عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
اےآئی، کوانٹم ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ذرائع طرز حکمرانی میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ لیٹرل انٹری افسران کے لیے 15 روزہ ریفریشر کورس مکالمے ، مسلسل سیکھنے اور رائے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ، انہیں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کردہ انڈیا 47 کے معمار کے طور پر ان کے کردار کی یاد دلاتا ہے
سرکاری افسران کے لیے حکومت، سیاسی عہدیداروں، ذرائع ابلاغ اور شہریوں کے ساتھ مؤثر رابطے کے لیے مضبوط ابلاغی صلاحیتیں ضروری ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
18 AUG 2026 4:42PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت)، کوانٹم ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ذرائع طرزحکمرانی میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکمرانی کے طریقہ کار اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر سول سروس کے افسران کے لیے مسلسل سیکھنے اور خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
لیٹرل انٹری کے ذریعے مقرر کیے گئے جوائنٹ سکریٹریوں، ڈائریکٹروں اور ڈپٹی سکریٹریوں کے لیے 15 روزہ ریفریشر کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے انتظامی ماحول میں افسران کو ہمیشہ سیکھنے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور اپنے علم و مہارت کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہنا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ریفریشر کورس کو محض لیکچرز دینے کے پلیٹ فارم کے بجائے دو طرفہ ابلاغ اور مکالمے کے ذریعے سیکھنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ شرکا خاطر خواہ پیشہ ورانہ تجربہ اور پختگی حاصل کر چکے ہیں، اس لیے انہیں مباحثوں میں فعال طور پر حصہ لینا چاہیے اور اپنی تعلیمی و تربیتی ضروریات کے بارے میں اپنی آرا اور تجاویز پیش کرنی چاہیے۔
وزیر موصوف نے ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کی رفتار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ذرائع میں ہونے والی پیش رفت طرزحکمرانی اور انتظامی عمل کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو مؤثر طور پر سمجھنے اور ان کے مطابق ردِعمل دینے کے لیے افسران کا مسلسل سیکھتے رہنا ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سرکاری افسران کی اس اضافی ذمہ داری پر بھی زور دیا کہ وہ آئینی ذمہ داریوں اور حکومتی اداروں کے وقار و تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے سرکاری حکومت کے اہم پروگراموں کی مؤثر عمل آوری کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پروگراموں پر عمل درآمد اور ان کی نگرانی کو آسان بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔
ریفریشر کورس کے نصاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے پالیسی تجزیے، ڈیجیٹل تبدیلی، بلدیاتی مالیات(میونسپل فائننس)، عوامی صحت(پبلک ہیلتھ)، سائبر سکیورٹی، تعلیم اور حکومتی ابلاغ جیسے شعبوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومتی ابلاغ میں عوامی رابطہ بھی شامل ہونا چاہیے، کیونکہ سرکاری افسران کی ابلاغی ذمہ داریاں مسلسل وسیع ہو رہی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ ذمہ دارانہ طرزحکمرانی کے لیے مؤثر ابلاغ اب ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے سرکاری افسران کے لیے ابلاغ کی چار اہم سطحوں ،حکومتی عہدیداروں اور ساتھی افسران کے ساتھ ابلاغ، سیاسی عہدیداروں کے ساتھ رابطہ، ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطہ اور عام لوگوں کے ساتھ رابطہ کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار سمیت ابلاغی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر افسران کے لیے مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
وزیر موصوف نے مختلف شعبوں سے نئی صلاحیتوں، نئے خیالات اور کام کرنے کے نئے انداز کو شامل کرنے کے لیے طریقہ کار کو ادارہ جاتی شکل دینے کی اہمیت اجاگر کی۔ لیٹرل انٹری کے لیے اختیار کیے گئے ادارہ جاتی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 63 افسران اس نظام کے ذریعے سرکاری خدمات میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے 15 روزہ ریفریشر پروگرام کو وسط ملازمت کے تربیتی کورس کی ایک شکل قرار دیا، جس کا مقصد افسران کے پیشہ ورانہ سفر کے دوران ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا اور مدد فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) جیسے اداروں کی رسائی کو وسیع کرنے اور انہیں یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے دیگر اداروں اور ایجنسیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رسائی مرکزی اور ریاستی حکومتوں، سرکاری اداروں اور منتخب نمائندہ اداروں تک پھیلی ہوئی ہے، جبکہ کارپوریٹ اور نجی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بھی کورسز تیار کیے جا رہے ہیں۔
تربیتی پروگراموں کو بہتر بنانے میں تاثرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے شرکا کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی ضروریات سے آگاہ کریں اور یہ تجاویز دیں کہ نصاب میں کس طرح ترمیم، بہتری اور مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تدریسی عملے اور کورس کے مواد کے بارے میں بے تکلف اور گمنام تاثرات حاصل کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی بھی تجویز دی، تاکہ تربیتی پروگراموں میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کورس کے شرکا وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور کردہ ‘انڈیا 47’کے معماروں کے طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور انہیں چاہیے کہ وہ اس پروگرام میں کھلے ذہن اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ شرکت کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکمرانی کی بدلتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر عوامی انتظامیہ میں مسلسل پیشہ ورانہ ترقی اور مکالمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ش آ۔ر ب
U-2280
(रिलीज़ आईडी: 2300921)
आगंतुक पटल : 10