الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
چِپس سے اسٹارٹ پس پروگرام ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے ماحولیاتی نظام اور صنعت کے لیے تیار افرادی قوت کو مضبوط بنا رہا ہے
سی ٹو ایس پروگرام کے تحت 68,000 سے زائد طلبہ کو تربیت دی گئی اور 254 چپ ڈیزائن کامیابی سے تیاری کے لیے بھیج دی گئی
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 1:24PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن کا عالمی مرکز بنانے کے وژن کی رہنمائی میں حکومت نے سیمی کنڈکٹر کی تعلیم، تحقیق اور ڈیزائن کے بنیادی ڈھانچے میں ہدف پر مبنی پالیسی اقدامات اور مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، جس کے ذریعے ملک کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے ایکو سسٹم اور باصلاحیت افراد کی بنیاد کو استحکام حاصل ہوا ہے۔
چپس ٹو اسٹارٹ اپس (سی ٹو ایس) پروگرام ملک بھر میں استعداد کار بڑھانے اور سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی اور چِپ ڈیزائن کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ سی ٹو ایس پروگرام کا مقصد بی ٹیک، ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی سطح پر سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن کے شعبے میں مہارت رکھنے والے 85,000 صنعت کے لیے تیار افراد تیار کرنا ہے۔
سی ٹو ایس پروگرام کے تحت:
i. اب تک اس پروگرام کے تحت 68,000 سے زائد طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔
ii. ملک بھر کے 332 تعلیمی اداروں کو سائنپسس، کیڈنس، سیمنز ای ڈی اے، اینسس، کیزائٹ، سلاویکو، رینیساس-الٹیئم، اے ایم ڈی-زائلنکس، ایسٹرکوانٹا، کمپ کارٹا، کیڈر اور اے ایم ڈی-زائلنکس کی جدید الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) سہولیات تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔
iii. شریک اداروں نے کامیابی کے ساتھ 254 چِپ ڈیزائنز کوتیاری تک پہنچایا ہے،، جن میں 175 ڈیزائنز 180 نینو میٹر ٹیکنالوجی نوڈ پر ایس سی ایل، موہالی میں، جبکہ 79 ڈیزائنز بیرون ملک سیمی کنڈکٹر فاؤنڈریز میں تیار کیے گئے ہیں۔
آندھرا پردیش ریاست میں:
i. سی ٹو ایس پروگرام کے تحت 23 تعلیمی اداروں کو جدید الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جن کے مجموعی استعمال کی مدت 4.34 لاکھ ٹول گھنٹوں سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی تفصیل ذیل میں دی گئی فہرست کے مطابق ہے:
|
نمبرشمار
|
ادارے کا نام
|
|
1
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی تروپتی
|
|
2
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کرنول
|
|
3
|
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی آندھرا پردیش
|
|
4
|
شری وشنو انجینئرنگ کالج برائے خواتین، بھیماورم
|
|
5
|
وگنان فاؤنڈیشن برائے سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق، گنٹور
|
|
6
|
ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(وی آئی ٹی- اے پی) یونیورسٹی، امراوتی، آندھرا پردیش
|
|
7
|
ایس آر ایم یونیورسٹی، اے پی
|
|
8
|
جواہر لال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (جے این ٹی یو)، کاکیناڈا
|
|
9
|
جواہر لال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (جے این ٹی یو)، اننت پور
|
|
10
|
وی آر سدھارتھا انجینئرنگ کالج، وجے واڑہ
|
|
11
|
انیل نیروکونڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنسز (اے این آئی ٹی ایس)، وشاکھاپٹنم
|
|
12
|
وشنو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اے پی
|
|
13
|
ساگی راما کرشنم راجو (ایس آر کے آر) انجینئرنگ کالج، آندھرا پردیش
|
|
14
|
جی ایم آر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (جی ایم آر آئی ٹی )، آندھرا پردیش
|
|
15
|
جی پلائیہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کرنول
|
|
16
|
کونیرو لکشمیا ایجوکیشن فاؤنڈیشن، گنٹور
|
|
17
|
وگنان انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، وشاکھاپٹنم
|
|
18
|
موہن بابو یونیورسٹی، تروپتی، آندھرا پردیش
|
|
19
|
نارائنا انجینئرنگ کالج، گڈور، آندھرا پردیش
|
|
20
|
سری واسوی انجینئرنگ کالج، تادیپلی گوڈیم، آندھرا پردیش
|
|
21
|
گایتری ودیا پریشد کالج آف انجینئرنگ، وشاکھاپٹنم
|
|
22
|
سنتھیرام انجینئرنگ کالج، نندیال، کرنول
|
|
23
|
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی تروپتی
|
ii
ii) سیمی کنڈکٹرچپ ڈیزائن میں تحقیق کو فروغ دینے اور چار تعلیمی اداروں میں استعداد کار کو مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل تحقیقی منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی ہے:
a) کرپٹوگرافک ایپلی کیشنز کے لیے محفوظ رسک-فائیو پروسیسر (آر آئی ایس سی-V)کی تیاری — انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، تروپتی۔
b) اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ اور سائبر-فزیکل نظاموں کے لیے کمپیوٹنگ کی کارکردگی بہتر بنانے والے ہارڈویئر ایکسیلیریٹر کی تیاری — انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ (آئی آئی آئی ٹی ڈی ایم)، کرنول۔
c) ایج انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) ایپلی کیشنز کے لیے توانائی کی بچت کرنے والے نیورومورفک پروسیسر کی تیاری — نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی)، آندھرا پردیش۔
d) ایج مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایپلی کیشنز کے لیے کم میموری استعمال کرنے والے کو پروسیس یونٹ کی تیاری — شری وشنو انجینئرنگ کالج فار ویمن، بھیماورم۔
یہ منصوبے اس وقت ڈیزائن اور تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان کے دائرۂ کار اور تیاری کی سطح کی بنیاد پر توقع ہے کہ یہ پروٹوٹائپ کی توثیق کی سمت میں پیش رفت کریں گے؛ جہاں قابلِ اطلاق ہو، اس میں سیمی کنڈکٹر فاؤنڈری میں ٹیپ آؤٹ (تیاری کا عمل)بھی شامل ہے۔
یہ معلومات الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے 12 اگست 2026 کو لوک سبھا میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U- 2089
(रिलीज़ आईडी: 2299402)
आगंतुक पटल : 6