صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے کرناٹک اور کیرلم کے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ تبادلۂ خیال کی صدارت کی، جس سے ٹی بی سے پاک بھارت مہم کی کوششوں کو مزید تقویت ملی


کرناٹک اور کیرلم کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ نے ٹی بی سے پاک کرناٹک، ٹی بی سے پاک کیرلم اور ٹی بی سے پاک بھارت بنانے  کے عزم کو مزید مضبوط کیا

مرکزی وزیر نے ارکانِ پارلیمنٹ کو ضلع کلکٹروں اور صحت مراکز کے ساتھ رابطے کے لیے نگرانی کے مخصوص نکات فراہم کیے؛ ارکانِ پارلیمنٹ سے مزید فعال اور مؤثر طور پر مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی

جناب نڈا نے ٹی بی کے نئے مریضوں کی تلاش کی جدید حکمتِ عملیوں اور مریض مرکوز نگہداشت کو بھارت کی ٹی بی کے خاتمے کی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون قرار دیا، جس سے ملک ٹی بی کے زیادہ بوجھ والے ممالک کے مقابلے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے

ارکانِ پارلیمنٹ نے زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے، معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور تعاون فراہم کرنے اور ٹی بی سے پاک بھارت کے لیے عوام کو جن آندولن میں شامل  کرنے کا عزم کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 AUG 2026 8:03PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے آج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے موقع پر کرناٹک اور کیرلم  کے ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر تعلیم، صارفین کے امور، خوراک و عوامی  نظام تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی جناب پرہلاد جوشی؛ مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و کھاد محترمہ انوپریا پٹیل؛ مرکزی وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی گیس اور سیاحت جناب سریش گوپی؛ مرکزی وزیر مملکت برائے ایم ایس ایم ای اور محنت و روزگار کی وزیر مملکت  محترمہ شوبھا کرندلاجے کے علاوہ دیگر ارکانِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001XWH0.jpg

یہ اجلاس، جس کا عنوان ‘‘ٹی بی سے پاک بھارت کے علمبردار ارکانِ پارلیمنٹ’’ تھا، پارلیمنٹ کی توسیعی عمارت کے احاطے میں کرناٹک اور کیرلم  سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکانِ پارلیمنٹ کو جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر ایک پلیٹ فارم پر لے آیا۔ اس کا مقصد ٹی بی سے پاک بھارت کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے سیاسی سطح پر متحدہ عزم کا اظہار کرنا تھا۔ یہ اجلاس مرکزی وزیر صحت کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والی بیداری و آگاہی پر مبنی ملاقاتوں کے سلسلے کا حصہ تھا، جن میں ملک بھر کی مختلف ریاستوں، بشمول مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان اور تمل ناڈو کے ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ جناب نڈا نے ارکان کو بتایا کہ حکومت کے ‘‘مکمل حکومتی نقطۂ نظر’’ کے تحت ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے دیگر ریاستوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ بھی اسی طرح کے مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں 100 روزہ ٹی بی سے پاک بھارت ابھیان کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ مہم بھارت میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے دو مرحلوں میں نافذ کی گئی۔ پہلے مرحلے کا آغاز 7 دسمبر 2024 کو ہوا تھا، جس میں ابتدا میں 347 ترجیحی اضلاع کو شامل کیا گیا، بعد ازاں اسے ملک بھر میں توسیع دی گئی اور یہ مرحلہ 24 مارچ 2025 کو اختتام پذیر ہوا۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 24 مارچ 2026 کو کیا گیا اور حال ہی میں جولائی میں مکمل ہوا۔ اس مرحلے کے تحت ملک بھر کے تقریباً 1.58 لاکھ زیادہ خطرے والے دیہات اور شہری وارڈز پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ٹی بی سے متعلق سرگرمیوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002TVUC.jpg

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے اس مہم کو‘‘تپِ دق کے خلاف ملک کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا، جو اختراع، ہمدردی اور غیر متزلزل سیاسی عزم کی بنیاد پر استوار ہے۔’’  انہوں نے عالمی سطح پر ٹی بی کے خاتمے کی جانب بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ‘‘ ادارۂ صحت کی 2025 کی عالمی ٹی بی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں 2015 سے 2024 کے درمیان ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی سطح پر ہونے والی کمی کی رفتار سے تقریباً دوگنی ہے، جبکہ علاج کی سہولت تک رسائی کی شرح 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔’’جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ کرناٹک اور کیرلم  میں ٹی بی کی اسکریننگ، علاج اور مریضوں کی معاونت کے دائرۂ کار کو وسیع کرنا انتہائی اہم ہوگا، تاکہ قومی سطح پر حاصل ہونے والی رفتار کو مقامی برادریوں کی سطح پر مؤثر نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003RWNK.jpg

مرکزی وزیر نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی 100 روزہ ٹی بی سے پاک بھارت ابھیان کی نمایاں کامیابی کو اجاگر کیا، جو 24 مارچ سے 4 جولائی 2026 تک جاری رہا۔ اس مہم کے تحت ملک بھر میں 2.02 کروڑ سے زائد خطرات سے دو چار  افراد کی اسکریننگ کی گئی اور ٹی بی کے 7 لاکھ سے زیادہ نئے مریضوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں 1.97 لاکھ ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی اور وہ بصورتِ دیگر تشخیص سے محروم رہ جاتے۔سیاسی قیادت کے فیصلہ کن کردار پر زور دیتے ہوئے جناب نڈا نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ مسلسل عوامی رابطے، انتظامی نگرانی اور سماجی طور پر عوام کو متحرک کرنے کے ذریعے اپنے حلقۂ انتخاب میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو مضبوط بنیاد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ٹی بی سے پاک بھارت محض صحت کا ایک پروگرام نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری کے جذبے سے چلنے والی عوامی تحریک ہے۔‘‘

اپنے اختتامی کلمات میں جناب نڈا نے ارکانِ پارلیمنٹ کے عزم کو سراہا اور ریاست کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 100 روزہ مہم کا اختتام ذمہ داری کے خاتمے کی علامت نہیں، بلکہ اس مرحلے کا آغاز ہے جہاں مزید گہری اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ ہر ضلع میں مسلسل پیش رفت کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0043VWO.jpg

وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلہ سریواستو نے ان کوششوں کے تناظر میں بتایا کہ کرناٹک اور کیرلم  میں ٹی بی کا بوجھ زیادہ ہے۔ ان ریاستوں میں شہری علاقوں، مہاجر آبادی، شہری کچی آبادیوں، علاج کے لیے روایتی طور طریقوں پر انحصار، غذائی قلت، شراب اور تمباکو کے استعمال، ایچ آئی وی اور ذیابیطس کے زیادہ پھیلاؤ، دیگر بیماریوں میں مبتلا بزرگ آبادی، تعمیراتی اور صنعتی شعبے کے کارکنوں، پہاڑی اور قبائلی علاقوں، پتھر کی کانوں، ریشم بُننے والوں اور کافی کے باغات و چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں جیسے عوامل ٹی بی کے خطرے میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ ارادھنا پٹنائک نے مہم کو مؤثر بنانے میں ٹیکنالوجی کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سالماتی جانچ کی سہولت کو چند سو مشینوں سے بڑھا کر آج 11 ہزار سے زائد مشینوں تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ میدان میں تقریباً 3 ہزار مصنوعی ذہانت سے لیس دستی ایکس رے یونٹس بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام سہولیات مقامی طور پر تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، تاکہ کوئی بھی مریض تشخیص اور علاج سے محروم نہ رہ جائے۔

انہوں نے ٹی بی سے متعلق اطلاع شدہ مریضوں کی تعداد، علاج کی کامیابی، احتیاطی علاج کی کوریج اور ٹی بی کے خاتمے کے قومی اہداف کے مطابق پیش رفت جیسے اہم اشاریوں کی بنیاد پر کرناٹک اور کیرلم  کی کارکردگی کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 100 روزہ مہم کے دوران دونوں ریاستوں نے مخصوص حکمتِ عملیاں تیار کیں، جن کے تحت آیوشمان آروگیہ شِوروں کو براہِ راست شہری کچی آبادیوں، تعمیراتی مقامات اور مہاجر مزدوروں کے مراکز تک پہنچایا گیا، تاکہ ان لوگوں تک اسکریننگ اور علاج کی سہولت پہنچائی جا سکے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اجلاس میں موجود کرناٹک اور کیرلم  کے ارکانِ پارلیمنٹ نے بیداری مہمات کو مزید تیز کرنے، ٹی بی سے وابستہ بدنامی اور سماجی داغ کو کم کرنے کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور نِکشَے شِوروں کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ خصوصاً کمزور اور زیادہ خطرے سے دوچار طبقات میں ٹی بی کی بروقت تشخیص کو فروغ دیا جا سکے، خواہ ان میں ٹی بی کی علامات ظاہر ہوں یا نہ ہوں۔ارکانِ پارلیمنٹ ضلعی اور بلاک سطح پر ٹی بی سے متعلق خدمات کی نگرانی بھی مزید مضبوط کریں گے، تاکہ آخری فرد تک معیاری تشخیصی سہولیات اور مریض مرکوز نگہداشت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ ٹی بی سے پاک بھارت ابھیان کے تحت جاری کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے، وہ عوام کو جن آندولن کے ذریعے متحرک کرنے کی قیادت جاری رکھیں گے، تاکہ ٹی بی سے متاثرہ افراد کو غذائی، نفسیاتی اور معاشی و روزگار سے متعلق معاونت فراہم کی جا سکے۔

*******

ش ح۔ا ک۔ر ب

U-2234

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2300594) وزیٹر کاؤنٹر : 15