زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
خریف فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں 14 اگست 2026 تک پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 7:43PM by PIB Delhi
|
Area: In lakh hectare
|
|
S.
No.
|
Crop
|
Normal Area (2020-21 to 2024-25)
|
Final Area Coverage 2025
|
Area Sown
|
|
2026
|
2025
|
Increase(+)/ Decrease(-) over 2025
|
|
1
|
Rice
|
412.00
|
446.70
|
379.07
|
393.44
|
-14.37
|
|
2
|
Pulses
|
123.64
|
118.97
|
108.14
|
108.49
|
-0.35
|
|
a
|
Arhar
|
44.32
|
44.60
|
40.31
|
42.01
|
-1.69
|
|
b
|
Urdbean
|
29.60
|
21.26
|
23.52
|
20.79
|
2.73
|
|
c
|
Moongbean
|
35.48
|
37.45
|
32.05
|
33.42
|
-1.37
|
|
d
|
Kulthi
|
1.48
|
|
0.19
|
0.18
|
0.01
|
|
e
|
Mothbean
|
9.69
|
|
8.92
|
8.69
|
0.23
|
|
f
|
Other pulses
|
3.07
|
15.66
|
3.14
|
3.40
|
-0.27
|
|
3
|
Shri Anna cum Coarse cereals
|
182.63
|
192.12
|
172.96
|
177.13
|
-4.17
|
|
a
|
Jowar
|
14.44
|
12.10
|
13.30
|
12.61
|
0.69
|
|
b
|
Bajra**
|
70.94
|
63.80
|
63.98
|
63.29
|
0.69
|
|
c
|
Ragi
|
12.01
|
13.46
|
3.46
|
5.26
|
-1.80
|
|
d
|
Small millets
|
4.47
|
4.15
|
3.83
|
3.92
|
-0.09
|
|
e
|
Maize
|
80.77
|
98.61
|
88.39
|
92.06
|
-3.67
|
|
4
|
Oilseeds
|
200.08
|
196.38
|
184.46
|
185.36
|
-0.89
|
|
a
|
Groundnut
|
46.79
|
50.29
|
48.03
|
47.01
|
1.02
|
|
b
|
Soybean
|
128.71
|
123.86
|
120.84
|
122.61
|
-1.76
|
|
c
|
Sunflower
|
1.20
|
0.88
|
1.06
|
0.61
|
0.46
|
|
d
|
Sesamum
|
12.88
|
9.63
|
10.35
|
8.73
|
1.63
|
|
e
|
Niger
|
1.01
|
0.83
|
0.24
|
0.16
|
0.08
|
|
f
|
Castor
|
9.49
|
10.89
|
3.83
|
6.19
|
-2.35
|
|
g
|
Other Oilseeds
|
0.00
|
|
0.10
|
0.06
|
0.04
|
|
5
|
Sugarcane
|
54.20
|
58.84
|
58.31
|
58.62
|
-0.31
|
|
6
|
Jute & Mesta
|
6.40
|
6.06
|
6.34
|
6.23
|
0.11
|
|
7
|
Cotton
|
125.51
|
115.20
|
107.30
|
108.26
|
-0.96
|
|
Total
|
1104.46
|
1134.27
|
1016.57
|
1037.52
|
-20.95
|
|
Rice
|
چاول
چاول کی کاشت کا رقبہ تقریباً 379.07 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 393.44 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اس طرح 14.37 لاکھ ہیکٹر کی کمی درج ہوئی ہے۔ رقبے میں بڑی کمی کرناٹک (2.86 لاکھ ہیکٹر)، جھارکھنڈ (2.26 لاکھ)، مہاراشٹر (2.25 لاکھ)، اڑیسہ (2.09 لاکھ)، مدھیہ پردیش (1.64 لاکھ)، تلنگانہ (1.49 لاکھ)، تمل ناڈو (1.17 لاکھ)، آندھرا پردیش (1.14 لاکھ)، گجرات (0.83 لاکھ)، مغربی بنگال (0.87 لاکھ)، اترپردیش (0.58 لاکھ) اور بہار (0.52 لاکھ ہیکٹر) میں ریکارڈ کی گئی۔ آسام (3.93 لاکھ ہیکٹر) اور اتراکھنڈ (0.35 لاکھ ہیکٹر) سمیت کچھ ریاستوں میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
دالیں
دالوں کی کاشت کا رقبہ تقریباً 108.14 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 108.49 لاکھ ہیکٹر تھا، یعنی 0.35 لاکھ ہیکٹر کی کمی ہوئی ہے۔ کرناٹک (4.16 لاکھ ہیکٹر)، مہاراشٹر (2.70 لاکھ)، اڑیسہ (0.64 لاکھ)، تمل ناڈو (0.13 لاکھ) اور بہار (0.14 لاکھ ہیکٹر) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اترپردیش (4.25 لاکھ ہیکٹر)، راجستھان (0.93 لاکھ)، چھتیس گڑھ (0.40 لاکھ)، آندھرا پردیش (0.35 لاکھ)، تلنگانہ (0.34 لاکھ) اور مدھیہ پردیش (0.14 لاکھ ہیکٹر) میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
شری اَنّ اور موٹے اناج
شری اَنّ اور موٹے اناج کی کاشت کا رقبہ تقریباً 172.96 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 177.13 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اس طرح 4.17 لاکھ ہیکٹر کی کمی ہوئی ہے۔ کرناٹک (7.00 لاکھ ہیکٹر)، مہاراشٹر (2.46 لاکھ)، ہریانہ (0.59 لاکھ)، تمل ناڈو (0.30 لاکھ)، تلنگانہ (0.31 لاکھ)، آندھرا پردیش (0.36 لاکھ)، جموں و کشمیر (0.19 لاکھ) اور گجرات (0.09 لاکھ ہیکٹر) میں نمایاں کمی درج ہوئی۔ راجستھان (2.15 لاکھ ہیکٹر)، چھتیس گڑھ (1.53 لاکھ)، مدھیہ پردیش (0.92 لاکھ)، اڑیسہ (0.68 لاکھ)، اترپردیش (0.62 لاکھ)، بہار (0.59 لاکھ)، اتراکھنڈ (0.42 لاکھ)، جھارکھنڈ (0.20 لاکھ) اور ہماچل پردیش (0.09 لاکھ ہیکٹر) میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
تلہن
تلہن کی کاشت کا رقبہ تقریباً 184.46 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 185.36 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اس طرح 0.89 لاکھ ہیکٹر کی کمی درج ہوئی۔ راجستھان (3.40 لاکھ ہیکٹر)، مہاراشٹر (0.56 لاکھ)، گجرات (1.00 لاکھ)، کرناٹک (0.44 لاکھ)، تمل ناڈو (0.13 لاکھ) اور اڑیسہ (0.16 لاکھ ہیکٹر) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اترپردیش (3.89 لاکھ ہیکٹر)، مدھیہ پردیش (0.68 لاکھ) اور آسام (0.10 لاکھ ہیکٹر) میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
گنا
گنے کی کاشت کا رقبہ تقریباً 58.31 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 58.62 لاکھ ہیکٹر تھا، یعنی 0.31 لاکھ ہیکٹر کی کمی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ (0.20 لاکھ ہیکٹر)، مہاراشٹر (0.14 لاکھ)، پنجاب (0.14 لاکھ) اور مدھیہ پردیش (0.12 لاکھ ہیکٹر) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اترپردیش (0.36 لاکھ ہیکٹر) اور ہریانہ (0.11 لاکھ ہیکٹر) میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
جوٹ اور میستا
جُوٹ اور میستا کی کاشت کا رقبہ تقریباً 6.34 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 6.23 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اس طرح 0.11 لاکھ ہیکٹر کا اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ بہار میں رقبے میں 0.11 لاکھ ہیکٹر کا اضافہ ہے۔
کپاس
کپاس کی کاشت کا رقبہ تقریباً 107.30 لاکھ ہیکٹر ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 108.26 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اس طرح 0.96 لاکھ ہیکٹر کی کمی ہوئی ہے۔ راجستھان (1.09 لاکھ ہیکٹر)، ہریانہ (0.90 لاکھ)، پنجاب (0.43 لاکھ)، مہاراشٹر (0.38 لاکھ)، کرناٹک (0.10 لاکھ)، اترپردیش (0.05 لاکھ) اور اڑیسہ (0.01 لاکھ ہیکٹر) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تلنگانہ (1.25 لاکھ ہیکٹر)، گجرات (0.64 لاکھ)، مدھیہ پردیش (0.11 لاکھ) اور آندھرا پردیش (0.02 لاکھ ہیکٹر) میں رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔
************
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 2197 )
(रिलीज़ आईडी: 2300669)
आगंतुक पटल : 7