خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
وزارت بہبودی خواتین و اطفال ملک بھر میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکز کی معاونت سےمتعدد اسکیمیں نافذ کر رہی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 4:05PM by PIB Delhi
وزارت بہبودی خواتین و اطفال ملک میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکز کی مالی معاونت سےمتعدد اسکیموں کو نافذ کر رہی ہے، جنہیں تین اہم شعبوں کے ماتحت رکھا گیا ہے، یعنی: (1) مشن شکتی برائے خواتین کے تحفظ، سلامتی اور بااختیاری؛ (2) سَکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0، ملک میں تغذیہ اور صحت کے اشاریوں میں بہتری کے لیے؛ اور (3) مشن واتسلیہ، مشکل حالات میں بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے۔
’مشن شکتی‘ کا مقصد خواتین کی سلامتی، تحفظ اور بااختیاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔ مشن شکتی کے دو اہم حصے ہیں: ’سنبل‘ (خواتین کی سلامتی اور تحفظ کے لیے) اور ’سامرتھیہ‘ (خواتین کی بااختیاری کے لیے)۔
’سنبل‘ اسکیم ون اسٹاپ سینٹر(او ایس سی)، ویمن ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل)، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ(بی بی بی پی) اور ناری عدالت پر مشتمل ہے۔
- ون اسٹاپ سینٹر(او ایس سی) تشدد سے متاثرہ اور مصیبت زدہ خواتین کو پورے ملک میں نجی اور عوامی دونوں مقامات پر ایک ہی چھت کے نیچے مربوط اور فوری امداد فراہم کرنے کے لیےہے۔ یہ ضرورت مند خواتین کو طبی امداد، قانونی امداد، عارضی پناہ گاہ، پولیس کی امداد اور نفسیاتی و سماجی مشاورت جیسی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اب تک، ملک بھر میں 991 ون اسٹاپ سینٹر قائم ہوچکے ہیں اور ان کے قیام کے بعد سے، یعنی یکم اپریل 2015 سے 30 جون 2026 تک، ملک بھر میں ون اسٹاپ سینٹر کے ذریعے 15.20 لاکھ سے زائد خواتین کی مدد کی گئی ہے۔ ریاست اڈیشہ میں اب تک، منظور شدہ 39 او ایس سی میں سے 37 او ایس سی سرگرم عمل ہیں، جنہوں نے 48,416 سے زائد خواتین کی مدد کی ہے۔یکم جولائی2020 سے مالیاتی سال 25-2024 تک، ریاست اڈیشہ میں او ایس سی کے ذریعے کل 31,547 خواتین کی مدد کی گئی ہے۔
- ویمن ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل-181)ہنگامی اور غیر ہنگامی دونوں صورتوں میں خواتین کی مدد کے لیے 24 گھنٹے ٹول فری ٹیلی مواصلاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس پر تشدد سے متاثرہ خواتین کو امداد فراہم ہوتی ہے اور سرکاری اسکیموں و خدمات کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں۔ قیام کے بعد سے (1 اپریل 2015 سے 30 جون 2026 تک)، ملک بھر میں ویمن ہیلپ لائن کے ذریعے 1.04 کروڑ سے زائد خواتین کی مدد کی گئی ہے۔ ریاست اڈیشہ میں، ڈبلیو ایچ ایل نے 30 جون 2026 تک 87,675 سے زائد خواتین کی مدد کی ہے۔ مالی سال 21-2020 سے مالی سال 25-2024 تک، ریاست اڈیشہ میں ڈبلیو ایچ ایل کے ذریعے کل 33,317 خواتین کی مدد کی گئی ہے۔
- بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم بچوں کے جنسی تناسب (سی ایس آر) اور بچیوں و خواتین کی بااختیاری سے متعلق امور پر مرکوز ہے۔ یہ اسکیم مختلف شراکت داروں کو باخبر کر کے، آمادہ کرکے، ترغیب دے کر، انہیں شامل کر کے اور بااختیار بنا کر بچیوں کے تئیں سوچ اور طرز سلوک میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ(بی بی بی پی) اسکیم اب ایک پالیسی اقدام سے ایک قومی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں سرکاری ایجنسیوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام الناس سمیت مختلف شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔
سامرتھیہ میں شکتی سدن، سخی نواس، پردھان منتری ماترو وندن یوجنا(پی ایم ایم وی وائی)، پالنا اور سَنکلپ: خواتین کی بااختیاری کا مرکز (سَنکلپ: ایچ ای ڈبلیو) جیسے اجزاء شامل ہیں۔
- شکتی سدن: جامع ’مشن شکتی‘ کے تحت سابقہ ’سدھار گرہ‘ (مشکل حالات سے دوچار خواتین کا گھر) اور ’اجولا‘ (بردہ فروشی سے بچائی گئی خواتین کا گھر) اسکیموں کو یکم اپریل 2022 سے ضم کر دیا گیا ہے اور اب انہیں ’شکتی سدن اسکیم‘ کے نام سےموسوم کیا جاتا ہے۔ یہ مشکل حالات سے دوچار خواتین، جن میں اسمگلنگ کی شکار خواتین بھی شامل ہیں، کے لیے مربوط امدادی اور بحالی مرکز ہے۔ اس کا مقصد مشکل حالات میں پھنسنے والی ایسی خواتین کے لیے محفوظ اور معاون ماحول بنانا ہے، تاکہ وہ دشوار حالات سے باہر نکل سکیں۔ شکتی سدن مصیبت زدہ خواتین کو پناہ اور باز آبادکاری کی امداد فراہم کرنے میں مددگار ہے، جن میں اسمگلنگ سے متاثرہ خواتین بھی شامل ہیں۔ فی الحال، ریاست اڈیشہ میں 68 مراکز سمیت ملک بھر میں 433 شکتی سدن مراکز سرگرم عمل ہیں اور ان کےقیام سے لے کر 30 جون 2026 تک ملک بھر میں 1,46,164 خواتین کو اس کا فائدہ پہنچا ہے۔
- سخی نواس: مشن شکتی کے تحت ’سخی نواس اسکیم‘ (ورکنگ ویمن ہاسٹل) کا مقصد شہری، نیم شہری اور دیہی علاقوں میں ملازمت پیشہ خواتین اور اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ اور باآسانی دستیاب رہائشی سہولیات کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی ان کے بچوں کے لیے ڈے کیئر کی سہولت بھی فراہم کرنا ہے، جہاں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہوں۔ فی الحال، اڈیشہ میں 16 سخی نواس (ڈبلیو ڈبلیو ایچ) سرگرم عمل ہیں، جن سے تقریباً 518 خواتین فائدہ اٹھا رہی ہیں اوران کے قیام کے بعد سے اب تک ملک بھر میں 2,32,018 خواتین ان سے مستفید ہو چکی ہیں۔
- پالنا: وزارت بہبودی خواتین واطفال نے یکم اپریل 2022 سے ’پالنا اسکیم‘ شروع کی ہے، جس کے تحت ملازمت کی موجودہ حالت سے قطع نظر تمام ماؤں کے بچوں (6 ماہ سے 6 سال کی عمر کے) کوایک محفوظ ماحول میں ڈے کیئر کریچ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم میں بچوں کو تغذیاتی امداد، صحت اور شعوری نشوونما، جسمانی نمو کی نگرانی، ٹیکہ کاری، تعلیم وغیرہ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ 31 جولائی 2026 تک، ملک بھر میں 4,172 آنگن واڑی-مع-کریچ سہولیات فعال ہوچکی ہیں، جن سے تقریباً 43,000 مستفیدین کو فائدہ مل رہا ہے۔
- پی ایم ایم وی وائی: وزارت بہبودی خواتین واطفال یکم جنوری 2017 سے ملک کی 35 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ’پردھان منتری ماترو وندن یوجنا‘(پی ایم ایم وی وائی) نافذ کر رہی ہے، جس میں اڈیشہ بھی شامل ہے (تلنگانہ کے علاوہ، جو پی ایم ایم وی وائی پورٹل پر شامل ہونے کے مرحلے میں ہے)۔ پی ایم ایم وی وائی مرکز کی مالی معاونت سے چلنے والی زچگی فوائد (مٹیریٹی بینیفٹ) اسکیم ہے، جس کے تحت پہلے بچے کے لیے 5,000 روپے کی نقد ترغیبی رقم براہِ راست مستفید کے بینک/ڈاکخانے کے کھاتے میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ اہلیت یافتہ مستفیدین کو ادارہ جاتی زچگی کے بعد ’جننی سرکشا یوجنا‘ کے تحت زچگی فوائد کے لیے منظور شدہ معیار کے مطابق بقایا نقد رقم حاصل ہوتی ہے، جس سے ایک خاتون کو اوسطاً 6,000 روپے ملتے ہیں۔ پی ایم ایم وی وائی کے تحت اہل مستفیدین کو دوسرے بچے کے لیے بھی 6,000 روپے کی نقد ترغیبی رقم دی جاتی ہے، بشرطیکہ دوسری ولادت میں لڑکی ہو۔ حکومت اڈیشہ نے مالی سال 26-2025 میں اپنی ریاست میں پی ایم ایم وی وائی اسکیم پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
ملک بھر میں 4.56 کروڑ سے زائد خواتین کو 21,171.32 کروڑ روپے کی مجموعی رقم کا فائدہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم کے تحت 31 جولائی 2026 تک ریاست اڈیشہ میں تقریباً 2.45 لاکھ خواتین کو 76.69 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے۔
- سنکلپ: ایچ ای ڈبلیو: سنکلپ ایچ ای ڈبلیو (خواتین کی بااختیاری کا مرکز) مشن شکتی کے تمام اجزاء کے لیے ایک پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ (پی ایم یو)کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ خواتین کے لیے دستیاب اسکیموں اور سہولیات کے بارے میں معلومات و آگاہی کی کمی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں فوائد اور حقوق حاصل کرنے کی رہنمائی فراہم کرنے والا ایک سنگل ونڈو سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ فی الحال، ریاست اڈیشہ سمیت کل 35 ریاستی’سَنکلپ:ایچ ای ڈبلیو‘ اور 742 اضلاع میں ’ڈسٹرکٹ سَنکلپ: ایچ ای ڈبلیو‘ فعال ہیں۔ فی الحال، ریاست اڈیشہ میں 30 ڈسٹرکٹ ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر(ڈی ایچ ای ڈبلیو) فعال ہیں اور مشن شکتی ڈیش بورڈ کے آغاز کے بعد سے ایچ ای ڈبلیو کے تحت ملک بھر میں 7,75,406 خواتین کو امداد فراہم کی گئی ہے۔
مشن شکتی مرکز ی حکومت کی معاونت یافتہ اسکیم ہے اور اس اسکیم کا عمل درآمد ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت ہے۔ فنڈ کا اجرا محکمہ اخراجات کی جانب سے پبلک فائنانشل مینجمنٹ سسٹم(پی ایف ایم ایس) کی سنگل نوڈل ایجنسی (ایس این اے) یا ’ایس این اے اسپارش‘ کے طے شدہ رہنماہدایات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سال میں ایک بار، پروگرام اپروول بورڈ(پی اے بی)ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ مل کر اسکیم کے تحت جاری سرگرمیوں کی پیش رفت کی نگرانی کرتا ہے اور اہداف کے حصول اور خواتین و بچوں کو موثر انداز میں خدمات کی فراہمی کی صورتِ حال کا جائزہ لیتا ہے۔ ریاستیں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے مقامی تقاضوں کے مطابق اپنی ضرورت کا تخمینہ لگاتے ہیں اور ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ بات چیت کے بعد پروگرام اپروول بورڈ(پی اے بی) کی طرف سے ہر سال تجاویز کو منظوری دی جاتی ہے۔
مزید برآں، مشن شکتی کے تحت اسکیموں پر عمل درآمد اوران کا دائرہ کار ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی آبادی، جغرافیائی وسعت، مقامی ضروریات اور مختلف خدمات و اقدامات کی مانگ کی بنیاد پر مختلف ہوتا ہے۔
وزارت بہبودی خواتین واطفال کی وزیرمملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔م ش ع ۔ع ن)
U. No. 2203
(ریلیز آئی ڈی: 2300379)
وزیٹر کاؤنٹر : 17