سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
سماجی رکاوٹوں کو پیچھے چھوڑ کر خوشحال زندگی تک :بین ذات شادی کیلئے ملنے والی مالی مدد سے اشوک اور سبیتا کی زندگی سنور گئی
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 6:10PM by PIB Delhi
شادی خاندانی اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے ، لیکن مختلف ذات کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کو بعض اوقات سماجی مخالفت اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔ بین ذات شادیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے مساوات، سماجی ہم آہنگی اور باہمی قبولیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اہل جوڑوں کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔
یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ بروقت سرکاری معاونت کس طرح جوڑوں کو سماجی اور مالی مشکلات پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے۔ 33 سالہ جناب اشوک کمار سامنت رائے اور 30 سالہ محترمہ سبیتا داس نے مختلف ذات کے زمروں سے تعلق رکھنے کے باوجود شادی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اشوک کا تعلق جنرل کٹیگری سے ہے ، جبکہ سبیتا کا تعلق کائبرتا (ایس سی) برادری سے ہے ۔ اڈیشہ کے ضلع کھوردا کے نیراکارپور اور جٹانی سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کو اپنے مختلف ذات کے پس منظر کی وجہ سے اپنے خاندانوں اور مقامی برادریوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ سماجی دباؤ اور مشکلات کے باوجود ، وہ ایک ساتھ مل کر اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے پرعزم رہے ۔ اشوک ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ سبیتا گھریلو خاتون ہیں۔
بین ذات شادی کی ترغیب کے تحت ، جوڑے کو 2.5 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ۔ اس مدد سے ان کے گھر والوں کو مالی راحت ملی اور انہیں زیادہ استحکام کے ساتھ اپنی شادی شدہ زندگی شروع کرنے میں مدد ملی ۔ حکومت کی جانب سے ان کی شادی کو تسلیم کیے جانے اور معاونت فراہم کیے جانے سے ان کے خاندان اور برادری کے رویے میں بھی بتدریج مثبت تبدیلی آنے میں مدد ملی۔

مالی معاونت اور خاندان کی بڑھتی ہوئی رضامندی کے ساتھ اشوک اور سبیتا اب ایک خوشحال اور مستحکم زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، جس کا بہتر مستقبل اور تعلیم اب ان کی اولین خواہش بن چکی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد کو محفوظ کر لیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اسےاپنی بیٹی کی تعلیم اور مستقبل سنوارنے کے لئے استعمال کریں گے۔
اشوک اور سبیتا نے کہا کہ ‘‘حکومت کی جانب سے ملنے والی یہ رقم ہماری بیٹی کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے۔ اس سے اس کی تعلیم اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ پروان چڑھے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے۔’’
اشوک کمار سامنت رائے اور سبیتا داس کا سفر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ بین ذات شادیوں کے لیے حکومتی معاونت نہ صرف بامعنی مالی مدد فراہم کر سکتی ہے بلکہ سماجی قبولیت اور مساوات کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مخالفت اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنے سے لے کر ایک خوشگوار خاندانی زندگی تعمیر کرنے تک، ان کی کہانی عزم، حوصلے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے والی حکومتی کوششوں کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
اشوک کمار سامنت رائے اور سبیتا داس کا یہ سفر اس بات پر کو اجاگرکرتا ہے کہ کس طرح بین ذات شادیوں کے لیے حکومتی مدد، سماجی قبولیت اور مساوات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بامعنی مالی مدد فراہم کر سکتی ہے ۔ مخالفت اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنے سے لے کر خوشگوار خاندانی زندگی کی تعمیر تک ، ان کی کہانی مضبوطی ، ہمت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے اقدامات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے ۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.2241
(रिलीज़ आईडी: 2300605)
आगंतुक पटल : 6