وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی پروری کا محکمہ 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ماہی گیروں کو بااختیار بنانے اور نیلی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 2:28PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ ماہی گیری نے 15 اگست 2026 کو نئی دہلی میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی موجودگی میں 80واں یوم آزادی منایا۔ یہ تقریب ‘‘وندے ماترم کے 150 سال’’ اور ‘‘یووا شکتی فاروکست بھارت@2047 ’’ جیسے قومی موضوعات کے مطابق منعقد کی گئی۔ اس موقع پر اس قومی نغمے کی عظیم وراثت کو یاد کیا گیا، جس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں عوام کو تحریک دی، اور ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کے اہم اور فیصلہ کن کردار کو اجاگر کیا گیا۔

ماہی پروری اور آبی زراعت کا شعبہ ہندوستانی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے سے تقریباً 3 کروڑ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کا روزگار وابستہ ہے، جبکہ پیداوار سے لے کر فروخت تک پوری قدر افزا زنجیر میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ہندوستان دنیا میں مچھلی پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور عالمی پیداوار میں اس کا حصہ 8 فیصد ہے۔ آبی زراعت کی پرورش میں بھی ہندوستان دوسرے مقام پر ہے، جبکہ جھینگا کی پیداوار اور برآمد میں سرفہرست ہے اور قدرتی آبی ذخائر سے مچھلی پکڑنے کے شعبے میں دنیا کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل ہے۔ 2015 سے حکومت ہند نے اس شعبے کی پائیدار ترقی اور فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات کے تحت مجموعی طور پر 39,272 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان اقدامات بلیو ریوولوشن اسکیم ، فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور اس کی ذیلی اسکیم پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی شامل ہیں۔
‘‘یوواشکتی فاروکست بھارت@2047 ’’ کے موضوع سے ہم آہنگ، نوجوان، ماہی گیر اور مچھلی پالنے والے کسان ہندوستان کے ماہی پروری کے شعبے کے مستقبل میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ جدید آبی زراعت کے طریقوں، ڈیجیٹل سراغ رسانی اور کولڈ چین مینجمنٹ سے لے کر ویلیوایڈیشن، برانڈ سازی، تشہیر، مارکیٹنگ اور برآمدات تک ماہی پروری کی پوری ویلیوچین میں کاروباری صلاحیت، اختراع اور متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی فعال شمولیت سے ماہی پروری کو ہندوستان کی نیلی معیشت کے ایک اہم ستون کے طور پر مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
لال قلعے میں یوم آزادی کی تقریبات کے بعد محکمہ نے پی ایم ایم کے ایس ایس وائی کے مستفیدین اور ان کے شریک حیات کے ساتھ ایک خصوصی تبادلۂ خیال پروگرام منعقد کیا۔ اس کا مقصد ان کی خدمات اور کردار کو سراہنا اور ماہی پروری کے شعبے میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔ پی ایم ایم کے ایس ایس وائی کے تحت پانچ مستفیدین کو نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون ثقافتی مرکز میں صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے دی جانے والی خصوصی ‘‘ایٹ ہوم ’’ تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا۔ ان مستفیدین میں آسام کے جناب نِتُل چندر داس، اڈیشہ کے جناب سریش چندر راؤت، مہاراشٹر کے جناب ایک ناتھ راما مُکانے، اتر پردیش کے جناب آکاش سنگھ اور بہار کی محترمہ میشا سنگھ شامل تھیں۔

تبادلۂ خیال کے دوران مستفیدین نے اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا پی ایم ایم کے ایس ایس وائی کے تحت حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت نے انہیں اپنی روزی روٹی بہتر بنانے، جدید طریقے اپنانے اور آمدنی کے مواقع میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ ان کی کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک بھر میں ماہی گیروں، مچھلی پالنے والے کسانوں اور نوجوان کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے ہدفی اقدامات کے مثبت اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمے نے پائیدار پالیسی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور سب کو شامل کرنے والے فلاحی اقدامات کے ذریعے ماہی پروری کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یوم آزادی کی تقریبات میں ماہی گیروں، مچھلی پالنے والے کسانوں، نوجوانوں اور مستفیدین کی شرکت نے قومی ترقی میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور اس عزم کی تجدید کی کہ مضبوط، پائیدار اور خوشحال نیلی معیشت کے ذریعے ‘‘وکست بھارت@2047’’ کے تصور کو آگے بڑھانے میں ماہی پروری کا شعبہ اہم کردار ادا کرے گا۔

پس منظر
مرکزی کابینہ نے 8 فروری 2024 کو پی ایم ایم ایس وائی( پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا )کے تحت مرکزی شعبے کی ذیلی اسکیم کے طور پر پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا(پی ایم ایم کے ایس ایس وائی) کی منظوری دی۔ یہ اسکیم مالی سال 2023-24 سے 2026-27 تک چار سال کی مدت کے لیے نافذ کی جائے گی۔ پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی )ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں نافذ کی جائے گی، جس کے لیے 6,000 کروڑ روپے کے تخمینی اخراجات کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد شعبے کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنا اور مالی و تکنیکی اقدامات کے ذریعے ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرانا ہے، تاکہ طویل مدت میں ماہی پروری کے شعبے میں تبدیلی اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا کا مقصد ماہی پروری کے شعبے میں موجود اہم ساختی خامیوں کو دور کرنا ہے۔ اس کے تحت قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کام کی بنیاد پر ڈیجیٹل شناخت فراہم کرکے غیر منظم شعبے کو بتدریج باقاعدہ شعبے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس اسکیم کے ذریعے مچھلی پالنے والے کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹی و بہت چھوٹی کاروباری اکائیوں کو ادارہ جاتی مالی وسائل، بشمول کاروباری ضروریات کے لیے سرمایہ، تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آبی حیوانات پالنے والے کسانوں کو ایک بار کی مالی ترغیب بھی دی جائے گی، تاکہ وہ ایک فصل کے دورانیے کے لیے آبی پرورش کا بیمہ خرید سکیں۔ اس اسکیم کے تحت ماہی پروری اور آبی زراعت کی پرورش سے وابستہ چھوٹی اور بہت چھوٹی کاروباری اکائیوں کو کارکردگی کی بنیاد پر مالی امداد بھی دی جائے گی۔ اس کا مقصد پیداوار سے صارف تک پوری ویلیو چین کی کارکردگی بہتر بنانا، مچھلی اور ماہی پروری سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی حفاظت اور معیار کو یقینی بنانے کے نظام کو مضبوط کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ماہی پروری کی ویلیو چین کے مختلف مراحل کو باہم مربوط اور مستحکم کرنا ہے۔
پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی (پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا )کے تحت ہدفی مستفیدین میں مچھلی پالنے والے کسان، ماہی گیری سے وابستہ کارکن اور مچھلی فروش شامل ہیں، جو براہ راست ماہی پروری کی ویلیو چین سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ماہی پروری اور آبی زراعت کی پرورش سے وابستہ چھوٹی اور بہت چھوٹی کاروباری اکائیاں، جیسے واحد ملکیتی ادارے، شراکت داری کی فرموں اور ہندوستان میں رجسٹرڈ کمپنیاں بھی اس اسکیم کے دائرے میں آتی ہیں۔ اسکیم میں سوسائٹیاں، محدود ذمہ داری والی شراکت داریاں، امداد باہمی کی انجمنیں، وفاقی تنظیمیں اور گاؤں کی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں، جیسے خود امدادی گروپ، مچھلی پالنے والے کسانوں کی پیداواری تنظیمیں، جن میں کسانوں کی پیداواری تنظیمیں بھی شامل ہیں، اور ماہی پروری و آبی حیوانات کی پرورش سے وابستہ نئے کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ہند کا محکمۂ ماہی پروری جن دیگر افراد یا اداروں کو مستفیدین کے طور پر شناخت کرے گا، انہیں بھی اس اسکیم کے تحت ہدفی مستفیدین میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ ش ت)
U.No. 2211
(रिलीज़ आईडी: 2300469)
आगंतुक पटल : 8