کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت اور جنوبی افریقی کسٹمز یونین (ایس اے سی یو) نے ترجیحی تجارتی معاہدے کی سمت میں مذاکرات کیلئے حوالہ جاتی شرائط (ٹی او آر) پر دستخط کئے
مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے بھارت-ایس اے سی یو کے درمیان متوازن اور مساوی تجارتی معاہدے پر زور دیا
بھارت ایس اے سی یو خطے میں سستی ادویات، آئی ٹی ماہرین اور عالمی سپلائی چین کے انضمام کے شعبوں میں تعاون کر سکتا ہے: جناب گوئل
مذاکرات میں اشیا کی تجارت، اشیا کے لئے منڈی تک رسائی اور اشیا کی اصل پیدائش کے قواعد سمیت آٹھ اہم ابواب شامل ہوں گے: کامرس سکریٹری راجیش اگروال
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 9:36PM by PIB Delhi
نئی دہلی کے وانجیہ بھون میں آج بھارت اور جنوبی افریقی کسٹمز یونین (ایس اے سی یو) نے ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی سمت میں مذاکرات کے لیے حوالہ جاتی شرائط (ٹی او آر) پر دستخط کیے۔ اس معاہدے پر دستخط بھارت اور ایس اے سی یو کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے بھارت اور جنوبی افریقی کسٹمز یونین (ایس اے سی یو) کے درمیان ایک متوازن، منصفانہ اور مساوی تجارتی معاہدے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شراکت داری منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے اور دونوں فریقوں کے لیے خوشحالی کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جناب گوئل نے کہا کہ بھارت ایس اے سی یو خطے میں سستی ادویات کی فراہمی اور آئی ٹی کے شعبے میں نئی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات ایک طویل عرصے سے قائم مساوی شراکت داری پر مبنی ہیں اور یہ تعلقات تجارت سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنوبی افریقہ کو بھارت کی قومی یادداشت میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا آغاز تجارت سے نہیں بلکہ ضمیر کی آواز سے ہوا تھا۔ مہاتما گاندھی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں جنوبی افریقہ کے عوام کے لیے بھارت کی حمایت کو بھی اجاگر کیا۔
جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات کا مقصد پہلے سے قائم تجارتی تعلقات کو ترجیحی منڈی تک رسائی فراہم کرنا ہے، جس میں انجینئرنگ کی اشیا اور مشینری، آٹوموبائل، ادویات، ٹیکسٹائل، زراعت اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ جیسے شعبوں میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مذاکراتی ٹیموں سے اپیل کی کہ وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور بھارت-ایس اے سی یو ترجیحی تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی سمت میں طے شدہ حوالہ جاتی شرائط کو ایک ٹھوس عمل میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جس معاہدے پر ہم دستخط کر رہے ہیں، اس سے نہ تو کسی محصول میں کمی آئے گی اور نہ ہی کوئی کنٹینر کسٹمز سے کلیئر ہوگا۔ ایسا صرف حتمی معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے ترجیحی تجارتی معاہدے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔
اس تقریب میں تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد، حکومتِ ہند کے اعلیٰ عہدیداران اور ایس اے سی یو کے نمائندہ وفد نے شرکت کی۔
جمہوریہ نامیبیا کی حکومت کی وزارتِ بین الاقوامی تعلقات و تجارت کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ ندیتا نگی پونڈوکا-روبیاتی نے ٹی او آر پر دستخط کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے ایس اے سی یو اور بھارت کے درمیان تعلقات کو باضابطہ شکل دینے، مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کی بنیاد فراہم کرنے، شفافیت لانے اور پیشگی اندازہ لگانے کی صلاحیت پیدا کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ جنوبی افریقہ کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت دار اور ستون، نیز جنوبی ممالک کے ساتھ تعاون کے طور پر بھارت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، صلاحیت سازی اور ترقیاتی تعاون کے ذریعے بھارت اور افریقہ کے درمیان طویل عرصے سے قائم تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس اے سی یو ایسے نتیجے کو بہت اہمیت دیتا ہے جو متوازن ہو اور جس میں متعلقہ ممالک کی ترقی کی مختلف سطحوں کو مدنظر رکھا جائے، بالخصوص ایس اے سی یو کے رکن ممالک کے مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو، جن میں اس کے کم ترقی یافتہ ممالک اور چھوٹی و کمزور معیشتیں بھی شامل ہیں۔
وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ افریقی خطے کے ساتھ بھارت کی جانب سے ٹی او آر پر دستخط کا پہلا موقع ہے۔ انہوں نے دنیا کی قدیم ترین کسٹمز یونین کے طور پر ایس اے سی یو کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترجیحی تجارتی معاہدے میں آٹھ اہم ابواب شامل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ان میں اشیا کی تجارت اور اشیا کے لیے منڈی تک رسائی؛ اصلِ پیدائش کے قواعد اور اصل پیدائش سے متعلق طریقۂ کار، کسٹمز کے طریقۂ کار اور تجارت میں سہولت کاری،دو طرفہ حفاظتی نظام سمیت تجارتی اقدامات، حفظانِ صحت اور نباتاتی صحت سے متعلق اقدامات،تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات، تنازعات کا تصفیہ اور قانونی و یکساں طور پر قواعد کے نفاذ سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
ٹی او آر پر دستخط بھارت اور ایس اے سی یو کی باہمی طور پر مفید تجارتی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں اور ایک متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند اور ترقی پر مبنی ترجیحی تجارتی معاہدے کی سمت میں مذاکرات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.2104
(रिलीज़ आईडी: 2299481)
आगंतुक पटल : 6