وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

یومِ آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر دفاع نے کہا کہ خود انحصار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی شعبے کے ذریعے فوجی جدیدکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 5:38PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 14 اگست 2026 کو 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر آکاشوانی کے ذریعے فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘‘وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت خود انحصار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی شعبے کے ذریعے دفاعی افواج کی جدیدکاری کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے ‘آتم نربھر بھارت’ اور ‘میک اِن انڈیا’ جیسی پہل کے نتیجے میں گزشتہ 12 برس کے دوران دفاعی شعبے میں آنے والی انقلابی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو اپنی سلامتی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور خالص دفاعی برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاعی پیداوار، جو 2014 میں محض 46,000 کروڑ روپے تھی، مالی سال 2026-2025 میں ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً چار گنا اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دفاعی شعبے میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی سرکاری شعبے کی کمپنیاں (ڈی پی ایس یوز) اور دیگر سرکاری شعبے کے ادارے مجموعی دفاعی پیداوار میں تقریباً 76 فیصد کا حصہ رکھتے ہیں، جبکہ نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 22 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت دفاعی شعبے میں کاروباری ماحول میں مسلسل بہتری کی علامت ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دفاعی برآمدات، جو مالی سال 2014-2013 میں محض 686 کروڑ روپے تھیں، مالی سال 2026-2025 میں بڑھ کر 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 5,500 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو دفاعی شعبے میں خود انحصاری کا سب سے مضبوط ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘آج بھارت میں 145 دفاعی برآمد کنندگان ہیں اور ہماری دفاعی مصنوعات 80 سے زائد ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم 2029 تک 50,000 کروڑ روپے کے دفاعی برآمدات کے ہدف کو حاصل کر لیں گے۔‘‘

جناب  راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ دفاعی بجٹ مالی سال 2014-2013 کے 2.53 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2027-2026 میں 7.85 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے، جو مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجیز کے لیے بھارت کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘‘سرمایہ جاتی اخراجات 94,588 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.19 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔ تحقیق و ترقی پر ہماری توجہ بھی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ تحقیق و ترقی کا بجٹ، جو مالی سال 2015-2014 میں 15,283 کروڑ روپے تھا، 90 فیصد اضافے کے ساتھ مالی سال 2027-2026 میں 29,100 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران دفاعی سازوسامان کی خرید سے متعلق کونسل نے 8.75 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کے لیے ضرورت کی منظوری دی ہے، جو حکومت کی جانب سے دفاعی جدیدکاری پر دی جانے والی ترجیح کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے دفاعی جدیدکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دفاعی خریداری کے شعبے میں کی جانے والی بنیادی اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں آپریشنل کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے فیلڈ کمانڈروں کے مالی اختیارات کی حد میں دو گنا اضافہ اور مقامی سطح پر دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے ریونیو روٹ کے ذریعے 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خریداری کو ممکن بنانا شامل ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے خود انحصاری کی جانب بھارت کے سفر میں دفاعی افواج کی پُرجوش شرکت کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، کیونکہ ملک میں تیار کیے گئے جنگی بحری جہاز، طیارے اور جدید فوجی نظام دفاعی افواج کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بدلتے ہوئے دفاعی منظرنامے کے درمیان دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور دفاعی افواج بھارت کو مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجیز کے میدان میں صفِ اول کے ممالک میں شامل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پہلے ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ رینج آگمینٹیشن نظام کے کامیاب تجربے کا خصوصی ذکر کیا، جس میں روایتی ہتھیاروں کو درست نشانے پر مار کرنے والے گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ‘‘ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی سے لیس ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ کی صلاحیتوں میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔ طویل فاصلے تک زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل، رودر ایم-II ہوا سے سطح پر مار کرنے والے میزائل، نیول اینٹی شپ میزائل-ایس آر اور پنّاکا لانگ رینج گائیڈڈ راکٹ کے کامیاب تجربات نے ملک کی حملہ آور صلاحیتوں کو بے مثال قوت فراہم کی ہے۔‘‘

1,200 سیکنڈ سے زائد عرصے تک ایکٹو کولڈ فل اسکیل اسکریم جیٹ کمبسٹر کے کامیاب تجربے کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس کامیابی نے بھارت کو ان منتخب ممالک کی صف میں شامل کر دیا ہے جو ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی طور پر تیار کیے گئے‘کُشا’ طویل فاصلے تک سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے پہلے کامیاب تجربے سے ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس کا مقصد دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا اور سرحدی علاقوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے دفاعی افواج کی اس کردار کے لیے بھی ستائش کی کہ ملک یا بیرونِ ملک جب بھی کوئی ناگہانی قدرتی آفت پیش آتی ہے تو وہ امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے ‘سب سے پہلے پہنچنے والے دستے’ کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے زیر خدمت اور ریٹائرڈ دفاعی افواج کے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ ان کے احترام، وقار اور خودداری کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا، ‘‘گزشتہ پانچ برس کے دوران سابق فوجیوں کے تعاون پر مبنی صحت اسکیم کے بجٹ میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، مسلح افواج پرچم یوم فنڈ کے تحت تنگ دستی امداد 4,000 روپے سے بڑھا کر 8,000 روپے، تعلیمی امداد 1,000 روپے سے بڑھا کر 2,000 روپے اور شادی کی امداد 50,000 روپے سے بڑھا کر 1,00,000 روپے کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلے ہمارے فوجیوں اور ان کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے ہمارے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے دفاعی افواج میں خواتین کے لیے مزید مواقع فراہم کرنے اور قومی سلامتی و ملک کی تعمیر میں ‘ناری شکتی’ کی صلاحیتوں کو مؤثر طور پر بروئے کار لانے کے لیے حکومت کی مسلسل توجہ کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہم نے اس وقت ایک تاریخی سنگِ میل حاصل کیا جب نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والی خواتین کیڈٹس کے پہلے بیچ نے تینوں افواج میں افسران کی حیثیت سے کمیشن حاصل کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حوصلہ اور قیادت کسی ایک جنس تک محدود نہیں ہے۔‘سمدر پرَدکشِنا’، بھارتی فوج کے سیلنگ ویسل‘ترِوینی’ پر تینوں افواج کی خواتین پر مشتمل پہلی مشترکہ بحری مہم ہے، جو ‘ناری شکتی’ سے طاقت پانے والے ‘نئے بھارت’ کی علامت بن کر ابھری ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 79 سال قبل مہاتما گاندھی، نیتا جی سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، سروجنی نائیڈو، رانی گائیڈنلیو اور دیگر بے شمار معروف و غیر معروف مجاہدینِ آزادی نے آزاد بھارت کی بنیاد رکھی تھی، اور آج ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے تحفظ کی ذمہ داری دفاعی افواج کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے کہا، ‘‘نامساعد حالات میں بھی ہمارے فوجیوں کا ثابت قدم عزم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شہری ایک محفوظ ماحول میں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔ ان کی بہادری، عزم اور نظم و ضبط ہر بھارتی کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔ قوم ان کی بے مثال خدمات، قربانی اور لگن کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔’’ انہوں نے ہر فوجی کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اس سال یومِ آزادی کی خصوصی اہمیت ہے، کیونکہ 2026 میں قومی گیت‘وندے ماترم’ کی 150ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘‘اس موقع کو پورے جوش و خروش کے ساتھ منانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ محض ایک سالگرہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی قومی سوچ اور شعور کا جشن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس یومِ آزادی سے ہر شہری کے اندر حب الوطنی اور ملک کی خدمت کا جذبہ مزید تقویت پائے گا۔انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا، ‘‘آئیے ہم عہد کریں کہ ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں گے اور اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور خلوص کے ساتھ ادا کرتے ہوئے ‘وکست بھارت’ کی تعمیر میں خاطر خواہ رول ادا کریں گے۔‘‘

 

 

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.2115


(रिलीज़ आईडी: 2299525) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu