کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان ، مربوط اور باہمی تال میل کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو ممکن بناتا ہے


پی ایم گتی شکتی الگ بجٹ مختص کیے بغیر مربوط منصوبہ بندی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 AUG 2026 6:35PM by PIB Delhi

اکتوبر  ، 2021  ء میں شروع کیا گیا  پی ایم گتی شکتی  نیشنل ماسٹر پلان (پی ایم جی ایس این ایم پی)  ، حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل ایک تبدیلی کا باعث بننے والا طریقۂ کار ہے، جس کے تحت مختلف مرکزی وزارتوں/محکموں اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ساتھ لایا گیا ہے، تاکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مربوط منصوبہ بندی اور باہمی تال میل کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ پی ایم جی ایس این ایم پی کا مقصد  ، جغرافیائی معلومات، سیٹلائٹ تصاویر اور اے پی آئی انضمام کا استعمال کرتے ہوئے  ، وزارتوں/ریاستوں کو اعداد و شمار پر مبنی فیصلے کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی نگرانی، منصوبہ بندی اور اسے بہتر بنایا جا سکے۔ پی ایم جی ایس این ایم پی وزارتوں/ریاستوں کو اپنے متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بشمول سماجی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مربوط، ہم آہنگ اور باہمی تال میل کے ساتھ منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کر رہا ہے، تاکہ نقل و حمل کے مختلف ذرائع کے ذریعے لوگوں، اشیاء  اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے بلا رکاوٹ اور مؤثر رابطہ فراہم کیا جا سکے، جس سے آخری سرے تک رابطے میں بہتری آئے اور سفر کے وقت میں کمی ہو۔

پی ایم گتی شکتی مربوط منصوبہ بندی کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے؛ منصوبوں کی منظوری اور عمل درآمد متعلقہ مرکزی وزارتوں/محکموں اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے  ، ان کے متعلقہ منصوبوں، اسکیموں، طریقۂ کار اور بجٹ/مالی اعانت کے التزامات کے تحت کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، پی ایم گتی شکتی اقدام کے تحت  نہ تو مقداری اہداف مقرر کیے گئے ہیں اور نہ ہی اخراجات کی کوئی مخصوص ضرورت متعین کی گئی ہے۔

پی ایم گتی شکتی فریم ورک کے تحت قائم کیے گئے نیٹ ورک پلاننگ گروپ (این پی جی) کی جانب سے مرکزی حکومت کے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ منصوبہ بندی کے مرحلے میں مربوط منصوبہ بندی، مختلف ذرائع نقل و حمل کا باہمی ربط، مختلف ذرائع کے درمیان ہم آہنگی، کوششوں میں تال میل، آخری سرے تک رابطہ، منصوبے کے مقام اور اس کے آس پاس جامع ترقی اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی وغیرہ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اب تک این پی جی کے طریقۂ کار کے ذریعے تقریباً 18.66 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی تخمینہ لاگت والے 396 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ ان 396 منصوبوں میں سے 256 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 198 منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔ وزارت کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-اے میں دی گئی ہیں۔

حکومت وقتاً فوقتاً مختلف مطالعات، سروے وغیرہ کے ذریعے اپنے اقدامات اور اسکیموں کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس سلسلے میں یونیورسٹیوں اور تحقیقی اسکالرز کی جانب سے بھی کئی مطالعات کیے گئے ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق، پی ایم گتی شکتی، قومی لاجسٹکس پالیسی، پرگتی، ساگر مالا، رابطہ جاتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جس میں ایکسپریس وے، قومی شاہراہیں، مخصوص ریل مال برداری راہداریاں اور ریلوے ٹریک، صنعتی راہداریاں اور مراکز وغیرہ شامل ہیں، جیسی مربوط منصوبہ بندی کی کوششوں نے مربوط اور مسابقتی بھارت کے تصور کو عملی شکل دی ہے اور ملک میں لاجسٹکس کی کارکردگی، سامان کی ترسیل کے وقت، کاروبار کرنے میں آسانی اور صنعتی ترقی کو بہتر بنایا ہے، جب کہ لاجسٹکس کی لاگت میں کمی لائی ہے۔ سال  ، 2025ء میں صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کے تعاون سے لاجسٹکس کی لاگت کا جائزہ لیا۔ جائزے کے مطابق، بھارت میں لاجسٹکس کی لاگت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.9 فی صد کے برابر ہے، جو دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کے برابر ہے۔ اقتصادی سروے 24-2023 ء   میں اجاگر کیا گیا ہے کہ ان اقدامات سے ملک میں  مینوفیکچرنگ اور برآمدی مسابقت میں بہتری آئی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلورو کی جانب سے قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی ترقی کے اثرات پر کیے گئے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ قومی شاہراہوں کی ترقی پر خرچ کیے جانے والے ہر ایک روپے سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔

اب تک 58 مرکزی وزارتوں/محکموں اور تمام 36 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پی ایم جی ایس این ایم پی پر شامل کیا جا چکا ہے، جس میں سڑک، ریل، بندرگاہیں اور آبی گزرگاہیں، بجلی، پیٹرولیم اور قدرتی گیس، شہری ہوا بازی، ٹیلی مواصلات، صنعتی راہداریاں وغیرہ جیسے تمام بنیادی ڈھانچے کے شعبے شامل ہیں۔ مزید برآں، ستمبر  ، 2025 ء میں پی ایم گتی شکتی عوامی پلیٹ فارم  (  یو آر ایل  : ugi.pmgatishakti.gov.in ) شروع کیا گیا، جس کے ذریعے نجی اداروں اور عام لوگوں کو پی ایم گتی شکتی کے اعداد و شمار کے تجزیے تک رسائی فراہم کی گئی۔ اس سوال پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے سرکاری اور نجی ادارے ایک سادہ سوال پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے پی ایم جی ایس-این ایم پی پورٹل سے اعداد و شمار کے تجزیاتی رپورٹس حاصل کرکے اپنے  پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ ریاستوں کو ضلع کی سطح پر منصوبہ بندی کے لیے پی ایم گتی شکتی کے استعمال کو وسعت دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ تقریباً 1,800 ڈیٹا لیئرز کو مربوط کیا جا چکا ہے اور متعلقہ فریقوں کے استعمال کے لیے پلیٹ فارم پر 65 سے زیادہ سافٹ ویئر ماڈیولز/ٹولز اور 100 سے زیادہ موبائل/ویب ایپلی کیشنز تیار کرکے مربوط کی گئی ہیں۔ مزید برآں، پی ایم گتی شکتی اقدام کی توسیع ایک مسلسل عمل ہے۔ وزارتوں/محکموں، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی ضروریات کے مطابق مزید ڈیٹا لیئرز کی نقشہ سازی/انضمام، اضافی خصوصیات، منصوبہ بندی اور تجزیے کے لیے سافٹ ویئر ماڈیولز/ٹولز، موبائل/ویب ایپلی کیشنز وغیرہ کی تیاری اور انضمام کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔

یہ معلومات تجارت و صنعت  کی وزارت  میں وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  فراہم کیں ۔

ضمیمہ-اے

این پی جی طریقۂ کار کے ذریعے جائزہ لیے گئے منصوبوں کی وزارت کے لحاظ سے تفصیلات

وزارت / محکمہ

پروجیکٹوں کی تعداد

منظور شدہ

منظور ہونا باقی ہے

زیرِ نفاذ

تخمینہ لاگت

 ( کروڑ روپے میں )

سڑک  نقل و حمل اور  شاہراہوں کی وزارت

171

108

63

53

9,01,668

ریلوے کی وزارت

162

102

60

102

5,43,315

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

31

17

14

17

2,88,614

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

4

4

0

3#

9,271

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت

3

2

1

2

49,759

شہری ہوا بازی کی وزارت

6

4

2

2

10,005

این آئی سی ڈی سی، صنعت کے فروغ اور اندرونی  تجارت کی وزارت کا محکمہ

12

12

0

12

28,693

جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

01

1

0

1

20,774

الیکٹرانکس

اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت

01

1

0

1

4,680

ٹیکسٹائل کی وزارت

05

05

0

05

9,760

میزان

396

256

140

198

18,66,539

 

*****

) ش ح – م م       -  ع ا )

U.No. 2239


(ریلیز آئی ڈی: 2300587) وزیٹر کاؤنٹر : 15