امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے چتوڑ گڑھ میں راجستھان کے 15 اضلاع کے لیے 5,755 کروڑ روپے کی مالیت کے 944 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا


وزیرِ داخلہ نے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی برسی کے موقع پر ان کے 21 فٹ اونچے مجسمے کی رونمائی کی

ملک کی آزادی کے بعد 80 برسوں میں پہلی مرتبہ لال قلعہ کی فصیل سے اور ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقاریب میں 'وندے ماترم' گایا گیا

اہم اپوزیشن پارٹی نے ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے دہائیوں تک 'وندے ماترم' کو نظر انداز کیا؛ اس نغمے کے 150 ویں سال میں، مودی جی نے لال قلعہ کی فصیل سے اس لافانی ترانے کو نیا اعزاز بخشا

ووٹ بینک کے لالچ میں اندھی ہو کر، اہم اپوزیشن پارٹی 'وندے ماترم' کو بھول چکی تھی

اہم اپوزیشن پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں یومِ آزادی کی ایک تقریب کے دوران، ایک ممتاز رہنما نے ترانے کو بیچ میں ہی روکنے کا کہہ کر 'وندے ماترم' کی توہین کی؛ عوام انہیں اس حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کریں گے

اٹل بہاری واجپائی جی 40 سال تک اپوزیشن میں رہے، اس کے باوجود حب الوطنی اور 'سب سے پہلے ملک' ان کے رہنما اصول رہے؛ ان کی زندگی انہی نظریات سے عبارت تھی

اٹل جی نے عالمی دباؤ کے آگے جھکے بغیر بھارت کو ایک ایٹمی طاقت میں تبدیل کر دیا

بطور صحافی، اٹل جی نے اپنے قلم کے ذریعے قوم پرستی کی وکالت کی؛ بطور شاعر، انہوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے حب الوطنی کو فروغ دیا؛ اور بطور وزیرِ اعظم، انہوں نے قومی سلامتی اور عمدہ حکمرانی کو آگے بڑھایا

اٹل جی نے کبھی بھی اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑا، خواہ وہ اقتدار میں رہے ہوں یا اپوزیشن میں؛ ایسے نایاب رہنما صدیوں میں کبھی کبھار ہی پیدا ہوتے ہیں

راجستھان کی بھجن لال شرما حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی سمت میں تیزی سے کام کیا ہے

اٹل جی نے قبائلیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قبائلی امور کی وزارت قائم کی؛ اسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے، مودی جی نے قبائلی فلاح و بہبود کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا اور درج فہرست قبائل کمپوننٹ کا بجٹ 25,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1,25,000 کروڑ روپے کر دیا

جس راجستھان میں مائیں بہنیں سر پر کئی مٹکے لے کر کوسوں دور سے پانی لاتی تھیں، وہیں اہم اپوزیشن پارٹی نے 70 برسوں میں 11 لاکھ گھروں تک پانی پہنچایا، جبکہ مودی جی نے 64 لاکھ گھروں تک

प्रविष्टि तिथि: 16 AUG 2026 5:14PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج راجستھان کے چتوڑ گڑھ میں سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی برسی کے موقع پر ان کے مجسمے کی رونمائی کی۔ مرکزی وزیرِ داخلہ نے راجستھان حکومت کے مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ اس موقع پر راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ جناب بھجن لال شرما سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔

100.jpeg

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج، سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی جی کی برسی کے موقع پر، اس مقدس سرزمین پر 1.5 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے واجپائی جی کا 21 فٹ اونچا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آج 15 اضلاع میں 5,755 کروڑ روپے مالیت کے 944 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اگرچہ 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر روایتی طور پر شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا—جیسا کہ معمول ہے—لیکن اس مرتبہ ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ آزادی کے بعد 80 سالوں میں پہلی بار، لال قلعہ کی فصیل سے اور ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقاریب کے دوران 'وندے ماترم' گایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ آزادی کے دوران لاکھوں لوگوں نے بنکم چندر چٹوپادھیائے کی تخلیق کردہ ان لافانی الفاظ 'وندے ماترم' کا نعرہ لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو چوما، گولیاں اور لاٹھیاں کھائیں اور برسوں جیلوں میں گزارے۔ جناب شاہ نے تبصرہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے ووٹ بینک کی سیاست کے لالچ میں 'وندے ماترم' کو گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا تھا؛ تاہم، 'وندے ماترم' کی تخلیق کے 150 ویں سال کے موقع پر، مودی جی نے لال قلعہ کی فصیل سے اس میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اہم اپوزیشن پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ یومِ آزادی کی تقریب کے دوران، پارٹی کی ایک ممتاز رہنما نے 'وندے ماترم' کو بیچ میں ہی روکنے کا کہہ کر اس کی توہین کی، اور عوام انہیں اس حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جناب شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کو 80 سال بعد بنکم بابو کے اس لافانی منتر اور لافانی گیت کو دوبارہ احترام ملنا راس نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹی کی سب سے بڑی رہنما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 140 کروڑ لوگ آپ کو دیکھ رہے ہیں، اور اس ملک کے عوام آپ کے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ کوئی شخص 'وندے ماترم' کے گیت کو ادھورا چھوڑنے کا خواب بھی کیسے دیکھ سکتا ہے؟

جناب امت شاہ نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی جی نے بچپن ہی سے قوم پرستی کی راہ اختیار کی، وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پراچارک بنے، جن سنگھ کے کارکن بنے اور محض 33 سال کی چھوٹی عمر میں بلرام پور سے لوک سبھا رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اٹل جی چار دہائیوں تک اپوزیشن میں رہے، لیکن ان کے خیالات ہمیشہ قوم پرستی اور 'سب سے پہلے ملک' پر مبنی رہے، اور ان کی زندگی صرف انہی خیالات کے تحت گزری۔ وہ جیل بھی گئے، لاٹھیاں بھی کھائیں، اور حکمران جماعت کے مظالم بھی برداشت کیے، لیکن انہوں نے کبھی اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑا۔ جب اٹل بہاری واجپائی جی وزیرِ اعظم بنے، تو وہ ملک کے ایسے پہلے وزیرِ اعظم تھے جو کبھی بھی اہم اپوزیشن پارٹی کے رکن نہیں رہے تھے۔

200.jpeg

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اٹل جی نے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی بڑے فیصلے کیے۔ انہوں نے عالمی دباؤ کے آگے جھکے بغیر بھارت کو ایک ایٹمی طاقت میں تبدیل کیا اور ہر گاؤں کو سڑکوں سے جوڑنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے 'گولڈن کواڈریلیٹرل' منصوبے کے تحت قومی شاہراہیں تعمیر کیں اور کئی دیگر منفرد اقدامات کا آغاز کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اپنے چھ سال کے مختصر دورِ اقتدار میں، اٹل جی کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک وزارتِ قبائلی امور کا قیام تھا۔ اس سے پہلے ملک کی قبائلی برادریوں کے لیے کوئی الگ وزارت وقف نہیں تھی۔ اٹل جی نے پہلی بار وزارتِ قبائلی امور قائم کی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک غریب قبائلی خاندان کی بیٹی—عزت مآب صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو—راشٹرپتی بھون کی زینت ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے مستقل طور پر قبائلی فلاح و بہبود کے مقصد کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے شیڈولڈ ٹرائب کمپوننٹ کا بجٹ محض 25,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1,25,000 کروڑ روپے کر دیا۔ انہوں نے بھگوان برسا منڈا کی یومِ پیدائش کو 'جن جاتیہ گورَو دِوَس' کے طور پر منانے کی شروعات کی۔ مودی جی نے چھتیس گڑھ، اوڈیشہ اور اروناچل پردیش میں قبائلی رہنماؤں کو وزیرِ اعلیٰ مقرر کیا۔ انہوں نے 10 قبائلی مجاہدینِ آزادی کے نام وقف عجائب گھر قائم کیے اور 772 ایکلویا ودیا پیٹھ قائم کیے—جو کہ اصل میں اٹل جی کی طرف سے شروع کیا گیا ایک اقدام تھا۔ وزیرِ داخلہ نے تبصرہ کیا کہ اٹل جی جب صحافی بنے تو انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے قوم پرستی کو آگے بڑھایا؛ بطور شاعر انہوں نے اپنے الفاظ سے حب الوطنی کو فروغ دیا؛ اور بطور وزیرِ اعظم انہوں نے قومی سلامتی اور گڈ گورننس کی وکالت کی۔ وہ اقتدار میں رہے ہوں یا اپوزیشن میں، انہوں نے کبھی اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑا۔ ایسے نایاب رہنما صدیوں میں کبھی کبھار ہی پیدا ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ اٹل جی کو ہمیشہ 'اجات شترو' (جس کا کوئی دشمن نہ ہو) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ جب وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے راجستھان میں 'ہر گھر نل سے جل' اسکیم شروع کی تھی، تو ریاست میں صرف 11 لاکھ گھروں تک پانی پہنچ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں، جہاں ماؤں اور بہنوں کو کبھی اپنے سروں پر کئی گھڑے رکھ کر میلوں دور سے پانی لانا پڑتا تھا، وہاں اہم اپوزیشن پارٹی نے 70 برسوں میں 11 لاکھ گھروں کو پانی کے کنکشن فراہم کیے، جبکہ مودی جی نے 64 لاکھ گھروں کو یہ کنکشن فراہم کر دیے ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ مودی جی نے آٹھ برسوں میں اپوزیشن پارٹی کے 70 سال کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ کام کر کے دکھایا ہے؛ یہی وہ خاص بات ہے جو مودی جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ راجستھان کی بھجن لال شرما حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی سمت میں تیزی سے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان جو پہلے پانی کی قلت کے لیے جانا جاتا تھا، وہاں جناب بھجن لال جی نے تین بڑے معاہدوں پر دستخط کر کے آدھی ریاست کی پیاس بجھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ جناب شاہ نے ذکر کیا کہ یہ اسکیمیں لاکھوں لوگوں کو پانی فراہم کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ 'رائزنگ راجستھان' تقریب نے 35 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا اور اس کے تحت 36 نئی پالیسیاں وضع کی گئیں۔ مزید برآں، روزگار میلوں کے ذریعے 1,78,000 نوکریاں فراہم کی گئی ہیں، اور گیس سلنڈر 450 روپے سے بھی کم میں فراہم کیے جا رہے ہیں؛ اب تک مجموعی طور پر 1,128 کروڑ روپے کی گیس سلنڈر سبسڈی جاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی مفت طبی علاج کی سہولت کو وسعت دیتے ہوئے، بھجن لال حکومت نے 'پردھان منتری-مکھیہ منتری آیوش آروگیہ یوجنا' کے فوائد 45 لاکھ لوگوں تک پہنچائے ہیں۔ حکومت نے 'لاڈو پروتساہن یوجنا' بھی شروع کی ہے اور پوری ریاست کو سرسبز و شاداب بنانے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ جہاں راجستھان میں اپوزیشن کے ممتاز رہنما داخلی اختلافات اور اندرونی لڑائیوں میں مصروف ہیں، وہیں ہماری پارٹی کے رہنما عوام کے آشیرواد کا احترام کرتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی اور وزیرِ اعلیٰ جناب بھجن لال شرما کی قیادت میں نمایاں ترقی کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

*****

 (ش ح –ن ا)

U.No:2186


(रिलीज़ आईडी: 2300246) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Kannada