نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے بھارت کے خدماتی شعبے سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے، جس میں پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے میں ضابطہ جاتی نظام کا جائزہ پیش کیاگیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 5:13PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لاہڑی نے 10 اگست 2026 کو اعلیٰ اختیاراتی ‘تعلیم سے روزگار اور کاروبار’قائمہ کمیٹی کے فورم پر خدماتی شعبے سے متعلق موضوعاتی سلسلے کے تحت تیسری رپورٹ جاری کی۔ اس موقع پر نیتی آیوگ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ ندھی چھبر اور وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ بھی موجود تھے۔ رپورٹ کے اجرا کی تقریب میں وزارتوں و محکموں، ریاستی حکومتوں، صنعتی انجمنوں اور ماہرین و ماہرینِ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی، جو اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ارکان ہیں۔
رپورٹ ، ‘‘ہندوستان کا خدمات کا شعبہ: پیشہ ورانہ خدمات میں ریگولیٹری نظام پر بصیرت’’ ، پیشہ ورانہ خدمات میں ہندوستان کے ریگولیٹری فریم ورک کا ایک منفرد حقائق پر مبنی جائزہ پیش کرتی ہے اور اسے منتخب غیر ملکی دائرہ اختیار کے خلاف بینچ مارک کرتی ہے ۔ اسٹیک ہولڈرز کی وسیع مشاورت پر مبنی ، یہ کلیدی چیلنجوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے اور اس شعبے کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کی پیشہ ورانہ افرادی قوت کی مکمل صلاحیت کو کھولنے کے لیے آگے کی راہ کا خاکہ پیش کرتا ہے ۔
پیشہ ورانہ خدمات، خدماتی معیشت کا ایک اہم ذیلی شعبہ ہیں اور بھارت کی مجموعی خدماتی برآمدات میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ رکھتی ہیں۔ یہ اعلیٰ قدر اور علم پر مبنی سرگرمیاں ہیں، جو بعد کے مراحل کی خدمات کی مؤثر فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترسیلاتِ زر کے بہاؤ میں معاونت کرتی ہیں، نیز خدماتی قدر کی زنجیر کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ان خدمات کو منظم کرنے والے ضابطہ جاتی نظام کو سمجھنا مزید ترقی کے امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
رپورٹ میں ایک متوازن نقطۂ نظر اپنایا گیا ہے اور شعبہ وار اہم معلومات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیشہ ورانہ خدمات کی کارکردگی اور پیداوار میں بہتری کے لیے چار نکاتی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے: ابھرتے ہوئے رجحانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیشہ ورانہ خدمات میں تبدیلی لانا؛ خدماتی قدر کی زنجیر میں پیشہ ورانہ خدمات کی اہمیت اور مقام کو بلند کرنا؛ پیشہ ورانہ خدمات میں بہترین طریقۂ کار اپنانا؛ اور پیشہ ور افراد کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو یقینی بناناہے۔
جیسے جیسے ہندوستان کی آبادی بڑھ رہی ہے ، پیشہ ورانہ خدمات ،اعلی ہنر مند روزگار ، صنعت کاری اور اختراع کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں ۔ ایک اچھی طرح سے ڈیزائن کیا گیا ریگولیٹری ماحولیاتی نظام خدمات کی برآمدات ، پیشہ ور افراد کی سرحد پار نقل و حرکت اور کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید مضبوط کر سکتا ہے ۔
یہ رپورٹ مستقبل میں پالیسی سے متعلق مکالمے اور پیشہ ورانہ خدمات کی ضابطہ جاتی بنیادوں کے مزید گہرے جائزے کے لیے ایک رہنما راستہ فراہم کرتی ہے۔ جیسے جیسے بھارت ‘وکست بھارت 2047@’ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ایسی کوششیں ایک عالمی سطح پر مسابقتی، جامع اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار خدماتی شعبے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گی۔
مکمل رپورٹ پڑھیں:
chrome-extension://efaidnbmnnnibpcajpcglclefindmkaj/https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2026-08/India-Services-Sector-Insights-on-Regulatory-Regime-in-Professional-Services.pdf
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.2110
(रिलीज़ आईडी: 2299505)
आगंतुक पटल : 9