امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
حکومت ہند نے چندی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی میں پی ایم جی کے اے وائی کے تحت سی بی ڈی سی پر مبنی براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کا آغاز کیا
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ سی بی ڈی سی پر مبنی ڈی بی ٹی دنیا کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے پروگرام کو ڈیجیٹل بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے
ہر دانہ، ہر روپیہ، ہر ادھیکار: سی بی ڈی سی اہل مستفیدین کی درست نشاندہی اور کسی بھی مستفید کو اس سے باہر نہ رکھنے کو یقینی بنائے گا
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 7:04PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں چندی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی میں پردھان منتری غریب کلیان اَنّ یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کے تحت مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) پر مبنی براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا افتتاح مرکزی وزیر تعلیم، صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابل تجدید توانائی، جناب پرہلاد جوشی نے پنجاب کے گورنر اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ چندی گڑھ کے منتظم، جناب گلاب چند کٹاریہ، اور دیہی ترقی، زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر، جناب شیوراج سنگھ چوہان کی موجودگی میں کیا۔
نئے نظام کے تحت غذائی سبسڈی روایتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے براہِ راست مستفید کے ڈیجیٹل روپے والے والیٹ (بٹوے) میں منتقل کی جائے گی۔ مستفیدین اس مخصوص مقصد کے لیے فراہم کی گئی ڈیجیٹل سبسڈی کا استعمال پینل میں شامل تاجروں سے محفوظ اور قابلِ سراغ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے ذریعے غذائی اجناس خریدنے کے لیے کر سکتے ہیں۔
یہ نظام درج ذیل سہولیات فراہم کرتا ہے:
- غذائی سبسڈی کی فوری منتقلی؛
- غذائی اجناس کی خریداری کے لیے سبسڈی کے استعمال کو یقینی بنانا؛
- بہتر قابلِ سراغی کے لیے لین دین کا ڈیجیٹل ریکارڈ؛
- نقد رقم نکالنااور نقد رقم سنبھالنے پر انحصار میں کمی؛
- سبسڈی کے استعمال میں زیادہ شفافیت اور نگرانی؛ اور
- تاجروں کے لیے آسان ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت۔
اس نظام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کر سکتے ہیں، جبکہ فیچر فون استعمال کرنے والے او ٹی پی پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ آج کا دن دنیا کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے پروگرام کو ڈیجیٹل بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی اہل مستفید اس سہولت سے محروم نہ رہے اور مفت راشن صرف ان ہی لوگوں تک پہنچے جو اس کے حقدار ہیں۔ یہ اقدام ’’ہر دانہ، ہر روپیہ، ہر ادھیکار‘‘ کے جذبے کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سبسڈی کی ہر رقم اہل مستفید تک پہنچے، جبکہ درمیانی واسطوں کو نظام سے خارج رکھا جائے۔ یہ پہل ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے وسیع تر فریم ورک کے ساتھ پوری طرح مربوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی بی ٹی فریم ورک نے رساؤ کو کم کرکے اور مطلوبہ مستفیدین تک فوائد کی براہِ راست منتقلی کو یقینی بنا کر 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی ہے۔ انہوں نے ’’آشا-ایک اے آئی سولیوشن‘‘ کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت مستفیدین سے غذائی اجناس کے معیار اور اس بات کے بارے میں رائے حاصل کرنے کے لیے 20 لاکھ کالز کی جاتی ہیں کہ آیا انہیں ان کے جائز حقوق مل رہے ہیں۔ موصولہ شکایات اور آراء کو مناسب کارروائی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات وزیر اعظم کے شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور درمیانی واسطوں سے پاک حکمرانی کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں عوامی اخراجات کا ہر روپیہ اپنے مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال ہو اور ہر اہل مستفید کو اپنے جائز فوائد حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ سی بی ڈی سی پر مبنی یہ پہل اس سفر کو مزید آگے لے جائے گی۔ اس کے تحت فنڈز ڈیجیٹل بٹوے میں منتقل کیے جائیں گے اور انہیں پینل میں شامل دکانوں پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے کیو آر کوڈ اسکین کرکے ادائیگی کر سکیں گے، جبکہ فیچر فون استعمال کرنے والے او ٹی پی پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے گورنر اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ چندی گڑھ کے منتظم، جناب گلاب چند کٹاریہ نے کہا کہ سی بی ڈی سی کے متعارف ہونے سے غریب اور کمزور مستفیدین کے وقار اور عزتِ نفس کو مزید تقویت ملی ہے، جبکہ ایک زیادہ شفاف اور مؤثر نظام کے ذریعے تاجروں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) کی ڈیجیٹلائزیشن نے چوری اور غذائی اجناس کی غیر مجاز منتقلی کے امکانات کو کم سے کم کر دیا ہے، جس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملی ہے کہ فوائد مطلوبہ مستفیدین تک پہنچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غربت میں نمایاں کمی حکومت کی مختلف فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کے مشترکہ اثرات کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ فوائد صرف ان ہی لوگوں تک پہنچیں جو حقیقی طور پر ان کے حقدار ہیں۔
دیہی ترقی، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ غذائی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے ملک میں غذائی اجناس کی بہتر دستیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب ملک کے پاس گھریلو ضروریات پوری کرنے اور ضرورت پڑنے پر غذائی اجناس برآمد کرنے کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ سی بی ڈی سی کی قابلِ پروگرام خصوصیت فوڈ سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ فوائد مطلوبہ مستفیدین تک پہنچیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس پہل کو ملک کے دیگر حصوں تک بھی وسعت دی جائے تاکہ مزید مستفیدین ان اصلاحات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس پہل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزیر مملکت، محترمہ نیموبین جینتی بھائی بامبھنیا نے کہا کہ محکمہ نے گزشتہ برسوں کے دوران متعدد اہم اصلاحات کی ہیں، جن میں ’ایک ملک، ایک راشن کارڈ‘ (او این او آر سی) کے ذریعے راشن کارڈ کی پورٹیبلٹی اور شکایات کے ازالے کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانا شامل ہے، تاکہ ایک زیادہ جدید، شفاف اور مستفیدین پر مرکوز عوامی تقسیم نظام قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آج حکومت دنیا کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے پروگرام کے تحت 80 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو مفت راشن فراہم کر رہی ہے اور کووڈ کے دور میں ان انتظامات نے اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا کہ کوئی بھی غریب شخص بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوششوں نے 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے باہر نکلنے میں بھی مدد دی ہے، جبکہ او این او آر سی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں عوامی تقسیم نظام کو مزید جدید اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس پہل کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے محکمہ خوراک اور عوامی تقسیم کے سکریٹری نے کہا کہ سی بی ڈی سی پر مبنی ڈی بی ٹی، جن دھن کھاتوں، آدھار اور موبائل فون پر مشتمل جے اے ایم تثلیث کی بنیاد پر بھارت کے ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کے سفر میں اگلا فطری قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3.10 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے جمع شدہ رقم کے ساتھ 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے ہیں۔ اسی بنیاد پر ملک نے یو پی آئی کا نظام قائم کیا، جس نے جولائی 2026 میں 30 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 2,400 کروڑ سے زائد لین دین پر کارروائی کی اور عالمی سطح پر تمام حقیقی وقت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کا تقریباً 49 فیصد حصہ حاصل کیا۔
اس لانچ کے ساتھ چندی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی ملک کے پہلے مرکز کے زیر انتظام علاقے بن گئے ہیں، جہاں تمام اہل پی ایم جی کے اے وائی مستفیدین کے لیے پروگرام کے مطابق استعمال کیے جانے والے سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی-ڈیجیٹل روپیہ) ٹوکن کی شکل میں غذائی سبسڈی براہِ راست ان کے سی بی ڈی سی بٹوے میں منتقل کرنے کی سہولت فعال کی گئی ہے۔
یہ پہل گجرات اور پڈوچیری میں کیے گئے پہلے کے پائلٹ منصوبوں پر مبنی ہے۔ سی بی ڈی سی پر مبنی غذائی سبسڈی کی فراہمی کا پائلٹ منصوبہ سب سے پہلے 15 فروری 2026 کو گجرات میں شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد 26 فروری 2026 کو پڈوچیری میں شروع کیا گیا۔ ان پائلٹ منصوبوں سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ہند نے اب اس پہل کو چندی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی تک وسعت دے دی ہے۔
اس ماڈل کے تحت مستفیدین کو غذائی سبسڈی روایتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے براہِ راست ان کے سی بی ڈی سی بٹوے میں موصول ہوگی۔ اس کے بعد اس سبسڈی کو محفوظ، قابلِ سراغ اور حقیقی وقت پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقۂ کار کے ذریعے پینل میں شامل تاجروں سے غذائی اجناس خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ نظام رساؤ، غیر مجاز منتقلی اور نقد رقم سنبھالنے کے عمل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ فوائد کی فوری منتقلی اور سبسڈی کے استعمال کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ پہل مرکزی حکومت کے فلاحی پروگراموں میں سی بی ڈی سی کا پہلا بڑے پیمانے پر اطلاق ہے۔ ڈی بی ٹی کی صلاحیتوں کو سی بی ڈی سی کی خصوصیات کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس ماڈل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عوامی فنڈز فوری طور پر مستفیدین تک پہنچیں اور شفاف ڈیجیٹل طریقۂ کار کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں۔
اس توسیع کو ملک کے لیے ایک ’ثبوتِ تصور‘ اور دیگر ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے قابلِ توسیع نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے سی بی ڈی سی کو فلاحی اسکیموں کے ساتھ مربوط کرنے کے حوالے سے مفید عملی تجربہ حاصل ہوگا اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری مرکوز خدمات کی فراہمی کے حکومت کے وژن کو تقویت ملے گی۔
سی بی ڈی سی پر مبنی یہ پہل ٹیکنالوجی پر مبنی عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) میں کی جانے والی اصلاحات کی مضبوط بنیاد پر استوار ہے۔ ان اصلاحات میں راشن کارڈوں اور مستفیدین کے ڈیٹا بیس کی ڈیجیٹلائزیشن، آدھار پر مبنی تصدیق، الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل (ای پی او ایس) کے ذریعے تصدیق، آن لائن سپلائی چین مینجمنٹ اور ’ایک ملک، ایک راشن کارڈ‘ کے تحت ملک گیر پورٹیبلٹی شامل ہیں۔
’رائٹ فل ٹارگٹنگ‘، ’اسمارٹ-پی ڈی ایس‘، ’نرمل‘، ’وی ایل ٹی ایس‘ اور ’سکشم‘ جیسے اقدامات کے ذریعے حکومت ڈیٹا پر مبنی نگرانی، شفافیت اور آخری مرحلے تک مؤثر فراہمی کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ اس سے زیادہ مؤثر، جواب دہ اور مستفیدین پر مرکوز غذائی تقسیم کے نظام کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
***
UR-2133
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2299649)
आगंतुक पटल : 7