حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر نے دیہی اختراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو مضبوط بنانے کے لیے نابارڈ کے ذریعے تیار کردہ آر ایس وی سی-امرت پلیٹ فارم کا اِفتتاح کیا
प्रविष्टि तिथि:
15 AUG 2026 4:30PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر، پروفیسر اجے کمار سود نے 15 اگست 2025 کو 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر آر ایس وی سی امرت پلیٹ فارم کا اِفتتاح کیا، جو ٹیکنالوجی کی قیادت میں دیہی ترقی کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر (او پی ایس اے) کے دفتر کے تعاون سے نابارڈ کے ذریعے تیار کردہ، امرت رُوٹ ایج اسمارٹ ولیج سینٹر (آر ایس وی سی) ایکو سسٹم کی ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا ہے، جو دیہی اختراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی حمایت کرتا ہے اور دیہی علاقوں میں مناسب ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے قابل بناتا ہے۔ اِفتتاحی تقریب میں ڈاکٹر شاجی کرشنن وی، چیئرمین، نابارڈ، مختلف تنظیموں اور اسٹیک ہولڈر گروپس کے نمائندوں کے ساتھ شریک ہوئے۔

اپنے خطاب میں، پروفیسر سود نے زور دیا کہ امرت کو ایک جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو مکمل آر ایس وی سی لائف سائیکل کی حمایت کرتا ہے، ٹیکنالوجی کی دریافت اور توثیق سے لے کر تعیناتی کی ٹریکنگ، تعاون، نگرانی اور علم کے انتظام تک۔ انھوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم بتدریج اختراع کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، اسٹارٹ اپس، توثیق کاروں، ایکسلریٹروں، نفاذ کے شراکت داروں، فنڈنگ ایجنسیوں، تعلیمی اداروں اور دیہی برادریوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔ ان اسٹیک ہولڈروں کو جوڑ کر، امرت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں تعاون کو مضبوط کرے گا اور ٹیکنالوجیز کی تقسیم کو تیز کرے گا، جس سے ٹیکنالوجی اور اختراع کو آخری میل تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

پلیٹ فارم کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر کرشنن نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ بھارت میں سائنسی اداروں، اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کا ایک بھرپور ایکو سسٹم موجود ہے، لیکن مناسب ٹیکنالوجیز کو دیہی ضروریات سے جوڑنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔ امرت دیہی ضروریات کو اختراعات، اداروں اور نفاذ کے میکانزم سے جوڑ کر اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے نچلی سطح پر ٹیکنالوجی کی تقسیم اور اپنانے کو مضبوط کیا جا سکے۔ انھوں نے ملک بھر میں ایسے اداروں کی حمایت کرنے کے لیے نابارڈ کے عزم کا اعادہ کیا، اس کے علاوہ 8 آر ایس وی سیز کی بھی حمایت کی جا رہی ہے۔
آر ایس وی سی پہل تحقیق کے اداروں، اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپس سے مناسب اور سستی ٹیکنالوجیز کو دیہی برادریوں تک گاؤں کی سطح پر ٹیکنالوجی ہبز کے ذریعے منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہے، جس میں زراعت، دیہی اداروں، قابلِ تجدید توانائی، تعلیم، معاون ٹیکنالوجیز، پانی اور صفائی، اور شہری خدمات جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ امرت اس ایکو سسٹم میں ایک ڈیجیٹل پرت شامل کرکے اس جسمانی رسائی کو مزید تقویت دیتا ہے، نابارڈ کو توقع ہے کہ یہ دیہی اختراعات، ٹیکنالوجیز، بہترین طور طریقوں اور تعاون کے مواقع کا ایک قومی ذخیرہ بن جائے گا، جو وسیع تر ٹیکنالوجی کو اپنانے اور وِکست بھارت 2047 کے وژن کی حمایت کرے گا۔

یہ پہل او پی ایس اے اور نابارڈ کی ذیلی کمپنی ناب فاؤنڈیشن کے ساتھ نابارڈ کے پہلے سہ فریقی مفاہمت نامے اور ممبئی میں اس کے صدر دفتر میں آر ایس وی سیز پر ایک سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام پر مبنی ہے۔ اس موقع پر، نابارڈ نے آر ایس وی سیز کے قیام کے لیے اپنی اسکیم کے وسیع خدوخال کا اشتراک کیا، جسے نابارڈ کی حمایت حاصل ہوگی اور سی ایس آر اقدامات کے ذریعے کارپوریٹس کے تعاون سے قائم کیا جائے گا، جس میں ناب فاؤنڈیشن نفاذ کے شراکت دار کے طور پر کام کرے گی۔
اِفتتاحی تقریب تک رسائی اس لنک پر حاصل کی جا سکتی ہے: https://www.youtube.com/live/PXitjx7p8eY?si=wBipNND88Czxfv-6
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 2162
(रिलीज़ आईडी: 2300058)
आगंतुक पटल : 5