیس ہونا چاہیے۔ سکریٹری موصوف  نے برآمد کاروں میں بیداری پیدا کرنے اور نئے ضابطہ جاتی تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں سہولت فراہم کرنےکی خاطر متعلقہ محکمہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنعتی شعبے کا محکمہ،متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور بھارتی برآمد کاروں کے خدشات دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے عملی اور قابلِ عمل حل فراہم کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔

اجلاس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار سرٹیفکیشن باڈیز (این اے بی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو افسر جناب این وینکٹیشورَن نے اخراج سے متعلق اعداد و شمار پر اعتماد پیدا کرنے اور سی بی اے ایم کے تقاضوں کی تعمیل میں معاونت کے لیے ایک قابلِ اعتماد منظوری اور تصدیقی نظام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

ای ای پی سی کے چیئرمین جناب پنکج چڈھا نے برآمدی سلسلے سے وابستہ تمام فریقوں میں بیداری اور تیاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جناب چڈھا نے سپلائرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے اخراج سے متعلق مناسب اعداد و شمار کی دستیابی کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے بھارتی برآمد کنندگان کے لیے ضوابط کی تعمیل کو سہل  بنانے کے لیے مؤثر تصدیقی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

 کامرس کے محکمہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ برآمد کنندگان، صنعتی انجمنوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے پائیداری سے متعلق ابھرتے ہوئے تجارتی ضوابط کے بارے میں بیداری اور استعداد پیدا کرنے اور عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے لیے بھارتی صنعت کی تیاری کو یقینی بنانے میں سہولت فراہم کرتا رہے گا۔

اجلاس کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور صنعتی نمائندوں و برآمد کنندگان کے ساتھ تبادلۂ خیال سے ہوا، جس میں شرکاء کو یورپی یونین کے سی بی اے ایم اور اس کے نفاذ کے مختلف پہلوؤں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا موقع حاصل ہوا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ ش م ۔ع ن)

U. No. 2295


(रिलीज़ आईडी: 2301059) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी